نئیدہلی05فروری۔سری نگر میں تین فروری 2019 کو وزیراعظم جناب نریندرمودی کے ساتھ ہندوستان بھر کے طلبا نے جو گفتگو کی تھی اس کا متن حسب ذیل ہے :
سوال:محترم وزیراعظم میرا نام کے –دیپیکا ہے ۔میں تلنگانہ کے سرکاری ڈگری کالج برائے خواتین بیگم پیٹ حیدرآباد کے بی اے جرنلزم فائنل ائر کی طالبہ ہوں ۔جناب عالی ہم نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران تعلیم کے لئے متعدداقدامات کا مشاہدہ کیا ہے۔کیا آپ تعلیم کے شعبے میں کی جانے والی اپنی کوششوں سے مطمئن ہیں؟مجھے یہ موقع فراہم کرنے کے لئے آپ کا شکریہ :
اینکر: ہم نے گزشتہ پانچ برسوں میں تعلیم کے شعبے میں کئی نئے اقدامات کا مشاہدہ کیا ہے۔کیا آپ تعلیم کے شعبے میں کی جانے والی اپنی کوششوں سے مطمئن ہیں ؟ محترم براہ کرم جواب دیں۔
وزیر اعظم : میں آپ کا شکرگزار ہوں اس سوال کے لئے اور ملک بھر میں قریب ڈھائی کروڑ نوجوانوں کے ساتھ مجھے گفت وشنید کرنے کا موقع ملا ہے۔تکنالوجی کا شکریہ ! ایک ہی چیز کو دوطریقے سے دیکھا جاسکتا ہے ۔ جہاں تک کوشش کا سوال ہے ، مجھے اس بات کی تسلی ہے کہ ہم صحیح سمت میں ہیں۔ ہم ایک طے شدہ نظام الاوقات کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور دنیا میں تعلیم کے جو معیارات طے پائے ہیں ، ہم اس عالمی معیار کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک کے ان تمام نوجوانوں کو یہ موقع حاصل ہونا چاہئے ۔اگر وہ زندگی میں تعلیم کے جس شعبے میں جانا چاہتے ہیں ، حکومت کا ایک کام ہے کہ ان نظامات کو ترقی دے ۔جدید بھارت کے لئے جس طرح کے اداروں کی تشکیل ہونی چاہئے اس پر ہم زوردے رہے ہیں ۔آئی ٹی ہو یا آئی آئی ایم ہو ، اس کی توسیع کے لئے بہت تیزی سےکام چل رہا ہے ۔اسی طریقے سے ہنر مندی ترقیات ایک بہت بڑا شعبہ ہے جس پر ہم زور دے رہے ہیں۔ہماری کوشش ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے بیرون ملک جانے والے ہمارے ملک کے نوجوانوں کے اخراجات پر ہمارا اربوں کھربوں روپیہ بیرون ملک چلاجاتا ہے ۔ ہم ایسا تعلیمی نظام مرتب کریں ،جس سے ہمارے ملک کے لوگ ملک کے باہر جانے کے بجائے دنیا کے دیگر ملکو ں کے لوگ بھارت میں تعلیم حاصل کرنے آئیں ۔میں اسی تصور پرکام کررہا ہوں ۔ جہاں تک سمت کا سوال ہے میں پوری طرح مطمئن ہوں ۔ساڑھے چار برس سے بھی کم مدت کار میں جتنا بھی کام ہوا ہے وہ سبھی کے لئے قابل اطمینان ہے۔ لیکن میں اطمینان اپنی پیٹھ تھپتھپانے کے لئے نہیں کررہا ہو ں ۔ میرے اطمینان کا مطلب ہوتا ہے ، نئے نشانے طے کرنا ۔ ان نشانوں کو پار کرنے کے لئے سفر شروع کردینا ۔اطمینان سونے کے لئے خوابوںکو عملی تعبیر دینے کے لئے ہے ۔شکریہ !
اینکر :شکریہ محترم وزیر اعظم ! اب ہم ملک کے شمال مشرقی علاقے آسام سے جُڑ رہے ہیں ، جہاں کاٹن یونیورسٹی کے انامتر مہنتا آپ سے کچھ پوچھنا چاہتے ہیں۔
سوال : میں انا متر موہنتا آسام سے ہوں ۔ جناب عالی ! آج ہم روزمرہ کی زندگی میں ڈجیٹل انڈیا کا محتلف النوع استعمال دیکھ رہے ہیں ،جس میں تعلیم بھی شامل ہے ۔آپ کے خیال میں ہمارے ملک اور عوام پر اس کے کیا اثرات نمودار ہوں گے ۔ میرا یہی سوال ہے ۔
اینکر : محترم! ہم روز مرہ کی زندگی میں ڈجیٹل انڈیا کے محتلف النوع استعمال کا مشاہدہ کررہے ہیں ، جس میں تعلیم بھی شامل ہے ۔ہمارے ملک اور یہاں کے لوگوں میں اس کے نتیجے میں کیا تبدیلیاں رو نما ہوئی ہیں ۔ براہ کرام آپ بتائیں۔
وزیراعظم : انسان مسلسل ترقی کرتا رہا ہے ۔ٹکنالوجی ایک بہت بڑی ڈرائیونگ فورس (روح رواں ) رہی ہے ۔ نئی نئی جدت طرازیوں نے انسانی زندگی میں مسلسل تبدیلیاں پیدا کی ہیں لیکن 40 سال قبل جس رفتار سے دنیا بدلی ، انوویشن ، ٹکنالوجی اور انٹر وینشن نے دنیا کو 200-300 سال میں بدلتے جہاں لاکر کھڑا کردیا تھا ۔گزشتہ 40-50 سال میں ٹکنالوجی نے ایسی جست لگائی ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے ۔ اگر پچھلے 200-300 سال کے مقابلے میں دیکھیں تو یہ 40-50 سال کا عرصہ ایک زبردست جست کی حیثیت رکھتا ہے۔