’’ہندوستان میں فطرت اور اس کے طریقے سیکھنے کے باقاعدہ ذرائع رہے ہیں‘‘
’’آب و ہوا سے متعلق کارروائی کو’انتودیہ‘ کے اُصولوں کی پیروی کرنی چاہئے، جس کا مطلب ہے معاشرے کے آخری فرد کے عروج اور ترقی کو یقینی بنانا‘‘
ہندوستان نے 2070 تک نیٹ زیرو حاصل کرنے کا ہدف رکھا ہے
پروجیکٹ ٹائیگر کے نتیجے میں آج دنیا کے 70 فیصد شیر ہندوستان میں پائے جاتے ہیں
’’ہندوستان کے اقدامات لوگوں کی شراکت داری سے تقویت یافتہ ہیں‘‘
’’مشن لائف ایک عالمی عوامی تحریک کے طور پر ماحول کے تحفظ کے لیے انفرادی اور اجتماعی اقدام پر زور دے گا‘‘
’’مادر فطرت ’وسودھیو کٹمبکم‘- ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل‘‘کو ترجیح دیتی ہے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج چنئی میں جی20 ماحولیات اور آب ہوا سے متعلق  امور کے وزراء کے اجلاس سے ویڈیو پیغام کے ذریعے خطاب کیا۔

چنئی میں معززین کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ شہر ثقافت اور تاریخی اعتبار سے مالا مال ہے۔ انہوں نے ان پر بھی زور دیا کہ وہ مملا پورم کی ’مسٹ وزٹ‘مقام کو بھی دیکھیں،جو یونیسکو کاعالمی ثقافتی ورثہ ہے اور کوئی بھی شخص یہاں  پتھر کی تراش خراش اور اس کی عظیم خوبصورتی کو دیکھ سکتا ہے۔

تقریباً دو ہزار سال پہلے کے عظیم شاعر تھروولوور کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ’’ سمندربھی خشک ہوجائیں اگر بادل  سمندر سے کھینچے ہوئے پانی کو انہیں بارش کی شکل میں واپس نہ لوٹائے‘‘۔ ہندوستان میں فطرت اور اس کے سیکھنے کا باقاعدہ ذریعہ بننے کے طور طریقوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ایک اور سنسکرت اشلوک کا حوالہ دیا اور کہا کہ’’نہ دریا اپنا پانی پیتے ہیں اور نہ ہی درخت اپنا پھل کھاتے ہیں۔ بادل اپنے پانی سے پیدا ہونے والے اناج کو بھی نہیں کھاتے۔‘‘ وزیر اعظم نے فطرت کو فراہمی پر زور دیا جیسا کہ فطرت ہمیں فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھرتی ماں کی حفاظت اور دیکھ بھال ہماری بنیادی ذمہ داری ہے اور آج اس نے ’کلائمیٹ ایکشن‘ کی شکل اختیار کر لی ہے، کیونکہ اس فرض کو بہت سے لوگوں نے طویل عرصےسے نظر انداز کررکھا تھا۔ ہندوستان کے روایتی علم کی بنیاد پر وزیر اعظم نے مزید کہا کہ آب و ہوا کی کارروائی(کلائمٹ ایکشن) کو ’انتودیہ‘ کے اُصولوں کی پیروی کرنی چاہیے، جس کا مطلب ہے معاشرے کے آخری فرد کے عروج اور ترقی کو یقینی بنانا۔ یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک خاص طور پر موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی مسائل سے متاثر ہیں، وزیر اعظم نے ’اقوام متحدہ کے موسمیاتی کنونشن‘ اور’پیرس معاہدے‘ کے تحت کئے گئے وعدوں پر عمل کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، کیونکہ یہ اپنی ترقی کی خواہشات کو آب و ہوا کے موافق طریقے سے پورا کرنے میں گلوبل ساؤتھ کی مدد کرنے میں اہم  رول اداکر سکتا ہے۔

وزیر اعظم نے یہ بتاتے ہوئے فخر کا اظہار کیا کہ ہندوستان نے اپنے انتہائی اہم’قومی طور پر طے شدہ شراکت داری‘ کے ذریعے اس معاملے میں رہنمائی کا کام کیا ہے۔ انہوں نے 2030 کے ہدف سے 9 سال پہلےنن-فوسل ایندھن کے ذرائع سے نصب شدہ برقی صلاحیت کو حاصل کرنے اور اب اَپ ڈیٹ شدہ اہداف کے ذریعے  اس حدکو مزید بلند کرنے کا ذکر کیا۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ آج ہندوستان نصب  شدہ قابل تجدید توانائی کی صلاحیت کے لحاظ سے دنیا کے سرفہرست 5 ممالک میں سے ایک ہے اور بتایا کہ ملک نے 2070 تک ’نیٹ زیرو‘ حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔جناب مودی نے اس اُمید کا اظہار اس لئے کیونکہ ہندوستان بین الاقوامی سولر الائنس،سی ڈی آر آئی اور ’لیڈرشپ گروپ فار انڈسٹری ٹرانزیشن‘ سمیت اتحاد کے ذریعے اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔

