Share
 
Comments


3 extremely satisfying days with the future of Gujarat

 

Dear Friends,

For the next three days, the entire Team Gujarat goes to school! Yes, senior Ministers, officials and myself are going to spend the next three days in the rural areas of Gujarat, going to villages and asking parents to educate their children as a part of the Shala Praveshotsav and Kanya Kelavani Abhiyan 2013-2014. We will go to the rural areas of Gujarat on 13th-14th-15th June and in the urban areas of Gujarat on 20th-21st-22nd June.

I vividly recall when I had taken over as the Chief Minister, an official came to me to discuss dropout rate in our primary schools. The numbers that were in front of me left me startled! Why does such a vibrant state have such high drop out rates? Why is the girl child lagging behind in primary education? We decided to tackle this menace immediately and that is how the Kanya Kelavani Abhiyan was born.

Be it scorching heat or thunderous rain, my Cabinet colleagues, officials and I set out to the villages, we tell the parents, give us your child so that we can take them to school. I can say without doubt that taking a toddler to school is one of the most satisfying moments in my many years in public life. There is no better joy than laying the foundations of a strong future for these little children.

After a decade of doing this, I am glad to share that our efforts have received immense success. The drop out rate, which stood at 17.83% in 2003-2004 has drastically come down to 2.04% in 2012-2013 for Standard 1-5 and the drop out rates for Class 1-7 has dropped significantly from 33.73% in 2003-2004 to 7.08% this year. The results of the Kanya Kelavani Abhiyan are also for all to see. In the last decade, female literacy has increased from 57.80% to 70.73% today.

While there is tremendous improvement, we want to go higher. You must have noticed that whenever results of the Class X and XII Board Exams are announced, the most common headline is- girls outshine boys yet again. It just shows that if we give the right opportunity to our women, they can do wonders. This is what we seek to do through the Kanya Kelavani Abhiyan and Shala Praveshotsav.

We noticed that a common reason for the high drop out rate among girl students was lack of adequate sanitation facilities. Thus, we constructed over 71,000 sanitation blocks. Similarly, we saw that the state did not have enough classrooms to facilitate quality education for our youngsters so we built over 1,04,000 classrooms in the last decade. We did not stop there. In this age, where technology is constantly redefining the world, it is a crime to keep our youth away from these advances. That is why we have equipped over 20,000 schools with computer facilities. 

Friends, let us all become partners in this quest for ensuring education for all.  Look in your neighbourhood, in your offices, ask your support staff if they send their children to school and if they do not, inspire them to do so. Education brings employment as well as opportunity. And, by doing this, we are not only safeguarding the future of the child but also adding a new strength to the future of Gujarat. We are also doing a great service for our nation, who will greatly benefit from the intellectual power of these youngsters, the seeds of which we are fortunate to sow today.

 

Yours,

Narendra Modi

 

 

Shri Narendra Modi's audio message at the start of Kanya Kelavani and Shala Praveshotsav 2013-14

بھارتی اولمپئنس کی حوصلہ افزائی کریں۔ #Cheers4India
Modi Govt's #7YearsOfSeva
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
How This New Airport In Bihar’s Darbhanga Is Making Lives Easier For People Of North-Central Bihar

Media Coverage

How This New Airport In Bihar’s Darbhanga Is Making Lives Easier For People Of North-Central Bihar
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
پختہ عزم اور ترغیبات سے اصلاحات
June 22, 2021
Share
 
Comments

کووڈ-19 وبائی مرض پالیسی بنانے کے معاملے میں پوری دنیا کی حکومتوں کے لیے نئے چیلنجز لیکر آیا ہے۔ بھارت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ پائیداری کو یقینی بناتے ہوئے، عوامی فلاح و بہبود کے لیے مناسب وسائل کا انتظام کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔

پوری دنیا میں مالی بحران کے اس تناظر میں، کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہندوستانی ریاستیں 21-2020 میں زیادہ قرض لینے میں کامیاب رہیں؟ شاید یہ جان کر آپ کو خوشگوار حیرت ہوگی کہ ریاستیں 21-2020 میں اضافی 1.06 لاکھ کروڑ روپے اکٹھا کرنے میں کامیاب رہیں۔ وسائل کی دستیابی میں یہ قابل قدر اضافہ مرکز اور ریاست کے درمیان ’بھاگیداری‘ کی وجہ سے ممکن ہو پایا۔

ہم نے جب کووڈ-19 وبائی مرض کے جواب میں اپنی اقتصادی پالیسی بنائی، تو ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ ہمارا یہ حل ’ایک ہی سائز سب کے لیے فٹ آتا ہے‘ والے ماڈل کی پیروی نہ کرے۔ بر اعظم کے طول و عرض کے حامل ایک وفاقی ملک کے لیے، ریاستی حکومتوں کے ذریعے اصلاحات کے فروغ کے لیے قومی سطح پر ایسی کوئی پالیسی تیار کرنا واقعی میں چیلنج بھرا ہے۔ لیکن، ہمیں اپنی وفاقی جمہوریہ کی مضبوطی پر اعتماد تھا اور ہم مرکز اور ریاست کے درمیان بھاگیداری کے جذبہ سے اس راستے پر آگے بڑھے۔

