مرکزی کابینہ چاند پر جانے والے چندریان-3 مشن کی تاریخی کامیابی کا جشن منانے میں قوم کے ساتھ شامل  ہے۔ کابینہ ہمارے سائنسدانوں کی یادگار کامیابی کو بھی سراہتی ہے۔ یہ صرف ہماری خلائی ایجنسی کی فتح نہیں ہے بلکہ عالمی سطح پر ہندوستان کی ترقی اور عروج کی روشن علامت ہے۔ کابینہ اس بات کا خیرمقدم کرتی ہے کہ 23 اگست کو ‘‘قومی خلائی دن’’ کے طور پر منایا جائے گا۔

کابینہ نے انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کو اس کی کوششوں کے لیے مبارکباد دیتی ہے ۔ ہمارے سائنس دانوں کا شکریہ کہ ہندوستان چاند کے قطب جنوبی کے قریب اترنے والا پہلا ملک ہے۔ چاند پر اترنا، پیشین گوئی کی درستگی کے ساتھ، اپنے آپ میں ایک اہم کامیابی ہے۔ چاند کے قطب جنوبی کے قریب لینڈنگ، مشکل حالات پر قابو پاتے ہوئے، ہمارے سائنسدانوں کے جذبے کا ثبوت ہے، جو صدیوں سے انسانی علم کی حدود کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چاند سے ‘پرگیان’ روور کے ذریعہ بھیجی جانے والی معلومات کا خزانہ علم کو آگے بڑھائے گا اور چاند اور اس سے ماورا کے اسرار کے بارے میں ڈگر سے ہٹ کر دریافتوں اور بصیرتوں کی راہ ہموار کرے گا۔

کابینہ کا پختہ یقین ہے کہ تیز رفتار تکنیکی ترقی اور اختراع کی جستجو سے  متصف دور میں ہندوستان کے سائنس دان علم، لگن اور مہارت کی مینارائے نور ہیں ۔ تحقیقات اور تلاش کے لیے پرجوش عزم کے ساتھ مل کر ان کی تجزیاتی صلاحیت نے قوم کو مسلسل عالمی سائنسی کامیابیوں میں سب سے آگے بڑھایا ہے۔ عمدگی کے ان کے انتھک جستجو، غیر متزلزل تجسس اور چیلنجوں پر قابو پانے کے ناقابل تسخیر جذبے نے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر ان کی ساکھ کو مستحکم کیا ہے بلکہ ان گنت دوسروں کو بھی بڑے خواب دیکھنے اور عالمی علم کی وسیع میدان میں اپنا تعاون پیش کرنے کا حوصلہ بخؒشا ہے۔

کابینہ کو یہ دیکھ کر فخر ہے کہ چندریان - 3 کی کامیابی میں خواتین سائنسدانوں نے  اور بالعموم ہندوستان کے خلائی پروگرام میں اپنا تعاون پیش کیا ہے۔ یہ آنے والے سالوں میں کئی حوصلہ  مند خواتین سائنسدانوں کو تحریک دے گا۔

کابینہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کو بھی ان کی بصیرت اور مثالی قیادت اور انسانی بہبود اور سائنسی ترقی کے لیے ہندوستان کے خلائی پروگرام کے لیے ان کی غیر متزلزل وابستگی کے لیے مبارکباد پیش کرتی ہے۔ ہمارے سائنسدانوں کی صلاحیتوں پر ان کا یقین اور ان کی مسلسل حوصلہ افزائی نے ہمیشہ ان کے جذبے کو تقویت بخشی ہے۔

