Share
 
Comments
Prime Minister directs senior officers to take every possible measure to ensure that people are safely evacuated
Ensure maintenance of all essential services such as Power, Telecommunications, health, drinking water: PM
Special preparedness needed for COVID management in hospitals, vaccine cold chain and power back up and storage of essential medicines in vulnerable locations due to cyclone: PM

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے سمندری طوفان ’توکتے‘ سے پیدا شدہ حالات سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ریاستوں اور مرکزی وزارتوں/ایجنسیوں کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے آج یہاں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی۔

ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے اطلاع دی ہے کہ 175 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار والی ہوا کے ساتھ سمندری طوفان ’توکتے‘ کے 18 مئی دوپہر/شام کے آس پاس پوربندر اور نلیا کے مابین گجرات کے ساحل کو چھونے کی امید ہے۔ اس کی وجہ سے جوناگڑھ اور گیر سومناتھ میں کافی تیز بارش ہونے کے ساتھ ساتھ گجرات کے ساحلی ضلعوں میں بھاری بارش کا امکان ہے۔ سوراشٹر، کچھّ اور دیو کے کئی ضلعوں جیسے کہ گیر سومناتھ، دیو، جوناگڑھ، پوربندر، دیوبھومی دوارکا، امریلی، راجکوٹ، جام نگر میں کچھ مقامات پر بھاری سے بہت بھاری بارش ہونے کی امید ہے۔ آئی ایم ڈی نے 18 مئی کی دوپہر/شام کے وقت اس سمندری طوفان کے گجرات کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کے دوران موربی، کچھّ، دیوبھومی دوارکا اور جام نگر ضلعوں کے ساحلی علاقوں میں سیراب کرنے والے طوفان سے تقریباً 3-2 میٹر اوپر اور پوربندر، جوناگڑھ، دیو، گیر سومناتھ، امریلی، بھاو نگر کے ساحلی علاقوں میں 2-1 میٹر اوپر اور گجرات کے بقیہ ساحلی علاقوں میں 0.5 سے 1 میٹر اوپر تک طوفان اٹھنے کی بھی وارننگ دی ہے۔ آئی ایم ڈی 13 مئی سے تمام متعلقہ ریاستوں کو جدید پیشن گوئی کے ساتھ ہر گین گھنٹے کے وقفہ پر بلیٹن جاری کر رہا ہے۔

میٹنگ میں اس بات پر گفتگو ہوئی کہ کابینہ سکریٹری تمام ساحلی ریاستوں کے چیف سکریٹریز اور متعلقہ مرکزی وزارتوں/ایجنسیوں کے لگاتار رابطہ میں ہیں۔

وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) چوبیسوں گھنٹے حالات کا جائزہ لے رہی ہے اور ریاستی حکومتوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور متعلقہ مرکزی ایجنسیوں کے رابطہ میں ہے۔ وزارت داخلہ نے تمام ریاستوں کو ایس ڈی آر ایف کی پہلی قسط پہلے ہی جاری کر دی ہے۔ این ڈی آر ایف نے چھ ریاستوں میں 42 ٹیموں کو پہلے سے تعینات کیا ہے جو کشتیوں، درخت کاٹنے والی مشینوں، مواصلاتی آلات وغیرہ سے لیس ہیں اور 26 ٹیموں کو اسٹینڈ بائی پر رکھا ہے۔

انڈین کوسٹ گارڈ اور بحریہ نے راحت، تلاش اور بچاؤ کے کاموں کے لیے جہاز اور ہیلی کاپٹر تعینات کیے ہیں۔ فضائیہ اور بری فوج کی انجینئر ٹاسک فورس اکائیاں، کشتیوں اور بچاؤ کے آلات کے ساتھ، تعیناتی کے لیے تیار ہیں۔ انسانی امداد اور قدرتی آفت کے دوران راحت رسانی کی اکائیوں کے ساتھ سات جہاز مغربی ساحل پر اسٹینڈ بائی پر ہیں۔ نگرانی کرنے والے طیارے اور ہیلی کاپٹر مغربی ساحل پر لگاتار نگرانی کر رہے ہیں۔ ڈیزاسٹر ریلیف ٹیم (ڈی آر ٹی) اور میڈیکل ٹیم (ایم ٹی) ترویندرم، کنور اور مغربی ساحل کے دیگر مقامات پر اسٹینڈ بائی پر ہیں۔

بجلی کی وزارت نے ایمرجنسی رسپانس ٹیموں کو فعال کر دیا ہے اور بجلی کی فوری بحالی کے لیے ٹرانسفارمر، ڈی جی سیٹ اور آلات وغیرہ تیار رکھ رہا ہے۔ وزارت مواصلات سبھی مواصلاتی ٹاوروں اور ایکسچنجوں پر لگاتار نظر رکھ رہا ہے اور مواصلاتی نیٹ ورک کو بحال کرنے کے لیے پوری طرح سے تیار ہے۔ صحت اور خاندانی فلاح و بہبود کی وزارت نے اس سمندری طوفان سے متاثر ہونے کے امکان والی ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو متاثرہ علاقوں میں کووڈ سے جڑی طبی خدمات کی تیاری اور رد عمل کے لیے ایڈوائزری جاری کی ہے۔ انہوں نے ایمرجنسی کی دواؤں کے ساتھ 10 سریع الحرکت رسپانس میڈیکل ٹیم اور 5 پبلک ہیلتھ رسپانس ٹیم بھی تیار رکھی ہیں۔ بندرگاہ، جہازرانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت نے سبھی شپنگ جہازوں کو محفوظ کرنے کے قدم اٹھائے ہیں اور ایمرجنسی جہازوں کو تعینات کیا ہے۔

