حکومت نے خود کے روزگار کے لیے 8 کروڑ نوجوانوں کی 20 لاکھ روپے سے اعانت کی: جناب نریندر مودی
حکومت نے ایم ایس ایم ایز کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے کووڈ-19 کی وبا کے دوران 3.5 لاکھ کروڑ روپے قرض کی شکل میں امداد دی: وزیر اعظم
پردھان منتری مدرا یوجنا کی مدد سے 8 کروڑ شہریوں نے ایک یا دو اور لوگوں کو روزگار دیا: جناب مودی
وزیراعظم نے مہنگائی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم کیا

77ویں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ہندوستان کے 10ویں سے دنیا کی 5ویں بڑی معیشت تک پہنچنے کا سہرا ہندوستان کے 140 کروڑ لوگوں کی کوششوں کے سر باندھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا اس لیے ممکن ہوا ہے کہ اس حکومت نے لیکیج کو روکا، ایک مضبوط معیشت بنائی اور غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے زیادہ سے زیادہ رقم خرچ کی۔

وزیر اعظم جناب مودی نے کہا کہ آج میں لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب ملک معاشی طور پر خوشحال ہوجاتا ہے تو اس سے خزانہ نہیں بھرتا۔ اس سے قوم اور اس کے لوگوں کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر حکومت اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک ایک پیسہ خرچ کرنے کا عہد کرے تو نتائج خود بخود سامنے آجاتے ہیں۔ 10 سال پہلے حکومت ہند ریاستوں کو 30 لاکھ کروڑ روپے بھیجتی تھی۔ پچھلے 9 سالوں میں یہ ہندسہ 100 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ان نمبروں کو دیکھ کر آپ محسوس کریں گے کہ اتنی بڑی تبدیلی صلاحیتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ کے سبب ممکن ہوئی ہے!

جناب مودی نے کہا کہ خود کے روزگار کے محاذ پر نوجوانوں کو ان کے پیشے کے لیے 20 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ دیے گئے ہیں۔ 8 کروڑ لوگوں نے نیا کاروبار شروع کیا ہے اور یہی نہیں ہر کاروباری نے ایک یا دو لوگوں کو روزگار دیا ہے۔ اس طرح سے (پردھان منتری) مدرا یوجنا سے مستفید ہونے والے 8 کروڑ شہری 8-10 کروڑ نئے لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کووڈ-19 کی وبا کا ذکر کرتے ہوئے، جناب مودی نے کہا کہ ایم ایس ایم ای کو 3.5 لاکھ کروڑ روپے بطور قرض دے کر انھیں دیوالیہ ہونے کی بچایا گیا۔ انھیں مرنے نہیں دیا گیا، انھیں طاقت دی گئی۔

نئے اور توقعاتی متوسط طبقے کے بارے میں، جناب مودی نے کہا کہ جب ملک میں غریبی کم ہوتی ہے، تو متوسط طبقے کی طاقت بہت بڑھ جاتی ہے اور میں آپ کو گارنٹی کے ساتھ یقین دلاتا ہوں کہ آنے والے پانچ سالوں میں یہ ملک دنیا کی پہلی تین بڑی معیشتوں میں اپنی جگہ بنالے گا۔ آج 13.5 کروڑ لوگ غریبی سے نکل کر متوسط طبقے کی طاقت بن چکے ہیں۔ جب غریبوں کی قوت خرید بڑھتی ہے تو متوسط طبقے کی کاروباری قوت بڑھ جاتی ہے۔ جب گاؤں کی قوت خرید بڑھتی ہے تو قصبے اور شہر کا معاشی نظام تیز رفتاری سے چلتا ہے۔ یہ باہم جڑا ہوا ہمارا معاشی چکر ہے۔ ہم اسے طاقت دے کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

مزید برآں، وزیر اعظم نے کہا کہ جب انکم ٹیکس کی حد (استثنیٰ) کو 2 لاکھ روپے سے بڑھاکر 7 لاکھ روپے کردیا جاتا ہے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ تنخواہ دار طبقے، بالخصوص متوسط طبقے کو ہوتا ہے۔

دنیا کو اجتماعی طور پر درپیش حالیہ مسائل کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا ابھی تک کووڈ-19 کی وبا کے اثرات سے نہیں نکلی تھی کہ جنگ نے ایک نیا مسئلہ پیدا کردیا۔ آج دنیا مہنگائی کے بحران سے دوچار ہے۔

مہنگائی سے لڑنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ ’’ہندوستان نے مہنگائی پر قابو پانے کی پوری کوشش کی ہے۔ ہم یہ نہیں سوچ سکتے کہ ہمارے اطوال و ظروف دنیا سے بہتر ہیں، مجھے اس سمت میں مزید اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ اپنے ہم وطنوں پر مہنگائی کا بوجھ کم ہوسکے۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے میری کوششیں جاری رہیں گی۔‘‘

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's new FTA playbook looks beyond trade and tariffs to investment ties

Media Coverage

India's new FTA playbook looks beyond trade and tariffs to investment ties
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to inaugurate 28th Conference of Speakers and Presiding Officers of the Commonwealth on 15th January
January 14, 2026

Prime Minister Shri Narendra Modi will inaugurate the 28th Conference of Speakers and Presiding Officers of the Commonwealth (CSPOC) on 15th January 2026 at 10:30 AM at the Central Hall of Samvidhan Sadan, Parliament House Complex, New Delhi. Prime Minister will also address the gathering on the occasion.

The Conference will be chaired by the Speaker of the Lok Sabha, Shri Om Birla and will be attended by 61 Speakers and Presiding Officers of 42 Commonwealth countries and 4 semi-autonomous parliaments from different parts of the world.

The Conference will deliberate on a wide range of contemporary parliamentary issues, including the role of Speakers and Presiding Officers in maintaining strong democratic institutions, the use of artificial intelligence in parliamentary functioning, the impact of social media on Members of Parliament, innovative strategies to enhance public understanding of Parliament and citizen participation beyond voting, among others.