’’جب ہم دیکھتے ہیں کہ ملک کی تعمیر کے لئے معاشرے کے ہر ایک حلقے میں ہماری بہنیں اور بیٹیاں، بیٹوں کے ساتھ تعاون کررہی ہیں، تو لگتا ہے کہ یہ شری شری ہری چاند ٹھاکر جی جیسی عظیم شخصیات کے لئے سچا خراج عقیدت ہے‘‘
’’جب حکومت سب کا ساتھ، سب کو وکاس، سب کا وشواش کی بنیاد پر سرکاری اسکیمیں عوام کے پاس لے جاتی ہے اور جب سب کا پریاس ملک کی ترقی کے کام کو آگے بڑھاتا ہے، تو ہم ایک شمولیت والے معاشرے کی تعمیر کی طرف آگے بڑھتے ہیں‘‘
’’ہمارا آئین ہمیں بہت سے حقوق دیتا ہے، ہم ان حقوق کا تحفظ اسی صورت میں کر سکتے ہیں جبکہ ہم اپنے فرائض کو ایمانداری سے ادا کریں‘‘
’’اگر کہیں کسی پر ظلم ہورہا ہے تو آپ کو یقینی طور پر اپنی آواز بلند کرنی چاہیے، یہ معاشرے کے لئے اور ملک کے تئیں بھی ہمارا فرض ہے‘‘
’’اگر کوئی کسی کو محض سیاسی اختلاف کی وجہ سے تشدد کی دھمکی دیتا ہے، تو یہ دوسروں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے، اس لئے ہمارا یہ فرض ہے کہ اگر معاشرے میں کہیں بھی تشدد کی ذہنیت، انارکی موجود ہو، تو اس کی مخالفت کی جائے‘‘

وزیراعظم  جناب نریندر مودی نے شری شری ہری چاند ٹھاکر جی کے  211 ویں یوم پیدائش کے موقع پر آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ٹھاکر باڑی   مغربی بنگال کے شری دھام ٹھاکر نگر میں متوا دھرم مہا میلہ  2022  سے  خطاب کیا۔

وزیراعظم نے اس خوشی کو یاد کیا جو انہیں مارچ 2021 میں بنگلہ دیش میں اوراکاندی ٹھاکر باڑی میں خراج عقیدت پیش کرنے  اور فروری 2019 میں  جب انہیں ٹھاکر نگر کا دورہ کرنے کا موقع ملنے  پر ہوئی تھی۔

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ متوا دھرم مہا میلہ ،متوا روایت  کے سامنے   نمن کرنے کا موقع ہے، جس کی بنیاد شری شری ہری چاند ٹھاکر جی نے رکھی تھی اور جس کو گرو چاند ٹھاکر جی  بورو ماں نے مزید تقویت بخشی۔ وزیراعظم نے   کہا کہ اس عظیم روایت کو آگے بڑھانے کا  سہرا ان  کی  وزاتی  کونسل کے ساتھی جناب شانتنو ٹھاکر کے  سر  بھی ہے۔

جناب مودی نے مہا میلہ کو ایک بھارت شریشٹھ بھارت کا عکس قرار دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری ثقافت اور تہذیب اس وجہ سے عظیم ہے کہ اس میں تسلسل ہے  اور وہ مسلسل   روانی میں ہے اور  اس میں خود کو مضبوط کرنے کا  ایک فطری رجحان ہے متوا برادری کے  لیڈروں کے سماجی کاموں کا ذکر  کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ملک کی بیٹیوں کو صفائی ستھرائی، صحت اور خود اعتمادی فراہم کرانے کے لیے نیو انڈیا کی کوششوں کے بارے میں بتایا۔ وزیر اعظم نے کہا ’’جب ہم دیکھتے ہیں کہ  ملک کی تعمیر  کے لئے  معاشرے کے ہر ایک حلقے میں ہماری بہنیں اور بیٹیاں، بیٹوں کے ساتھ تعاون کررہی ہیں، تو لگتا ہے کہ یہ  شری شری ہری چاند ٹھاکر جی جیسی عظیم شخصیات کے لئے سچا خراج عقیدت ہے‘‘۔

