Share
 
Comments

نئی دہلی،23 نومبر                    آج راشٹرپتی بھون ،نئی دہلی میں گورنروں کے 50ویں سالانہ اجلاس کی افتتاحی تقریب  کاآغاز ہوا۔ نئی تشکیل شدہ مرکز کے زیر انتظام ریاست جموں وکشمیر اور لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر سمیت پہلی بار بنے 17گورنروں نے اس کانفرنس میں شرکت کی۔ دیگر ہستیوں کے علاوہ صدر جمہوریہ، نائب صدر جمہوریہ، وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور جل شکتی وزیر اس موقع پر موجود تھے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے  وزیر اعظم نے اس کانفرنس، جس کا آغاز 1949 میں ہوا تھا، کی طویل تاریخ کا ذکر کیا اور اس 50ویں ایڈیشن کو گذشتہ کانفرنسوں کی حصولیابی، نتائج اور  مستقبل کے لائحہ عمل  کا جائزہ لینے  کے لیے ایک انوکھا موقع قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ  گورنر کا ادارہ  معاونتی  اور  مسابقتی وفاقی ڈھانچے کو بروئے کار لانے میں خصوصی رول ادا کرتا ہے۔ یہ کانفرنس  گورنروں او رلیفٹیننٹ گورنروں  کے لیے  تبادلہ خیالات اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے  نیز سبھی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں  کی امتیازی اور متنوع ضروریات کے لیے بہترین بین الاقوامی تجربات کو بروئے کار لانے  کا موقع فراہم کرتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اپنے انتظامی ڈھانچے کے باعث مرکز کے زیر انتظام علاقے ترقی کے رول ماڈل کے طو رپر ابھر سکتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا چونکہ ہندوستان2020 میں اپنی آزادی کی 75ویں سالگرہ اور 2047 میں 100ویں سالگرہ منائے گا۔ اس لیے انتظامی مشنری کو ملک کی عوام سے قریب لانے اور انھیں صحیح راہ دکھانے میں گورنر کا رول اور بھی اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ ہم  ہندوستان کی آئین سازی کی 70 سالہ تقریب منا رہے ہیں، گورنر اور ریاستی حکومتوں کو بھی ہندوستان کے آئین کی سروس کے مختلف  پہلوؤں   خاص طور پر شہریوں کے فرائض اور ذمہ داریوں  کو اجاگر کرنا چاہئے۔ یہ صحیح معنوں میں شمولیت والی حکمرانی میں مددگار ثابت ہوگا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس سال ہم مہاتما گاندھی کی 150ویں جینتی منا رہے ہیں۔ اس لیے گورنر اور لیفٹیننٹ گورنر اس موقع کا استعمال گاندھیائی نظریوں اور اقدار کی موزونیت بتانے کے لیے کرسکتے ہیں جو ہمارے آئین کے ایک اہم ستون ہیں۔ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر کی حیثیت سے اپنے کردار میں گورنر ہمارے  نوجوان کے درمیان ملک کی تعمیر کے اقدار کو فروغ دینے اور انھیں زیادہ سے زیادہ حصولیابیوں کے تئیں ترغیب دینے میں مدد کرسکتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس سال ہم مہاتما گاندھی کی 150ویں جینتی منا رہے ہیں۔ اس لیے گورنر اور لیفٹیننٹ گورنر اس موقع کا استعمال گاندھیائی نظریوں اور اقدار کی موزونیت بتانے کے لیے کرسکتے ہیں جو ہمارے آئین کے ایک اہم ستون ہیں۔ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر کی حیثیت سے اپنے کردار میں گورنر ہمارے  نوجوان کے درمیان ملک کی تعمیر کے اقدار کو فروغ دینے اور انھیں زیادہ سے زیادہ حصولیابیوں کے تئیں ترغیب دینے میں مدد کرسکتے ہیں۔

وزیر اعظم نے اپنے خطاب کے آخر میں گورنروں اور لیفٹیننٹ گورنروں سے اپیل کی کہ وہ عام لوگوں کی ضرورتوں پر توجہ مرکوز کرنے اور اپنی آئینی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے  کام کریں۔ وزیر اعظم نے گورنروں سے درخواست کی کہ وہ  درج فہرست ذاتوں، اقلیتی طبقوں، خواتین اور نوجوانوں سمیت کمزرو طبقوں کی ترقی کے سمت میں کام کریں۔ اس کے لیے وہ  ریاستی

سرکاروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے علاوہ موجودہ منصوبوں اور پروگراموں کے نفاذ پر توجہ دے سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے صحت کی خدمات، تعلیم اور سیاحت کے شعبوں کا خاص طور پر ذکر کیا جہاں پسماندہ طبقوں کے لیے  روزگار کے بہترین مواقع موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ  گورنر کے دفتر کا استعمال خاص مقاصد جیسے تپ دق کے بارے میں بیداری لانے اور 2025 تک ہندوستان کو اس بیماری سے نجات دلانے کے لیے کیا جاسکتا ہے۔

وزیر اعظم نے خوشی کا اظہارکیا کہ اس سال کی کانفرنس میں قبائلی امور، زرعی اصلاحات، جل جیون مشن، نئی تعلیمی پالیسی اور  ‘ایز آف لیونگ’ جیسے امور اور مسائل پر پانچ ذیلی گروپوں میں  وسیع پیمانے پر بات چیت ہوگی۔ جن کی رپورٹ پر بعد میں سبھی شریک گورنروں اور لیفٹیننٹ گورنروں کے ذریعہ بڑے فارمیٹ پر بات چیت کی جائے گی۔

 

20 تصاویر سیوا اور سمرپن کے 20 برسوں کو بیاں کر رہی ہیں۔
Mann KI Baat Quiz
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
Business optimism in India at near 8-year high: Report

Media Coverage

Business optimism in India at near 8-year high: Report
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
پارلیمنٹ کے موسم سرما کے اجلاس 2021 سے پہلے میڈیا کے لئے وزیراعظم کے بیان کا متن
November 29, 2021
Share
 
Comments

نمسکار  ساتھیو!