نئی ڈائمنشز ہیں ، خواہ خلا ہو یا سطح سمندر ہو ڈجیٹل ورڈ نے اس میں بہت بڑا رول پلے کیا ہے ۔آج جو میں اس قدر آرام سے آپ کے ساتھ بات کررہا ہوں ، میں سری نگر میں آرام سے بیٹھ کر ہندوستان میں ہر کونے کے ڈھائی کروڑ نوجوانوں سے تعلیم کے بارے میں بات کررہا ہوں ، یہی سب سے بڑا اثرہے ۔ آپ نے دیکھا باندی پورہ میں ایک بی پی او کا افتتاح ہوا ۔ یہ پہلا بی پی او ڈجیٹل انقلاب کا ہی نتیجہ ہے۔دنیا کو میں جب کہتا ہو ں کہ ہمارے پاس 120 کروڑلوگوں کے اعدادوشمار ہیں ۔ ہمارے پاس اتنی بڑی دولت ہے یہ سب ڈجیٹل انقلاب کا ہی نتیجہ ہے ۔ہم نے جے اے ایم ٹرینٹی شرو ع کی ہے ۔ جس کے ذریعہ کوئی بھی عام آدمی خواہ وہ گاؤں کا غریب ہی کیوں نہ سرکار کو آن لائن سامان بھیج سکتا ہے۔III ڈی پروڈکشن کی بدولت اگر کسی طالب علم کو دل کے بارے میں کچھ جاننا ہے ،پڑھنا ہے تو وہ تھری ڈی کے ذریعہ دیکھ کر اسے بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ دل کیسے کام کرتا ہے ۔میں نے گجرات کے وزیراعلی ٰ کی حیثیت سے ایک سروے کرایا تھا کہ دن کے کھانے کی اسکیم کے پرائمری سرکار ی اسکولوں پرکیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اگر ہم وہاں ڈجیٹل کلاس روم بنائیں تو کیا فرق پڑے گا۔ تجربہ کیا گیا ہے کہ بچے اسمارٹ کلاس روم کی طرف زیادہ متوجہ ہوئے ۔ جھگی جھونپڑی کی بچے وہاں آکر پڑھتے تھے تو ان کو بڑا مزہ آتا تھا ۔اس کے لئے انہیں مڈڈے میل کی بھی پرواہ نہیں ہوتی تھی ، انہیں مڈ ڈے میل کے لئے کھینچ کھینچ کر لے جانا پڑتا تھی ۔ یہی ہیں ڈجیٹل اثرات ۔ آنے والے دنوں میں اعلیٰ تعلیم کے میدان میں بھی اس کا بہت بڑا رول ہوگا۔
اینکر : کروکشیتر یونیورسٹی ہریانہ کے گورو آپ سے بات کرنے کے لئے بے چین ہے ۔
سوال : محترم وزیر اعظم میرا نام گورو ہے ۔ میں کروکشیتر یونیورسٹی ہریانہ سے ہوں ۔محترم ہمیں اپنے ملک کی غریبی سے بہت تکلیف ہوتی ہے ۔ ہم نے ملک کی غریبی کے خاتمے کے لئے آپ کی کوششیں دیکھی ہیں۔ آپ کے خیال سے کیا ہم مستقبل میں غریبی سے نجات پاسکتے ہیں؟
اینکر : ہمارے ملک میں غریبی کو دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے ۔ ہم نے غریبی کو دور کرنے کے لئے آپ کی کوششیں دیکھی ہیں۔آپ کے خیال میں کیا مستقبل میں ہمارا ملک غریبی سے نجات پاسکتا ہے ؟
وزیر اعظم : اگر ملک طے کرلے ہمیں غریبی سے نجات حاصل کرنا ہے تودنیا کی کوئی طاقت ہمیں غریب نہیں رکھ سکتی ۔ سوا سو کروڑ لوگوں میں اتنی طاقت ہے کہ ہم اپنے قدرتی اور انسانی وسائل کی صحیح طریقے سے منصوبہ بندی کرکے آگے بڑھیں تو غریبی سے نجات پانا مشکل نہیں ہے۔ میں گزشتہ ساڑھے چار برس کے تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ ان دنوں دوچیزیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ا یک تو یہ کہ ہندوستان دنیا کی سب سے تیزرفتاری سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں پہلے نمبر پر ہے ۔ دوسراا قوام متحدہ سمیت بین الاقوامی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ہندوستان پہلے نمبر پر ہے جو تیزی سے غریبی سے باہر نکل رہا ہے ۔ نئے مڈل کلاس کی طاقت بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔اس کے ساتھ ہی ان اداروں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہندوستان میں شیڈیول کاسٹ او ر مسلمانوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچ رہا ہے ۔گاندھی جی نے بہت کوششیں کیں ، آزادی کی تحریک بھی جاری تھی اور سووچھتا یعنی صفائی ستھرائی کی بات بھی چل رہی تھی ۔آزادی کے بعد اس کام کو بہت آسانی سے آگے بڑھایا جاسکتا تھا لیکن کوئی کرلے تو کرلے نہ کرے تونہ کرے ۔ میں نے لال قلعہ سے نعرہ دیا تھا اور آج یہ ملک صفائی ستھرائی کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ۔ جب ہم 2014 میں آئے تو ہمارے ملک میں دیہی صفائی ستھرائی کا دائرہ 38 فیصد تھا آج 98 فیصد ہے ۔صرف سرکار نے یہ کیا ۔ میں ایسا کبھی نہیں کہتا ۔ عوام جب ایک بار ٹھان لیتے ہیں تو نتیجے ہمیشہ خوشگوار ہی ہوتے ہیں۔