Share
 
Comments
امتحان خود کو مضبوط بنانے کا ایک بہترین موقع ہے: وزیر اعظم مودی
تجسس بڑھانے کے لئے فرصت کے لمحات کا استعمال کریں، نئی ہنرمندیاں سیکھیں: وزیر اعظم مودی
آپ کے نمبرات آپ کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرتے۔ امتحان ایک ثمرآور مستقبل کی محض شروعات ہے: وزیر اعظم مودی کا طلبا کے روبرو اظہار خیال
اپنا ذہنی تناؤ امتحان گاہ کے باہر ہی چھوڑ دیں: وزیر اعظم مودی
کسی چیز کو یاد کرنے کے لئے اس کے بارے میں ذہن میں تصور پیدا کریں: وزیر اعظم مودی کی طلبا کو نصیحت
اپنے بچوں سے بہتر طور پر جڑیں، ان کی پسند و ناپسند کے بارے میں جانیں۔ اس سے جنریشن گیپ کو ختم کرنے میں مدد ملے گی: وزیر اعظم مودی

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ’پریکشا پہ چرچہ‘ پروگرام کے چوتھے ایڈیشن میں آج طلبہ، اساتذہ اور والدین سے ورچوئل طریقے سے بات چیت کی۔ 90 منٹ تک چلے اس پروگرام میں طلبہ، اساتذہ اور والدین نے اپنے لیے مختلف اہم امور پر وزیر اعظم سے رہنمائی حاصل کی۔ گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی ملک بھر کے طلبہ کے علاوہ بیرونِ ملک رہ رہے ہندوستانی طلبہ نے بھی اس پروگرام میں شرکت کی۔

اس سال کے ’پریکشا پہ چرچہ‘ ایڈیشن کو پہلا ورچوئل پروگرام بتاتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا وبائی مرض کے سبب کئی قسم کے انتظامات میں تبدیلی آئی ہے اور آپ سے روبرو نہ ہو پانے کا مجھے افسوس ہے۔ لیکن رکاوٹوں کے باوجود پریکشا پہ چرچہ پروگرام میں بریک نہیں لگنی چاہیے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پریکشا پہ چرچہ واحد امتحان پر بات کرنے کا پروگرام نہیں ہے، بلکہ یہ بہتر ماحول میں فیملی کے اراکین اور دوستوں سے کھل کر بات کرنے کا ایک موقع ہے جس سے نئی خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔

 

 

آندھرا پردیش کی طالبہ پلّوی اور کوالالمپور کے طالب علم ارپن پانڈے نے وزیر اعظم سے پوچھا کہ امتحان کے وقت امتحان کے خوف کو کس طرح کم کریں۔ جناب مودی نے کہا کہ یہ صرف امتحان کا خوف نہیں ہے، بلکہ یہ آپ کے آس پاس بنے ماحول کا خوف ہے، اسی وجہ سے آپ کو لگتا ہے کہ یہی سب کچھ ہے، یہی زندگی ہے۔ اسی ماحول کے سبب ہی آپ ضرورت سے زیادہ محتاط ہو جاتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ زندگی بہت لمبی ہوتی ہے اور یہ امتحانات زندگی کے محض مراحل ہیں۔ انہوں نے والدین، اساتذہ اور عام لوگوں سے طلبہ پر دباؤ نہ ڈالنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ امتحان کو کسی کو صرف جانچنے کے موقع کے طور پر لیا جانا چاہیے نہ کہ اسے زندگی اور موت کا موضوع بنا دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جو والدین اپنے بچوں کے ساتھ ان کے مطالعہ کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، انہیں اپنے بچوں کی خامیوں اور خوبیوں دونوں کا علم ہونا چاہیے۔

مشکل سبق کے سلسلے میں وزیر اعظم نے مشورہ دیا کہ تمام موضوعات کو یکساں توانائی اور جذبہ سے لیا جانا چاہیے۔ وزیر اعظم نے مطالعہ کے سلسلے میں اپنے خیالات پیش کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی موضوع کے مشکل حصہ کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے، بلکہ اس کا حل تب نکالا جانا چاہیے جب آپ کا ذہن تروتازہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے طور پر اور اس سے پہلے وزیر اعلیٰ کے طور پر وہ خود پیچیدہ مسائل کو دن کے پہلے حصہ میں صبح صبح حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جب ذہن پوری طرح توانا اور صحت مند حالت میں ہوتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ اہم نہیں ہے کہ تمام موضوعات میں مہارت ایک جیسی ہو۔ یہاں تک کہ دنیا میں جو بھی شخص بہت کامیاب ہوئے ہیں، ان کی پکڑ کسی ایک موضوع پر ہی سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ انہوں نے لتا منگیشکر کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی صرف ایک موضوع، موسیقی کے لیے وقف کر دی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اگر کوئی مضمون آپ کے لیے پیچیدہ ہے تو آپ کو اس کی حدود میں نہیں بندھنا چاہیے اور اس مشکل مضمون سے دور بھی نہیں بھاگنا چاہیے۔

