وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور آسٹریا کے چانسلر عزت مآب مسٹر کارل نیہمر نے آج بنیادی ڈھانچہ، آٹوموبائل، توانائی، انجینئرنگ اور اسٹارٹ اپ سمیت مختلف شعبوں کے سرکردہ آسٹریائی اور ہندوستانی سی ای اوز کے ایک گروپ سے مشترکہ طور پر خطاب کیا۔

 

دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور ہندوستان اور آسٹریا کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دینے میں صنعت کے رہنماؤں کے کردار کو تسلیم کیا۔ قائدین نے نوٹ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں گزشتہ برسوں میں اضافہ ہورہا ہے اور انہوں نے زیادہ سے زیادہ تعاون کے ذریعہ ہندوستان-آسٹریا شراکت داری کی پوری صلاحیت کو بروئے کار لانے پر زور دیا۔

وزیر اعظم نے آسٹریا کے کاروباری شراکت داروں سے کہا کہ وہ ہندوستان میں تیزی سے سامنے آنے والے مواقع کو دیکھیں، کیونکہ یہ ملک اگلے چند سالوں میں دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان نے گزشتہ دس سالوں میں یکسر تبدیلی کی سمت میں پیش رفت کی ہے، اور سیاسی استحکام، پالیسی کی پیش گوئی اور اس کے اصلاحات پر مبنی اقتصادی ایجنڈے کی طاقت کے پیش نظر اسی راستے پر گامزن رہے گا۔ انہوں نے کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات پر زور دیا جو عالمی کمپنیوں کو ہندوستان کی طرف راغب کر رہے ہیں۔ ہندوستانی اقتصادی ترقی اور تبدیلی کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے اسٹارٹ اپ کے شعبہ میں ہندوستان کی کامیابی، اگلی نسل کے بنیادی ڈھانچے کی تخلیق، اور ماحول دوست ایجنڈے پر آگے بڑھنے کے عزم کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کیا کہ ہندوستان اور آسٹریا کے درمیان قائم کیے گئے اسٹارٹ اپ برج کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوں گے۔ اس سلسلے میں انہوں نے تجویز پیش کی کہ دونوں ممالک کو مل کر مشترکہ ہیکاتھون کا انعقاد کرنا چاہیے۔ انہوں نے ملک میں ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی کامیابی اور کنیکٹیویٹی اور لاجسٹک کو بہتر بنانے کے لیے کیے گئے مزیداقدامات کے بارے میں بتایا۔

 

ہندوستان کی طاقت کو دیکھتے ہوئے، وزیر اعظم نے آسٹریا کی بڑی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ اور عالمی سپلائی چین کی منزل کے طور پر میک اِن انڈیا پروگرام کے تحت اعلیٰ معیار اور لاگت سے موثر مینوفیکچرنگ کے لیے ہندوستانی اقتصادی منظر نامے کا فائدہ اٹھائیں۔ اس تناظر میں، انہوں نے سیمی کنڈکٹر، میڈیکل ڈیوائس، سولر پی وی سیلز، اور دیگر شعبوں میں عالمی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کو راغب کرنے کے لیے ہندوستان کی پروڈکشن سے مربوط پہل  کی اسکیم کے بارے میں بات کی۔ انہوں نےواضح کیا کہ ہندوستان کی اقتصادی طاقت اور مہارت اور آسٹریا کی ٹیکنالوجی کاروبار، ترقی اور پائیداری کے لیے فطری شراکت دار ہیں۔

 

انہوں نے آسٹریا کے کاروباریوں کو دعوت دی کہ وہ ہندوستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے استفادہ کریں اور ہندوستان کی شاندار ترقی کی کہانی کا حصہ بنیں۔

 

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets

Media Coverage

PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister hold talks with Myanmar President U Min Aung Hlaing
June 01, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, today held productive talks with the President of Myanmar, U Min Aung Hlaing.

The Prime Minister noted that India is honoured that President U Min Aung Hlaing chose India for his first foreign visit as President. He also expressed happiness that the President began his programme in India from Bodh Gaya with the blessings of Lord Buddha.

During the talks, the two leaders reviewed the full range of India-Myanmar relations and discussed ways to further strengthen bilateral cooperation.

The discussions covered avenues to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. The two sides also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and other sectors of mutual interest.

The Prime Minister underlined that Myanmar is vital to India’s ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific policies, reaffirming the importance India attaches to its relations with Myanmar.

The Prime Minister wrote on X;

“Had a productive meeting with President U Min Aung Hlaing of Myanmar. We in India are honoured that he has chosen India for his first foreign visit as President. Equally gladdening is the fact that he began the visit from Bodh Gaya, with the blessings of Lord Buddha. We reviewed the full range of India-Myanmar relations. Myanmar is vital to India’s policies of ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific.”

“Our talks covered ways to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. We also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and more.”