وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے زیر صدارت مرکزی کابینہ نے دہلی میٹرو کے مرحلہ- IV پروجیکٹ کے تحت 26.43 کلو میٹر کی طوالت کی حامل رٹھالا –نریلا-ناتھوپور (کنڈلی)  راہداری کو منظوری دے دی ہے ، جس سے قومی راجدھانی اور ہمسایہ ریاست ہریانہ کے درمیان کنکٹیویٹی میں مزید اضافہ ہوگا۔ توقع کی جاتی ہے کہ اس راہداری کا تعمیراتی کام اپنے آغاز کی تاریخ سے لے چار برسوں میں مکمل ہو جائے گا۔

پروجیکٹ کی تکمیل کی لاگت 6,230 کروڑ روپے ہے اور اسے دہلی میٹرو ریل کارپوریشن لمیٹڈ (ڈی ایم آر سی) حکومت ہند (جی او آئی) کی موجودہ 50:50 اسپیشل پرپز وہیکل (ایس پی وی) اور قومی راجدھانی خطے دہلی کی حکومت (جی این سی ٹی ڈی)کی جانب سے چار برسوں میں نافذ کیا جانا ہے۔

یہ میٹرو لائن موجودہ  شہید استھل (نیا بس اڈہ)-رٹھالا (ریڈ لائن) راہداری  کی توسیع ہوگی  اور یہ راہداری نریلا، بوانا، روہنی کے مختلف حصوں، وغیرہ جیسے قومی راجدھانی کے مغربی علاقوں میں کنکٹیویٹی میں اضافہ کرے گی۔یہ توسیعی لائن 21 اسٹیشنوں پر مشتمل ہوگی۔ اس راہداری کے تمام تر اسٹیشن سطح سے زمین سے بلند ہوں گے۔

تکمیل کے بعد، رٹھالا-نریلا-ناتھو پور راہداری غازی آباد میں واقع شہید استھل نئے بس اڈے کو دہلی کے راستے ہریانہ میں ناتھوپور سے مربوط کرے گی،  جس سے مکمل قومی راجدھانی خطے میں کنکٹیویٹی میں زبردست اضافہ ہوگا۔

مرحلہ IV پروجیکٹ کی یہ نئی راہداری این سی آر میں دہلی میٹرو نیٹ ورک کی رسائی کو وسعت دے گی جس سے معیشت کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔ ریڈ لائن کی اس توسیع سے سڑکوں پر بھیڑ بھاڑ کم ہو جائے گی، اس طرح موٹر گاڑیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ مکمل توسیعی لائن 21 اسٹیشنوں پر مشتمل ہوگی۔ یہ تمام اسٹیشن سطح زمین سے بلند ہوں گے۔ اس راہداری کے تحت قائم ہونے والے اسٹیشنوں میں: رٹھالا، روہنی سیکٹر 25، روہنی سیکٹر 26، روہنی سیکٹر  31، روہنی سیکٹر 32، روہنی سیکٹر36، بروالا ، روہنی سیکٹر 35، روہنی سیکٹر34، بوانا انڈسٹریل ایریا-1، سیکٹر1،2، بوانا جے جے کالونی، سانوت، نیو سانوت، ڈپو اسٹیشن، بھورگڑھ گاؤں، اناج منڈی نریلا، نریلا ڈی ڈی اے اسپورٹس کامپلیکس، نریلا، نریلا سیکٹر 5، کنڈلی اور ناتھوپور شامل ہیں ۔

یہ راہداری دہلی میٹرو کی ہریانہ میں چوتھی توسیع ہوگی۔ اس وقت دہلی میٹرو ہریانہ کے گروگرام، بلبھ گڑھ اور بہادر گڑھ تک چلتی ہے۔

مرحلہ IV (3 ترجیحاتی گلیارے)، جو 65.202 کلو میٹر کی طوالت کے ساتھ 45 اسٹیشنوں پر مشتمل ہیں،  کا تعمیراتی کام جاری ہے، اور آج کی تاریخ تک، 56 فیصد کے بقدر تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے۔ قوی امکان ہے کہ مرحلہ IV (3ترجیحاتی) گلیارے مارچ 2026 تک مختلف مراحل میں مکمل ہو جائیں گے۔ علاوہ ازیں، 20.67 کلو میٹر کی طوالت کے حامل دو مزید گلیاروں کو بھی منظوری دی جا چکی ہے اور یہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔

آج، دہلی میٹرو اوسطاً 64 لاکھ مسافرین کے لیے سفر کی سہولت فراہم کرتی ہے۔  اب تک سب سے زیادہ مسافر  خدمت ، 18.11.2024 کو 78.67 لاکھ مسافرین  کے بقدر ریکارڈ کی گئی ہے ۔ دہلی میٹرو ایم آر ٹی ایس یعنی وقت کی پابندی، معتبریت اور تحفظ کے بنیادی معیارات کے معاملے میں عمدگی کی مثال قائم کرکے شہر کی لائف لائن بن چکی ہے۔

اس وقت دہلی اور این سی آر میں ڈی ایم آر سی کے ذریعہ 288 اسٹیشنوں کے ساتھ تقریباً 392 کلومیٹر کی کل 12 میٹرو لائنیں مصروف عمل ہیں ۔ آج، دہلی میٹرو کے پاس بھارت میں سب سے بڑا میٹرو نیٹ ورک موجود ہے اور یہ دنیا کے سب سے بڑے میٹرو میں سے ایک ہے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's auto sector to commission ₹703 billion of projects by FY29: Report

Media Coverage

India's auto sector to commission ₹703 billion of projects by FY29: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister announces fast-track courts for paper leak cases to safeguard the future of youth
July 23, 2026

Prime Minister Shri Narendra Modi today emphasized that nothing is more important than the welfare and future of the youth.

The Prime Minister stated that the government has decided to set up fast-track courts to ensure swift and stringent punishment for those involved in paper leaks. Shri Modi noted that he has directed the concerned authorities and officials to take all necessary steps in this regard, adding that this continues a series of measures aimed at safeguarding the interests of students.

The Prime Minister firmly asserted that those who try to harm the future of the youth will not be spared.

In a post on X, the Prime Minister shared:

"Nothing is more important than the welfare and future of our youth!

We have decided to set up fast-track courts to ensure swift and stringent punishment for those involved in paper leaks. Have directed the concerned authorities and officials to take all necessary steps in this regard. This continues our series of steps for safeguarding the interests of students.

Those who try to harm the future of our youth will not be spared.

देश के युवाओं का हित और उनका भविष्य हमारी सर्वोच्च प्राथमिकता है।

पेपर लीक के सभी मामलों में दोषियों को जल्द से जल्द कठोर दंड देने के लिए, केस के त्वरित निस्तारण के लिए फास्ट ट्रैक कोर्ट्स का गठन किया जाएगा। इस संबंध में निर्देश दे दिए गए हैं कि संबंधित विभाग आवश्यक कार्रवाई सुनिश्चित करें।

विद्यार्थियों के हितों को सुरक्षित करने के लिए, सरकार द्वारा लिए जा रहे निर्णयों की श्रृंखला में ये एक महत्वपूर्ण कदम है।

युवाओं के भविष्य के साथ खिलवाड़ करने वाले किसी भी व्यक्ति को बख्शा नहीं जाएगा।"