’’ہندوستان ایک میگا متنوع ملک ہے‘‘، وزیر اعظم نے یہ بات حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، حفاظت، بحالی اور افزودگی کے حوالے سے کئے گئے مسلسل اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہی۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ جنگل کی آگ اور کان کنی سے متاثر ہونے والے ترجیحی  لینڈ اسکیپ کی بحالی کو ’گاندھی نگر امپلی منٹیشن روڈ میپ اینڈ پلیٹ فارم‘کے ذریعے تسلیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کرہ ارض پر سات بڑی بلیوں کے تحفظ کے لیے حال ہی میں شروع کیے گئے ’انٹرنیشنل بگ کیٹ الائنس‘ کا ذکر کیا اور ’پروجیکٹ ٹائیگر‘سے حاصل شدہ سبق کو ایک اہم تحفظاتی اقدام قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پروجیکٹ ٹائیگر کے نتیجے میں آج دنیا کے 70 فیصد شیر ہندوستان میں پائے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم نے پروجیکٹ ٹائیگر اور پروجیکٹ ڈولفن پر جاری کام  کے بارے میں  بھی بات چیت کی۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہندوستان کے اقدامات لوگوں کی شراکت داری سے تقویت یافتہ ہیں۔ وزیر اعظم نے ’مشن امرت سروور‘ کا ذکر کیا جو پانی کے تحفظ کے لئے ایک منفرد اقدام ہے، جہاں صرف ایک سال میں 63,000 سے زیادہ آبی ذخائر تیار کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مشن کو مکمل طور پر کمیونٹی کی شراکت داری اور ٹیکنالوجی کی مدد کے ذریعے نافذ کیا گیا ہے۔ انہوں نے ’کیچ دی رین‘ مہم پر بھی توجہ دی جس کی وجہ سے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے 280,000 سے زائد واٹر ہارویسٹنگ ڈھانچے کی تعمیر کے ساتھ ساتھ تقریباً 250,000 ری- یوز اور ری چارج ڈھانچوں کی تعمیر کی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ’’یہ سب کچھ لوگوں کی شراکت داری اور مقامی مٹی اور پانی کی صورتحال پر توجہ مرکوز کرنے کے سبب حاصل ہوا ‘‘۔ جناب مودی نے دریائے گنگا کو صاف کرنے کے لیے ’نمامی گنگا مشن‘ میں کمیونٹی کی شراکت داری کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے پر بھی زور دیا، جس کے نتیجے میں دریا کے کئی حصوں میں گنگا ڈولفن کے دوبارہ ظہور کی بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ویٹ لینڈ کنزرویشن میں رامسر سائٹس کے طور پر نامزد 75 ویٹ لینڈز کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ایشیا میں رامسر سائٹس کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہندوستان کے پاس ہے۔

’چھوٹی جزیراتی ریاستوں‘ کا ’بڑے سمندری ممالک‘کے طور پر ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سمندر ان کے لیے ایک اہم اقتصادی وسیلہ ہیں۔ وہ دنیا بھر کے تین ارب سے زائد لوگوں کی روزی روٹی کا بھی ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وسیع حیاتیاتی تنوع کا گھر ہے۔ انہوں نے سمندری وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال اور انتظام کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر اعظم نےپائیدار اور لچکدار نیلی اور سمندر پر مبنی معیشت کے لیے جی20 کے اعلیٰ سطحی اصولوں کو اپنانے کے لیے پر امیدی کا اظہار کیا اور جی20 پر زور دیا کہ وہ پلاسٹک کی آلودگی کو ختم کرنے کے لیے ایک مؤثر بین الاقوامی قانونی طور پر پابند کرنے والے آلے کے لیے تعمیری طور پر کام کریں۔

