Share
 
Comments
Projects will significantly boost infrastructure development, enhance connectivity and give an impetus to ease of living in the region
PM inaugurates Deoghar Airport; to provide direct air connectivity to Baba Baidyanath Dham
PM dedicates in-patient Department and Operation Theatre services at AIIMS, Deoghar
“We are working on the principle of development of the nation by the development of the states”
“When a holistic approach guides projects, new avenues of income come for various segments of the society”
“We are taking many historic decisions for converting deprivation into opportunities”
“When steps are taken to improve the ease of life for common citizens, national assets are created and new opportunities of national development emerge”

جھارکھنڈ کے گورنر جناب رمیش بیس جی، وزیر اعلیٰ جناب ہیمنت سورین جی، مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی جناب جیوترادتیہ سندھیا جی، جھارکھنڈ حکومت کے وزراء، رکن پارلیمنٹ نشی کانت جی، دیگر اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی، خواتین و حضرات،

بابا دھام آنے کے بعد سب کا دماغ خوش ہوجاتا ہے۔ آج ہم سب کو دیوگھر سے جھارکھنڈ کی ترقی کو تیز کرنے کی خوش بختی حاصل ہوئی ہے۔ بابا ویدناتھ کے آشیرواد سے آج 16 ہزار کروڑ سے زیادہ کے پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ یہ جھارکھنڈ کے جدید کنکٹیوٹی، توانائی، صحت، آستھا اور سیاحت کو کافی حوصلہ دینے والے ہیں۔ دیوگھر ایئرپورٹ اور دیوگھر ایمس کا خواب ہم سب نے طویل عرصے سے دیکھا ہے۔ یہ خواب بھی اب پورا ہونے والا ہے۔

ساتھیو،

ان پروجیکٹوں سے نہ صرف جھارکھنڈ کے لاکھوں لوگوں کی زندگی آسان ہوگی بلکہ کاروبار، سیاحت، روزگار اور خود کے روزگار کے کئی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ میں ان تمام ترقیاتی منصوبوں کے لیے جھارکھنڈ کے تمام لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں، بہت سی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ یہ پروجیکٹ جھارکھنڈ میں شروع کیے جا رہے ہیں، لیکن جھارکھنڈ کے علاوہ بہار اور مغربی بنگال کے کئی علاقوں کو بھی ان سے براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ یعنی یہ پروجیکٹ مشرقی بھارت کی ترقی کو بھی تقویت دیں گے۔

ساتھیو،

ریاستوں کی ترقی سے قوم کی ترقی، ملک اسی سوچ کے ساتھ گزشتہ 8 سال سے کام کر رہا ہے۔ پچھلے 8 سالوں میں جھارکھنڈ کو ہائی ویز، ریلوے، ایئرویز، آبی گزرگاہوں کے ذریعے جوڑنے کی کوششوں میں بھی یہی جذبہ نمایاں رہا ہے۔ جن 13 ہائی وے پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا گیا ہے، ان سے جھارکھنڈ کا بہار اور مغربی بنگال کے ساتھ ساتھ ملک کے باقی حصوں کے ساتھ رابطہ مضبوط ہوگا۔ مرزا چوکی اور فرکا کے درمیان بننے والی چار لین والی شاہراہ پورے سنتھال پرگنہ کو جدید سہولیات فراہم کرے گی۔ رانچی-جمشید پور ہائی وے اب راجدھانی اور انڈسٹریل سٹی کے درمیان سفر کے وقت اور ٹرانسپورٹ کی لاگت دونوں میں نمایاں کمی کرے گا۔ پالما گملا سیکشن سے چھتیس گڑھ تک رسائی بہتر ہو گی، پارا دیپ پورٹ اور ہلدیہ سے پٹرولیم مصنوعات جھارکھنڈ تک لانا بھی آسان اور سستا ہوجائے گا۔ آج ریل نیٹ ورک میں جو توسیع ہوئی ہے اس سے پورے خطے میں نئی ​​ٹرینوں کے لئے راہیں کھلی ہیں، ریل نقل و حمل کے مزید تیز ہونے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ ان تمام سہولیات کا جھارکھنڈ کی صنعتی ترقی پر مثبت اثر پڑے گا۔

ساتھیو،

مجھے چار سال پہلے دیوگھر ہوائی اڈے کا سنگ بنیاد رکھنے کا موقع ملا تھا۔ کورونا کی مشکلات کے باوجود اس پر تیزی سے کام ہوا اور آج جھارکھنڈ کو دوسرا ہوائی اڈہ مل رہا ہے۔ دیوگھر ہوائی اڈہ ہر سال تقریباً 5 لاکھ مسافروں کو سنبھال سکے گا۔ اس سے بہت سارے لوگوں کو بابا کے درشن کرنا آسان ہوجائے گا۔

