Share
 
Comments
For ages, conservation of wildlife and habitats has been a part of the cultural ethos of India, which encourages compassion and co-existence: PM Modi
India is one of the few countries whose actions are compliant with the Paris Agreement goal of keeping rise in temperature to below 2 degree Celsius: PM

نئی دہلی، 17فروری  / وزیراعظم جناب نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ گاندھی نگر میں وطن تبدیل کرنے والے جنگلی جانوروں  کی متعدد اقسام کے تحفظ سے متعلق فریقوں کی 13 ویں کانفرنس کاافتتاح کیا۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان دنیا کے سب سے زیادہ متنوع ملکوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر کے کل زمینی رقبے کے محض2.4 فیصد حصے کے ساتھ ہندوستان عالمی سطح پرحیاتیاتی تنوع میں تقریباً 8 فیصد کاتعاون فراہم کرتا ہے۔وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ صدیوں سے جنگلی جانوروں اور آبادیوں کاتحفظ ہندوستان کی تہذیبی اقدار کا  حصہ رہا ہے،جس سے یہاں آپسی ہمدردی وترحم اور باہمی بقا کے جذبے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ‘‘گاندھی جی کے افکارو خیالات سے متاثر ہو کر عدم تشدد، جانوروں اور فطرت کی حفاظت  کی جیسی قدریں اچھی طرح سے آئین ہند میں موجود ہیں اور اس کی عکاسی مختلف قوانین اورضوابط سے  ہوتی ہے’’۔

وزیراعظم ہندوستان کے جنگل کے علاقوں میں اضافے کے بارے میں بھی گفتگو کی۔ فی الحال  ہندوستان میں ملک کے کل جغرافیائی علاقے کا 21.67 فیصد علاقہ جنگلی علاقوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ کس طرح ہندوستان نے فطرت کے تحفظ،  طرز زندگی اور  شجر کاری کی ترقی  کےپائیدار ماڈل کے ذریعہ‘‘ آب وہوا سے متعلق کارروائی کے کاز میں نمایاں رول ادا کیا ہے۔اس تناظر میں انہوں نے الیکٹرک گاڑیوں کی جانب  منتقلی، اسمارٹ شہروں اور آبی تحفظ کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جس کی ماحولیات سے متعلق کارروائی عالمی تمازت میں اضافے کو 2 ڈگری سیلیس سے نیچے رکھنے کے پیرس معاہدے کے  اہداف سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔

وزیراعظم نے وضاحت کی کہ کس طرح متعدد اقسام کے جنگلی جانوروں کے تحفظ سے متعلق پروگراموں پر توجہ  مرکوز کرنے سے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ‘‘ ہندوستان نے 2022 کی مقررہ تاریخ سے دو سال قبل ہی شیروں کی تعداد کو دوگنا کرنے کے ہدف کو حاصل کرلیا ہے۔ہندوستان میں شیروں کی تعداد 2010 میں 1411 تھی جو اب بڑھ کر 2967 ہوگئی ہے’’۔انہوں نے کانفرنس میں موجود شیروں کی آبادی کے حامل ممالک اور دیگرملکوں سے زور دے کر کہا کہ وہ بہترین طریقہ کار کے باہمی تبادلے کے ذریعہ شیروں کے تحفظ کے عمل کو مزید مستحکم کرنے کے لئے آگے بڑھ کر آئیں۔  انہوں نے ایشیائی ہاتھیوں کے تحفظ کے لئے ہندوستان کے ذریعہ کئے گئے اقدامات کے بارے میں گفتگو کی۔ انہوں نے برفانی چیتے، ایشیائی شیر ، ایک سینگھ والے گیندے اور ہندوستان کے شاندار تغدار پرندے کے تحفظ کے لئے کی جارہی کوششوں کا تفصیلی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ باعث برکت‘‘ جی  بی۔ دی گریٹ’’ ہندوستان کے شاندار تغدار پرندے  کو ایک بہترین خراج ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگلی جانوروں  کی متعدد اقسام کے تحفظ سے متعلق فریقوں کی 13 ویں کانفرنس( سی ایم ایس کوپ 13 ) کا لوگو جنوبی ہندوستان کے روایتی‘‘ کولم’’ سے تحریک لے کر تیار کیا گیا ہے۔فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر زندگی بسر کرنے کے تناظر میں اس کی زبردست اہمیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ‘‘اتیتھی دیووبھوا’’ کا منتر سی  ایم ایس   کوپ 13 کے مرکزی خیال‘‘ وطن تبدیل کرنے والے متعدد اقسام کے جنگلی حیوانات کرہ ارض کو  جوڑتے ہیں اور ہم سب ملکر ان کا گھر میں خیرمقدم کرتے ہیں’’ میں منعکس ہے۔

