وزیراعظم کا ایسوچیم کی صدی تقریبات سے خطاب

Published By : Admin | December 20, 2019 | 11:00 IST
‘ایز آف ڈوئنگ بزنس’ کہنے میں چار الفاظ لگتے ہیں، لیکن اس کی درجہ بندی میں اس وقت بہتری آتی ہے جب حکومت اور پورا نظام زمینی سطح پر جاکر دن رات کام کرتے ہیں: وزیراعظم
ہندوستان دنیا بھر میں سب سے زیادہ تجارت دوست ملکوں میں سے ایک ہے: وزیراعظم مودی
ہم ٹیکس نظام میں شفافیت، اہلیت اور جوابدہی لانے کے لئے فیس لیس ٹیکس ایڈمنسٹریشن کی جانب گامزن ہیں: وزیراعظم مودی

نئی دہلی،  20 دسمبر 2019،  وزیراعظم جناب نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت کو 5 ٹریلین  ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف حاصل کرنا ممکن ہے۔

وزیر اعظم آج نئی دہلی میں اہم صنعتی چیمبر ‘ایسوچیم’ کے 100 سال پورے ہونے کے موقع پر منعقد ہ پروگرام کے افتتاحی اجلاس سے خطاب  کر رہے تھے۔

وزیر اعظم نے کارپوریٹ دنیا کی اہم شخصیات، سفارتکاروں اور دیگر معززین کے مجمع سے  خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو 5 ٹریلین ڈالر کی معیشت میں تبدیل کرنے کا خیال اچانک نہیں آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5 برسوں میں ملک نے خود کو اتنا مضبوط کر لیا ہے کہ اس نے نہ صرف خود کے لئے اتنا اہم ہدف طے کر لیا ہے، بلکہ اس سمت میں اس نے ٹھوس کوششیں  کرنی بھی شروع کر دی ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ‘اس سے 5 سال پہلے معیشت تباہی کی جانب گامزن تھی۔  ہماری حکومت نے نہ صرف اس پر روک لگائی، بلکہ معیشت میں نظم و ضبط کی راہ بھی ہموار کی’۔

وزیر اعظم نے کہاکہ ‘ہم نے بھارت کی معیشت میں بنیادی تبدیلیاں کیں، تاکہ یہ طے شدہ  قوانین کے مطابق نظم و ضبط  کے ساتھ چل سکے۔  ہم نے صنعتی شعبے  کی  دہائیوں پرانی مانگیں پوری کیں اور ہم نے ملک کو 5 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کی مضبوط بنیاد ڈال دی ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم باضابطہ اور جدیدتر بنانےکی دو مضبوط بنیادوں  پر بھارتی معیشت کی تعمیر کر رہے ہیں۔  ہم زیادہ سے زیادہ شعبوں (سیکٹر) کو باضابطہ معیشت کے دائرے میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔  اس کے ساتھ ہی ہم ملک کی معیشت کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے  جوڑ رہے  رہے ہیں، تاکہ ہم معیشت کو جدید بنانے کی رفتار کو تیز کر سکیں’۔

وزیر اعظم نے کہاکہ ‘اب کسی بھی کمپنی کے رجسٹریشن میں کئی ہفتوں کے بجائے صرف چند گھنٹے ہی  لگتے ہیں۔  خودکار (آٹومیشن) سے سرحد پار تجارت بڑی تیزی سے کرنے میں مدد مل رہی ہے۔  بنیادی ڈھانچے کے بہتر ہونے سے بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر بحری جہاز اور طیاروں کی آمد و رفت میں لگنے والا کل وقت مسلسل  گھٹتا  جا رہا ہے۔  یہ سبھی ایک جدید ترین معیشت کے ہی مثالیں ہیں’۔

وزیر اعظم نے کہاکہ ‘آج ہمارے ملک میں ایک ایسی حکومت ہے جوصنعتی  دنیاکے افکار و خیالات کو سنتی ہے، اس کی ضروریات کو سمجھتی ہے اور اس کے ساتھ ہی اس کی پیش کردہ تجاویز کے  تئیں پوری طرح حساس  بھی ہے’۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مسلسل انتھک کوشش کرنے کی بدولت ہی بھارت دنیا بھرمیں‘ایز آف ڈوئنگ بزنس ’ (یعنی تجارت کرنے میں آسانی) کی درجہ بندی میں قابل ذکر چھلانگ لگانے میں کامیاب ہو پایا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ‘ایز آف ڈوئنگ بزنس’ اگرچہ  صرف چار الفاظ سے بنا ہے،لیکن اس  میں بھارت کی درجہ بندی  کو بہتر کرنے کے لئے  متعدد ٹھوس اقدامات  کئے گئے ہیں، جن میں زمینی سطح پر پالیسیوں اور قوانین میں مطلوبہ تبدیلی لانا بھی شامل ہیں۔

