دس برسوں تک، مرکز کی باگ ڈور ایک ایسی ’ریموٹ کنٹرول‘ حکومت کے ہاتھوں میں تھی جس نے چھتیس گڑھ کی جانب کوئی توجہ نہیں دی: وزیر اعظم مودی
میں کانگریس پارٹی کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ پارٹی کے اندر سے کسی ایسے اہل لیڈر کو پارٹی کا صدر منتخب کرے جس کا تعلق اس مخصوص کنبے سے نہ ہو: وزیر اعظم مودی
کانگریس ہمیشہ قومی مفاد پر ایک خاص کنبے کے مفاد کو ترجیح دیتی ہے: وزیر اعظم مودی
کانگریس جھوٹے وعدے کرتی ہے۔ انہیں اس بات جواب ضرور دینا چاہئے کہ انہوں نے چار پیڑھیوں کی اپنی حکومت کے دوران ہمارے کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کے لئے کیا کیا۔ انہوں نے کاشتکاروں کو دکھ تکلیف ہی دی: وزیر اعظم
کانگریس ’ٹیلی فون بینکنگ ‘میں یقین رکھتی تھی جس کے نتیجے میں بینک برباد ہوگئے۔ ان کے ذریعہ کی گئی ایک فون کال سے ان کے قریبی دوستوں کے قرض معاف ہوجاتے تھے اور ملک کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا تھا: وزیر اعظم مودی

وزیر اعظم مودی نے آج چھتیس گڑھ کے مہاسمند علاقے میں ایک عوامی میٹنگ سے خطاب کیا۔ اس میٹنگ میں عوام بڑی تعداد میں وزیر اعظم کو سننے کے لئے آئے۔ وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب کا آغاز کانگریس پر زبردست تنقید کرتے ہوئے کیا، ’’دس برسوں تک، مرکز کی باگ ڈور ایک ایسی ’ریموٹ کنٹرول‘ حکومت کے ہاتھوں میں تھی جس نے چھتیس گڑھ کی جانب کوئی توجہ نہیں دی‘‘۔

چھتیس گڑھ میں آنے والے انتخابات کو ریاست اور یہاں کی عوام کے مستقبل کے لئے ازحد اہم قرار دیتے وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’ریاست چھتیس گڑھ اب 18 برس کی ہوگئی ہے۔ یہ وقت ریاست کے لئے بہت اہم ہے۔ جس طرح والدین اپنے بچوں کے 18 برس کے ہو جانے پر ان کے مستقبل کو لے کر فکرمند ہو جاتے ہیں، اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں چھتیس گڑھ کے عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ چھتیس گڑھ کے مستقبل کے بارے میں فکر کریں اور آنے والے انتخابات میں بی جے پی کو ریاست کی خدمت کرنے کا موقع دیں۔‘‘

ملک کے ذریعہ چار دہائیوں تک ایک کنبے کو حکومت کرنے کا موقع دیے جانے کے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’ہر کوئی جانتاہے کہ اس کنبے نے اس ملک اور اس کے عوام کے ساتھ کیا کیا۔ انہوں نے ہمیشہ قومی مفاد پر ایک کنبے کے مفادات کو ترجیح دی۔‘‘

اپنے گذشتہ بیان میں کانگریس کو کیے گئے چیلنج کو دوہراتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’میں کانگریس کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ گاندھی فیملی سے باہر کسی دیگر شخص کو پانچ برس کے لئے پارٹی کا صدر منتخب کرے۔ دیکھیں کانگریس اندرونی طور پر کتنی جمہوریت نواز ہے۔‘‘

وزیر اعظم مودی نے کانگریس پر کاشتکاروں سے جھوٹے وعدے کرنے کا الزام عائد کیا۔ سوائل ہیلتھ کارڈز، فصل بیمہ یوجنا اور یوریا کی سو فیصد نیم کوٹنگ جیسی این ڈی اے حکومت کے ذریعہ کی جانے والی مختلف پہل قدمیوں کی فہرست کا ذکرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’کانگریس نے کاشتکاروں دکھ تکلیف میں مبتلا رکھا۔ اگر انہوں نے کاشتکاروں کو مضبوط بنایا ہوتا، ان کی ضرورتوں کو پورا کیا ہوتا تو آج وہ خوشحال ہوتے۔‘‘

مدرا یوجنا کے بارے میں مختصراً بات کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے روشنی ڈالی کہ کس طرح اس نے کئی نوجوانوں کو پرواز عطا کی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا، ’’ہم نے بغیر گارنٹی کے چھوٹے کاروباریوں کے قرض منظور کیے ہیں۔ اس سے وہ لوگ بااختیار ہوئے ہیں اور اسی کے ساتھ معیشت کو بھی استحکام حاصل ہوا ہے۔‘‘

وزیر اعظم مودی نے این پی اے گڑبڑی کے لئے بھی کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا، ’’ کانگریس ’ٹیلی فون بینکنگ ‘میں یقین رکھتی تھی جس کے نتیجے میں بینک برباد ہوگئے۔ ان کے ذریعہ کی گئی ایک فون کال سے ان کے قریبی دوستوں کے قرض معاف ہوجاتے تھے اور ملک کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا تھا ‘‘

میٹنگ کے اختتام کرتے ہوئے، آنے والے انتخابات میں عوام سے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کرنے سے قبل وزیر اعظم مودی نے ملک کے نادار اور حاشیے پر پڑے عوام کی فلاح و بہبود اور ان کی اختیار کاری کے لئے مرکزی اور ریاستی حکومت کے ذریعہ کی گئی کلیدی پہل قدمیوں کی فہرست کا ذکر کیا۔

تقریر کا مکمّل متن پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں.

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets

Media Coverage

PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister hold talks with Myanmar President U Min Aung Hlaing
June 01, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, today held productive talks with the President of Myanmar, U Min Aung Hlaing.

The Prime Minister noted that India is honoured that President U Min Aung Hlaing chose India for his first foreign visit as President. He also expressed happiness that the President began his programme in India from Bodh Gaya with the blessings of Lord Buddha.

During the talks, the two leaders reviewed the full range of India-Myanmar relations and discussed ways to further strengthen bilateral cooperation.

The discussions covered avenues to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. The two sides also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and other sectors of mutual interest.

The Prime Minister underlined that Myanmar is vital to India’s ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific policies, reaffirming the importance India attaches to its relations with Myanmar.

The Prime Minister wrote on X;

“Had a productive meeting with President U Min Aung Hlaing of Myanmar. We in India are honoured that he has chosen India for his first foreign visit as President. Equally gladdening is the fact that he began the visit from Bodh Gaya, with the blessings of Lord Buddha. We reviewed the full range of India-Myanmar relations. Myanmar is vital to India’s policies of ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific.”

“Our talks covered ways to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. We also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and more.”