ساتھیو،

ابھی جیوتی رادتیہ جی کہہ رہے تھے کہ ہوائی چپل پہننے والا بھی ہوائی سفر کا لطف اٹھا سکتا ہے، اسی سوچ کے ساتھ ہماری حکومت نے اڑان (یو ڈی اے این) اسکیم شروع کی۔ حکومت کی کاوشوں کے ثمرات آج ملک بھر میں نظر آرہے ہیں۔ اڑان اسکیم کے تحت، پچھلے 5-6 سالوں میں، اس کے ذریعے 70 سے زیادہ نئے مقامات کو ہوائی اڈوں، ہیلی پورٹ اور واٹر ایروڈوم سے جوڑا گیا ہے۔ آج عام شہریوں کو 400 سے زائد نئے روٹس پر ہوائی سفر کی سہولت مل رہی ہے۔ اڑان اسکیم کے تحت اب تک ایک کروڑ مسافروں نے بہت کم قیمت پر ہوائی سفر کیا ہے۔ ان میں سے لاکھوں ایسے ہیں جنھوں نے پہلی بار ایئرپورٹ دیکھا، پہلی بار جہاز میں سوار ہوئے۔ میرے غریب اور متوسط ​​طبقے کے بھائی بہن، جو کبھی کہیں آنے جانے کے لیے بسوں اور ریلوے پر انحصار کرتے تھے، اب انھوں نے کرسی کی پٹی باندھنا سیکھ لیا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آج دیوگھر سے کولکاتہ کی فلائٹ شروع ہو گئی ہے۔ رانچی، پٹنہ اور دہلی کے لیے بھی جلد از جلد پروازیں شروع کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ دیوگھر کے بعد بوکارو اور دمکا میں بھی ہوائی اڈوں کی تعمیر پر کام جاری ہے۔ یعنی آنے والے وقتوں میں جھارکھنڈ میں کنکٹیوٹی مسلسل اور بہتر ہونے والی ہے۔

ساتھیو،

کنکٹیوٹی کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت ملک کے عقیدے/ آستھا اور روحانیت سے متعلق اہم مقامات پر سہولیات پیدا کرنے پر بھی زور دے رہی ہے۔ بابا بیدناتھ دھام میں بھی پرساد اسکیم کے تحت جدید سہولیات کو بڑھایا گیا ہے۔ اس طرح جب ہمہ گیر سوچ کے ساتھ کام کیا جاتا ہے تو سماج کے ہر طبقے، ہر شعبے کو سیاحت کی صورت میں آمدنی کے نئے ذرائع ملتے ہیں۔ قبائلی علاقے میں ایسی جدید سہولیات اس علاقے کی تقدیر بدلنے والی ہیں۔

ساتھیو،

پچھلے 8 سالوں میں جھارکھنڈ کو سب سے بڑا فائدہ گیس پر مبنی معیشت کی طرف بڑھنے والی ملک کی کوششوں سے بھی ہوا ہے۔ مشرقی بھارت میں جس طرح کا بنیادی ڈھانچہ موجود تھا اس کی وجہ سے یہاں گیس پر مبنی زندگی اور صنعت کو ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ لیکن پردھان منتری اورجا گنگا یوجنا پرانی تصویر بدل رہی ہے۔ ہم کمی کو مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے کئی نئے تاریخی فیصلے کر رہے ہیں۔ بوکارو-انگول سیکشن کا آج افتتاح جھارکھنڈ اور اڈیشہ کے 11 اضلاع میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو وسعت دے گا۔ اس سے نہ صرف گھروں میں پائپ سے سستی گیس ملے گی بلکہ سی این جی پر مبنی ٹرانسپورٹ، بجلی، کھاد، اسٹیل، فوڈ پروسیسنگ، کولڈ اسٹوریج وغیرہ جیسی بہت سی صنعتوں کو بھی تقویت دے گی۔

ساتھیو،

ہم سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس کے منتر پر عمل کر رہے ہیں۔ انفرا اسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرکے ترقی کی نئی راہیں، روزگار، خود کے روزگار کی تلاش کی جارہی ہے۔ ہم نے ترقی کی خواہش پر زور دیا ہے، توقعاتی اضلاع پر توجہ مرکوز کی ہے۔ آج جھارکھنڈ کے کئی اضلاع کو اس کا فائدہ مل رہا ہے۔ ہماری حکومت مشکل سمجھے جانے والے علاقوں، جنگلوں، پہاڑوں سے گھرے قبائلی علاقوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ آزادی کی اتنی دہائیوں کے بعد جن 18 ہزار دیہاتوں میں بجلی پہنچی ان میں سے زیادہ تر ناقابل رسائی علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ جو علاقے اچھی سڑکوں سے محروم تھے، ان میں دیہی، قبائلی، ناقابل رسائی علاقوں کا سب سے زیادہ حصہ تھا۔ گزشتہ 8 سالوں میں، ناقابل رسائی علاقوں میں گیس کنکشن، پانی کے کنکشن کی فراہمی کے لیے مشن موڈ پر کام شروع کیا گیا ہے۔ ہم سب نے دیکھا ہے کہ صحت کی بہتر سہولیات صرف بڑے شہروں تک محدود تھیں۔ اب دیکھیں کہ ایمس کی جدید سہولیات اب جھارکھنڈ کے ساتھ بہار اور مغربی بنگال کے بڑے قبائلی علاقوں میں بھی دستیاب ہیں۔ یہ تمام منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب ہم عوام کی سہولت کے لیے اقدامات کرتے ہیں تو قوم کی دولت بھی بنتی ہے اور ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ہے حقیقی ترقی۔ ہمیں مل کر اس طرح کی ترقی کی رفتار کو تیز کرنا ہے۔

