نئی دہلی،20؍جون،وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو بریج کے ذریعے ملک بھر کے کسانوں کے ساتھ گفتگو کی۔ ویڈیو مذاکرات کے ذریعے دو لاکھ سے زیادہ کامن سروس سینٹروں اور 600 کرشی وگیان کیندروں کو منسلک کیا گیا تھا۔ حکومت کی اسکیموں کا فائدہ اٹھانے والوں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے وزیراعظم کی گفتگو کی یہ ساتویں سیریز تھی۔

600 سے زیادہ اضلاع کے کسانوں کے ساتھ بات چیت پر خوشی کا اظہار کرتےہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کسان ہمارے ملک کے ان داتا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں خوراک کی کفالت کا مکمل سہرا کسانوں کے سر جانا چاہئے۔

کسانوں کے ساتھ وزیراعظم کی گفتگو میں زراعت اور متعلقہ شعبوں جیسے نامیاتی کھیتی ، بلیو ریولیوشن (بحری پیداوار میں انقلاب) ، مویشی پروری، باغبانی پھولوں کی کھیتی وغیرہ کا احاطہ کیا گیا۔

ملک میں کسانوں کی مجموعی فلاح وبہبود سے متعلق اپنے ویزن کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنا کرنے اور کسانوں کو ان کی پیداوار کی زیادہ سے زیادہ قیمت فراہم کرنے کے لئے کام کررہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں کہ کسانوں کو کھیتی کے آغاز سے لے کر ان کی فصل کی فروخت تک تمام مرحلوں میں مدد فراہم کی جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت خام مال (لاگت) کی کم سے کم قیمت کو یقینی بنانے، ان کی پیداوار کی مناسب قیمت فراہم کرنے اور پیداوار کے زیاں کو روکنے اور کسانوں کے لئے آمدنی کے متبادل ذرائع فراہم کرنے کی خواشمند ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کی پابند ہے کہ اس بات کو سمجھ سکیں ’’بیج سے بازار تک‘‘ کس طرح حکومت کے مختلف اقدامات کے ذریعے کسانوں کو مدد ملتی ہے اور ا ن کی روایتی کھیتی میں بہتری آتی ہے۔

فارمنگ کے شعبے میں زبردست تبدیلی کی بات کرتے ہوئے جناب نریندر نے کہا کہ زراعت کے سیکٹر میں پچھلے 48 مہینوں کے درمیان تیزی سے ترقی ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس عرصے کے دوران ملک میں دودھ ، پھلوں اور سبزیوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے۔

حکومت نے 2014 سے 2019 تک کے عرصے میں زراعت کے سیکٹر کے لئے بجٹ میں مختص کی گئی رقم کو پچھلی حکومت کے پانچ سال کے دوران مختص کی گئی رقم کے مقابلے ، جو 121000 روپے تھی، بڑھا کردوگنا یعنی 212000 کروڑ روپے کردیا ہے۔ اسی طرح 2017-18 میں اناج کی پیداوار بڑھ کر 279 ملین ٹن سے زیادہ ہوگئی ہے جبکہ یہ 2010-14 کے دوران اوسطاً 255 ملین ٹن تھی۔ بلیو ریولیوشن کی وجہ سے اس عرصے میں ماہی پروری میں بھی 26 فیصد اور مویشی پروری اور دودھ کی پیداوار میں 24 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

کسانوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کسانوں کی مجموعی فلاح وبہبود کو یقینی بنانے کے لئے حکومت نے سوائل ہیلتھ کارڈ (مٹی کی زرخیزی سے متعلق کارڈ) ، کسان کریڈٹ کارڈ کے ذریعے قرض ، نیم کی کوٹنگ والے یوریا کے ذریعے معیاری کھاد کی فراہمی ، فصل بیمہ یوجنا کے ذریعے فصل کا انشورنس ، پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا کے تحت آب پاشی کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا کے تحت تقریباً آبپاشی کے 100 پروجیکٹوں کو آج مکمل کیا جارہا ہے اور تقریباً 29 لاکھ ہیکٹر اراضی کو آبپاشی کے تحت لایاگیا ہے۔

حکومت نے ایک آن لائن پلیٹ فارم ، ای-این اے ایم شروع کیا ہے جس سے کسان اپنی پیداوار کو درست قیمت پر بیچ سکتے ہیں۔ پچھلے چار برسوں کے دوران 585 سے زیادہ ریگولیٹڈ تھوک منڈیوں کو ای- این اے ایم کے تحت لایا گیا ہے۔ حکومت نے تقریباً 22 لاکھ ہیکٹر اراضی پر نامیاتی کھیتی کی سہولت فراہم کی ہے۔

بات چیت کے دوران وزیراعظم نے کسانوں کے ذریعے فارمر پروڈیوسر گروپ (ایف ٹی جی ) اور فارم پروڈیوسر آرگنائزیشن (ایف پی او) تشکیل دینے پر خوشی کا اظہار کیا جس کے ذریعے کسان زرعی لاگت کو کم خرچ پر حاصل کرسکتے ہیں اور اپنی پیداوار کو اچھی قیمت پر فروخت کرسکتے ہیں۔ پچھلے چار برسوں کے دوران 517 ایف ٹی او قائم کی گئی ہے اور فارمر پروڈیوسر کمپنیوں کو آمدنی ٹیکس سے مستثنی کیا گیا ہے تاکہ کسانوں کے درمیان امداد باہمی کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔

وزیراعظم کے ساتھ گفتگو کے دوران زراعت کی مختلف اسکیموں سے فائدہ حاصل کرنے والوں نے بتایا کہ کس طرح سرکاری اسکیموں نے ان کی پیداوار میں بہتری لانے میں مدد کی ہے۔ فیض یافتگان نے سوائل ہیلتھ کارڈ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور امداد باہمی کی تحریک سے متعلق اپنے تجربات بیان کئے۔

 

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen

Media Coverage

India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves increase in the Judge strength of the Supreme Court of India by Four to 37 from 33
May 05, 2026

The Union Cabinet chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi today has approved the proposal for introducing The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 in Parliament to amend The Supreme Court (Number of Judges) Act, 1956 for increasing the number of Judges of the Supreme Court of India by 4 from the present 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Point-wise details:

Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 provides for increasing the number of Judges of the Supreme Court by 04 i.e. from 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Major Impact:

The increase in the number of Judges will allow Supreme Court to function more efficiently and effectively ensuring speedy justice.

Expenditure:

The expenditure on salary of Judges and supporting staff and other facilities will be met from the Consolidated Fund of India.

Background:

Article 124 (1) in Constitution of India inter-alia provided “There shall be a Supreme Court of India consisting of a Chief Justice of India and, until Parliament by law prescribes a larger number, of not more than seven other Judges…”.

An act to increase the Judge strength of the Supreme Court of India was enacted in 1956 vide The Supreme Court (Number of Judges) Act 1956. Section 2 of the Act provided for the maximum number of Judges (excluding the Chief Justice of India) to be 10.

The Judge strength of the Supreme Court of India was increased to 13 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1960, and to 17 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1977. The working strength of the Supreme Court of India was, however, restricted to 15 Judges by the Cabinet, excluding the Chief Justice of India, till the end of 1979, when the restriction was withdrawn at the request of the Chief Justice of India.

The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1986 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India, excluding the Chief Justice of India, from 17 to 25. Subsequently, The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2008 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India from 25 to 30.

The Judge strength of the Supreme Court of India was last increased from 30 to 33 (excluding the Chief Justice of India) by further amending the original act vide The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2019.