ہم نے بیڑہ اٹھایا ہے ہر گھرمیں بجلی ہونی چاہئے ۔ مجھے خوشی ہے کہ جموں وکشمیر نے یہ کام پورا کردیا ۔ اب جموں وکشمیر نے ایک خواب دیکھا ہے کہ وہ پانی گھروں تک پہنچائیں گے ، یہ بہت بڑا خواب ہے ۔ لیکن مجھے امید ہے کہ جموںوکشمیر کے لوگ یہ کام کرکے دکھائیں گے ۔ ہمیں غریبی سے لڑنا ہے اور غریبی سے لڑنے کا طریقہ ریوڑی بانٹنے میں نہیں ہوتا،غریب کو امپاور کرنے میں ہوتا ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر غریب میں یہ مزاج پیداکردیا جائے تو کریں گے ۔ ہم جب تعلیم کی بات کرتے ہیں اور آیوشمان بھارت سے صحت کی بات کرتے ہیں تو غریب کو بھی لگتا ہے کہ اب ہمارے اچھے دن آچکے ہیں ۔ ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ میں ایسی فضا دیکھ رہا ہے کہ ہم جس سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں ،اُدھر غریبی بہت تیزی سے ختم ہوتی چلی جائے گی ۔وہ دن ہوگا جب ہم ملک کو غریبی سی نجات یافتہ دیکھ سکیں گے۔
اینکر : شکریہ محترم ! آج ملک کے نوجوان ملک کو بدلتے ہوئے دیکھ کر بہت زیادہ جوش میں ہیں ۔ اتکل یونیورسٹی اوڈیشہ کی انکتا آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہیں ۔
سوال : محترم وزیر اعظم اتکل یونیورسٹی اوڈیشہ سے ہوں ۔ ہمارے یہاں متعدد ہیری ٹیج سائٹس ہیں ۔شاندار بیچ ہیں ۔اکثر میرا جی چاہتا ہے کہ میں یاہاں کے ٹورزم کے فروغ کے لئے کچھ کروں لیکن کچھ سمجھ میں نہیں آتا ۔ آپ کی رائے میں ہم کس طرح سے تعلیم کو سیاحت کے ساتھ جوڑ کر اوڈیشہ کے لئے کچھ کرسکتے ہیں؟
وزیراعظم : میں آپ کو مبارکباددیتا ہوں ۔ میںآپ پر تعلیم کا اثردیکھ رہا ہوں۔آپ اوڈیشہ کی طاقت کو جانتی ہیں ۔اب اس کے استعمال کے طریقوں پر غورکررہی ہیں ۔میں دیکھ رہا ہوں میں میرے سامنے پنکھے چل رہے ہیں ۔سری نگر والوںکو اس پر تعجب ہوتا ہوگا ۔ ہمارے یہاں ٹورزم کے زبردست امکانات ہیں لیکن ہم نے ٹورزم کو نظر اندازکیا ۔ ٹورزم کی پہلی شرط ہوتی ہے کہ آپ کو اپنی چیز پر فخر کرنا سیکھنا پڑتا ہے۔ ہماری عادت ہے کہ ہم سب بیکار ہیں ۔ اگر ہم ہی اپنے آپ کو نہیں دیکھیں گے ،اس پر فخر نہیں کریں گے تو دنیا کیوں آئے گی ۔ آج کھربوں ڈالر کا سیاحت کا کاروبار ہورہا ہے اور آگے بھی ہونے والا ہے ۔ مجھے یاد ہے کہ بہت پہلے میں ایک بار امریکی سرکار کی دعوت پر امریکہ گیا تھا ۔ انہوں نے پوچھا آپ کا انٹریسٹ کیا ہے ۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے گاؤں جاکر یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے یہاں کاشتکاری کا عمل کیا ہے ۔ دوسرے یہ کہ مجھے ٹھیٹ گاؤں کا کوئی دیہاتی اسکول دیکھنا ہے ۔ آپ کے وہاں کھیتی کس طرح ہوتی ہے یہ دیکھنا ہے ۔ تیسرے میں نے یہ کہا کہ گاؤں میں جو ہیلتھ سیکٹر ہے وہ دیکھنا ہے ۔چوتھے میں یہ کہا کہ میں امریکہ کی قدیم ترین چیز دیکھنا چاہتا ہوں۔ اوڈیشہ اتنا مالامال ہے ۔ یہاں کے بیچ دیکھئے ۔ کونارک مندر دیکھئے ۔ ٹکنولوجی کے نظرئیے سے بھی ایک نیا پن ہے ۔ ہمارے ملک میں پہلے تقریباََ 70 ہزار سیاح آتے تھے ۔اس سال ایک کروڑٹورسٹ آئے ہیں۔ہمیں پہلے سیاحوں سے 18 ملین ڈالر کا بیرونی زرمبادلہ ملتا تھا وہ اب 27 ملین ڈالرتک پہنچ چکاہے یعنی 50فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ ٹورسٹ آنے لگے ہیں ۔ بھارت کی کشش میں اضافہ ہوا ہے لیکن صفائی ستھرائی میں بڑی طاقت دیکھی ۔شہریوں کی فطرت بھی سیاحوں کو قبول کرنے والی ہے ۔ آپ طالبان علم جو میرے ساتھ پڑھ رہے ہیں وہ اوڈیشہ سے جڑنے والے ہیں۔ میں مانتا ہو ں کہ اُبیر کی لائن پر آپ نوجوان ایک بہت بڑا بزنس اسٹارٹ کرسکتے ہیں۔میں نے ابھی بنارس میں پرواسی بھارتیہ دو س کا پروگرام کیا تھا میں کاشی سے ممبر پارلیمنٹ ہوں ۔ مجھے بہت حیرت ہوئی جب ہزارو ں کی تعداد میں لوگوں نے آکر یہ کہا کہ ہم غیر ملکی مہمانوں کو ایک کمرہ دینا چاہتے ہیں اور اب اس طرح کاشی کا ہوم اسٹے ایک بہت بڑا بزنس ہوجائے گا۔ہم بھی آج پوری دنیا میں پاپولر ہیں ۔اگر آج ہم ابیر جیسا کوئی ایپ بناکر آگے جائیں تو میں یقین دلاتا ہوں کہ میں ابیر کی لائن پر آپ کا کاروبار بہت ترقی کرے گا۔