وزیر اعظم نے گزشتہ سال اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ مل کر ماحولیات کے لیے لائف اسٹائل مشن کے آغاز کو یاد کیا اور کہا کہ مشن لائف ایک عالمی عوامی تحریک کے طور پر ماحول کے تحفظ کے لیے انفرادی اور اجتماعی اقدامات پر زور دے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان میں کسی بھی شخص، کمپنی یا مقامی ادارے کی طرف سے ماحول دوست اقدامات  کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ گرین کریڈٹس پروگرام،حال ہی میں اعلان کردہ ’گرین کریڈٹ پروگرام‘ کے تحت حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ درخت لگانے، پانی کے تحفظ اور پائیدار زراعت جیسی سرگرمیاں اب افراد، بلدیاتی اداروں اور دیگر افراد کے لیے آمدنی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہمیں پرکرتی ماں کے تئیں اپنے فرائض کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ جی20 ماحولیات اور آب و ہوا سے متعلق امور کے وزراء کا یہ اجلاس نتیجہ خیز اور کامیاب ہوگا۔جناب مودی نے آخر میں کہا کہ پرکرتی ماں بکھرے ہوئے نقطہ نظر کے حق میں نہیں ہے۔ وہ’’وسودھیو کٹمبکم‘‘ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل‘‘،کو ترجیح  دیتی ہے۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
How Varanasi epitomises the best of Narendra  Modi’s development model

Media Coverage

How Varanasi epitomises the best of Narendra Modi’s development model
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
“If today the world thinks India is ready to take a big leap, it has a powerful launchpad of 10 years behind it”
“Today 21st century India has stopped thinking small. What we do today is the best and biggest”
“Trust in government and system is increasing in India”
“Government offices are no longer a problem but are becoming allies of the countrymen”
“Our government created infrastructure keeping the villages in mind”
“By curbing corruption, we have ensured that the benefits of development are distributed equally to every region of India”
“We believe in Governance of Saturation, not Politics of Scarcity”
“Our government is moving ahead keeping the principle of Nation First paramount”
“We have to prepare 21st century India for its coming decades today itself”
“India is the Future”

The Prime Minister, Shri Narendra Modi addressed the News 9 Global Summit in New Delhi today. The theme of the Summit is ‘India: Poised for the Big Leap’.

Addressing the gathering, the Prime Minister said TV 9’s reporting team represents the diversity of India. Their multi-language news platforms made TV 9 a representative of India's vibrant democracy, the Prime Minister said.

The Prime Minister threw light on the theme of the Summit - ‘India: Poised for the Big Leap’, and underlined that a big leap can be taken only when one is filled with passion and enthusiasm. He said that the theme highlights India’s self-confidence and aspirations owing to the creation of a launchpad of 10 years. In these 10 years, the Prime Minister said, the mindset, self-confidence and good governance have been the major factors of transformation.

The Prime Minister underlined the centrality of the commission citizen in the destiny of India. He emphasized that a mindset of defeat can not lead to victory, in this light, he said that the change in mindset and leap that India has taken is incredible. PM Modi recalled the negative view exposed by the leadership of the past and the overhang of corruption, scams, policy paralysis and dynasty politics had shook the foundation of the nation. The Prime Minister mentioned the turnaround and India entering into the top 5 economies of the world. “India of 21st century India does not think small. Whatever we do, we do best and biggest. World is amazed and sees the benefit of moving with India”, he said.

Highlighting the achievements of the last 10 years compared to the ten years before 2014, the Prime Minister mentioned the record increase in FDI from 300 billion US dollars to 640 billion US dollars, India’s digital revolution, trust in India’s Covid vaccine and the growing number of taxpayers in the country which symbolizes the increasing trust of the people in the government. Speaking about mutual fund investments in the country, the Prime Minister informed that people had invested Rs 9 lakh crore in 2014 while 2024 has seen a meteoric rise to Rs 52 lakh crores. “This proves to the citizens that the nation is moving forward with strength”, PM Modi continued, “The level of trust toward self and the government is equal.”

The Prime Minister said that the government's work culture and governance are the cause of this turn-around. “Government offices are no longer a problem but are becoming allies of the countrymen”, he said.

The Prime Minister said that for this leap, a change of gear was needed. He gave examples of long pending projects such as Saryu Canal Project in Uttar Pradesh, Sardar Sarovar Yojana, and Krishna Koena Pariyojana of Maharashtra which were lying pending for decades and were completed by the government. The Prime Minister drew attention to the Atal Tunnel whose foundation stone was laid in 2002 but remained incomplete till 2014, and it was the present government that accomplished the work with its inauguration in 2020. He also gave the example of Bogibeel Bridge in Assam, commissioned in 1998 but finally completed 20 years later in 2018, and Eastern Dedicated Freight Corridor commissioned in 2008 but completed 15 years later in 2023. “Hundreds of such pending projects were completed after the present government came to power in 2014”, he added. The Prime Minister also explained the impact of regular monitoring of the big projects under PRAGATI and informed that in the last 10 years projects worth 17 lakh crore have been reviewed under the mechanism. The Prime Minister gave examples of a few projects that were completed very quickly such as Atal Setu, Parliament Building, Jammu AIIMS, Rajkot AIIMs, IIM Sambalpur, New terminal of Trichy Airport, IIT Bhilai, Goa Airport, undersea cable up to Lakshadweep, Banas Dairy at Varanasi, Dwarka Sudarshan Setu. Foundation stones of all these projects were laid by the Prime Minister and he dedicated them to the nation also. “When there is willpower and respect for the taxpayers' money, only then the nation moves forward and gets ready for a big leap”, he added.

