ہماری قومی زندگی میں سوامی وویکانند کے اثرات اب بھی برقرار ہیں: وزیراعظم
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سیاست میں بے لوث اور تعمیری انداز میں تعاون کریں
سماجی بدعنوانی کی ایک بڑی وجہ سیاسی وراثت ہے: وزیراعظم

نئی دلّی ، 12، جنوری ، 2021 : ویراعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے دوسرے نیشنل یوتھ پارلیمنٹ فیسٹول کی الوداعی تقریب سے خطاب کیا۔ یہ تقریب پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں منعقد ہوئی اور وزیراعظم نے فیسٹول کے تین قومی فاتح نوجوانوں کے خیالات بھی سنے۔ لوک سبھا اسپیکر ، مرکزی وزیر تعلیم اور کھیل کود اور نوجوانوں کے امور سے متعلق آزادانہ چارج کے وزیر مملکت بھی اس موقع پر موجود تھے۔

 سوامی وویکانند کو، ان کے یوم پیدائش پر یاد کرتے ہوئے وزیراعظم جناب نریندر مودی نے رائے زنی کی ، کہ اتنا وقت گزرنے کے بعد بھی سوامی وویکانند کے اثرات اب بھی ہماری قومی زندگی میں بر قرار ہیں۔ قومیت اور قومی تعمیر کے بارے میں ان کے نظریات اور عوام کی خدمت اور دنیا کی خدمت سے متعلق ان کی تعلیمات سے ہمیں مسلسل ترغیب ملتی ہے۔ وزیراعظم نے افراد اور اداروں کے تئیں سوامی جی کے گراں قدر تعاون کے بارے میں بات کی۔ افراد، سوامی وویکانند کے رابطے میں آئے اور انہوں نے ادارے قائم کئے اور پھر انہوں نے نئے ادارہ ساز افراد تیار کئے۔ اس سے انفرادی ترقی سے ادارہ سازی اور اس کے برعکس ادارہ سازی سے انفرادی ترقی کا ایک نیک سلسلہ شروع ہوا ہے۔ یہ بھارت کی ایک زبردست طاقت ہے کیونکہ وزیراعظم نے انفرادی طور پر صنعت کاری اور بڑی کمپنیوں کے درمیان رابطوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے نوجوانوں سے یہ بھی کہا کہ وہ تعلیم سے متعلق حالیہ قومی پالیسی کے ذریعہ فراہم کئے گئے آموزش کے لچک دار اور اختراعی طریق کار سے مستفید ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم ملک میں ایک ایسا ماحولیاتی نظام قائم کرنے کی کوشش کرر ہے ہیں، جس کی غیر موجودگی اکثر نوجوانوں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ غیر ملکی اداروں کی طرف توجہ مرکوز کریں۔

وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ یہ سوامی وویکانند ہی تھے، جنہوں نے بھروسے مند، پر اعتماد، صاف دل، بے خوف اور حوصلہ مند نوجوانوں کو قوم کی بنیاد کی حیثیت سے تسلیم کیا۔ جناب نریندر مودی نے نوجوانوں کے لئے سوامی وویکا نند کے منتر پیش کئے۔ جسمانی طور پر چاق وچوبند رہنے کے لئے یہ ہے ‘‘لوہے کے عضلات اور فولاد کے ریشے’’ اور شخصیت سازی کے لئے یہ ہے: ‘‘خود پر یقین رکھئے’’ اور قیادت اور اجتماعی اور مشترکہ کام کے لئے سوامی جی نے کہا: ‘‘سبھی میں یقین رکھئے’’۔

وزیراعظم نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ سیاست میں بے لوث ہو کر اور تعمیری انداز سے تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج ایماندار لوگوں کو خدمت کرنے کا موقع مل رہا ہے ، جس سے سیاست سے متعلق یہ پرانا تصور تبدیل ہو رہا ہے کہ سیاست بے اصولی سرگرمیوں کی جگہ ہے۔ آج ایمانداری اور کارکردگی، وقت کی ضرورت بن گئے ہیں۔ اس ضمن میں وزیراعظم نے وراثت کی سیاست پر تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی، ان لوگوں پر ایک بوجھ بن گئی ہے، جن کی وراثت ہی بدعنوانی تھی۔

 

انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ وراثتی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ وراثتی سیاست، ایک جمہوری نظام میں نا اہلیت اور مطلق العنانی کو بڑھا وا دیتی ہے، جب کہ ایسے لوگ خاندانی سیاست اور سیاست میں خاندان کو بچانے کے لئے ہی کام کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا : ‘‘ آج جب کہ موروثی نام کی بیساکھی کے ذریعے انتخابات جیتنے کے دن ختم ہوچکے ہیں، لیکن اب بھی موروثی سیاست کی بے چینی ختم نہیں ہوئی ہے۔ سیاسی وارثت سے قوم کو پہلے ترجیح دینے کے بجائے خود کو اور خاندان کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور بھارت میں سماجی بدعنوانی کی یہ ایک بڑی وجہ ہے۔’’

بھُج زلزلے کے بعد تعمیر نو سے متعلق کاموں کی مثال دیتے ہوئے وزیراعظم مودی نے نوجوانوں کو بتایا کہ جو سماج آفات میں خود اپنا راستہ طے کرنا سیکھتا ہے، وہ اپنی قسمت بھی خود لکھتا ہے، اس لئے بھارت کے تمام 130 کروڑ افراد آج خود اپنی قسمت لکھ رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کی ہر کوشش ، جدت طرازی اور ایماندارانہ عزم، ہمارے مستقبل کے لئے ایک مضبوط بنیاد ڈال رہی ہے۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
How ODOP is helping Pratapgarh turn its amla into a bigger business

Media Coverage

How ODOP is helping Pratapgarh turn its amla into a bigger business
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to participate in Valedictory Session of Departmental Summit on Water Security on 2nd September
September 01, 2026
This marks the first in a series of Summits envisioned by Prime Minister to strengthen spirit of Team India and deepen cooperative federalism
Summit brings together Centre and States to deliberate on priorities and evolve time-bound action plans
The summit will focus on timely implementation of water infrastructure projects, Jal Sanchay Jan Bhagidari, drinking water source sustainability and JJM 2.0.

Prime Minister Shri Narendra Modi will participate in the valedictory session of Departmental Summit of Ministry of Jal Shakti on 2nd September 2026 at around 4:30 PM at Sushma Swaraj Bhawan, New Delhi. He will also address the gathering on the occasion.

The two-day Departmental Summit, being held on 1-2 September 2026, is the first in a series of Departmental Summits envisioned by Prime Minister to strengthen the spirit of Team India, deepen cooperative federalism and foster collective ownership of national priorities through closer collaboration between the Centre and the States. The initiative provides a structured platform to jointly deliberate on critical sectoral priorities and accelerate implementation and outcomes.

The Summit will bring together political leadership and senior officials from the Union and State Governments to deliberate on key priorities, share best practices, address implementation challenges and evolve time-bound action plans. The initiative seeks to promote shared responsibility for national goals and ensure that deliberations translate into measurable improvements in governance and service delivery.

The Summit will focus on four key areas:

  1. Timely implementation of water infrastructure projects
  2. Jal Sanchay Jan Bhagidari - Catch the Rain
  3. Source sustainability of drinking water systems
  4. Operation and maintenance of rural drinking water supply schemes under Jal Jeevan Mission 2.0

The consultations are expected to result in concrete and time-bound actions for accelerating water infrastructure projects, enhancing public participation in water conservation, ensuring sustainable drinking water sources and improving the reliability and accountability of rural drinking water services.