اینکر :شکریہ محترم وزیراعظم ! آپ گجرات سے ہیں ۔اس وقت ہم گجرات ہی چل رہے ہیں ۔ ایم این کالج گجرات کے وجے کمار آپرسے کچھ جاننا چاہتے ہیں:
محترم وزیر اعظم نمسکار ۔ میں وجے کمار ایم این کالج گجرات سے بول رہا ہوں ۔ جب سے بجٹ آیا ہے ، کسانوں کے بارے کی جانے والی اسکیموں کے بارے میں سن رہا ہوں ۔ کوئی سوچ بھی سکتا تھا کہ کسانوں کے لئے اتنی بڑی اسکیم لاگو کی جائے گی۔ آپ نے مغربی بنگال میں یہ کہا کہ سرکار اگلے برسوں میں کسانوں کے لئے سات لاکھ 50 ہزارکروڑروپے خرچ کرے گی ۔میرا کہنا یہ ہے کہ سرکار اتنا پیسہ لائے گی کہاں سے ؟
وزیراعظم : ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپوزیشن کے اخبار پڑھتے ہیں ۔ آپ میرے گاؤں کے پڑوسی ہیں ۔ میرا گاؤں وڈ نگر ہے ۔ آپ وس نگر سے ہیں ۔ مجھے خوشی ہوئی ہے کہ آپ کے وس نگرسے اپنے گاؤں کو بھی مودی آج تازہ کررہا ہے ۔درست کہ آپ کے علاقے کے کسانوں کو بہت دقتیں ہیں ۔ پانی کی بہت قلت ہے ۔ ایک طرح سے پورا خشک سالی کا سا علاقہ ہے ۔میں وہیں پیدا ہوا ہوں ۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ بڑی دقت والی جگہ ہے۔ ہمارے ملک میں وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے ۔بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ایک وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ایک روپیہ نکلتا ہے ۔15 پیسے پہنچتے ہیں ۔ اب فائدہ یہ ہے کہ پورے 100پیسے پہنچتےہیں ۔ آپ تصور کرسکتے ہیں کہ جب میں نے کہا کہ آپ کو گیس کی سبسڈی کی ضرورت نہیں ہے ،چھوڑدیجئے ۔ میں نے کوئی قانون نہیں بنایا تھا ۔صرف ریکوئسٹ کی تھی ۔ سواسو کروڑ لوگوں نے گیس سبسڈی چھوڑ دی ۔اس کا فائدہ یہ ہوا کہ سواسو کروڑ لوگوں کو گیس کنکشن مل گیا ۔آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ملک بہت تیزی سے پانچ کھرب کی اکنامی کی طرف جارہا ہے ۔ میں آپ کو ایک راز کی بات بتادوں کہ آپ کے جو چیف سکریٹری ہیں وہ کبھی وزیراعظم کے دفتر میں کام کرتے تھے ۔میں بھی ان کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا ۔ انہوں نے ایک دن مجھے بتایا کہ صاحب آپ تقریر کرنے جارہے ہیں ۔ آپ مجھے بتائیں ،ہمارا ملک پانچ کھرب ڈالر کی اکنامی بنے گا ؟ آج میں دیکھ رہا ہوں کہ ہندوستان ہماری آنکھوں کے سامنے پانچ کھرب ڈالر کی اکنامی بنے گا۔ ہمارے یہاں پیسے کی کمی نہیں ہے ۔ ہم نے اس بجٹ میں جو اسکیمیں تجویزکی ہیں ۔ دس برس میں ساڑھے سات لاکھ کروڑروپیہ کسانوںکی جیب میں جائے گا اور وہ ہرطرح کے حالات سے مقابلہ کرنے کے اہل ہوجائیں گے ۔مجھے یقین ہے کہ اس اسکیم سے ہمارے ملک کا کسان خوداعتمادی کے ساتھ آگے بڑھے گا۔
اینکر : بہت بہت شکریہ محترم وزیر اعظم ! اس وقت بڑی تعداد میں طلبا اس پروگرام سے جڑے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے آپ کو سنا ۔ بہت بہت شکریہ محترم وزیر اعظم ان طلبا کی حوصلہ افزائی کے لئے اور ملک وقوم کو نئی روشنی دینے کے لئے ۔ اپنے آپ کو ملک کا پردھان سیوک ماننے والے محترم وزیر اعظم ملک کی ترقی میں جی جان سے جٹے ہوئے ہیں۔
وزیراعظم –تقریر : مجھے جن نوجوانوں سے بات کرنے کا موقع ملا ۔آج آپ سبھی کی خود اعتمادی اور مستقبل کے تئیں آپ کے مثبت نظریہ اور تجربات میرے لئے بھی حوصلہ افزار ہیں ۔ میں سب سے پہلے تو سوال کرنے والے اور اس پروگرا م میں ملک بھر سے آئے نوجوانوں کا ممنون ہوں ۔ میں ایک بار پھر اس پروگرام سے جڑے اپنے ساتھیوں کو بتادو ں کہ یہاں سری نگر میں درجہ حرارت کافی نیچے ہے اور رات ہوتے ہوتے مائنس بھی ہوسکتا ہے ۔ اس کے باوجود یہاں میرے نوجوان ساتھی اور میرے کشمیری بھائی بہن یہاں موجود ہیں۔ یہ کشمیریوں کا جذبے کا مظہر ہے۔
اسٹیج پر تشریف فرما جموں وکشمیر کے گورنر عزت مآب ستپال ملک جی ، مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور یہاں موجود میرے سبھی بھائیو اور بہنو !
