نئی دہلی،11 ستمبر؍  وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج سوامی وویکا نند کے  شکاگو  خطاب کی 125 ویں سالگرہ کے موقع پر شری رام کرشن مٹھ ، کے ذریعے کوئمبٹور میں منعقدہ اختتامی تقریب  سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ تقریب سوامی جی کی تقریر کے اثر کو ظاہر کرتی ہے کہ کیسے اس نے ہندوستان کو دیکھنے کے مغرب کے نظریے کو تبدیل کر دیا اور کیسے ہندوستانی افکار اور فلسفے کو اس کا صحیح مقام ملا۔

وزیراعظم نے کہا کہ سوامی وویکا نند نے دنیا کو ویدک فلسفے کی عظمت سے متعارف کرایا۔ وزیراعظم نے کہا کہ شکاگو میں انہوں نے دنیا کو ویدک فلسفے کے بارے میں بتایا،لیکن انہوں نے ملک کو اس کے خوشحال ماضی اور وسیع تر امکانات کی یاد بھی دلائی۔ انہوں نے ہمیں اپنا اعتماد ، اپنا فخر اور اپنی جڑیں واپس دلائیں ۔

جناب نریندر مودی نے کہا کہ سوامی وویکا نند کے نظریہ کے بدولت ہندوستان مکمل اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت ہند کے متعدد اقدامات اور اسکیموں کا بھی ذکر کیا۔

 

وزیراعظم کے خطاب کا متن حسب ذیل ہے:

’’ میں سوامی وویکا نند کے شکاگو خطاب کی 125 ویں سالگرہ سے متعلق اس تقریب میں حاضر ہو کر خود کو خوش نصیب تصور کر رہا ہوں۔ مجھے بتلایا گیا ہے کہ یہاں تقریباً 4000 احباب ، نوجوان اور بزرگ موجود ہیں۔

یہ اتفاق کی بات ہے کہ 125 سال قبل جب سوامی وویکا نند جی نے  شکاگو میں عالمی  مذاہب  کانفرنس سے خطاب کیا تھا تو اس وقت بھی سامعین کی تعداد تقریباً 4000 تھی۔

مجھے نہیں معلوم کہ ایک عظیم اور باعث ترغیب  تقریر کی سالگرہ منانے کی تقریب  منعقد کرنے کی کوئی دوسری مثال موجود ہو۔

شاید نہیں ،

اس طرح سے  اس تقریب سے  سوامی جی کی تقریر کے اثر کا اظہار ہوتا ہے کہ کیسے اس نے  ہندوستان کو دیکھنے کے مغرب کے نظریے کو تبدیل کر دیا اور کیسے ہندوستانی افکار اور فلسفے کو اس کا صحیح مقام ملا۔

آپ نےجس تقریب کا انعقاد کیا ہے اس سے شکاگو خطاب  کی سالگرہ اور بھی خاص ہو جاتی ہے۔

رام کرشن مٹھ اور مشن سے وابستہ ہر فرد ، تمل ناڈو کی حکومت  ،اس تاریخی  خطاب کی یاد منانے کے لئے آج یہاں جمع ہوئے اپنے ہزاروں   نوجوان  دوستوں کو مبارکباد۔

سنتوں  کی منفرد ساتوک خصوصیات  اور آج یہاں موجود ہزاروں نوجوانوں کی توانائی اور جوش کا امتزاج ہندوستان کی اصل قوت کی ایک علامت ہے۔

اگر چہ میں آپ سے بہت دور ہوں پھر بھی میں اس منفرد توانائی کو محسوس کر سکتا ہوں۔

 مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ اس دن کو محض تقاریر تک محدود نہیں کریں گے۔ مٹھ نے  متعدد اقدامات کئے ہیں۔ سوامی جی کے الفاظ کو پھیلانے کے لئے اسکولوں اور کالجوں میں مسابقے منعقد کئے گئے ہیں۔ ہمارے نوجوان اہم امور پر مباحثہ کریں گے اور  موجودہ وقت میں  ہندوستان کو درپیش مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کریں گے۔ لوگوں کی حصہ داری کی یہ روح ، ملک کو درپیش چیلنجوں سے مل کر لڑنے کا عظم ، ایک بھارت ، شریشٹھ بھارت کا یہ فلسفہ ہی  سوامی جی کے پیغام کا خلاصہ ہے۔

دوستو!  اپنے اس خطاب کے ذریعے سوامی وویکا نند نے پوری دنیا کو ہندوستانی ثقافت ، فلسفہ اور قدیم روایات کی روشنی دکھائی ۔

