’’ایماندار حکومت کی کوششیں اور با اختیار غریبوں کی کوششیں جب ساتھ ملتی ہیں، تو غریبی کی شکست ہوتی ہے‘‘
’’غریبوں کو پکا گھر فراہم کرنے کی مہم صرف ایک سرکاری اسکیم ہی نہیں ہے، بلکہ دیہی علاقوں کے غریبوں میں اعتماد پیدا کرنے کا عزم ہے‘‘
’’اسکیموں کی کوریج میں چھنٹائی کے ذریعے حکومت جانبداری اور بدعنوانی کے امکان کو ختم کرنا چاہتی ہے‘‘
ہر ایک ریاستی حکومت، مقامی ادارہ اور پنچایت کو ہر ضلع میں 75 امرت سروور بنانے کے لیے کام کرنا ہے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے مدھیہ پردیش کے، پردھان منتری آواس یوجنا – گرامین کے تقریباً 5.21 لاکھ مستفیدین کے ’گرہ پرویشم‘ میں شرکت کی۔ اس موقع پر مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب شیو راج سنگھ چوہان، مرکزی اور ریاستی وزراء، ممبران پارلیمنٹ اور ریاستی قانون ساز وغیرہ موجود تھے۔

اس موقع پر بولتے ہوئے، وزیر اعظم نے مستفیدین کو آنے والے نئے سال، ورکم سموت میں ان کے ’گرہ پرویشم‘ پر مبارکباد دی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پہلے، سیاسی پارٹیوں نے نعرے لگانے کے باوجود غریبوں کے لیے زیادہ کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا، ’’ایک بار جب غریب با اختیار ہوتا ہے، تو اس میں غریبی سے لڑنے کا حوصلہ آتا ہے۔ جب ایماندار حکومت کی کوششیں اور با اختیار غریبوں کی کوششیں ساتھ ملتی ہیں، تو غریبی کی شکست ہوتی ہے۔‘‘

وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ ’’پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت گاؤوں میں بننے والے یہ 5.25 لاکھ مکان محض ایک تعداد نہیں ہے۔ یہ 5.25 لاکھ گھر ملک میں با اختیار ہوتے غریب کی پہچان ہیں۔‘‘ جناب مودی نے مزید کہا کہ  غریبوں کو پکا گھر فراہم کرنے کی یہ مہم صرف ایک سرکاری اسکیم ہی نہیں ہے، بلکہ دیہی غریبوں میں اعتماد پیدا کرنے کا ایک عزم ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ غریبوں کو ان کی غریبی سے باہر نکالنے کا پہلا قدم ہے۔‘‘ وزیر اعظم نے مزید کہا، ’’یہ مکان گاؤوں کی خواتین کو ’لکھ پتی‘ بنانے کے جذبہ اور مہم کی عکاسی کرتے ہیں۔‘‘

وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے پہلے کچھ لاکھ ہی گھر بنائے گئے تھے، لیکن موجودہ حکومت 2.5 کروڑ پکا گھر پہلے ہی لوگوں کو سونپ چکی ہے، جن میں سے 2 کروڑ مکان دیہی علاقوں میں ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وبائی مرض بھی اس مہم کی رفتار کو دھیما نہیں کر سکا۔ مدھیہ پردیش کے لیے منظور کیے گئے  30 لاکھ گھروں میں سے 24 لاکھ پہلے سے ہی مکمل ہو چکے ہیں اور بیگا، سہریا، اور بھاریا سماج کے لوگوں کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ پی ایم اے وائی کے تحت بننے والے مکان بیت الخلاء، سوبھاگیہ یوجنا بجلی کنکشن، اجالا اسکیم، ایل ای ڈی بلب، اجولا گیس کنکش اور ہر گھر جل کے تحت پانی کے کنکشن سے لیس ہیں، جس کی وجہ سے مستفیدین کو یہ فوائد حاصل کرنے کی خاطر ادھر ادھر بھاگنے کی ضرورت نہیں پڑ رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پی ایم اے وائی اسکیم کے تحت تعمیر ہونے والے مکانوں میں سے، تقریباً 2 کروڑ گھر خواتین کے نام سے رجسٹرڈ ہیں۔ اس مالکانہ حق نے، گھر کے دوسرے مالیاتی فیصلوں میں بھی خواتین کی حصہ داری کو مضبوط کیا ہے۔ خواتین کے وقار اور زندگی کی آسانیوں میں اضافہ کرنے کے حکومت کے عزم کو دوہراتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سالوں کے دوران 6 کروڑ سے زیادہ گھروں میں نل سے پینے کے پانی کی سپلائی کا انتظام کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے  غریبوں کو مفت راشن مہیا کرانے کے لیے 2 لاکھ 60 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ رقم خرچ کی ہے۔ چونکہ اس اسکیم کو اب  اگلے 6 مہینوں کے لیے بڑھا دیا گیا ہے، لہٰذا اس پر مزید 80 ہزار کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ مطلوبہ مستفیدین کو مکمل فائدہ پہنچانے کے حکومت کے عزم کے مطابق،  سرکار نے اپنے ریکارڈ میں سے 4 کروڑ فرضی مستفیدین کو باہر نکال دیا ہے۔ یہ کام 2014 کے بعد کیا گیا ہے، تاکہ غریبوں کو ان کا واجب فائدہ ملے اور پیسہ بے ایمان عناصر کے ہاتھوں چوری ہونے سے بچ جائے۔ امرت کال کے دوران اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہر ایک مستفیدین کو بنیادی سہولیات حاصل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ذریعے اسکیموں میں چھنٹائی کرنے کا مقصد جانبداری اور بدعنوانی کے امکان کو ختم کرنا ہے۔