The Prime Minister illustrated the scale by listing the activities of just one week. He mentioned a massive educational push from Jammu with dozens of higher education institutes like IIT, IIMs and IIIT on 20th February, on 24 th February he dedicated 5 AIIMs from Rajkot, and more than 2000 projects including revamping more than 500 Amrit Stations was done this morning. This streak will continue during his visit to three states in the coming two days, he informed. “We lagged in the first, second and third revolutions, now we have to lead the world in the fourth revolution”, the Prime Minister said.

He continued by furnishing the details of the nation's progress. He gave figures like 2 new colleges daily, a new university every week, 55 patents and 600 trademarks every day, 1.5 lakh Mudra loans daily, 37 startups daily, daily UPI transaction of 16 thousand crore rupees, 3 new Jan Aushadhi Kendras per day, construction of 14 KM road everyday, 50 thousand LPG connections everyday, one tap connection every second and 75 thousand people came out of poverty everyday.

Referring to a recent report on the consumption pattern of the country, the Prime Minister highlighted the fact that poverty has reached its lowest level till date into single digit. As per data, he said that consumption has increased by 2.5 times as compared to a decade ago as people's capacity to spend on different goods and services has increased. “In the last 10 years, consumption in villages has increased at a much faster rate than that in cities. This means that the economic power of the village people is increasing, they are having more money to spend”, he said.

The Prime Minister said that the government has developed infrastructure keeping rural needs in mind resulting in better connectivity, new employment opportunities and income for women. This strengthened rural India, he said. “For the first time in India, food expenditure has become less than 50 per cent of the total expenditure. That is, the family which earlier used to spend all its energy in procuring food, today its members are able to spend money on other things”, the Prime Minister added.

Pointing out the trend of vote bank politics adopted by the previous government, the Prime Minister underscored that India has broken out of the scarcity mindset in the last 10 years by putting an end to corruption and ensuring that the benefits of development are distributed equally. “We believe in governance of saturation instead of politics of scarcity”, PM Modi emphasized, “We have chosen the path of santushti (contentment) of the people instead of tushtikaran.” This, the Prime Minister said, has been the mantra of the government for the past decade. “This is Sabka Saath Sabka Vikas”, the Prime Minister said, elaborating that the government has transformed vote bank politics into politics of performance. Highlighting the Modi Ki Guarantee Vehicle, the Prime Minister said that the government of today is going door-to-door and providing facilities to the beneficiaries. “When saturation becomes a mission, there is no scope for any kind of discrimination”, PM Modi exclaimed.

“Our government is moving forward keeping the principle of Nation First paramount”, the Prime Minister remarked, as he mentioned the critical decisions taken by the government to resolve old challenges. He touched upon the abrogation of Article 370, construction of the Ram Mandir, ending of triple talaq, Nari Shakti Vandan Adhiniyam, One Rank One Pension, and creation of the post of Chief of Defense Staff. He underlined that the government completed all such incomplete tasks with the thinking of Nation First.

The Prime Minister stressed the need to prepare the India of the 21st century and threw light on the rapidly progressing plans. “From space to semiconductor, digital to drones, AI to clean energy, 5G to Fintech, India has today reached the forefront of the world”, he said. He highlighted India’s growing prowess as one of the biggest forces in digital payments in the global world, the fastest-growing country in Fintech Adoption Rate, the first country to land a rover on the south pole of the Moon, among the leading countries in the world in Solar Installed Capacity, leaving Europe behind in the expansion of 5G network, rapid progress in the semiconductor sector and rapid developments on future fuels like green hydrogen.

Concluding the address, the Prime Minister said, “Today India is working hard towards its bright future. India is futuristic. Today everyone says – India is the future.” He also drew attention to the importance of the next 5 years. He reaffirmed the belief to take India's potential to new heights in the third term and wished that the coming 5 years be years of progress and praise for India’s journey to Viksit Bharat.