آج جب میں سری نگر آیا تو میں شہید نظیر احمد وانی سمیت ان سیکڑوں بہادروں کو گلہائے عقیدت پیش کرتا ہوں ، جنہوں نے امن کے لئے ، ملک کی حفاظت کے لئے عظیم ترین قر بانیاں دیں ۔شہید نظیر احمد وانی کی اسی بے نظیر جوانمردی اور بہادری کے لئے ممنون ملک وقوم نے ان کو اشوک چکر کے اعزاز سےنوازا ہے ۔شہید وانی جیسے نوجوان ہی جموں وکشمیر اور ملک کے نوجوانوں کو ملک کے لئے جینے اور اپنے آپ کو ملک وقوم کے وقف کرنے کا راستہ دکھاتے ہیں ۔ میں جموں وکشمیر کے لاکھوں لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے برسو ںبعد پنچایتوں اور شہروں کے انتخابات کروائے اور اپنے نمائندے منتخب کئے ۔
جمہوریت کے لئے آپ کا یہ احترام اور عقیدت نفرت کرنے والے لوگوں کے لئے بہت بڑا پیغا م ہے ۔ کچھ لوگوں کے ذریعہ منفیت پھیلانے کی کوششوں کے درمیان دھمکیوں سے بے خوف ہوکر آپ جس تعداد میں پولنگ بوتھوں تک پہنچے ہیں وہ آپ کے بچوں کے مستقبل اور جموں وکشمیر کی ترقی کے جذبے کو پختہ کرتا ہے۔
ساتھیو!
آج یہاں مجھے سات ہزارکروڑروپے کی اسکیموں کا سنگ بنیاد اور ملک وقوم کے نام وقف کرنے کا موقع ملا ہے۔ یہ تمام پروجیکٹس سری نگر اور آس پاس کے علاقوں کے لوگوں کی زندگی کو آسان بنانے میں معاون ہوں گے۔تعلیم ،صحت اورانفراسٹکچر سے جڑی ان اسکیموں کے لئے آپ سب کو بہت بہت مبارکباد!
ساتھیو!
آپ نے دیکھا کہ آج سری نگر ملک کے تعلیمی نظام سے جڑے ایک بہت بڑے پروگرام کی میزبانی کررہا ہے ۔آپ میں سے بیشتر لوگوں نے دیکھا ہوگا کہ اب سے ساڑھے چار برس قبل جتنے بھی پروگرام لانچ ہوتے تھے،یا مرکزی سرکار کو ئی اسکیم شروع کرتی تھی تو وہ سب دلی کے وگیان بھون میں ہوتا تھا۔ ہم نے پرانی سرکار وں کی تہذیب کو ہی بدل دیا ہے۔
ہماری سرکار نے آیوشمان بھارت کا آغازجھارکھنڈ سے کیا۔اجولا یوجنا کا آغاز اترپردیش سے کیا گیا۔پردھان منتری سرکشا بیمہ یوجنا اور پردھان منتری جیون جیوتی یوجنامغربی بنگال میں شرو ع کی گئی ۔ہینڈ لوم سے جڑے قومی مشن کا آغاز تامل ناڈو سے کیا گیا ۔بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ اسکیم ہریانہ سے شروع کی گئی اور پوشن مشن راجستھان سے شروع کیا گیا۔
آج پورے دیش سے جُڑے ایک اہم پروگرام کے لئے ہم سبھی آج سری نگر میں موجود ہیں۔ملک بھر کے پروگرام میں آج سری نگر کی دھرتی سے لانچ کررہا ہوں ۔آج یہاں نیشنل ہائرایجوکیشن مشن یعنی روسا کے دوسرے مرحلے سے جڑے پروجیکٹ کا آغاز کیا گیا ہے اور یہیں سے ملک بھر کے 70 نئے ماڈل ڈگری کالج ،11 پروفیشنل کالج، ایک وومین یونیورسٹی ، 60سے زائدآنترپرینیور انوویشن اورکیرئیر ہب کا سنگ بنیاداور افتتاح کیا گیا ہے ۔ان میں سے متعدد ادارے جموں وکشمیر کے لئے بھی ہیں۔
ساتھیو!
یہ سب دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ نیو انڈیا کس سمت میں چل رہا ہے ۔ نئے ہندوستان کی تعمیر کے لئے ہمارا راستہ کیا ہے۔ریسرچ ، انوویشن ، انکیوبیشن یا اسٹارٹ اپ کے لئے ایک نیا مزاج ملک میں فروغ دیا جارہا ہے ۔ ملک بھر کےاسکولوںمیں تعمیر کی جانے والی اٹل ٹنکرنگ لیبس ،اٹل انکیوبیشن سینٹرز کو جے جوان جے کسان ، جے وگیا ن اور جے انوسندھان کا ہمارا عزم اور مضبوط ہورہا ہے ۔ ہمارے اس قدر طاقتور ہونے کا گواہ سری نگر بنا ہے ، جموں وکشمیر شاہد ہے۔
ساتھیو!
یہ اسٹارٹ اپ انڈیا مشن کا ہی اثر ہے کہ آج ہندوستان چین اور امریکہ کے بعد تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ملک بن گیا ہے۔ گزشتہ تین چار برسوں میں 15 ہزار سے زائداسٹارٹ اپس ریکگنائز کئے جاچکے ہیں اور ان میں سے بھی تقریباََ 50 فیصد اسٹارٹ اپ ٹیئر ون اور ٹیئر2 شہروں میں قائم کئے جارہے ہیں۔
ساتھیو !