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
ASI sites lit up as India assumes G20 presidency

Media Coverage

ASI sites lit up as India assumes G20 presidency
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi addresses a public meeting in Kankrej, Patan and Sojitra, Gujarat
December 02, 2022
Share
 
Comments
Whatever the work, Congress sees its own interest first, and the interest of the country later: PM Modi in Kankrej
Facilities are being developed in the border villages so that instead of migration, more employment & self-employment opportunities are created in the villages: PM Modi
The country is confident that no matter how big the challenges are, only the BJP will find solutions: PM Modi in Patan
BJP government has taken several unprecedented decisions ranging from Beti Bachao, Beti Padhao to recruiting daughters into the army: PM Modi on Women Empowerment
Congress continues to ignore the contributions of the great Sardar Patel: PM Modi in Sojitra
20 years ago there were less than 1000 colleges in Gujarat, today there are more than 4000 colleges in Gujarat: PM Modi in Sojitra

PM Modi continued his campaigning today for the upcoming elections in Gujarat. In his first address at Kankrej, PM Modi talked about the economic and religious importance of cows in Indian society. In his second address at Patan, PM Modi spoke on the assured win for the BJP in Gujarat. PM Modi in his third address for the day focused on the spirit of Ek Bharat Shreshtha Bharat.

Highlights from the Kankrej Public Meeting

Hitting out at the opposition, PM Modi slammed the Congress for stalling development in Gujarat for decades. PM Modi said, “There has been a firm identity of the Congress – to stall, to hang, to wander. Whatever the work, Congress sees its own interest first, and the interest of the country later”. PM Modi added that Congress failed to understand the problems faced by the farmers and said that many irrigation projects were stalled by them which only got completed after the BJP took power in the centre.

PM Modi iterated on a few examples of corruption undertaken by the Congress and said, “Congress used to do scams worth thousands and lakhs of crores. Congress had made corruption a courtesy.”

PM Modi finally addressed the people on development undertaken by the BJP in 20 years, especially in the border areas, PM Modi said, “Facilities are being developed in the border villages so that instead of migration, more employment & self-employment opportunities are created in the villages”.

Highlights from the Patan Public Meeting

PM Modi reminisced about his memories in Patan and told people about his life when he used to reside in Kagda ki Khadki. PM Modi also spoke on the BJP becoming a symbol of trust in the country, PM Modi said, “The country is confident that no matter how big the challenges are, only the BJP will find solutions”. PM Modi iterated on the efforts of the BJP government in providing vaccines, fiscal support and subsidies to the people during the COVID period.

Talking about the steps taken by the BJP Government to empower the role of women in society, PM Modi said, “The BJP government has taken several unprecedented decisions ranging from Beti Bachao, Beti Padhao to recruiting daughters in the army”. PM Modi further highlighted that the Bajra farmers of the Patan region will benefit massively through the International Year of Millets.

PM Modi finally addressed the people on the development undertaken in Gujarat in the past 20 years. PM Modi talked about the early adoption of solar energy by farmers in Gujarat. Adding to the development works, PM Modi said that Gujarat’s untapped potential in tourism is being holistically developed and will generate employment for the youth.

Highlights from the Sojitra Public Meeting

PM Modi called out the fallacies of the Congress for dividing Gujarat based on caste and throwing the state into turmoil. The PM further added that the Congress continues to ignore the contributions of the great Sardar Patel till this date and targeted them for not paying their respects at the Statue of Unity.

In Sojitra, PM Modi iterated on the mammoth size of the schemes launched by the BJP government during the COVID to safeguard the people from every adverse aspect possible. Talking about the effectiveness of the double-engine government in Gujarat, he gave a few examples of schemes that are uplifting the living standards of the people. PM Modi also accredited the dairy cooperative model of Anand to empower villages and the poor of the country.

PM Modi finally addressed the people on the strides Gujarat has taken in the education sector. PM Modi said, “20 years ago there were less than 1000 colleges in Gujarat, today there are more than 4000 colleges in Gujarat”. He further added, “Earlier the youth of Gujarat used to go to other states for higher education, but today youth from other states are coming here and studying.”