Share
 
Comments
Climate Change is a lived reality for millions around the world. Their lives and livelihoods are already facing its adverse consequences: PM
For humanity to combat Climate Change, concrete action is needed. We need such action at a high speed, on a large scale, and with a global scope: PM
India’s per capita carbon footprint is 60% lower than the global average.It is because our lifestyle is still rooted in sustainable traditional practices: PM

عالی جناب صدر بائیڈن، معزز ساتھیو، اس کرۂ ارض کے میرے ساتھی شہریو،

نمسکار!

اس پہل قدمی کے لئے میں صدر بائیڈن کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ انسانیت اس وقت عالمی وبائی مرض سے نبردآزما ہے۔ اور، یہ تقریب اس امر کی بر وقت یاد دہانی کراتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔

درحقیقت، موسمیاتی تبدیلی دنیا بھر کے لاکھوں افراد کے لئے ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے۔ ان کی زندگیوں اور ذریعہ معاش کو پہلے سے ہی اس کے برعکس نتائج کا سامنا ہے۔

دوستو،

موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں انسانیت کو ٹھوس کاروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں تیز رفتاری کے ساتھ ، بڑے پیمانے پر اور عالمی سطح پر ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم، بھارت میں، اپنی جانب سے کوششیں کر رہے ہیں۔ 2030 تک 450 گیگاواٹ کے بقدر قابل احیاء توانائی کا ہمارا اولوالعزم ہدف ہماری عہدبندگی کو ظاہر کرتا ہے۔

ہماری ترقیاتی تبدیلیوں کے باوجود، ہم نے صاف ستھری توانائی، توانائی قابلیت، جنگل بانی اور حیاتیاتی گوناگونیت کے سلسلے میں متعدد اقدامات کیے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم ان چند ممالک میں شامل ہیں جن کی این ڈی سی  2 ڈگری سیلسیئس سے مطابقت رکھتی ہیں۔

ہم نے بین الاقوامی شمسی اتحاد، لیڈ آئی ٹی، اور تباہ کاری سے بچاؤ کے بنیادی ڈھانچے جیسی عالمی پہل قدمیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

دوستو،

موسمیاتی ذمہ داری کے حامل ایک ترقی پذیر ملک کے طور پر، بھارت میں ہمہ گیر ترقی کے سانچے تیار کرنے کے لئے بھارت شراکت دار ممالک کا خیر مقدم کرتا ہے۔ یہ سانچے ان دیگر ترقی پذیر ممالک کی بھی مدد کر سکتے ہیں جنہیں گرین فائنینس اور صاف ستھری تکنالوجیوں تک قابل استطاعت رسائی کی ضرورت ہے۔

اسی وجہ سے، صدر بائیڈن اور میں ’’بھارت۔ امریکہ موسمی اور صاف ستھری توانائی ایجنڈا 2030 شراکت داری‘‘ کا آغاز کر رہے ہیں۔ ساتھ مل کر، ہم سرمایہ کاری، صاف ستھری تکنالوجیوں کا مظاہرہ اور سبز اشتراک کو فعال بنانے میں مدد فراہم کریں گے۔

دوستو،

 

آج، اب جبکہ ہم عالمی موسمیاتی کاروائی کے بارے میں تبادلہ خیالات کر رہے ہیں، میں آپ کے ساتھ ایک خیال ساجھا کرنا چاہتا ہوں۔ بھارت کا فی کس کاربن فٹ پرنٹ عالمی اوسط سے 60 فیصد کم ہے۔ وہ اس لیے کیونکہ ہماری طرز زندگی کی جڑیں ابھی بھی ہمہ گیر روایتی طور طریقوں سے جڑی ہیں۔

اس لیے آج، میں کلائمیٹ ایکشن میں طرز زندگی کی تبدیلی کی اہمیت پر زور دینا چاہتا ہوں۔ ہمہ گیر طرز زندگی اور ’’بنیادوں کی طرف واپس لوٹنے‘‘ کا رہنما فلسفہ مابعد کووِڈ کے دور میں ہماری اقتصادی حکمت عملی کا ایک اہم ستون ہونا چاہئے۔

دوستو،

میں عظیم بھارتی راہب سوامی وویکانند کے الفاظ کو دوہرانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے ہم سے کہا تھا کہ، ’’جب تک کہ ہدف حاصل نہ ہو، تب تک اٹھے رہیں، بیدار رہیں۔‘‘ آیئے ہم اسے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف کاروائی کی دہائی بنائیں۔

شکریہ۔ بہت بہت شکریہ۔

Modi Govt's #7YearsOfSeva
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
India to share Its CoWIN success story with 20 countries showing interest

Media Coverage

India to share Its CoWIN success story with 20 countries showing interest
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to interact with participants of Toycathon-2021 on 24th June
June 22, 2021
Share
 
Comments

Prime Minister Shri Narendra Modi will interact with participants of Toycathon-2021 on 24th June at 11 AM via video conferencing.

Toycathon 2021 was jointly launched by the Ministry of Education, WCD Ministry, MSME Ministry, DPIIT, Textile Ministry, I&B Ministry and AICTE on 5th January 2021 to crowd-source innovative toys and games ideas. Around 1.2 lakh participants from across India registered and submitted more than 17000 ideas for the Toycathon 2021, out of which 1567 ideas have been shortlisted for the three days online Toycathon Grand Finale, being held from 22nd June to 24th June. Due to Covid-19 restrictions, this Grand Finale will have teams with digital toy ideas, while a separate physical event will be organized for non-digital toy concepts.

India’s domestic market as well as the global toy market offers a huge opportunity to our manufacturing sector. Toycathon-2021 is aimed at boosting the Toy Industry in India to help it capture a wider share of the toy market.

Union Minister of Education will also be present on the occasion.