اسٹارٹ اپ کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوںمیں ٹکنالوجی کا فروغ اور توسیع بھی ہماری ترجیح ہے ۔ آج ملک بھر میں تین لاکھ سے زیادہ کامن سروس سینٹر دیہی علاقے کے لوگوں کو ڈجیٹل خدمات فراہم کرارہے ہیں۔ لاکھوں نوجوانوں کو روز گار سے جوڑ رہے ہیں۔آج باندی پورہ میں ریاست کا پہلا بی پی او بھی کھل گیا ہے۔ اس سے باندی پورہ کے نوجوانوں کے لئے نئے مواقع کے دروازے بھی کھل گئے ہیں۔
بھائیو ، بہنو!
آج جتنے بھی پروجیکٹ یا سنگ بنیاد کا افتتاح کیا گیا ہے ،وہ ملک کے ایسے اضلاع میں شروع کئے جارہے ہیں جو ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کی کوشش کررہے ہیں ۔روسا کے دوسرے دور میں ملک کے پونے چار سو اضلاع میں اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کئے جارہے ہیں۔ یہ مواقع کی، مساوات کی طرف ایک بہت بڑا قدم ہے ۔مجھے یقین ہے کہ ان سبھی اضلاع کے نوجوانوںکو جب اپنے گھر کے پاس ہی اچھے ادارے مل جائیں گے تو وہ اپنے ٹیلنٹ کو اور بھی نکھار پائیں گے ، اپنی اسکیم کو اوربھی تراش پائیں گے۔
ساتھیو!
جب میں نیو انڈیا کی خوداعتمادی کی بات کرتا ہوں تو اس کے پس پشت ایک ٹھوس بنیاد ہوتی ہے ۔جموں وکشمیر کی بیٹی نو سالہ تجمل اسلام مشکل حالات میں کچھ کرنے کے لئے آگے بڑھنے والے لوگوں کی طرح ہی آگے بڑھ رہی ہے ۔مرکزی سرکار آپ سبھی جوان ساتھیوں کے اس جوش اس امنگ کو اور پرواز دینا چاہتی ہے ۔اس کے لئے کھیلوانڈیا مشن کے تحت ایک بہت بڑا ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام ملک بھر میں چلایا جارہا ہے۔ چھوٹے چھوٹے شہروںاور قصبوںمیں اسپورٹ کی بہترین سہولیات تیار کی جارہی ہیں ۔ یہاں جموںوکشمیر کے 22 اضلاع میں بھی ملٹی پرپز اسپورٹ ہال بنانے کی ا سکیم شروع کی گئی ہے ۔ آج گاندھر بل میں ایسے ہی ایک انڈور اسٹیڈیم کا افتتاح کیا گیا ہے ۔
ساتھیو!
گزشتہ سات آٹھ مہینوں کے دوران جموں وکشمیر میں ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ یہاں کے عام لوگوں کی زندگی کو آسان بنانے کے لئے یہاں کی انتظامیہ جی جان سے لگی ہوئی ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ متعددایسے پروجیکٹ جو دس دس بیس بیس سال سے اٹکے ہوئے تھے ،وہ بھی اب پورے کرلئے گئے ہیں۔ گزشتہ دو مہینوں کے دوران سیکڑوں ڈاکٹروں کی بھرتی ہو یا بارہمولہ کا پُل ہو ، ایسے متعدد پروجیکٹ مکمل کئے گئے ہیں۔ میں جموں وکشمیر کے ہر شہری کو مبارکباد دیتا ہوں کہ آپ سبھی نے معینہ وقت سے پہلے ہی سال ستمبر میں وقت سے پہلے ہی ریاست کو کھلے میں رفع حاجت کی وبا سے نجات دلانے کا نشانہ مکمل کرلیا ہے۔ آپ مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جموں وکشمیر کو ملک کی ایسی ریاست بنانے کا نشانہ رکھا گیا ہے ،جہاں کے ہر گاؤں کو پائپ سے پینے کا پانی دستیاب کرایا جائے گا ۔ یہ ایک انتہائی لائق ستائش کوشش ہے ۔
ساتھیو!
ہماری سرکار میں مدت مقررہ میں نشانے حاصل کرنے کی ایمانداری سے کوشش کی جاتی ہے ۔ آپ لوگوںکو یاد ہوگا کہ لال قلعہ سے میں نے ایک ہزار دن کے اندر ملک کے اٹھارہ ہزار سے زائد مواضعات کو بجلی فراہم کرانے کا اعلان کیا تھا ۔ یہ وہ مواضعات تھے جو آزادی کے اتنے دنوں بعد بھی اندھیرے میں گزارا کرتے تھے ۔اس نشانے کو مدت مقررہ کے اندر ہی مکمل کرلیا گیا ہے ۔ اس کے بعد سوبھاگیہ یوجنا کے تحت ملک کے کروڑوں کنبو ں کو مفت بجلی دینے کی مہم جاری ہے ۔ تقریباََ ڈھائی کروڑ کنکشن دئے جاچکے ہیں اور بہت جلد باقی گھروںکو بھی روشن کردیا جائے گا۔ مجھے خوشی ہے کہ جموں وکشمیر میں بھی اب تقریباََ ہرکنبے کو بجلی کا کنکشن دیا جاچکا ہے ۔ اس کے لئے میں یہاں کے لوگوںکو ، بجلی کے محکمے سے جڑے پورے عملے کو ،ہر انجنئیر کو دل کی گہرائی سے مبارکباد دیتا ہوں ۔ ریاستی سرکار کی پوری ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں۔
ساتھیو!