این ڈی آر ایف حساس مقامات سے لوگوں کو نکالنے کے لیے ریاست کی ایجنسیوں کو ان کی تیاریوں میں مدد کر رہا ہے اور سمندری طوفان کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے لگاتار عوامی بیداری مہم بھی چلا رہا ہے۔

تیاریوں کے جائزہ کے بعد، وزیر اعظم نے سینئر افسران کو یہ یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کی ہدایت دی ہے کہ ریاستی حکومتوں کے ذریعے لوگوں کو بحفاظت نکالا جائے اور بجلی، مواصلات، صحت، پینے کا پانی وغیرہ جیسی تمام ضروری خدمات کو جاری رکھنا یقینی ہو اور نقصان پہنچنے کی حالت میں انہیں فوراً بحال کیا جائے۔ انہوں نے اسپتالوں میں کووڈ انتظامیہ، ٹیکہ کے لیے کولڈ چین اور پاور بیک اپ پر دیگر طبی سہولیات، ضروری دواؤں کے ذخیرہ کے بارے میں خاص تیاری کو یقینی بنانے اور آکسیجن ٹینکروں کی بلا رکاوٹ آمد و رفت کا منصوبہ تیار کرنے کی بھی ہدایت دی۔ انہوں نے کنٹرول روم کو چوبیسوں گھنٹے کھلا رکھنے کی بھی ہدایت دی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جام نگر سے آکسیجن کی سپلائی میں کم از کم ممکنہ رکاوٹ کو یقینی بنانے پر خاص دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وقت پر ہوشیار کرنے اور راحت اقدام کے کاموں میں مقامی برادری کو شامل کرنے کی ضرورت کے بارے میں بھی بتایا۔

اس میٹنگ میں وزیر داخلہ، وزیر مملکت برائے امور داخلہ، وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری، کابینہ سکریٹری، داخلہ، شہری ہوابازی، بجلی، مواصلات، جہاز رانی، ماہی گیری کی وزارتوں/محکموں کے سکریٹریز، این ڈی ایم کے ممبران اور ممبر سکریٹری، ریلوے بورڈ کے صدر، این ڈی آر ایف اور ہندوستانی محکمہ موسمیات کے ڈائرکٹر جنلر اور وزیر اعظم کے دفتر، وزارت داخلہ اور ہندوستانی محکمہ موسمیات کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

 

'من کی بات ' کے لئے اپنے مشوروں سے نوازیں.
20 تصاویر سیوا اور سمرپن کے 20 برسوں کو بیاں کر رہی ہیں۔
Explore More
دیوالی کے موقع پر جموں و کشمیر کے نوشہرہ میں ہندوستانی مسلح افواج کے جوانوں کے ساتھ وزیر اعظم کی بات چیت کا متن

Popular Speeches

دیوالی کے موقع پر جموں و کشمیر کے نوشہرہ میں ہندوستانی مسلح افواج کے جوانوں کے ساتھ وزیر اعظم کی بات چیت کا متن
‘Important to keep this momentum': PM Modi as half of India's adult population fully jabbed

Media Coverage

‘Important to keep this momentum': PM Modi as half of India's adult population fully jabbed
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
21st India – Russia Annual Summit
December 07, 2021
Share
 
Comments

President of the Russian Federation, H.E. Mr. Vladimir Putin, paid a working visit to New Delhi on 06 December 2021 for the 21st India – Russia Annual summit with Prime Minister Shri Narendra Modi.

2. President Putin was accompanied by a high level delegation. Bilateral talks between Prime Minister Modi and President Putin were held in a warm and friendly atmosphere. The two leaders expressed satisfaction at the sustained progress in the ‘Special and Privileged Strategic Partnership’ between both countries despite the challenges posed by the Covid pandemic. They welcomed the holding of the first meeting of the 2+2 Dialogue of Foreign and Defence Ministers and the meeting of the Inter-Governmental Commission on Military & Military-Technical Cooperation in New Delhi on 6 December 2021.

3. The leaders underscored the need for greater economic cooperation and in this context, emphasized on new drivers of growth for long term predictable and sustained economic cooperation. They appreciated the success story of mutual investments and looked forward to greater investments in each others’ countries. The role of connectivity through the International North-South Transport Corridor (INSTC) and the proposed Chennai - Vladivostok Eastern Maritime Corridor figured in the discussions. The two leaders looked forward to greater inter-regional cooperation between various regions of Russia, in particular with the Russian Far-East, with the States of India. They appreciated the ongoing bilateral cooperation in the fight against the Covid pandemic, including humanitarian assistance extended by both countries to each other in critical times of need.

4. The leaders discussed regional and global developments, including the post-pandemic global economic recovery, and the situation in Afghanistan. They agreed that both countries share common perspectives and concerns on Afghanistan and appreciated the bilateral roadmap charted out at the NSA level for consultation and cooperation on Afghanistan. They noted that both sides shared common positions on many international issues and agreed to further strengthen cooperation at multilateral fora, including at the UN Security Council. President Putin congratulated Prime Minister Modi for India’s ongoing non-permanent membership of the UN Security Council and successful Presidency of BRICS in 2021. Prime Minister Modi congratulated Russia for its ongoing chairmanship of the Arctic Council.

5. The Joint Statement titled India-Russia: Partnership for Peace, Progress and Prosperity aptly covers the state and prospects of bilateral ties. Coinciding with the visit, several Government-to-Government Agreements and MoUs, as well as those between commercial and other organizations of both countries, were signed in different sectors such as trade, energy, science & technology, intellectual property, outer space, geological exploration, cultural exchange, education, etc. This is a reflection of the multifaceted nature of our bilateral partnership.

6. President Putin extended an invitation to Prime Minister Modi to visit Russia for the 22nd India-Russia Annual Summit in 2022.