مجوزہ پروجیکٹ کنیکٹویٹی سے محروم علاقوں کو کنیکٹویٹی کی سہولت فراہم کرکے ٹرانسپورٹیشن نیٹ ورک میں اضافہ کرکے لاجسٹک کارکردگی کو بہتر بنائے گا ، جس سے سپلائی چین کو بہتر بنانے اور اقتصادی ترقی میں تیزی لانے میں مدد ملے گی
پروجیکٹ کی مجموعی تخمینہ 2642 کروڑ روپے ( تقریباً) ہے اور اِس کی تکمیل چار برسوں میں ہوگی
تعمیر کے عمل کے دوران اِس پروجیکٹ سے تقریباً دَس لاکھ اِنسانی – دِن کا راست روزگار پیدا ہوگا

وزیراعظم جناب نریندرمودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے آج ریلوے کی وزارت کے ایک پروجیکٹ کو منظوری دی، جس کی مجموعی تخمینہ لاگت 2642 کروڑ روپے (تقریباً) ہے۔ مجوزہ  ملٹی-ٹریکنگ پروجیکٹ سے آپریشنز میں آسانی ہوگی اور جامع کی صورتحال میں کمی آئے گی۔ جس سے  انڈین ریلویز کے  سب سے زیادہ مصروف سیکشنوں پر درکار بنیادی ڈھانچہ جاتی ترقی کی ضرورت کی تکمیل ہوگی۔ یہ پروجیکٹ اترپردیش میں وارانسی اور چندولی اضلاع کا احاطہ کرے گی۔  

انڈین ریلوے نیٹ ورک  میں  اہمیت کا حامل وارانسی ریلوے اسٹیشن کلیدی  زوروں کو جوڑنے کا کام کرتا ہے اور زائرین ، سیاحوں اور مقامی آبادی کیلئے ایک داخلہ دروازے ( گیٹ وے) کے طور پر کام کرتا ہے۔  وارانسی- پنڈت دین دیال اُپادھیائے ( ڈی ڈی یو) جنکشن رُوٹ ، جو کہ مسافروں اور مال برداری دونوں کیلئے اہم ہے، کوئلہ، سیمنٹ ، خوردنی اناج،  بڑھتی ہوئی سیاحت اور صنعتی مانگوں کے سبب اِس کے رُول کے اہم ہونے کی وجہ سے،  بھاری جام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔  اِس مسئلہ کے تدارک کے لیے بنیادی ڈھانچے کو اپگریڈ کرنے کی ضرورت ہے، جس میں دریائے گنگا پر ایک نیا ریل ، نیز سڑک پُل اور تیسری و چوتھی ریلوے لائنوں کا اضافہ شامل ہے۔  اِن کاموں کی انجام دہی کا مقصد گنجائش، کارکردگی  میں بہتری  لانا اور خطے کی سماجی –اقتصادی ترقی میں تعاون دینا ہے۔

متعلقہ گلیارے میں جام سے راحت کے علاوہ مجوزہ گلیارے سے 27.83 ایم ٹی پی اے مال برداری کی بھی  توقع ہے۔

یہ پروجیکٹ وزیراعظم جناب نریندرمودی کے ’نیو انڈیا‘ کے تصور کے مطابق ہے، جو علاقے میں جامع ترقی کے ذریعے خطے کے لوگوں کو ’ آتم نِربھر‘ بنائے گا، جس سے اُن کے لیے روزگار ؍خود کے روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔

یہ پروجیکٹ ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی  سے متعلق  پی ایم-گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان  کا نتیجہ ہے، جو مربوط منصوبہ بندی کے سبب ممکن ہوسکا ہے اور جو عوام ، اشیاء اور خدمات کی نقل و حرکت کے لیے سُبک رَو کنیکٹیویٹی کی سہولت فراہم کرے گا۔

اترپردیش کے دو اضلاع پر محیط یہ پروجیکٹ انڈین ریلویز کے موجودہ نیٹوک میں تقریباً 30 کلومیٹر کا اضافہ کرے گا۔

ریلوے کے ماحولیات دوست اور توانائی کی بچت کرنے والا ذریعۂ نقل  وحمل ہونے کےسبب ، اِس سے ملک کے توانائی سے متعلق  اہداف کو حاصل کرنے اور لاجسٹک لاگت میں کمی لانے ، دونوں میں مدد ملے گی اور اِس سے کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج ( 149 کروڑ کلو گرام)  میں بھی کمی آئے گی، جو کہ 6 کروڑ درخت لگانے کے برابر ہے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s seafood exports cross ₹72,325.82 crore in FY26 on shrimp led growth, market diversification

Media Coverage

India’s seafood exports cross ₹72,325.82 crore in FY26 on shrimp led growth, market diversification
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister marks opening of Shri Kedarnath Dham and commencement of Chardham Yatra
April 22, 2026
Prime Minister conveys his sentiments through a letter addressed to all devotees

The Prime Minister today expressed deep reverence on the sacred occasion of the opening of the doors of Shri Kedarnath Dham in Devbhoomi Uttarakhand, marking the commencement of this year’s Chardham Yatra. On the occasion, the Prime Minister shared his heartfelt sentiments through a letter addressed to all devotees visiting Uttarakhand for the Yatra, and extend his best wishes and prayers for their well-being.

Highlighting the spiritual significance of the occasion, Shri Modi noted that the journey to Kedarnath Dham and the Chardham is a divine celebration of India’s enduring faith, unity, and rich cultural traditions. He emphasized that such pilgrimages offer a glimpse into the country’s eternal heritage and spiritual consciousness.

The Prime Minister posted on X:

"देवभूमि उत्तराखंड की पवित्र धरती पर आज श्री केदारनाथ धाम के कपाट पूरे विधि-विधान के साथ हम सभी श्रद्धालुओं के लिए खोल दिए गए हैं।

केदारनाथ धाम और चारधाम की यह यात्रा हमारी आस्था, एकता और समृद्ध परंपराओं का दिव्य उत्सव है। इन यात्राओं से हमें भारत की सनातन संस्कृति के दर्शन भी होते हैं।

इस वर्ष चारधाम यात्रा के आरंभ उत्सव पर, उत्तराखंड आने वाले सभी श्रद्धालुओं के लिए मैंने एक पत्र के माध्यम से अपनी भावनाएं व्यक्त की हैं।

मेरी कामना है कि बाबा केदार सभी पर अपनी कृपा बनाए रखें और आपकी यात्राओं को शुभ करें।

हर-हर महादेव!"