شکاگو کے خطاب کے بارے میں بہت سے لوگوں نے لکھا ہے ۔ آپ لوگوں نے، آج کے اپنے مباحثے کے دوران  بھی ان کی تقریر کے اہم  نکات پر گفتگو کی۔ ہم سوامی جی کے الفاظ تک پہنچتے رہیں گے اور ان سے نئی نئی چیزیں سیکھتے رہیں گے۔

میں سوامی جی کی تقریر کے اثر کو بیان کرنے کے لئے خود سوامی جی کے الفاظ کا سہارا لوں گا۔ چنئی میں دریافت کئے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ شکاگو پارلیمنٹ ہندوستان  اور ہندوستانی افکار کی زبردست کامیابی تھی ۔  اس نے  ویدانت  کی لہروں میں موج پیدا کیا جو دنیا پر چھا گئی ۔

دوستو!

سوامی جی کی حصولیابی ہمیں اس وقت اور عظیم تر معلوم ہوتی ہے جب ہم اس  عہد کو یاد کرتے ہیں جس عہد میں وہ زندگی گزار رہے تھے ۔  

 ہمارا ملک  غیر ملکی حکمرانوں کے شکنجے میں تھا  ۔ہم غریب تھے ، ہمارے سماج کو  کم تر او ر پسماندہ خیال کیا جاتا تھا اور واقعتاً ایسی بہت سی سماجی برائیاں تھیں جو ہمارے سماجی تانے بانے کا حصہ تھیں۔

غیر ملکی حکمراں ، ان کے جج، ان کے مبلغ ہمارے ہزاروں سال پرانے علوم اور ثقافتی ورثے کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔

ہمارے اپنے لوگوں کو بھی یہ پڑھایا جاتا تھا کہ وہ اپنی وراثت کو کم تر خیال کریں انہیں اپنی جڑوں سے  کاٹا جاتا تھا۔  سوامی جی نے اس ذہنیت  کو چیلنج کیا۔ انہوں نے صدیوں کی اس دھول کو  صاف کرنے کا کام کیا جو ہندوستانی ثقافتی علوم  اور فلسفیانہ افکار پر جمع ہو گئی تھی۔

انہوں نے دنیا کو ویدک فلسفے کی عظمت سے متعارف کرایا۔ شکاگو میں انہوں نے دنیا کو ویدک فلسفے کے بارے میں بتایا،لیکن انہوں نے ملک کو اس کے خوشحال ماضی اور وسیع تر امکانات کی یاد بھی دلائی۔ انہوں نے ہمیں اپنا اعتماد ، اپنا فخر اور اپنی جڑیں واپس دلائیں ۔

سوامی  جی نے ہمیں یاد دلایا کہ یہ وہی سرزمین ہے جہاں سے اٹھتی ہوئی لہروں کی طرح  روحانیت  اور  فلسفے کی موجیں بار بار اٹھیں اور دنیا کو سیراب کیا۔ یہ وہی سرزمین ہے جہاں سے مزید ایسی لہریں اٹھیں جنہوں نے نسل انسانی کی مٹتی ہوئی  نسلوں کو زندگی اور توانائی بخشی ۔

سوامی جی نے نہ صرف   دنیا پر اپنی ایک چھاپ چھوڑی  بلکہ  ملک کی جنگ آزاد  ی کو نئی توانائی اور اعتماد بھی بخشا     ۔

 ہم کہہ سکتے ہیں ،  ہم اس کی صلاحیت رکھتے ہیں اس احساس کے  ملک کے عوام  میں بیداری پیدا کی۔    یہ  خود اعتمادی اور اعتماد تھا   جو   اس نوجوان سنیاسی    کے خون کے ہرا یک قطرے میں      موجود تھا۔   انہوں نے  ملک میں خود اعتمادی پیدا کی    ، ان کا منتر تھا ‘خود پر  یقین رکھو اور ملک سے پیار کرو’۔

دوستو،

 سوامی جی کے اس خواب کے ساتھ    ہندستان  پوری   خود اعتمادی  کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔   اگر ہم  خود پر یقین رکھیں اور کڑی محنت کریں تو کیا حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ 