وزیراعظم نے ہندوستان کے بعض ترجیحی شعبوں کے بارے میں روشنی ڈالی ،جبکہ اس کنونشن کے دوران پیش کئے جانے والے خیالات کو اگلے تین برسوں کے دوران  عملی جامعہ پہنانے کی وکالت کی۔

اس بات کو نوٹ کرتے ہوئے ہندوستان نقل مکانی کرکے  آنے والے پرندوں کے لئے وسطی ایشیائی فلائیوے کاایک حصہ ہے۔  وزیراعظم نے کہا کہ وسطی ایشیائی فلائیوے سے  وابستہ پرندوں اور ان کےبودوباش کا تحفظ کرنے کے نظریہ کے ساتھ ہندوستان نے ‘‘وسطی ایشیائی فلائیوے میں نقل مکانی کرکے آنے والے  پرندوں کے لئے ایک قومی ایکشن پلان’’ تیار کیا ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ ‘‘ ہندوستان اس سلسلے میں دیگرملکوں کی جانب سے ایکشن پلان  تیار کرنے کے عمل میں آسانی فراہم کر کے  خوش ہوگا۔  وسطی ایشیائی فلائیوے خطے کے تمام ملکوں کی سرگرم شراکتداری اور تعاون کے ساتھ ہم وطن تبدیل کرنے والے پرندوں کے تحفظ کے عمل میں ایک بنیادی تبدیلی کے خواہا ں ہیں’’۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان آسیان ملکوں اور مشرقی ایشیائی چوٹی ممالک کے ساتھ  اپنے اشتراک وتعاون کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ یہ کام ہند بحرالکاہل اقدامات( آئی پی او آئی) کے ساتھ ہوگا، جس میں ہندوستان ایک قائدانہ رول ادا کرے گا۔وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان 2020 تک سمندری کچھوے سے متعلق پالیسی اور بحری قائمہ بندوبست پالیسی کا آغاز کرے گا۔انہوں نے کہا کہ اس سے مائیکرو پلاسٹک کے سبب پیدا ہونے والی آلودگی سے  نمٹنے میں مدد ملے گی۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ پلاسٹک کا واحد استعمال ماحولیات کے تحفظ کے لئے ایک چیلنج رہا ہے اور ہم ہندوستان میں پلاسٹک کے واحد استعمال کو کم کرنے کے لئے ایک مشن کے انداز میں کام کررہے ہیں۔

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ہندوستان میں متعدد محفوظ علاقوں کی سرحدیں ، پڑوسی ملکوں  کے محفوظ علاقوں سے ملتی ہیں، وزیراعظم نے کہا کہ‘‘ سرحد پار محفوظ علاقے’’ کے قیام کے ذریعے جنگلی جانوروں کے تحفظ کے لئے باہمی اشتراک وتعاون سے نہایت مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

پائیدار ترقی کی راہ پر  گامزن رہنے کے مرکزی حکومت کے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے ماحولیاتی اعتبار سے کمزور اور خطرات کے حامل علاقوں کی ترقی کو آگے بڑھانے کے لئے سیدھے بنیادی ڈھانچہ پالیسی رہنما خطوط کو جاری کرنے کا ذکر کیا۔

وزیراعظم نے  اس بات کی بھی وضاحت کی کہ کس طرح‘‘ سب کا ساتھ ، سب کا وکاس،سب کا وشواس’’ کے جذبے کے ساتھ ملک کے جنگلات کے حامل علاقوں میں  رہائش پذیر کروڑوں افراد کو مشترکہ جنگلاتی بندوبست کمیٹیوں اور ماحولیاتی ترقیاتی کمیٹیوں میں  شامل کیا گیا ہے اورکس طرح  انہیں جنگلات اور جنگلی جانوروں کے تحفظ کے عمل سے وابستہ کیاگیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

Click here to read full text speech

20 تصاویر سیوا اور سمرپن کے 20 برسوں کو بیاں کر رہی ہیں۔
Mann KI Baat Quiz
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
India Inc raised $1.34 billion from foreign markets in October: RBI

Media Coverage

India Inc raised $1.34 billion from foreign markets in October: RBI
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
It is time to convert fintech initiatives into a fintech revolution: PM Modi
December 03, 2021
Share
 
Comments
“last year, in India, mobile payments exceeded ATM cash withdrawals for the first time”
“Transformational initiatives under Digital India have opened doors for innovative Fintech solutions to be applied in governance”
“Now it is time to convert these fintech initiatives into a fintech revolution. A revolution that helps to achieve financial empowerment of every single citizen of the country”
“Trust means that you need to ensure that the interests of people are secured. Fintech innovation will be incomplete without fintech security innovation”
“Our Digital Public Infrastructure solutions can improve the lives of citizens around the world”
“GIFT City is not merely a premise, it represents India. It represents India’s democratic values, demand, demography & diversity. It represents India’s openness to ideas, innovation & investment”
“Finance is the life blood of an economy and technology is its carrier . Both are equally important for achieving Antyodaya

Excellencies,

Distinguished colleagues,

My fellow citizens from the Tech and Finance world, Tens of thousands of Participants from over 70 countries,

Namaskar!

