Share
 
Comments
مجموعی طور پر 25 کروڑ روپئے کے بقدر شیئر پونجی کے ساتھ کارپوریشن خطے میں ترقی کے لئے وقف اولین ادارہ ہوگا
کارپوریشن صنعت، سیاحت، نقل و حمل اور علاقائی مصنوعات اور دستکاری کی مارکیٹنگ کے لئے کام کرے گی
کارپوریشن لداخ میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے اہم تعمیراتی ایجنسی کے طور پر کام کرے گی
روزگار میں اضافے، لداخ خطے کی مبنی بر شمولیت اور مربوط ترقی کے توسط سے آتم نربھر بھارت کا ہدف حاصل کیا جائے گا

نئی دہلی، 22 جولائی 2021: وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے زیر صدارت مرکزی کابینہ نے مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے لئے ایک مربوط کثیر المقاصد بنیادی ڈھانچہ  ترقیاتی کارپوریشن کے قیام کو منظوری دے دی ہے۔

کابینہ نے کارپوریشن کے لئے 144200 روپئے ۔ 218200 روپئے کے پے اسکیل پر منیجنگ ڈائرکٹر کی ایک اسامی نکالنے کی بھی منظوری دی۔

کارپوریشن کی مجاز شیئر پونجی 25 کروڑ روپئے کے بقدر ہوگی اور تکراری لاگت تقریباً 2.42 کروڑ روپئے ماہانہ کے بقدر ہوگی۔ یہ ایک نیا ادارہ ہے۔ موجودہ وقت میں، نوتشکیل شدہ مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ میں ایسا کوئی ادارہ نہیں ہے۔ اس منظوری میں روزگار کے مواقع میں اضافے کے لئے ایک بنیادی اہلیت ہے کیونکہ کارپوریشن مختلف قسم کی ترقی سے متعلق سرگرمیوں کا آغاز کرے گی۔ کارپوریشن صنعت، سیاحت، نقل و حمل اور علاقائی و دستکاری مصنوعات کی مارکیٹنگ کے لئے کام کرے گی۔لداخ میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے کارپوریشن اہم تعمیراتی ایجنسی کے طور پر کام کرے گی۔

کارپوریشن کے قیام سے مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کی مبنی بر شمولیت اور مربوط ترقی ہوگی۔ اس کے بدلے میں یہ پورے علاقے اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کی آبادی کی سماجی ۔معاشی ترقی کو یقینی بنایا جائے گا۔

ترقی کے اثرات کثیر جہتی ہوں گے۔ یہ مستقبل میں انسانی وسائل کی ترقی اور اس کے بہتر استعمال میں مدد فراہم  کرے گی۔ یہ اشیاء اور خدمات کی گھریلو پیداوار کو فروغ دے گی اور ان کی بلارکاوٹ دستیابی  کو آسان بنائے گی ۔ اس طرح، یہ منظوری آتم نربھر بھارت کے ہدف کو حاصل کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔

پس منظر:

  1. جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کے مطابق پہلے کی جموں و کشمیر ریاست کی تنظیم نو کے نتیجے میں مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ (مقننہ کے بغیر) 31 اکتوبر 2019 کو وجود میں آیا۔
  2. جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ،2019 کی دفعہ 85 کے تحت ایک صلاح کار کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جو اس وقت کی جموں و کشمیر ریاست کی املاک اور واجبات  کے مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں وکشمیر اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے درمیان تقسیم کے تعلق سے سفارشات کرنے کے لئے وجود میں آئی تھی۔ مذکورہ بالا کمیٹی نے دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ انڈمان اور نکوبار جزائرمربوط ترقیاتی کارپوریشن لمیٹڈ (اے این آئی آئی ڈی سی او) کی طرز پر لداخ مربوط بنیادی ڈھانچہ ترقیاتی کارپوریشن لمیٹڈ کے قیام کے لئے سفارش کی ہے، جس میں لداخ کی خاص ضرورتوں کے مطابق مختلف ترقیاتی سرگرمیوں کو شروع کرنے کے لئے ایک مناسب مینڈیٹ دیا گیا ہو۔
  3. اسی طرح، مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ نے اس وزارت کو مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ میں کارپوریشن کے قیام کے لئے ایک تجویز ارسال کی، جس کی سفارش اپریل 2021 میں وزارت خزانہ کی قیام سے متعلق لاگت کمیٹی (سی ای ای) کے ذریعہ کی گئی تھی۔

 

 

'من کی بات ' کے لئے اپنے مشوروں سے نوازیں.
20 تصاویر سیوا اور سمرپن کے 20 برسوں کو بیاں کر رہی ہیں۔
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
How India is building ties with nations that share Buddhist heritage

Media Coverage

How India is building ties with nations that share Buddhist heritage
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM interacts with CEOs and Experts of Global Oil and Gas Sector
October 20, 2021
Share
 
Comments
Our goal is to make India Aatmanirbhar in the oil & gas sector: PM
PM invites CEOs to partner with India in exploration and development of the oil & gas sector in India
Industry leaders praise steps taken by the government towards improving energy access, energy affordability and energy security

Prime Minister Shri Narendra Modi interacted with the CEOs and Experts of the global oil and gas sector earlier today, via video conferencing.

Prime Minister discussed in detail the reforms undertaken in the oil and gas sector in the last seven years, including the ones in exploration and licensing policy, gas marketing, policies on coal bed methane, coal gasification, and the recent reform in Indian Gas Exchange, adding that such reforms will continue with the goal to make India ‘Aatmanirbhar in the oil & gas sector’.

Talking about the oil sector, he said that the focus has shifted from ‘revenue’ to ‘production’ maximization. He also spoke about the need to enhance  storage facilities for crude oil.  He further talked about the rapidly growing natural gas demand in the country. He talked about the current and potential gas infrastructure development including pipelines, city gas distribution and LNG regasification terminals.

Prime Minister recounted that since 2016, the suggestions provided in these meetings have been immensely useful in understanding the challenges faced by the oil and gas sector. He said that India is a land of openness, optimism and opportunities and is brimming with new ideas, perspectives and innovation. He invited the CEOs and experts to partner with India in exploration and development of the oil and gas sector in India. 

The interaction was attended by industry leaders from across the world, including Dr. Igor Sechin, Chairman & CEO, Rosneft; Mr. Amin Nasser, President & CEO, Saudi Aramco; Mr. Bernard Looney, CEO, British Petroleum; Dr. Daniel Yergin, Vice Chairman, IHS Markit; Mr. Olivier Le Peuch, CEO, Schlumberger Limited; Mr. Mukesh Ambani, Chairman & Managing Director, Reliance Industries Limited; Mr Anil Agarwal, Chairman, Vedanta Limited, among others.

They praised several recent achievements of the government towards improving energy access, energy affordability and energy security. They appreciated the leadership of the Prime Minister towards the transition to cleaner energy in India, through visionary and ambitious goals. They said that India is adapting fast to newer forms of clean energy technology, and can play a significant role in shaping global energy supply chains. They talked about ensuring sustainable and equitable energy transition, and also gave their inputs and suggestions about further promotion of clean growth and sustainability.