Share
 
Comments

نئی  دہلی۔31؍ مئی۔وزیراعظم جناب نریندر مودی کے بھارت کے تحفظ اور سلامتی  سے متعلق  نظریے اور  ان افراد کی خیروعافیت جو ملک کا تحفظ کرتے ہیں، کے سلسلے میں ان کا پہلا فیصلہ ،جو انہوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد لیا ہے ، وہ یہ ہے کہ  قومی دفاعی فنڈ کے تحت  وزیراعظم کی اسکالر شپ اسکیم میں اہم تبدیلیوں کو منظوری دی گئی ہے۔

وزیراعظم نے درج ذیل تبدیلیوں کو منظوری دی ہے:

اسکالر شپ کی شرحوں میں 2000 روپئے ماہانہ سے بڑھا کر انہیں لڑکوں کیلئے 2500 ماہانہ اور لڑکیوں کے لئے 2250 روپئے ماہانہ سے بڑھا کر 3000 روپئے ماہانہ  کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

اسکالر شپ اسکیم کے دائرے میں توسیع کی گئی ہے اور اس میں ایسے ریاستی پولیس افسران کو بھی شامل کیا گیا ہے جو دہشت گردانہ / نکسلی حملوں کے دوران شہید ہوگئے ہوں ، ریاستی پولیس افسران کے  زیر کفالت طلباء کے لئے اسکالر شپ کا نیا کوٹہ ایک سال میں 500 کا ہوگا۔ وزارت داخلہ اس سلسلے میں کلیدی وزارت کے طور پر کام کرے گی۔

پس منظر

قومی دفاعی فنڈ (این ڈی ایف) کا قیام 1962 میں عمل میں آیا تھا تاکہ نقد اور جنس کی شکل میں  قومی دفاعی کوششوں کے لئے تعاون کے طور پر  حاصل ہونے والے رضاکارانہ عطیات کو سنبھالا جاسکے اور ان کے استعمال کے سلسلے میں بھی فیصلہ لیا جاسکے۔

فی الحال یہ فنڈ مسلح دستوں ، نیم فوجی دستوں اور ریلوے پروٹیکشن فورس کے اراکین اور ان کے زیر کفالت افراد کی فلاح وبہبود کیلئے  استعمال کیا جارہا ہے۔یہ فنڈ ایک ایگزیکٹیو کمیٹی  کی نگرانی میں کام کرتا ہے اور وزیراعظم اس کے صدر نشین ہوتے ہیں اور وزیر دفاع، وزیر خزانہ اور وزیر داخلہ  اس کے اراکین کے طور پر  کام کرتے ہیں۔

قومی دفاعی فنڈ کے تحت  وزیراعظم کی اسکالر شپ اسکیم، ایک بڑی اسکیم ہے ،جس کا نفاذ، بیواؤں اور  متوفی  / سابق فوجیوں  اور مسلح دستوں کے عملے  اور نیم فوجی دستوں کے عملے اور ریلوے پروٹیکشن فورس  کے زیر کفالت ان پر منحصر بچوں کو تکنیکی اور پوسٹ گریجویٹ تعلیم فراہم کرنے  کے لئے  عمل میں لایا جاتا ہے۔ مذکورہ اسکالر شپ تعلیم اور تکنیکی  اداروں (طبی ، ڈینٹل ، مویشیوں  کے معالجے ، انجینئرنگ ، ایم بی اے ، ایم سی اے اور  دیگر مساوی تکنیکی پیشہ ورانہ کورسیز اور معقول اے آئی سی ٹی ای / یو جی سی منظوریوں والے نصاب ) کے لئے فراہم کی جاتی ہے۔

پی ایم ایس ایس کے تحت ہر سال وزارت دفاع  کی نگرانی میں مسلح دستوں کے 5500 وارڈس کیلئے نئی اسکالر شپ ،  وزارت داخلہ کی نگرانی میں نیم فوجی دستوں کے 2000 وارڈس کے لئے  اور وزارت ریلوے کی نگرانی میں کام کرنے والے دستوں کے 150وارڈس کیلئے اسکالر شپ فراہم کی جاتی ہیں۔

قومی دفاعی فنڈ آن لائن پیمانے پر درج ذیل ویب سائٹ ndf.gov.in پر رضاکارانہ تعاون قبول کرتا ہے۔

جو ہمارے معاشرہ کو زیادہ محفوظ بناتے ہیں ان کی خبر گیری :

وزیراعظم نے ہمارے پولیس دستے کے زبردست تعاون کے بارے میں کافی تفصیل سے  اظہار خیال کیا ہے۔ خواہ وہ سخت گرمیاں ہوں، یا کپکپانے والی سردیاں یا موسلا دھار بارش ، ہمارا پولیس عملہ ازحد جانفشانی  سے اپنے فرائض منصبی انجام دیتا رہتا ہے۔ اہم تیوہاروں کے دوران بھی ہمارا پولیس عملہ ڈیوٹی پر تعینات رہتا ہے جبکہ بقیہ ملک جشن مناتا ہے۔

بطور ایک ملک، ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم ،نہ صرف یہ کہ ان کے تئیں اظہار تشکر کریں بلکہ ایسے کام کریں جن کے ذریعے  پولیس عملے  اور ان کے کنبوں کی فلاح وبہبود کے عمل میں اضافہ ہو۔ اسی جذبے سے سرشار ہوکر وزیراعظم نے یہ فیصلہ لیا ہے۔  اسکالر شپ دستیاب ہونے سے پولیس محکمے سے وابستہ کنبوں کے بچوں کو  اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور مختلف شعبوں میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے ذریعے متعدد ہونہار نوجوان اذہان کو بااختیار بنایا جاسکے گا۔

یہاں اس بات کا ذکر کیا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی پہلی مدت کار کے دوران ایک قومی پولیس میموریل کی تعمیر عمل میں آئی تھی اور اسے قوم کے نام وقف کیا گیا تھا۔ یہ  میموریل ہمارے پولیس عملے کی جرأت اور قربانیوں کا بین ثبوت ہے اور کروڑوں بھارتیوں کو  ترغیب دیتا رہے گا۔

 

 

عطیات
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
‘Modi Should Retain Power, Or Things Would Nosedive’: L&T Chairman Describes 2019 Election As Modi Vs All

Media Coverage

‘Modi Should Retain Power, Or Things Would Nosedive’: L&T Chairman Describes 2019 Election As Modi Vs All
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Share
 
Comments
An active Opposition is important in a Parliamentary democracy: PM Modi
I am happy that this new house has a high number of women MPs: PM Modi
When we come to Parliament, we should forget Paksh and Vipaksh. We should think about issues with a ‘Nishpaksh spirit’ and work in the larger interest of the nation: PM

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, today, welcomed all the new MPs ahead of the first session of 17th Lok Sabha.

In the media statement before the start of session, Prime Minister said ,“Today marks the start of the first session after the 2019 Lok Sabha polls. I welcome all new MPs. With them comes new hopes, new aspirations and new determination to serve”.

The Prime Minister expressed happiness in the increased number of women Parliamentarians in the 17th Lok Sabha. He said that the Parliament is able to fulfil the aspirations of people when it functions smoothly.

The Prime Minister also underlined the importance of opposition in parliamentary democracy. He expressed hope that the opposition will play an active role and participate in House proceedings. The opposition need not worry about their numbers in the Lok Sabha, PM said.

“When we come to Parliament, we should forget Paksh and Vipaksh. We should think about issues with a ‘Nishpaksh spirit’ and work in the larger interest of the nation”, PM added.