Friends,

I am delighted to inaugurate the first 'Infinity Forum' and welcome you all. 'Infinity Forum' represents the immense possibilities that Fintech has in India. It also shows the huge potential for India's Fintech to provide benefits to the entire world.

Friends,

The history of currency shows tremendous evolution. As humans evolved, so did the form of our transactions. From barter system to metals, from coins to notes, from cheques to cards, today we have reached here. Earlier developments used to take decades to spread across the world but not any more in this era of globalisation .Technology is bringing a big shift in the world of finance. Last year, in India, mobile payments exceeded ATM cash withdrawals for the first time. Fully digital banks, without any physical branch offices, are already a reality and may become common-place in less than a decade.

Friends,

India has proved to the world that it is second to none when it comes to adopting technology or innovating around it. Transformational initiatives under Digital India have opened doors for Fintech innovations to be applied in governance. Technology has also catalyzed financial inclusion. From less than 50% Indians having bank accounts in 2014, we have almost universalized it with 430 million Jan Dhan accounts in the last 7 years. So far, 690 million RuPay cards have been issued. RuPay cards clocked 1.3 billion transactions last year. UPI processed around 4.2 billion transactions in just last month.

Almost 300 million invoices are uploaded on the GST portal every month. More than 12 billion US dollars worth payment is done through the GST portal alone every month. Despite the pandemic, about 1.5 million railway tickets get booked online everyday. Last year, FASTag processed 1.3 billion seamless transactions. PM Svanidhi is enabling access to credit for small vendors across the country. e-RUPI has enabled targeted delivery of specified services without leakages; I can go on and on, but these are just a few examples of the scale & scope of Fintech in India.

Friends,

Financial inclusion is the driver of Fintech Revolution. Fintech is resting on 4 pillars; income, investments, insurance, and institutional credit. When income grows, investment becomes possible. Insurance coverage enables greater risk taking ability and investments. Institutional credit gives wings for expansion. And we have worked on each of these pillars. When all these factors come together, you suddenly find so many more people participating in the financial sector. The large base becomes the perfect springboard for Fintech innovations. Fintech industry in India is innovating to enhance access to finance and the formal credit system to every person in the country. Now it is time to convert these fintech initiatives into a fintech revolution. A revolution that helps to achieve financial empowerment of every single citizen of the country.

Friends,

As we see the widening reach of fintech, there are considerations that need attention. Fintech industry has achieved huge scale, and scale means people from all walks of life as customers. This fintech acceptability among the masses has a unique feature. That feature is trust. The common Indian has shown immense trust in our Fintech ecosystem by embracing digital payments and such technologies! This trust is a responsibility. Trust means that you need to ensure that the interests of people are secured. Fintech innovation will be incomplete without fintech security innovation.

Friends,

We believe in sharing our experiences and expertise with the world and learning from them as well. Our Digital Public Infrastructure solutions can improve the lives of people around the world. Tools like UPI and RuPay provide an unparalleled opportunity for every country. An opportunity to provide a low cost and reliable 'real time payment system' as well as a 'domestic card scheme' and 'fund remittance system'.

Friends,

GIFT City is not merely a premise, It represents the promise of India. It represents India's democratic values, demand, demography & diversity. It represents India's openness to ideas, innovation & investment. GIFT City is a gateway to the global fintech world. (IFSC) at GIFT City was born out of the vision that finance combined with technology would be an important part of India's future development. Our aim is to provide the best International Financial Services not just for India but for the World.

Friends,

Finance is the life blood of an economy and technology is its carrier. Both are equally important for achieving ''Antyodaya and Sarvodaya''. Our flagship Infinity Forum is part of our endeavor to bring together all key stakeholders of the global Fintech Industry to explore the limitless future of the industry. I remember the conversation I had with Mr Mike Bloomberg on this subject when we last met. And I thank the Bloomberg group for their support. Infinity forum is a forum of belief, belief in the spirit of innovation and the power of imagination. Belief in the energy of youth and their passion for change. Belief in making the world a better place. Let us together, explore and advance innovative ideas in Fintech to solve the most pressing issues emerging globally.

Thank You!