 

 

وزیر اعظم نے فرصت کے لمحات کی اہمیت پر بھی تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ فرصت کے لمحات کا احترام کرنا چاہیے کیوں کہ بغیر اس کے زندگی روبوٹ کی طرح ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جو فرصت کے لمحات کا احترام کرتے ہیں، وہ ان لمحات سے بھی کچھ نہ کچھ حاصل کرتے ہیں۔ حالانکہ وزیر اعظم نے آگاہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ہمیں ایسے فرصت کے وقت میں چیزوں کو نظرانداز کرنے سے بچنا چاہیے کیوں کہ کئی بار یہ فطرت نقصان بھی پہنچاتی ہے۔ اور ایسی حالت آپ کی پریشانی کا سبب بن سکتی ہے بجائے آپ کو تروتازہ کرنے کے۔ فرصت کے لمحات نئے ہنر کو سیکھنے کا اچھا موقع ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خالی وقت کو ایسی سرگرمیوں میں استعمال کرنا چاہیے جو آدمی کی خاصیت کو نکھار سکیں، ابھار سکیں۔

 

وزیر اعظم نے اساتذہ اور والدین سے کہا کہ بچے بہت چنچل ہوتے ہیں۔ وہ بڑوں کے ذریعہ کہی گئی باتوں سے زیادہ بڑوں کے طریقہ کار اور ان کے برتاؤ کی پیروی کرتے ہیں۔ اس لیے یہ اہم ہے کہ ہم لکچر دینے والا نہ بن کر اپنے برتاؤ سے بچوں میں اچھے اخلاق کا بیج بوئیں۔ بڑوں کو اپنے اصولوں کو اپنی زندگی میں اپنا کر بچوں کو آمادہ کرنا چاہیے۔

 

وزیر اعظم نے مثبت برتاؤ کی ضرورت پر زور دیا اور منفی برتاؤ کے تئیں آگاہ کیا جو کہ بچوں کو خوفزدہ کرتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بڑوں کی مثبت کوششوں سے بچوں میں مثبت تبدیلی آتی ہے اور وہ اچھا تجربہ کرنے لگتے ہیں کیوں کہ وہ اپنے بڑوں کے برتاؤ کی پیروی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مثبت ترغیب سے نوجوانوں کی بہتر نشوونما ہوتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ موٹیویشن کا پہلا حصہ ہے تربیت اور تربیت یافتہ ذہن خود ہی موٹیویٹ ہوتا ہے۔

 

جناب مودی نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ ان میں اپنے خوابوں کو پورا کرنے کا عزم ہونا چاہیے۔ انہیں سیلی بریٹی کلچر کی چکاچوند سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تیزی سے بدلتی دنیا میں کئی مواقع بھی سامنے آئے ہیں اور متجسس فطرت کو مزید بڑا کرکے ایسے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ دسویں اور بارہویں کلاس کے طلبہ کو روزگار کی نوعیت اور نئی تبدیلیوں کے لیے اپنے آس پاس کی طرز زندگی کا باریکی سے مشاہدہ کرنا چاہیے اور اس کے مطابق اپنے آپ کو تربیت دینا شروع کر دینا چاہیے۔ وزیر اعظم نے زور دیا کہ زندگی میں جو کچھ بھی کرنے کا خواب آپ دیکھتے ہیں، طلبہ کے طور پر اس خواب کو پورا کرنے کے لیے آپ کو لگ جانا ہوتا ہے۔

 

وزیر اعظم نے صحت بخش کھانے پینے کی ضرورت کے بارے میں بھی تفصیل سے بات کی اور اپنے روایتی کھانے پینے کے ذائقہ اور اس کے فائدہ کو اہمیت دینے کی اپیل کی۔

 

 

چیزوں کو یاد رکھنے میں مسئلہ کے بارے میں وزیر اعظم نے ایک نسخہ دیا جس کے مطابق مضامین میں گھل مل جانا، اس سے رابطہ بنانا اور ذہن میں ہی اس کا خاکہ تیار کر لینا کسی بھی چیز کو ہمیشہ کے لیے یاد رکھنے کا سب سے اچھا طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی مضمون کو آپ یاد کر لیتے ہیں اور وہ آپ کے خیالات کا حصہ بن جاتا ہے تب وہ آپ کی یادداشت سے کبھی غائب نہیں ہوتا۔ اسی لیے یاد کرنے کی بجائے اس کا خاکہ ذہن میں اتار لینا زیادہ اچھا ہے۔