دنیا نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ہندستان میں   صحت اور خوشحالی کے لئے    یوگا اور آیوروید جیسی   قدیم روایتیں موجود ہیں ۔     اس کے ساتھ ہی ہم    نئی  ٹکنالوجی کی طاقت حاصل کررہے ہیں۔     آج   جب ہندستان     ایک بار سو سٹیلائٹ    خلا میں بھیج رہا ہے     اور دنیا   منگلیان   اور  گگنیان پر تبادلہ خیال کررہی ہے      تو دوسرے ممالک     بھیم  (بی ایچ آئی ایم) جیسے ہمارے   ڈیجیٹل ایپ    کی نقل اتارنے کی کوشش کررہے ہیں تو    ملک کی خود اعتمادی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔    ہم    غریبوں، مظلوموں  اور حاشیہ پر کھڑے لوگوں  میں   خود اعتمادی پیدا کرنے       کے لئے کام کررہے ہیں۔  اس کا اثر  ہمارے نوجوانوں اور  ہماری  لڑکیوں کے اعتماد میں دیکھا جاسکتا ہے  ۔ 

 حال ہی میں منعقدہ  ایشین گیمز میں ہمارے کھلاڑیوں نے      یہ دکھا دیا ہے کہ آپ کتنے غریب ہیں،   کس  قسم کے خاندا نی پس منظر سے آتے ہیں  ، اعتماد اور کڑی محنت سے    اپنے ملک کا  سر فخر  سے بلند کرسکتے ہیں۔    ملک میں فصل کی ریکارڈ پیداوارہمارے کسانوں  کے طرز عمل سے   بھی یہ ظاہرہوتا ہے۔ملک کے  کاروباری افراد   اور ہمارے محنت کش صنعتی پیداوار کو بڑھا رہے ہیں۔     میں نوجوان  انجینئر،   صنعت کار ،  سائنس داں  کی طرح آپ   ملک کو   اسٹارٹ اپ کے نئے انقلاب کی جانب لے جارہے ہیں۔    

دوستو!

سوامی جی کو یہ پختہ یقین تھا کہ  ہندستان    کے مستقبل کا انحصار  نوجوانوں پر ہے۔  ویدوں کا حوالہ  دیتے ہوئے   انہوں نے کہا کہ  ‘مضبوط اور صحت مند    نوجوان کی دانش مند ی ہی بھگوان  تک پہنچے گی’۔  مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہورہی ہے کہ     نوجوان مشن کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔  نوجوانوں کی توقعات کے پیش نظر   حکومت   کام کا نیا کلچر    اور   نئے طور طریقے  لارہی ہے۔  دوستوں    آزادی کے  70  سال بعد بھی     جہاں  خواندگی میں  اضافہ ہونا چاہئے تھا      ہمارے  نوجوانوں میں     ہنر مندی  کا فقدان ہے ۔وہ روزگار    حاصل کرنے کے قابل نہیں ۔  افسوس کی بات ہے کہ ہمارے  تعلیمی نظام میں     ہنر مندی پر   معقول توجہ نہیں دی گئی ہے۔    نوجوانوں میں ہنر مندی کے فروغ کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت  نے  ہنر مندی کے فروغ کے لئے مخصوص وزارت تشکیل دی ہے۔  

اس کے علاوہ ہماری حکومت نے بینکوں کے دروازے  نوجوانوں کےلئے کھول دئیے ہیں جو اپنے خوابوں کو اپنے طور پر شرمندہ تعبیر کرنا چاہتے ہیں۔

مُدرا اسکیم کے تحت اب تک 13 کروڑ سے زیادہ قرضے دیئے جاچکے ہیں۔ یہ اسکیم ملک کے  گاؤوں اور قصبات میں خود روزگاری کو بڑھانے میں ایک اہم رول ادا کررہی ہے۔

حکومت اسٹارٹ اپ انڈیا مہم کے تحت جدت طرازی کے خیالات کے لئے حوصلہ افزا پلیٹ فارم فراہم کررہی ہے۔

اس کے نتیجے میں اکیلے پچھلے سال 8000  اسٹارٹ اپس کو تسلیم کئے جانے کے سرٹی فکیٹ ملے ہیں جبکہ 2016 میں تقریباً 800 اسٹارٹ اپس کو اس طرح کے سرٹی فکیٹ دیئے گئے تھے۔ اس کا مطلب ایک سال میں دس گنا اضافہ ہے۔

اس کے علاوہ اسکولوں میں جدت طرازی کا ماحول پیدا کرنے کی غرض سے ’اٹل انوویشن مشن‘ شروع کیا گیا ہے۔اس اسکیم کے تحت ہم  پورے ملک میں اگلے پانچ برسوں میں 5000 اٹل ٹکرنگ لیبس قائم کرنے کے لئے کام کررہے ہیں۔

جدت طرازی کے خیالات کی حوصلہ افزائی کے لئے اسمارٹ انڈیا ہیکاتھان جیسے پروگراموں پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔

دوستو!