وزیر اعظم نے اس بات کو بھی  اجاگر کیا کہ ملک میں ذاتی طور پر بغیر حاضری والے ٹیکس نطام  کو یقینی بنانے کی سمت میں مسلسل کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ ٹیکس دہندگان اور ٹیکس اتھارٹیوں کے درمیان ذاتی  طور پر حاضر ہونے  کی ضرورت کم سے کم ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ ‘ٹیکس نظام میں شفافیت، کارکردگی اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لئے ہم ذاتی طور پر بغیرحاضر ی  والےٹیکس نظام  کی جانب تیزی سے گامزن ہو رہے ہیں’۔

وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے کارپوریٹ سیکٹر سے وابستہ  متعدد قوانین  کو  جرائم کے دائرے سے باہر کر دیا ہے، تاکہ صنعتی دنیا  خوف سے پاک  ماحول میں کام کر سکے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ‘آپ جانتے ہیں کہ کمپنیز ایکٹ میں متعدد  التزامات ہیں، جن کی معمولی خلاف ورزی کو بھی فوجداری جرم مان لیا جاتا ہے۔  ہماری حکومت نے ایسے متعدد  التزامات کو  جرائم کے زمرے سے باہر کر دیا ہے۔  ہم اس کے علاوہ بھی بہت سے دوسرے  التزامات کو جرائم  کے زمرے سے باہر کررہےہیں، نیز انہیں دیوانی جرائم میں تبدیل کر رہے ہیں’۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت ملک میں کارپوریٹ ٹیکس کی جو شرح ہے وہ  سب سے  کم ہے اور اس سے اقتصادی ترقی کی رفتار تیز ہوگی۔

وزیر اعظم نے کہاکہ ‘اس وقت ملک میں کارپوریٹ ٹیکس کی شرح سب سے  کم ہے، اس کا مطلب یہی ہے کہ اگر کوئی بھی حکومت صنعتی دنیا  سے  سب سے  کم کارپوریٹ ٹیکس لے رہی ہے تو وہ ہمارا ملک ہی ہے’۔

وزیر اعظم نے لیبر اصلاحات کی سمت میں کی جانے والی اہم کوششوں کے بارے میں بھی تفصیل سے بتایا۔

انہوں نے بینکاری سیکٹر کو اور بھی زیادہ شفاف اور فائدہ مند بنانے کے لئے اس سیکٹر میں نافذ  کی  گئیں  وسیع تر  اصلاحات کے بارے میں بھی تفصیل سے بتایا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ‘حکومت کی جانب سےکئے گئے مختلف اقدامات کی بدولت آج 13 بینک منافع کی راہ پر گامزن ہیں، جبکہ 6 بینک‘ پی سی اے’کے دائرے سے باہر آ گئے ہیں۔  ہم نے بینکوں کے  انضمام  کےعمل کو بھی تیز کر دیا ہے۔  آج بینک اپنے ملک گیر نیٹ ورک  کی  توسیع کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ عالمی سطح پر مقبولیت  حاصل کرنے کی سمت میں بھی  گامزن ہیں’۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس جامع  ہمہ جہت مثبت کوششوں  کے ساتھ بھارت کی معیشت  5 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے  ہدف کو  حاصل کرنے کی سمت میں گامزن  ہے۔  وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت اس ہدف کی حصولیابی  میں ضروری تعاون فراہم کرنے کے لئے بنیادی ڈھانچے کے سیکٹر  میں 100 لاکھ کروڑ روپے  کی سرمایہ کاری اور دیہی شعبے  (سیکٹر) میں بھی 25 لاکھ کروڑ روپے کی  سرمایہ کاری کرے گی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Click here to read full text speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Engineering goods exports up 10.4% in January,2026, crosses $100 billion mark in April-January Period of FY26

Media Coverage

Engineering goods exports up 10.4% in January,2026, crosses $100 billion mark in April-January Period of FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Text of PM’s address in post-budget webinar on “Technology, Reforms and Finance for Viksit Bharat”
February 27, 2026
This year’s Union Budget lays the roadmap for Viksit Bharat, driven by technology, reforms and finance: PM
We have simplified processes, improved the Ease of Doing Business, expanded technology-led governance, and strengthened institutions; and even today, the country is riding the 'Reform Express': PM
In the past decade, we have had a very strong focus on infrastructure: PM
In the past decade, we have continued to maintain a very strong focus on infrastructure: PM
We have made a conscious decision that India's development will only be achieved by creating solid assets such as Highways, Railways, Ports, Digital Networks, and Power Systems: PM
These assets will continue to generate productivity for many decades to come. For this reason, Public Capital Expenditure is being continuously increased: PM
When Government, Industry, and Knowledge Partners move forward together, then Reforms change into Results, only then do announcements become achievements, on the ground: PM

 

नमस्कार !