 

وزیر اعظم نے طلبہ سے پوری تندہی سے امتحان میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ جناب مودی نے کہا کہ جب آپ امتحان دینے امتحان ہال میں پہنچیں تب آپ کا سارا تناؤ ہال کے باہر ہی چھوٹ جانا چاہیے۔ آپ کا دھیان سبھی سوالوں کے سب سے بہتر اور مثبت طریقے سے جواب لکھنے پر ہونا چاہیے نہ کہ تیاریوں یا دیگر تشویشوں پر آپ توجہ مرکوز کریں۔

وبائی مرض کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا وائرس نے سماجی دوری کے لیے مجبور کیا، لیکن اس نے کنبوں میں جذباتی لگاؤ کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے کہا اگر اس وبائی مرض میں ہم نے بہت کچھ کھویا ہے تو بہت کچھ پایا بھی ہے۔ کسی کو ٹیکن فار گرانٹیڈ یعنی بیکار سمجھنے کی فطرت سے دور ہونے کی اہمیت سمجھ آئی۔ کورونا دور نے ہمیں فیملی کی اہمیت اور بچوں کی زندگی کو شکل و صورت عطا کرنے میں اس کے رول کی اہمیت کو بتایا۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ اگر بڑے لوگ بچوں کے موضوعات اور ان کی نسل کے امور میں دلچسپی دکھائیں گے تو نسل کا فرق اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ ایک دوسرے کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے لیے بچوں اور بڑوں میں کھلے پن کی ضرورت ہے۔ ہمیں بچوں سے کھلے ذہن سے جڑنا چاہیے اور ان کے ساتھ جڑنے پر اپنی عادت میں تبدیلی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آپ کیا پڑھتے ہیں، یہ آپ کی زندگی میں کامیاب یا ناکام ہونے کا واحد پیمانہ نہیں ہو سکتا۔ آپ اپنی زندگی میں کیا کرتے ہیں اس سے آپ کی کامیابی اور ناکامی طے ہوتی ہے۔ اس لیے بچوں کو سماج، والدین اور لوگوں کے دباؤ سے باہر نکلنا چاہیے۔

وزیر اعظم نے طلبہ سے ’ووکل فار لوکل‘ مہم میں اپنا تعاون دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ اس امتحان کو سو فیصد نمبرات سے پاس کریں اور بھارت کو خود کفیل بنائیں۔ وزیر اعظم نے طلبہ سے ’آزادی کا امرت مہوتسو‘ سے بھی جڑنے کی اپیل کی اور کہا کہ طلبہ جدوجہد آزادی سے وابستہ واقعات کی تفصیلات جمع کریں اور ان کے بارے میں لکھیں۔

 

وزیر اعظم نے درج ذیل طلبہ، اساتذہ اور والدین کے سوالات کے جواب دیے: ایم پلّوی، گورنمنٹ ہائی اسکول، پوڈیلی، پرکاشم، آندھرا پردیش؛ ارپن پانڈے، گلوبل انڈیا انٹرنیشنل اسکول، ملیشیا؛ پونیو سنیہ، وویکانند کیندر ودیالیہ، پاپُمپارے، اروناچل پردیش؛ محترمہ ونیتا گرگ (ٹیچر)، ایس آر ڈی اے وی پبلک اسکول، دیانند وہار، دہلی؛ نیل اننت، کے ایم، جناب ابراہم لنگدم، وویکانند کیندر ودیالیہ میٹرک، کنیاکماری، تمل ناڈو؛ آشے کیکات پورے (سرپرست)، بنگلورو، کرناٹک؛ پروین کمار، پٹنہ، بہار؛ پرتبھا گپتا (سرپرست)، لدھیانہ، پنجاب؛ تنے، غیر ملکی طالب علم، سامعہ انڈین ماڈل اسکول، کویت؛ اشرف خان، مسوری، اتراکھنڈ؛ امرتا جین، مرادآباد، اتر پردیش؛ سُنیتا پال (سرپرست)، رائے پور، چھتیس گڑھ؛ دوینکا، پشکر، راجستھان؛ سہان سہگل، اہلکون انٹرنیشنل، میور وہار، دہلی؛ دھاروی بوپٹ، گلوبل مشن انٹرنیشنل اسکول، احمد آباد؛ کرشٹی سیکیا، کیندریہ ودیالیہ، آئی آئی ٹی، گوہاٹی اور شریان رائے، سینٹرل ماڈل اسکول، بارکپور، کولکاتا۔