سوامی وویکا نند نے بھی ہمارے سماجی اقتصادی مسائل کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ معاشرے میں برابری اسی وقت  آئے گی جب ہم غریب ترین لوگوں کو ان لوگوں کی سطح تک لے آئیں گے جو سب سے اوپر کی سطح پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ پچھلے چار برسوں سے ہم اس سمت میں کام کررہے ییں۔ جن دھن اکاؤٹس اور انڈیا پوسٹ پیمنٹس بینک کے ذریعے بینکوں کو  غریبوں کے گھروں تک لے جایا جارہا ہے۔ بہت سی اسکیمیں مثلاً بے گھر غریبوں کے لئے مکان، گیس اور بجلی کے کنکشن، صحت اور زندگی کے بیمے کی اسکیمیں غریب ترین لوگوں کو اوپر اٹھانے کے لئے شروع کی گئی ہیں۔

اس مہینے کی 25 تاریخ کو ہم پورے ملک میں آیوشمان بھارت اسکیم شروع کررہے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت مختلف بیماریوں ے مفت علاج معالجے کے لئے  دس کروڑ غریب کنبوں کو پانچ لاکھ روپے تک کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ میں اس اسکیم میں شامل ہونے کے لئے تمل ناڈو کی حکومت اور وہاں کے عوام کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔

ہماری حکمت عملی نہ صرف غریبی کو دور کرنےکی ہے بلکہ ملک میں غریبی کی وجوہات کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ہے۔

 میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ آج کا دن ایک بہت  مختلف قسم  کے واقعہ یعنی 9/11 (نو گیارہ)کے دہشت گردانہ  حملے کی برسی کا دن بھی ہے۔ اس واقعہ کی گونج پوری دنیا میں سنائی دی تھی۔قوموں کی برادری اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ اس کا حل اس راستے میں مضمر ہے جو سوامی جی نے شکاگو میں دنیا کو دکھایا تھا- برداشت  اور رضامندی۔

سوامی جی نے کہا تھا کہ ’’مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق ایک ایسے مذہب سے ہے جس نے دنیا کو دونوں چیزیں یعنی برداشت اور عالمی رضامندی سکھائی ہے۔‘‘

ہمارا ملک آزادانہ خیالات رکھنے والوں کا ملک ہے۔ صدیوں سے یہ زمین متنوع خیالات اور تہذیبوں کا  گھر رہی ہے۔ ہماری روایت  ’بحث و مباحثہ ‘ کرنے اور ’فیصلہ کرنے‘ کی ہے۔ جمہوریت اور بحث و مباحثہ ہماری لافانی اقدار ہیں۔

لیکن دوستو! ایسا نہیں ہے کہ ہمارا معاشرہ تمام برائیوں سے پیچھا چھڑاچکا ہے۔ اتنے بڑے ملک میں  جس میں بے مثال تنوع موجود ہے، بڑے چیلنجوں کا ہونا لازمی ہے۔

وویکا نند کہا کرتے تھے ’’ہر جگہ شیطان ہوتے ہیں۔ سبھی ادوار میں ہوتے ہیں۔ کم ہو ں یا زیادہ‘‘۔  ہمیں اپنےمعاشرے میں اس طرح کی برائیوں سے چوکس رہنا ہے اور انہیں شکست دینی ہے۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی ہے کہ فراہم شدہ تمام تر وسائل کے باوجود جہاں کہیں ہندوستانی معاشرہ تقسیم ہوا ہے، جہاں کہیں اندرونی اختلافات ہوئے ہیں،  بیرونی دشمنوں نے اس کا فائدہ اٹھایا ہے۔

اور جدو جہد کے ان زمانوں میں ہمارے سنتوں، سماجی  اصلاح کاروں نے صحیح راستہ دکھایا ہے۔  و ہ راستہ جو ہمیں یکجا کردیتا ہے۔

ہمیں سوامی وویکا نند سے حاصل شدہ فیضان نے ساتھ ایک نیا ہندوستان تعمیر کرنا ہے۔

میں اپنی تقریر آپ سب کا شکریہ ادا کرکے ختم کرتا ہوں۔ آپ نے مجھے اس تاریخی تقریب میں شرکت کا موقع فراہم کیا۔ اسکولوں اور کالجوں کے ان ہزاروں دوستوں کو مبارکباد جنہوں نے سوامی جی کو پڑھا اور ان کے پیغامات کو سمجھا، مقابلوں میں حصہ لیا اور انعامات جیتے۔

آپ سب لوگوں کا ایک بار پھر شکریہ‘‘

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets

Media Coverage

PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
India-Myanmar Joint Statement during the Official Visit of the President of Myanmar to India
June 01, 2026

At the invitation of H.E. Shri Narendra Modi, Prime Minister of India, H.E. U Min Aung Hlaing, President of the Republic of the Union of Myanmar paid his first Official Visit to India from 30 May to 3 June 2026.