وزیر اعظم نے کہا کہ’’جب حکومت  سب کا ساتھ، سب کو وکاس، سب کا وشواش کی بنیاد پر  سرکاری اسکیمیں عوام کے پاس لے جاتی ہے اور جب سب کا پریاس ملک کی ترقی کے کام کو آگے بڑھاتا ہے، تو ہم  ایک شمولیت والے معاشرے کی تعمیر کی  طرف آگے بڑھتے ہیں‘‘۔ شری شری ہری چاند ٹھاکر جی کے ایشور کے پریم کے ساتھ ساتھ فرض پر زور دینے کو یاد کرتے ہوئے  وزیر اعظم نے شہری زندگی میں فرائض کے رول پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ’’ہمیں  ملک کی ترقی کے لئے فرض کے اس احساس کو  بنیاد بنانا ہے۔ ہمارا آئین ہمیں بہت سے حقوق دیتا ہے، ہم ان حقوق کا تحفظ اسی وقت کر سکتے ہیں جب ہم اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کریں‘‘۔

وزیر اعظم نے  متوا سماج  پر زور دیا کہ وہ معاشرے میں ہر سطح پر بدعنوانی کو دور کرنے کے لیے بیداری پیدا کریں۔ وزیر اعظم نے کہا ’’اگر کسی کو کہیں بھی ہراساں کیا جا رہا ہے تو وہاں ضرور آواز بلند کریں۔ یہ معاشرے اور ملک  کے تئیں ہمارا فرض ہے‘‘۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ’’سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا ہمارا جمہوری حق ہے لیکن سیاسی مخالفت کی وجہ سے اگر کوئی کسی کو تشدد سے ڈراتا ہے تو یہ دوسروں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے اس لیے ہمارا فرض ہے کہ معاشرے میں اگر کہیں بھی تشدد کی ذہنیت اور انارکی ہو تو اس کی مخالفت ہونی چاہیے۔

وزیر اعظم نے سوچھتا،  ووکل فار لوکل کی  اپیل کی   اور  ملک سب سے پہلے کے منتر کو دہرایا۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen

Media Coverage

India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves increase in the Judge strength of the Supreme Court of India by Four to 37 from 33
May 05, 2026

The Union Cabinet chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi today has approved the proposal for introducing The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 in Parliament to amend The Supreme Court (Number of Judges) Act, 1956 for increasing the number of Judges of the Supreme Court of India by 4 from the present 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Point-wise details:

Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 provides for increasing the number of Judges of the Supreme Court by 04 i.e. from 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Major Impact:

The increase in the number of Judges will allow Supreme Court to function more efficiently and effectively ensuring speedy justice.

Expenditure:

The expenditure on salary of Judges and supporting staff and other facilities will be met from the Consolidated Fund of India.

Background:

Article 124 (1) in Constitution of India inter-alia provided “There shall be a Supreme Court of India consisting of a Chief Justice of India and, until Parliament by law prescribes a larger number, of not more than seven other Judges…”.

An act to increase the Judge strength of the Supreme Court of India was enacted in 1956 vide The Supreme Court (Number of Judges) Act 1956. Section 2 of the Act provided for the maximum number of Judges (excluding the Chief Justice of India) to be 10.

The Judge strength of the Supreme Court of India was increased to 13 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1960, and to 17 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1977. The working strength of the Supreme Court of India was, however, restricted to 15 Judges by the Cabinet, excluding the Chief Justice of India, till the end of 1979, when the restriction was withdrawn at the request of the Chief Justice of India.

The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1986 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India, excluding the Chief Justice of India, from 17 to 25. Subsequently, The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2008 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India from 25 to 30.

The Judge strength of the Supreme Court of India was last increased from 30 to 33 (excluding the Chief Justice of India) by further amending the original act vide The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2019.