Click here to read full text speech

Modi Govt's #7YearsOfSeva
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
PM Modi's Global Approval Rating 66%; Beats Biden, Merkel, Trudeau, Macron

Media Coverage

PM Modi's Global Approval Rating 66%; Beats Biden, Merkel, Trudeau, Macron
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM launches ‘Customized Crash Course programme for Covid 19 Frontline workers’
June 18, 2021
Share
 
Comments
One lakh youth will be trained under the initiative in 2-3 months: PM
6 customized courses launched from 111 centres in 26 states
Virus is present and possibility of mutation is there, we need to stay prepared: PM
Corona period has proved importance of skill, re-skill and up-skill: PM
The pandemic has tested the strength of every country, institution, society, family and person of the world: PM
People below 45 years of age will get the same treatment for vaccination as for people above 45 years of age from June 21st: PM
PM Lauds ASHA workers, ANM, Anganwadi and health workers deployed in the dispensaries in the villages

The Prime Minister, Shri Narendra Modi launched ‘Customized Crash Course programme for Covid 19 Frontline workers’ today via video conferencing. The training programme would be conducted in 111 training centres spread over 26 states. About one lakh frontline workers will be trained in this initiative. The Union Minister of Skill Development and Entrepreneurship Dr Mahendra Nath Pandey, and many other Union Ministers, Ministers from States, experts and other stakeholders were also present on the occasion.

Addressing the event, the Prime Minister said that this launch is an important next step in the fight against Corona. The Prime Minister cautioned that the virus is present and possibility of mutation is also there. The second wave of the pandemic illustrated the kind of challenges that the virus may present to us. The Country needs to stay prepared to meet the challenges and training more than one lakh frontline warriors is a step in that direction, said the Prime Minister.

The Prime Minister reminded us that the pandemic has tested the strength of every country, institution, society, family and person of the world. At the same time, this alerted us to expand our capabilities as science, government, society, institution or individuals. India took up this challenge and status of PPE kits, testing and other medical infrastructure related to covid care and treatment bears testimony to the efforts. Shri Modi pointed out that far-flung hospitals are being provided with ventilators and oxygen concentrators. More than 1500 oxygen plants are being established at war footing. Amidst all these efforts, skilled manpower is critical. For this and to support the current force of corona warriors one lakh youth is being trained. This training should be over in two-three months, said the Prime Minister.

The Prime Minister informed that the top experts of the country have designed these six courses, launched today, as per demands of the states and union territories . The training will be imparted to Covid warriors in six customised job roles namely Home Care Support, Basic Care Support, Advanced Care Support, Emergency Care Support, Sample Collection Support, and Medical Equipment Support. This will include fresh skilling as well as upskilling of those who have some training in this type of work. This campaign will give fresh energy to the health sector frontline force and will also provide job opportunities to our youth.

The Prime Minister said that the Corona period has proved how important the mantra of skill, re-skill and up-skill. The Prime Minister said the Skill India Mission was started separately for the first time in the country, a Skill Development Ministry was created and the Prime Minister's Skill Development Centers were opened across the country. Today Skill India Mission is helping millions of this country’s youth every year in providing training according to the needs of the day. Since last year the Ministry of Skill Development has trained lakhs of health workers across the country, even amidst the pandemic.

The Prime Minister said given the size of our population, it is necessary to keep increasing the number of doctors, nurses and paramedics in the health sector. Work has been done with a focused approach over the last 7 years to start new AIIMS, new medical colleges and new nursing colleges. Similarly, reforms are being encouraged in medical education and related institutions. The seriousness and the pace at which the work on preparing the health professionals is going on now is unprecedented.

The Prime Minister said that health professionals like ASHA workers, ANM, Anganwadi and health workers deployed in the dispensaries in the villages are one of the strong pillars of our health sector and are often left out of the discussion. They are playing an important role in preventing infection to support the world's largest vaccination campaign. The Prime Minister lauded these health workers for their work during all the adversities for the safety of each and every countryman. He said their role is huge in preventing the spread of infection in villages in remote areas and in hilly and tribal areas.

The Prime Minister said many guidelines have been issued related to the campaign which is to start from 21st June. People below 45 years of age will get the same treatment for vaccination as for people above 45 years of age from June 21st. The Union Government is committed to give free vaccines to every citizen while following corona protocol.

The Prime Minister wished the trainees and said he believed that their new skills will be used in saving the lives of the countrymen.