The President was accompanied by the Union Ministers for President’s Office, Foreign Affairs, Finance & Revenue, Agriculture, Livestock & Irrigation, and Industry & MSME Business Development, and Governor of the Central Bank of Myanmar. A business delegation from diverse sectors including agriculture, pharmaceuticals, energy, banking, construction, IT, communications, trading and logistics, as well as members of the Myanmar-India Friendship Association, were part of the Myanmar delegation.

The Prime Minister of India and the President of Myanmar held talks on 1 June 2026, during which they reviewed bilateral, regional and global issues of mutual interest and charted the way forward for the relationship. The Prime Minister hosted a luncheon in honour of the visiting dignitary. Hon’ble President of India Smt. Droupadi Murmu received the President of Myanmar on the same day. Earlier, External Affairs Minister Dr. S. Jaishankar and National Security Adviser Shri Ajit Doval separately called on the President of Myanmar.

At the commencement of the visit, the President visited Bodh Gaya on 30 May 2026, where he offered prayers at Mahabodhi Temple, Mahabodhi Meditation Centre and Sujata Temple. These visits to deeply revered sites underscored the enduring spiritual and Buddhist ties, as well as the people-to-people links, between the two countries.

The President delivered a keynote speech at the India-Myanmar Business Conclave, jointly organised by the UMFCCI and CII, in New Delhi on 31 May 2026, where business heads from both sides discussed avenues for further strengthening and expanding bilateral trade and commercial opportunities. The President also toured the NTPC Energy Technology Research Alliance (NETRA) complex in Greater Noida to observe advanced R&D work, including in clean energy innovation, energy efficiency, renewable energy integration and grid resilience.

In his interaction with the President, the Prime Minister stated that Myanmar lies at the confluence of India’s Neighbourhood First, Act East and MAHASAGAR (Mutual and Holistic Advancement for Security and Growth Across Regions) policies. The discussions underscored the importance of strengthening bilateral cooperation, including trade and economic ties, defence and security, border management, development assistance and cultural exchanges. Both sides noted ongoing discussions on various bilateral Agreements and Memoranda of Understanding and looked forward to their early conclusion.

The Prime Minister underlined that enhanced connectivity would foster mutually beneficial economic linkages and shared prosperity in the region. In this regard, both sides shared the importance of working closely towards the completion of Kaladan Multi-Modal Transit Transport project and the India-Myanmar-Thailand trilateral highway.

The Prime Minister conveyed that the Mekong Ganga ICCR scholarships for Myanmar students would be enhanced from 36 to 100 from 2026 onwards.

Both sides agreed to facilitate and enhance bilateral trade including through the Rupee-Kyat settlement mechanism, and appreciated the steady growth in the volume of transactions recorded since its operationalisation in May 2024. Both sides also expressed support for closer trade and investment cooperation in the areas of mutual interest such as agro-processing, petroleum, energy, mining sectors, in accordance with their respective national laws and regulations.

The Prime Minister reaffirmed India’s support for the sovereignty and territorial integrity of the Republic of the Union of Myanmar. Both sides underscored the importance of preventing the misuse of sovereign territory for activities inimical to their security interests. The President reiterated Myanmar’s assurance that its territory would not be permitted to be used against India’s security interests. The Prime Minister affirmed that India, as a steadfast and trusted partner of Myanmar, remained committed to deepening security cooperation between the two countries.

The Prime Minister conveyed support for Myanmar-led efforts towards achieving peace, stability, national reconciliation and socio-economic development. He also offered continued assistance and cooperation, based on mutual respect and friendly relations between the two countries. The President appreciated India’s constructive support and cooperation.

The Prime Minister expressed confidence that the meetings of the President with the Governor of Maharashtra and the Chief Minister, as well as his business engagements during his upcoming visit to Mumbai on 02 - 03 June 2026 would further strengthen existing bilateral cooperation and economic ties.

The official visit of President U Min Aung Hlaing reaffirmed the long-standing friendship and close partnership between Myanmar and India and the shared commitment of both countries to further strengthen cooperation for the mutual benefit of the two countries. Both sides agreed to continue close engagement at all levels.

President U Min Aung Hlaing expressed his sincere appreciation to Prime Minister Shri Narendra Modi for the warm hospitality extended to him and to the members of his delegation during their stay in India. The President also extended an invitation to the Prime Minister of India to visit Myanmar at mutually convenient dates.