حکومت کے سربراہ کے طور پر اپنے 22 طویل سالوں میں، پہلے ریاست گجرات میں اور بعد میں وزیر اعظم  کے طور پر جناب نریندر مودی کا تمام چندریان مشنوں کے ساتھ جذباتی لگاؤ رہا ہے۔ وہ وزیراعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے جب اس طرح کے مشن کا اعلان سابق وزیر اعظم جناب اٹل بہاری واجپائی جی نے کیا تھا۔ 2008 میں جب چندریان -1 کو کامیابی سے لانچ کیا گیا تو وہ اسرو گئے اور ذاتی طور پر سائنسدانوں کو مبارکباد دی۔ 2019 میں چندریان -2 کے معاملے میں، جب ہندوستان  خلائی اصطلاح میں چاند کی سطح سے صرف ایک بال کے فاصلے پر تھا ، تو وزیر اعظم کی دانشمندانہ قیادت اور انسانی احساس نے سائنس دانوں کے حوصلے بلند کیے، ان کے عزم کو تقویت بخشی اور عظیم تر مقصد کے ساتھ مشن کو آگے جاری رکھنے کی ترغیب دی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ہمیشہ سائنس اور اختراع کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ پچھلے 9 سالوں میں اصلاحات کا ایک سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس نے تحقیق اور اختراع کو زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ خلائی شعبے کے لیے، وزیر اعظم مودی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ نجی شعبے اور ہمارے اسٹارٹ اپس کو ہندوستان میں زیادہ مواقع ملیں۔ شعبہ خلائی کے تحت ایک خودمختار ادارے کے طور پر  ان -اسپیس کا قیام، صنعت، اکیڈمی اور اسٹارٹ اپس کا ایکو سسٹم بنانے اور عالمی خلائی معیشت میں بڑا حصہ حاصل کرنے کے لیے جون 2020 میں شروع کیا گیا تھا۔ یہ خلا کی دنیا میں ہندوستان کی ترقیات کو بڑھانے کے لیے ایک ذریعہ بن گیا ہے۔  ہیکاتھون پر زور نے نوجوان ہندوستانیوں کے لیے بہت سے مواقع کے دروازے کھولے ہیں۔

کابینہ چاند پر دو پوائنٹس کو ترنگا پوائنٹ (چندریان-2 کے نقش قدم) اور شیو شکتی پوائنٹ (چندریان-3 کے لینڈنگ مقام) کے نام سے منسوب کرنے کا خیرمقدم کرتی ہے۔ یہ نام جدیدیت کی روح کو اپناتے ہوئے ہمارے ماضی کے جوہر کا خوبصورتی سے احاطہ کرتے ہیں۔ یہ نام صرف عنوانات سے زیادہ ہیں۔ وہ ایک ایسا دھاگہ قائم کرتے ہیں جو بہتر طور پر ہمارے ہزاروں سال پرانے ورثے کو ہمارے سائنسی عزائم سے جوڑتا ہے۔

چندریان -3 کی کامیابی وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ‘‘جے وگیان، جے انوسندھان’’ کے واضح اعلان کی سب سے بڑی شہادتوں میں سے ایک ہے۔ خلائی شعبہ اب ہندوستانی گھریلو اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کے لیے مزید دروازے کھولے گا اور لاکھوں ملازمتیں پیدا کرے گا اور نئی ایجادات کی گنجائش فراہم کرے گا۔ یہ ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے امکانات کی ایک دنیا کھولےگا۔

واضح طور پر یہ کہتے ہوئے کہ چندریان - 3 مشن کی کامیابی سے حاصل ہونے والے علم کا استعمال انسانیت کے فائدے اور ترقی کے لیے کیا جائے گا، خاص طور پر عالمی جنوب کے ممالک کے لیے، وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ایک بار پھر واسودھیو کٹمبکم میں ہمارے لازوال یقین کے روح کو ظاہر کیا ہے۔ ہندوستان میں ترقی کا مشعل  ہمیشہ دوسری جگہوں کے لوگوں کی زندگیوں کو روشن کرنے کی کوشش کرے گا۔

کابینہ کا خیال ہے کہ خلائی شعبے میں ہندوستان کی کامیابیاں محض یادگار سائنسی کامیابیوں سے بڑھ کر ہیں۔ وہ ترقی، خود انحصاری اور عالمی قیادت کے ایک وژن کی نمائندگی کرتی ہیں۔ یہ ابھرتے ہوئے نئے ہندوستان کی علامت بھی ہے۔ ہم اپنے  ہم وطن سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ صنعتوں میں سیٹلائٹ کمیونیکیشن اور میٹرولوجی سے لے کر زراعت اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ تک مزید مواقع پیدا کرنے کے لیے ان پیش رفتوں کا فائدہ اٹھائیں۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنا چاہیے کہ ہماری اختراعات کا براہ راست اطلاقات زمینی سطح پر ، ہمارے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے ، ہماری ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے ، اور مختلف شعبوں کو اہم ڈیٹا فراہم کرنے پر ہو۔

سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے اس دور میں کابینہ تعلیم کی دنیا سے وابستہ افراد سے خصوصی طور پر اپیل کرتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو سائنس کی طرف راغب کریں۔ چندریان -3 کی کامیابی نے ان شعبوں میں دلچسپی کی چنگاری کو بھڑکانے اور ہمارے ملک میں مواقع سے  فائدہ اٹھانے کا ایک یادگار موقع فراہم کیا ہے۔

یہ کابینہ ہر اس فرد کی ستائش اور تعریف کرتی ہے جس نے اس نمایاں مشن میں تعاون کیا ہے، اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ چندریان-3 اس کا ایک روشن ثبوت ہے جو ہندوستان جذبہ، استقامت اور اٹل لگن کے ساتھ حاصل کر سکتا ہے۔ کابینہ نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ ملک کے لوگ، جن کے دل خوشی اور فخر سے بھرے ہوئے ہیں، 2047 تک بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے اپنے آپ کو دوبارہ وقف کر دیں گے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
UPI — an eventful journey

Media Coverage

UPI — an eventful journey
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 53rd PRAGATI Meeting
August 25, 2026
PM reviews six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of more than ₹30,000 crore
PM says Infrastructure projects should be viewed as an integrated whole, rather than as individual sections or packages
PM calls for continuous reforms across all stages of project implementation and a proactive work culture across Ministries and States
PM says Speed must go hand-in-hand with quality
While reviewing AgriStack, PM emphasises the need to leverage the latest digital technologies including AI to derive greater value from agricultural data
On cyber fraud and ‘digital arrest’, PM stresses training, public awareness, cyber-safety education and coordinated action

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 53rd meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform for Pro-Active Governance and Timely Implementation, at Seva Teerth earlier today.

During the meeting, Prime Minister reviewed six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors, spanning nine States with a cumulative cost of more than ₹30,000 crore. The projects, significant for strengthening connectivity, supporting industrial and economic activity and improving public services, were reviewed with particular emphasis on adherence to timelines, inter-agency coordination, resolution of pending issues and expeditious completion.

Prime Minister emphasised that delays in infrastructure projects have consequences beyond cost escalation, as they also postpone the benefits intended for citizens, businesses and the economy. He said that infrastructure projects should be viewed and monitored as an integrated whole, rather than as isolated sections, stretches or packages. He noted that progress in individual packages should ultimately translate into timely completion and operationalisation of the entire project. Ministries and States were therefore asked to adopt an end-to-end approach, and address critical gaps that could delay the overall commissioning and delivery of benefits. He called for fostering a proactive work culture across Ministries and State Governments, with greater ownership at every level of project implementation.

Prime Minister stressed the need to explore common utility corridors for infrastructure services, wherever feasible, particularly while planning major transport and infrastructure projects. He called upon Ministries and States to examine such integrated approaches at the planning stage itself, keeping in view their technical and economic feasibility.

Prime Minister said that speed of execution must be accompanied by uncompromising quality. He called upon Ministries, States and implementing agencies to adopt modern technologies and strengthen quality assurance and supervision at every stage.

While reviewing AgriStack under the Digital Agriculture Mission, Prime Minister emphasised the need to leverage the latest digital technologies, including Artificial Intelligence, to derive greater value from agricultural data. He stressed that the data ecosystem should be effectively utilised across the agricultural value chain, from input planning to processing, enabling more informed interventions, better targeting and data-driven decision-making. He appreciated the efforts of the States and the Central Government in building the AgriStack ecosystem and called for further strengthening its use for delivering better outcomes for farmers.

During the review of cyber fraud cases, including incidents of digital arrest, Prime Minister said that prevention must be strengthened through a sustained focus on training, awareness and education. He stressed the need for continuous and targeted public-awareness campaigns, particularly for senior citizens, youth and other vulnerable sections, to familiarise them with common fraud techniques, warning signs and safe digital practices. He also called for regular capacity-building of personnel involved so that emerging modes of cyber fraud are identified and acted upon swiftly.