پارلیمنٹ کا یہ اجلاس  انتہائی اہم ہے۔ ملک  آزادی کا امرت مہوتسو  منا رہا ہے۔ ہندوستان میں چارو  ں اطراف  سے اس  آزادی کے  امرت مہو تسو  کے باقاعدہ تخلیقی، تعمیری، عوام کے مفاد کے لئے، قوم  کے مفاد کے لئے، عام شہری  بہت سے پروگرام منعقد کر رہے ہیں، قدم اٹھارہے ہیں،  اور آزادی کے دیوانوں نے ، جو خواب دیکھے تھے، ان  خوابوں کو پورا کرنے کے لئے  عام شہری بھی اس ملک کی اپنی کوئی نہ کوئی ذمہ داری  نبھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ خبریں اپنے آپ  میں بھارت کے  تابناک مستقبل کے لئے خوش آئند اشارے ہیں۔

کل ہم نے  دیکھا ہے کہ  گزشتہ دنوں یوم آئین بھی  نئے عزائم کے ساتھ  آئین کے جذبے کو  عملی شکل دینے کے لئے ہر کسی  کی ذمہ داری  کے سلسلے میں پورے ملک نے   ایک عزم  کیا ہے ۔ ان  سب کے تناظر میں ہم چاہیں گے، ملک بھی چاہے گا، ملک کا ہر عام شہری  چاہے گا کہ بھارت کا پارلیمنٹ کا یہ اجلاس  اور آئندہ   اجلاس بھی آزادے کے دیوانوں کے جو جذبات تھے، جو روح تھی، آزادی کے امرت مہو تسو  کی  جو روح ہے، اس روح  کے مطابق  پارلیمنٹ بھی ملک کے مفاد میں مباحثہ کرے، ملک کی ترقی کے لئے راستے  تلاش کرے، ملک کی ترقی کے لئے نئے طریقہ کار  تلاش کرے،  اور  اس کے لئے یہ اجلاس  بہت  ہی  نظریات کی افراط والا، دیر پا اثر پیدا کرنے والے مثبت فیصلے کرنے والا بنے۔ میں امید کرتا ہوں کہ مستقبل میں پارلیمنٹ کو  کیسا چلا، کتنا اچھا تعاون کیا، اس ترازو پر تولا جائے، نہ کہ کس نے کتنا زور لگا کر  پارلیمنٹ  کے اجلاس  کو روک دیا، یہ معیار نہیں ہو سکتا۔ معیار یہ  ہوگا  کہ پارلیمنٹ میں کتنے گھنٹے کام  ہوا، کتنا تعمیری  کام ہوا۔  ہم چاہتے ہیں کہ حکومت   ہر موضوع پر  مباحثہ کرنے کے لئے تیار ہے، کھلا مباحثہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ حکومت  ہر سوال کا جواب  دینے کے لئے تیار ہے اور آزادی کے امرت مہو تسو  میں ہم یہ بھی چاہیں گے کہ پارلیمنٹ میں سوال بھی  ہو ، پارلیمنٹ میں امن بھی ہو۔

ہم چاہتے ہیں پارلیمنٹ میں حکومت کے خلاف، حکومت کی پالیسیوں کے خلاف، جتنی آواز  اٹھنی چاہئے، لیکن پارلیمنٹ  کے وقار، اسپیکر کے  وقار، صدر نشیں کے وقار ، ان سب کے ضمن میں ہم  وہ رویہ اپنائیں، جو آنے والے دنوں میں ملک کی نوجوان نسل کے کام آئے۔ پچھلے اجلاس کے  بعد  کورونا کی  شدید  صورت حال میں بھی ملک  نے 100  کروڑ سے زیادہ  ٹیکے  ، کورونا ویکسین اور اب ہم  150  کروڑ کی طرف  تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ نئی قسم کی خبریں بھی ہمیں اور بھی چوکنا کرتی ہیں اور  بیدار کرتی ہیں۔ میں پارلیمنٹ  کے سبھی ساتھیوں  سے  بھی  چوکنا رہنے کی  درخواست کرتا ہوں۔ آپ سبھی ساتھیوں  سے بھی   چوکس رہنے کی   استدعا کرتا ہوں۔ کیونکہ آپ سب کی  عمدہ  صحت، ہم وطنوں کی عمدہ صحت، ایسی  بحران کی گھڑی میں ہماری ترجیح ہے۔

ملک کے  80  کروڑ سے زیادہ  شہریوں کو  اس کورونا دور کے بحران میں اور زیادہ تکلیف نہ ہو، اس لئے وزیراعظم غریب کلیان یوجنا  سے  اناج  مفت دینے کی  اسکیم  چل رہی ہے۔ اب اسے  مارچ  2022  تک  توسیع دے دی گئی ہے۔ قریب  دو لاکھ 60  ہزار  کروڑ روپے کی لاگت سے ، 80  کروڑ سے زیادہ  ملک کے شہریوں کو  غریب کے گھر  کا  چولہا جلتا رہے، اس کی  فکر کی گئی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس اجلاس میں ملک کے مفاد  میں فیصلے ہم تیزی  سے کریں، مل جل کر کریں۔ عام انسان کی امید ، امنگوں کو  پورا کرنے والے بنیں۔ ایسی  میری  توقع ہے، بہت بہت شکریہ!