इस साल के पहले Budget Webinar में, मैं आप सभी का अभिनंदन करता हूं। बीते कुछ वर्षों में बजट वेबिनार, इसकी एक मजबूत परंपरा बन गई है। अक्सर बजट का आंकलन अलग-अलग पैरामीटर्स पर किया जाता है, कभी Stock Market की चाल पर बात होती है, कभी Income Tax प्रस्तावों पर चर्चा केंद्रित हो जाती है। सच्चाई ये है कि राष्ट्रीय बजट कोई short-term trading document नहीं होता, वह एक policy roadmap होता है। इसलिए बजट की प्रभावशीलता का आंकलन भी ठोस पैरामीटर्स पर किया जाना चाहिए। ऐसी नीतियां जो infrastructure का विस्तार करें, जो credit के प्रवाह को आसान बनाएं, जो Ease of Doing Business बढ़ाएं, जो governance में ट्रांसपेरेंसी बढ़ाएं, जो जनता का जीवन आसान बनाएं, उनके लिए नए-नए अवसर बनाएं। बजट में इससे जुड़े निर्णय ही अर्थव्यवस्था को स्थायी मजबूती देते हैं, और सबसे महत्वपूर्ण बात ये है कि किसी भी Budget को अलग-थलग, stand alone करके नहीं देखा जाना चाहिए। Nation Building, राष्ट्र निर्माण, यही एक निरंतर प्रक्रिया होती है। हर Budget एक बड़े लक्ष्य की ओर बढ़ने का एक चरण होता है, और हमारे सामने वो बड़ा लक्ष्य है साल 2047, 2047 तक विकसित भारत का निर्माण। हर Reform, हर आवंटन, हर बदलाव को इस लंबी यात्रा के हिस्से के रूप में ही देखा जाना चाहिए। और इसलिए, हर साल बजट के बाद होने वाले ये वेबिनार बहुत महत्वपूर्ण होते हैं। मेरी अपेक्षा है कि ये वेबिनार केवल Ideas के आदान-प्रदान तक सीमित न रहें, बल्कि एक प्रभावी brainstorming exercise बनें। आपके अनुभव और व्यावहारिक चुनौतियों पर आधारित सुझाव, आर्थिक रणनीतियों को और बेहतर बनाने और समाधान खोजने में अवश्य मदद करेंगे। जब Industry, Academia, Analysts और Policymakers मिल करके सोचते हैं, तो योजनाओं का implementation और बेहतर होता है, result और सटीक मिलते हैं। इन वेबिनार्स की सीरीज के पीछे यही एक भावना है।

साथियों,

21वीं सदी का एक चौथाई हिस्सा बीत चुका है। अगर आप स्वयं के विषय में सोचे, तो आपके जीवन का बहुत अच्छा, महत्वपूर्ण कालखंड बीत चुका है। अब हम देश की विकास यात्रा के एक महत्वपूर्ण समय में हैं। ये वो समय है, जब हमारी अर्थव्यवस्था तेज गति से आगे बढ़ रही है, और साथ ही भारत पिछले एक दशक में, भारत ने असाधारण Resilience दिखाई है, और ये संयोग से नहीं आई है, हमारी Resilience, Conviction-Driven Reforms की देन है। हमने Processes को सरल किया है, Ease of Doing Business को बेहतर बनाया है, Technology-Led Governance का विस्तार किया है, Institutions को मजबूत किया है, और आज भी ये देश Reform Express पर सवार है। इस Momentum को बनाए रखने के लिए हमें ना केवल पालिसी इंटेंट पर ध्यान देना है, बल्कि डिलीवरी एक्सीलेंस पर भी फोकस करना है। Reforms का मूल्यांकन घोषणा से नहीं, बल्कि जमीनी स्तर पर उनके प्रभाव से होना चाहिए। हमें AI, Blockchain और डेटा Analytics का व्यापक उपयोग कर Transparency, Speed और Accountability बढ़ानी ही होगी, और साथ ही Grievance Redressal Systems से Impact की निरंतर Monitoring भी करनी होगी।

