Share
 
Comments

وزیر اعظم نے آج ہندوستانی عہدیداروں اور ماہرین کے ہمراہ 10 پڑوسی ممالک افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیپ، ماریشس، نیپال، پاکستان، سیشلز، سری لنکا کے صحت کے رہنماؤں، ماہرین اور عہدیداروں کے ساتھ ”کووڈ-19 مینجمنٹ: تجربہ، اچھے طرز عمل اور آگے بڑھنے کا راستہ“ کے موضوع پر ایک ورکشاپ سے خطاب کیا۔

وزیر اعظم نے ان ممالک کے صحت کے نظام کے طریقے کی تعریف کی جنھوں نے وبا کے دوران مربوط ردعمل کے ساتھ انتہائی گنجان آبادی والے خطوں میں چیلنج سے نمٹنے کے لیے تعاون کیا۔

وزیر اعظم نے وبائی مرض سے لڑنے اور وسائل – ادویات، پی پی ای، اور جانچ کے آلات کا اشتراک کرنے کے فوری اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کووڈ-19 ایمرجنسی رسپانس فنڈ کی تشکیل کو یاد کیا۔انھوں نے جانچ، انفکشن کنٹرول اور میڈیکل ویسٹ مینجمنٹ میں ایک دوسرے کے بہترین طرز عمل کے تجربے اور ان سے سیکھنے کا بھی ذکر کیا۔انھوں نے کہا ”تعاون کا یہ جذبہ اس وبائی بیماری کا ایک  قابل قدر فائدہ ہے۔ اپنے کھلے دل اور عزم کے ذریعہ، ہم نے دنیا میں اموات کی سب سے کم شرح حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس کی تعریف کی جانی چاہیے۔ آج ہمارے خطے اور دنیا کی امیدیں ویکسینوں کو تیزی سے کام میں لانے پر مرکوز ہیں۔ اس میں بھی ہمیں یکساں امداد باہمی اور معاونت کے جذبے کو برقرار رکھنا چاہیے۔“

 

ممالک سے ان کے عزائم میں مزید اضافہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ہمارے ڈاکٹروں اور نرسوں کے لیے خصوصی ویزا اسکیم بنانے کی تجویز پیش کی، تاکہ وہ وصول کنندہ ملک کی درخواست پر، صحت کی ایمرجنسیوں کے دوران ہمارے خطے میں تیزی سے سفر کر سکیں۔ انھوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا ہماری شہری ہوا بازی کی وزارتیں طبی ہنگامی صورتحال کے لیے علاقائی ایئر ایمبولنس معاہدے کو مربوط کر سکتی ہیں؟ انھوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ ہم اپنی آبادیوں میں ویکسین کی تاثیر سے متعلق ڈیٹا کا موازنہ کرنے، مرتب کرنے اور مطالعہ کرنے کے لیے ایک علاقائی پلیٹ فارم تشکیل دے سکتے ہیں۔اس کے علاوہ، انھوں نے پوچھا، کیا ہم مستقبل کی وبائی بیماریوں کی روک تھام کے لیے ٹیکنالوجی کی مدد سے وبائی امراض کے علم کو فروغ دینے کے لیے ایک علاقائی نیٹ ورک بناسکتے ہیں؟

کووڈ-19 سے پرے، وزیر اعظم نے صحت عامہ کی کامیاب پالیسیوں اور اسکیموں کے اشتراک کا مشورہ دیا۔ انھوں نے کہا، ہندوستان سے، آیوشمان بھارت اور جن آروگیہ اسکیمیں اس خطے کے لیے کار آمد کیس اسٹڈی ہو سکتی ہیں۔ وزیر اعظم نے آخ میں کہا، ”اگر 21ویں صدی کو ایشیائی صدی بنانا ہے،  تو یہ جنوبی ایشیا کے ممالک اور بحر ہند کے جزائر ممالک کے درمیان زیادہ سے زیادہ انضمام کے بغیر نہیں ہو سکتا ہے۔ علاقائی یکجہتی کا جذبہ جو آپ نے وبائی امراض کے دوران دکھایا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس طرح کا انضمام ممکن ہے۔“

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

'من کی بات ' کے لئے اپنے مشوروں سے نوازیں.
Modi Govt's #7YearsOfSeva
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
PM Modi to embark on 3-day visit to US to participate in Quad Leaders' Summit, address UNGA

Media Coverage

PM Modi to embark on 3-day visit to US to participate in Quad Leaders' Summit, address UNGA
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
وزیراعظم کاامریکہ کے دورہ پر روانہ ہونے سے قبل بیان
September 22, 2021
Share
 
Comments

میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ   یو ایس اے کے صد ر عزت مآب جوبائیڈن کی دعوت پر 22 تا 25 ستمبر 2021 امریکہ کا دورہ کروں گا۔

اپنے دورہ کے دوران میں صدربائیڈن کے ساتھ بھارت- امریکہ جامع عالمی اسٹراٹیجک ساجھیداری کا جائزہ لوں گا اور باہمی مفاد کے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ  خیال کروں گا۔ میں دونوں ملکوں کے درمیان خاص طور پر سائنس اور ٹکنولوجی کے شعبے میں اشتراک کے لئے امکانات تلاش کرنے کی غرض سے نائب صدر کملا ہیرس کے ساتھ ملاقات کرنے کا بھی منتظر ہوں۔

میں ، صدر جوبائیڈن، آسٹریلیا کے وزیراعظم  اسکاٹ موریسن اور جاپان کے وزیراعظم یوشی ہیدے سوگا کے ہمراہ کوویڈ لیڈران کی اوّلین بنفس نفیس سربراہ کانفرنس میں شرکت کروں گا۔ اس سربراہ کانفرنس سے اس سال مارچ میں منعقدہ ورچول سربراہ کانفرنس کے نتائج کا جائزہ لینے اور بھارت۔ بحرالکاہل خطے کے لئے ہمارے مشترکہ ویژن پر مبنی مستقبل کے رابطوں کے لئے ترجیحات کی نشاندہی کرنے کا موقع فراہم ہوگا۔

میں آسٹریلیا کے وزیراعظم اسکاٹ موریسن اور جاپان کے وزیراعظم سوگا کے ساتھ بھی ملاقات کروں گا جس کے دوران ان کے متعلقہ ممالک کے ساتھ مستحکم دوطرفہ تعلقات اور علاقائی اور عالمی  امور پر ہمارے مفید تبادلوں کو جاری رکھنے کا جائزہ لیا جائے گا۔

میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی  سے خطاب کے ساتھ اپنے دورے کا اختتام کروں گا۔ اس خطاب میں کووڈ-19 عالمی وباد سمیت فوری کارروائی کا تقاضہ کرنے وا لی چنوتیوں، انسداد دہشت گردی کی ضرورت، آب و ہوا کی تبدیلی اور دیگر اہم امور پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

 امریکہ کے میرے اس دورہ کی بدولت امریکہ کے ساتھ جامع عالمی اسٹراٹیجک ساجھیداری کو مستحکم کرنے، ہمارے اسٹراٹیجک ساجھیداروں- جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ تعلقات کو تقویت بہم پہنچانے اور اہم عا لمی امور پر ہمارے تال میل اور اشتراک کو آگے لے جانے کا ایک موقع فراہم ہوگا۔.