سوامتو اسکیم کے تحت جائیداد کے ریکارڈ کو باضابطہ بنا کر، حکومت گاؤوں میں کاروبار کے ماحول کو آسان کر رہی ہے۔ مدھیہ پردیش میں، تمام ضلعوں کے کل 50 ہزار گاؤوں میں سروے کا کام چل رہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ طویل عرصے سے، دیہی اقتصادیات صرف زراعت تک محدود تھی۔  ڈرون جیسی نئی ٹیکنالوجی اور قدرتی کھیتی جیسے قدیم نظام کی حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ہی، حکومت گاؤوں میں نئے راستے کھول رہی ہے۔ وزیر اعظم نے  ایم ایس پی کی خریداری میں نئے ریکارڈ بنانے پر مدھیہ پردیش کی حکومت اور وہاں کے وزیر اعظم اعلیٰ کو مبارکباد دی۔ مدھیہ پردیش کے کسانوں کو پی ایم کسان سمان ندھی کے تحت 13 ہزار کروڑ روپے بھی ملے ہیں۔

وزیر اعظم نے اگلے نئے سال (پرتی پدا) میں ہر ایک ضلع میں 75 امرت سروور (تالاب) بنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سروور نئے اور بڑے ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے منریگا کا فنڈ استعمال کیا جا سکتا ہے اور یہ زمین، قدرت، چھوٹے کسانوں، خواتین اور یہاں تک کہ پرندوں اور مویشیوں کے لیے بھی بہت فائدہ مند ہوں گے۔ انہوں نے ہر ایک ریاستی حکومت، مقامی اداروں اور پنچایتوں سے اس سمت میں کام کرنے کی اپیل کی۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India leads globally in renewable energy; records highest-ever 31.25 GW non-fossil addition in FY 25-26: Pralhad Joshi.

Media Coverage

India leads globally in renewable energy; records highest-ever 31.25 GW non-fossil addition in FY 25-26: Pralhad Joshi.
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi hails the commencement of 20th Session of UNESCO’s Committee on Intangible Cultural Heritage in India
December 08, 2025

The Prime Minister has expressed immense joy on the commencement of the 20th Session of the Committee on Intangible Cultural Heritage of UNESCO in India. He said that the forum has brought together delegates from over 150 nations with a shared vision to protect and popularise living traditions across the world.

The Prime Minister stated that India is glad to host this important gathering, especially at the historic Red Fort. He added that the occasion reflects India’s commitment to harnessing the power of culture to connect societies and generations.

The Prime Minister wrote on X;

“It is a matter of immense joy that the 20th Session of UNESCO’s Committee on Intangible Cultural Heritage has commenced in India. This forum has brought together delegates from over 150 nations with a vision to protect and popularise our shared living traditions. India is glad to host this gathering, and that too at the Red Fort. It also reflects our commitment to harnessing the power of culture to connect societies and generations.

@UNESCO”