ہم جدید اسپتال بنانے کے ساتھ ساتھ دنیا کی سب سے بڑی ہیلتھ کئیر اسکیم آیوشمان بھارت پی ایم جے بھی چلارہے ہیں ۔ ملک کی تاریخ میں اتنی بڑی ہیلتھ کئیر اسکیم غریبوں کے لئے نہیں چلائی گئی ۔ اس اسکیم کے تحت غریبوں کو پانچ لاکھ روپے تک کے مفت علاج کی سہولت حاصل ہوگی ۔ ملک کے تقریباََ 50 کروڑ غریب بھائی بہن اس کے دائرے میں ہیں۔ جموں وکشمیر کے 30 لاکھ استفادہ کنندگان بھی اس میں شامل ہیں۔ آیوشما ن بھارت یوجنا کی بدولت اب تک ملک میں دس لاکھ سے زیادہ غربیوں کا مفت علاج کیا جاچکا ہے ۔ ابھی تو اس اسکیم نے 100دن بھی پورے نہیں کئے ہیں۔ اتنی کم مدت میں دس لاکھ لوگوں کو میجر سرجری سے نئی زندگی ملے گی ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دو ،دو ، تین ،تین سال سے موت کا انتظار کررہے تھے ۔اس اسکیم کے تحت روزانہ دس ہزار سے زائد ہمارے غریب بھائی بہنوں کا علاج کیا جارہا ہے ۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی اسکیم ہے۔ امریکہ ، کناڈا اور میکسیکو کی جو کل آبادی ہے ، اس سے زیادہ لوگوں کے لئے ہماری آیوشمان بھارت اسکیم ہے ۔
ساتھیو
آیوشمان بھارت جیسی اسکیم ایک بھارت شریشٹھ بھارت کی بھی بہترین مثال ہے۔ کیونکہ جموں وکشمیر کا استفادہ کنندہ ملک بھر میں کہیں بھی اس اسکیم کا فائدہ حاصل کرسکتا ہے۔ مان لیجئے آپ یہاں سے ممبئی گئے اور وہاں جاکر بیمار ہوگئے ۔ اگر آپ یہاں رجسٹرڈ ہیں تو ممبئی کےا سپتال میں بھی آپ بغیر خرچ کئے علاج کا فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ ممبئی کا کوئی شخص یہاں سری نگر سیروتفریح کے لئے آیا ہے ، اسے کچھ مصیبت پیش آئی تو وہ یہاں فائدہ حاصل کرسکتا ہے ۔سرکار نے ان سہولیات کو یقینی بنانے کے لئے اتنا بڑا کا م کیا ہے ۔وسائل کی شراکتداری کی یہی طاقت ، ہمارے ملک کی سب سے بڑی طاقت ہے ۔ ہر مشکل صورتحال میں ہم ایک دوسرے کے کام آسکیں ۔ یہی ہندوستان کی روح ہے ، یہی کشمیر کا جذبہ ہے۔
ساتھیو !
اسی کشمیریت کا تقاضہ ہے کہ تشدد کے دور میں جن کشمیری پنڈت بھائیو بہنو کو یہاں سے اپنا گھر ، اپنی زمین اور اپنے اجداد کی یادوں کو چھوڑ کر جانا پڑا ہے ، ان کو پورے احترام کے ساتھ دوبارہ بسایا جائے ۔پردھان منتری وکاس پیکج کے ذریعہ ہم اس کے لئے کوشش کررہے ہیں۔ ریاستی انتظامیہ نے ویسو اور سیف پورہ میں ٹرانزٹ آواس بنانے شروع کردئے ہیں۔آج مجھے باندی پور ہ اورگاندھر بل میں ٹرانزٹ ہاؤسنگ کی فیسلٹی کی توسیع کرنے والی اسکیم کا سنگ بنیاد رکھنے کا موقع حاصل ہوا ہے ۔ یہ اسکیم بھی پردھان منتری وکاس پیکج کا ہی حصہ ہے ۔
ساتھیو!
یہاں قریب 700 فلیٹ بن جانے کے بعد بے گھر کنبوں کو نئی چھت ملے گی ۔ سرکار کی کوشش ہے کہ جو بھی یہاں واپس آنا چاہتے ہیں، انہیں پوری حفاظت اور احترام کے ساتھ جگہ ملے گی۔ کشمیری بے گھر لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے سرکار عہد بستہ ہے۔ 2015 میں اعلان کئے جانے والے پی ایم ڈیولپمنٹ پیکج کے تحت ریاستی سرکار نے تین ہزار تقرریوں کی منظوری دے دی ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ جلد ہی یہ بھرتیاں کرلی جائیں گی۔
ساتھیو !
جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ جموں وکشمیر کے ہیرو شہیر نظیر احمد وانی ،شہیر محمد اورنگزیب اور تجمل حسین جیسے نوجوان جو امن اور ملک کے بہتر مستقبل کے لئے وقف رہے ہیں۔دراصل ہیرو وہی ہے جو خواب پورے کرنے کے لئے جیتا ہے ۔دوسرے کے خوابوںکو مارنے والا سب سے بڑا بزدل ہوتا ہے ۔آج پورا ملک بے قصور ،نہتے کشمیری بیٹے بیٹیوں کے قتل پر زبردست غصے میں ہے ۔ اسلئے کہ نوجوان امن چاہتے ہیں۔ جینا چاہتے ہیں ، انہیں دہشت گردی کا شکار بنایا جارہا ہے ، یہی یہاں کی دہشت گردی کی سچائی ہے ۔ میں آج آپ کو ، جموں وکشمیر کے نوجوانوں کو اور پورے ملک کو یہ یقین دلاتا ہو ں کہ اس دہشت گردی کا پوری طاقت سے مقابلہ کیا جائے گا اور ہر دہشت گرد کو منھ توڑ جواب دیا جائے گا۔ سرجیکل اسٹرائک کرکے ہم پوری دنیا کو بتا چکے ہیں کہ اب ہندوستان کی نئی پالیسی اور نیا طریقہ کیا ہے ۔ ہم جموںوکشمیر میں بھی دہشت گردی کی کمر توڑ کر ہی رہیں گے ۔ جموں کشمیر کی ترقی ، یہاں کے لوگوں کی ترقی ہماری ترجیح ہے اور ہمیشہ رہے گی ۔ میں ایک بار پھر آپ سبھی کو تعلیم سے جڑی اسکیمیں شروع کئے جانے اور انفراسٹکچر پروجیکٹ شروع کئے جانے کے لئے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں اوربہت بہت مبارکباد دیتا ہوں اورآپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اٹل بہاری واجپئی جی نے جو خواب دیکھے تھے ، انہوں نے جو کام ہمیں وراثت میں دئے ہیں ، ہم اس سے ایک رتّی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ اس جذبے کی ہم چہرہ کاری کرکے دکھائیں گے ۔ اس کے لئے خواہ لداخ ہو ، خواہ سری نگر ہو یا جموں ہو ایک ایک شہری کو ساتھ لے کر سب کا ساتھ سب کا وکاس کا بنیادی اصول لے کر ہم وہی خوشحال کشمیر ، پُر امن کشمیر ، پورے ہندوستان کو دعوت دینے والا کشمیر ،سرسبز وشاداب ان وادیوںمیں خوشحالی کے دنوںوالا کشمیر ،ان خوابوں کو پورا کرنے کے لئے ہم ہر ضروری قدم اٹھائیں گے ۔یہا ں کا ہر کنبہ ، یہاں کا ہر بچہ ، اس کا روشن مستقبل ،یہی ہندوستان کے روشن مستقبل کی جیتی جاگتی تصویر ہے ۔ ان رشتوںکو برقرار رکھتے ہوئے ہم اس بات کو آگے بڑھانے کے لئے جی توڑ کوششیں کرتے رہیں گے۔اسی یقین کے ساتھ میں آپ کو دل کی گہرائیوں سے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔
A student from Telangana asks the PM:
— PMO India (@PMOIndia) February 3, 2019
We have seen many initiatives for education in the last five years. Are you satisfied with your efforts in Education sector?
A student asks PM:
— PMO India (@PMOIndia) February 3, 2019
We are seeing many usage of Digital India in our day to day lives including education. How do you see its impact on our country and all people?
A student from Haryana asks the PM:
— PMO India (@PMOIndia) February 3, 2019
Sir, it pains us to see poverty in our country. We have seen your efforts to remove poverty in our country. Do you think we can become poverty free in near future?
There are 2 realities today which make us proud.
— PMO India (@PMOIndia) February 3, 2019
India is the fastest growing large economy in the world.
According to studies, India is also reducing poverty at the fastest pace in the world: PM
अगर देश तय कर ले कि हमें गरीबी से मुक्त होना है, तो दुनिया की कोई ताकत हमें गरीब नहीं रख सकती है।
— PMO India (@PMOIndia) February 3, 2019
हमारे देशवासियों में इतना सामर्थ्य है कि अगर हमारे natural resources और human resources का अगर हम सही तरीके से प्लान करके आगे बढ़े तो गरीबी से मुक्ति पाना मुश्किल नहीं है: PM
A student from Odisha asks the PM:
— PMO India (@PMOIndia) February 3, 2019
यहां पर अनेक हेरिजेट साइट्स हैं, बहुत शानदार बीच हैं। कई बार मेरा मन करता है कि यहां पर टूरिज्म बढ़ाने के लिए कुछ करूं। हम कैसे अपनी एजूकेशन को टूरिज्म से जोड़कर ओडिशा के लिए कुछ कर सकते हैं?: PM
2013 में भारत आने वाले विदेशी पर्यटकों की संख्या 70 लाख से भी कम थी, जो 2017 में बढ़कर 1 करोड़ हो गई।
— PMO India (@PMOIndia) February 3, 2019
2013 में foreign exchange earnings का आंकड़ा 18 बिलियन डॉलर था जो 4 साल में बढ़कर 27 बिलियन डॉलर हो गया। यानी करीब 50% की बढ़ोतरी: PM
Tourism की पहली शर्त होती है कि आपको अपनी चीज पर गर्व करना होता है।
— PMO India (@PMOIndia) February 3, 2019
Tourism दुनिया की सबसे तेज गति से आगे बढ़ने वाली अर्थव्यवस्था है।
Tourism कई सारे रोजगार के अवसर भी देता है और हमें tourism को और बढ़ावा देने की जरूरत है: PM
A student from Gujarat asks the PM:
— PMO India (@PMOIndia) February 3, 2019
जब से बजट आया है, मैं हर तरफ किसानों के लिए आपने जो योजना शुरू की है, उसकी चर्चा देख रहा हूं। मैंने पढ़ा कि आपने कल कहा कि अगले 10 साल में इस योजना पर सरकार 7 लाख 50 हजार करोड़ रुपए खर्च करेगी। इतना पैसा सरकार लाएगी कहां से?: PM
हमारे देश में संसाधनों की कोई कमीं नहीं है, पहले देश के प्रधानमंत्री ने कहा था दिल्ली से एक रुपया निकलता है और 15 पैसा पहुंचता है।
— PMO India (@PMOIndia) February 3, 2019
अब फायदा ये है कि दिल्ली से एक रुपया निकलता है और पूरा 100 पैसा नीचे तक पहुंचता है: PM
मुझे विश्वास है हम जो योजना किसानों के लिए लेकर आए हैं उससे हमारे देश का किसान एक आत्मविश्वास के साथ आगे बढ़ेगा।
— PMO India (@PMOIndia) February 3, 2019
मैं यह भी देख रहा हूं कि हमारा देश 5 ट्रिलियन डॉलर की अर्थव्यवस्था बन कर रहेगा: PM