साथियों,

पिछले एक दशक में इंफ्रास्ट्रक्चर पर हमारा बहुत फोकस रहा है। हमने सोच-समझकर ये फैसला किया कि भारत का विकास हाईवेज, Railways, Ports, डिजिटल नेटवर्क, Power Systems, ऐसे अनेक, ऐसे अनेक, अब जैसे ठोस Assets को तैयार करके ही होगा। ये आने वाले कई दशकों तक Productivity पैदा करते रहेंगे। इससे, और इसी वजह से Public Capital Expenditure लगातार बढ़ाया जा रहा है। 11 साल पहले Public Capex के लिए बजट में लगभग 2 लाख करोड़ रुपए का प्रावधान था, मौजूदा बजट में ये बढ़कर लगभग 12 लाख करोड़ रुपए के पार हो गया है। इतने बड़े पैमाने पर सरकारी निवेश होना Private Sector के लिए भी एक स्पष्ट संदेश है।

साथियों,

अब समय है कि Industry और Financial Institutions भी नई ऊर्जा के साथ आगे आएं। हमें Infrastructure में ज्यादा भागीदारी चाहिए, Financing Models में ज्यादा Innovation चाहिए, और Emerging Sectors में ज्यादा मजबूत Collaboration चाहिए। इस दिशा में मेरा एक और सुझाव है, हमें Project Sanction Methodology और Appraisal Quality को और मजबूत करना होगा। हमें Cost-Benefit Analysis और Lifecycle Costing को सर्वोपरि रखते हुए Waste और Delays रोकने ही होंगे।

साथियों,

हम Foreign Investment Framework को और सरल कर रहे हैं। हमारा प्रयास सिस्टम को ज्यादा Predictable और Investor-Friendly बनाने का है। हम Long-Term Finance को बेहतर बनाने के लिए, Bond Markets को और ज्यादा सक्रिय बनाने की दिशा में भी कदम उठा रहे हैं। बॉन्ड की खरीद और बिक्री की प्रक्रिया को आसान बनाया जा रहा है।

साथियों,

हमें Bond Market Reforms को Long-Term Growth के Enablers के रूप में देखना होगा, हमें Predictability सुनिश्चित करनी होगी, Liquidity को गहरा करना होगा, नए Instruments लाने होंगे, और Risks का प्रभावी प्रबंधन करना होगा। तभी हम Sustained Foreign Capital आकर्षित कर पाएंगे। मुझे अपेक्षा है कि आप Global Best Practices से सीख लेकर, Foreign Investment Framework और Bond Markets को मजबूत करने के लिए स्पष्ट और ठोस सुझाव देंगे।

साथियों,

कोई भी Policy Framework तैयार कर सकती है, लेकिन उसकी सफलता आप सब पर निर्भर करती है। उद्योग जगत को Fresh Investment और Innovation के साथ आगे आना होगा। Financial Institutions और Analysts को Practical Solutions, Practical Solutions तैयार करने में मदद करनी होगी, और Market Confidence को मजबूत करना होगा। जब Government, Industry और Knowledge Partners एक साथ आगे बढ़ते हैं, तब Reforms Results में बदलते हैं। तभी Announcements जमीन पर Achievements बन जाते हैं। मेरा सुझाव है कि हम एक स्पष्ट Reform Partnership Charter विकसित करें। यह Government, Industry, Financial Institutions और Academia का साझा संकल्प हो। ये चार्टर, विकसित भारत की यात्रा का बहुत अहम दस्तावेज बनेगा।

साथियों,

मैं सभी Stakeholders, Financial Institutions, Markets, Industry, Professionals और Innovators से कहूंगा, इस बजट ने जो नए अवसर दिए हैं, उनका फायदा उठाएं, बजट द्वारा खोले गए नए अवसरों के साथ गहराई से जुड़ें। आपकी भागीदारी से योजनाओं का Implementation और बेहतर होगा, आपके फीडबैक और सहयोग से बेहतर नतीजे आएंगे। आइए, हम सब मिलकर Reform करें, Grow करें और ऐसा Future बनाएं, जो विकसित भारत का सपना जल्द से जल्द साकार हो।

मुझे पूरा विश्वास है, आज आप सब गहरा मंथन करेंगे, प्रक्रियाओं को सरल करने पर आपका ध्यान केंद्रित होगा और हम ये गलती ना करें, बजट के पहले भी हम आप सबसे कंसल्टेशन करते हैं, उसका मकसद अलग है, उसका मकसद होता है बजट और अच्छा बने। लेकिन अब बजट बन चुका है, अब बजट की चर्चा के लिए कार्यक्रम नहीं है, अब बजट में जो है उसको जमीन पर जल्दी से जल्दी उतारना, सरल से सरल मार्ग से उतारना और सबका, सभी स्टेकहोल्डर का लाभ हो, उनकी भागीदारी हो, इस बात को ध्यान में रख करके आप चर्चा करेंगे, मंथन करेंगे, तो ये वेबिनार सचमुच में वाइब्रेंट इकोनॉमी का दरवाजा खोल देंगे।

बहुत-बहुत धन्यवाद !

नमस्कार !