مئی 2020 میں، آتم نربھر بھارت پیکیج کے حصہ کے طور پر، حکومت ہند نے اعلان کیا کہ ریاستی حکومتوں کو 21-2020 کے لیے اضافی قرض لینے کی اجازت دی جائے گی۔ جی ایس ڈی پی سے 2 فیصد زیادہ کی اجازت دی گئی، جس میں سے ایک فیصد کو مخصوص اقتصادی اصلاحات کے نفاذ سے مشروط کر دیا گیا تھا۔ ہندوستانی عوامی معیشت میں اصلاح کی یہ پہل نایاب ہے۔ اس کے تحت ریاستوں کو اس بات کے لیے آمادہ کیا گیا کہ وہ اضافی رقم حاصل کرنے کے لیے ترقی پسند پالیسیاں اختیار کریں۔ اس مشق کے نتائج نہ صرف حوصلہ افزا ہیں، بلکہ اس خیال آرائی کے برعکس بھی ہیں کہ ٹھوس اقتصادی پالیسیوں پر عمل کرنے والے محدود ہیں۔

چار اصلاحات جن سے اضافی قرض لینے کو جوڑا گیا (جس میں سے ہر ایک کے ساتھ جی ڈی پی کا 0.25 فیصد جوڑا گیا تھا) اس کی دو خصوصیات تھیں۔ پہلی، اصلاحات میں سے ہر ایک کو عوام، خاص طور سے غریبوں، کمزوروں، اور متوسط طبقہ کی زندگی کو بہتر بنانے سے جوڑا گیا تھا۔ دوسری، انہوں نے مالی استحکام کو بھی فروغ دیا۔

’ایک ملک ایک راشن کارڈ‘ کی پالیسی کے تحت پہلی اصلاح میں ریاستی حکومتوں کو یہ یقینی بنانا تھا کہ قومی غذائی تحفظ قانون (این ایف ایس اے) کے ےتحت ریاست کے تمام راشن کارڈوں کو فیملی کے تمام ممبران کے آدھار نمبر سے جوڑا جائے اور مناسب قیمت والی تمام دکانوں پر الیکٹرانک پوائنٹ آف سیل ڈیوائسز ہوں۔ اس کا بنیادی فائدہ یہ ہے کہ مہاجر کارکن اپنا غذائی راشن ملک میں کہیں سے بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ شہریوں کو ملنے والے ان فوائد کے علاوہ، فرضی کارڈ اور ڈوپلیکیٹ ممبران کے ختم ہونے سے بھی مالی فائدہ ہوا۔ 17 ریاستوں نے اس اصلاح کو مکمل کر لیا اور انہیں 37600 کروڑ روپے کا اضافی قرض فراہم کیا گیا۔

دوسری اصلاح، جس کا مقصد کاروبار میں آسانی کو بہتر کرنا تھا، کے تحت ریاستوں کو یہ یقینی بنانا تھا کہ 7 قوانین کے تحت کاروبار سے متعلق لائسنس کی تجدید خود کار، آن لائن اور معمولی فیس کی ادائیگی  پر کی جائے۔ دوسری شرط تھی کمپیوٹر کے ذریعے اچانک جانچ کا نظام نافذ کیا جائے  اور جانچ سے قبل نوٹس  دیا جائے تاکہ مزید 12 قوانین کے تحت ہراسانی اور بدعنوانی کو کم کیا جا سکے۔ اس اصلاح سے (19 قوانین کا احاطہ کرتے ہوئے) انتہائی چھوٹی اور چھوٹی انٹرپرائزز کو خاص طور سے مدد ملی، جنہیں ’انسپکٹر راج‘ کا سب سے زیادہ بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہ بہتر سرمایہ کاری کے ماحول، بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور تیزی سے ترقی کو فروغ دیتا ہے۔ 20 ریاستوں نے اس اصلاح کو مکمل کیا اور انہیں 39521 کروڑ روپے کے اضافی قرض کی اجازت دی گئی۔

پندرہویں مالیاتی کمیشن اور متعدد ماہرین تعلیم نے ٹھوس پراپرٹی ٹیکس کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ تیسری اصلاح کے تحت ریاستوں کو شہری علاقوں میں بالترتیب جائیداد کے لین دین اور موجودہ اخراجات کے لیے اسٹامپ ڈیوٹی گائیڈ لائن کی قدروں کے مطابق، پراپرٹی ٹیکس اور پانی اور سیوریج چارجز کی بنیادی شرحوں کے بارے میں نوٹیفائی کرنا تھا۔ یہ شہری غریبوں اور متوسط طبقہ کو بہترین معیار کی خدمات مہیا کرائے گا اور بہتر بنیادی ڈھانچہ کی معاونت کے ساتھ ہی ترقی کو آگے بڑھائے گا۔ پراپرٹی ٹیکس بھی اس معاملے میں ترقی پسند ہے اور اس سے شہری علاقوں کے غریبوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا۔ یہ اصلاح میونسپل اسٹاف کے لیے بھی فائدہ مند ہے جنہیں اکثر ان کی اجرت دیر سے ملتی ہے۔ 11 ریاستوں نے ان اصلاحات کو مکمل کیا اور انہیں 15957 کروڑ روپے کے اضافی قرض کو منظوری دی گئی۔

چوتھی اصلاح کاشتکاروں کو بجلی کی مفت سپلائی کے سلسلے میں ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) کو متعارف کرانا تھی۔ اس کے لیے یہ شرط تھی کہ ریاست گیر اسکیم تیار کی جائے اور سال کے آخر تک پائلٹ بنیاد پر کسی ایک ضلع میں اسے حقیقی طور پر نافذ کیا جائے۔ اس کے ساتھ جی ایس ڈی پی کے 0.15 فیصد کے اضافی قرض کو جوڑا گیا تھا۔ تکنیکی اور کاروباری نقصانات میں کمی کے لیے ایک جزو بھی فراہم کیا گیا تھا اور دوسرا محصول اور اخراجات (ہر ایک کے لیے جی ایس ڈی پی کا 0.05 فیصد) کے درمیان کے فرق کو کم کرنے کے لیے تھا۔اس سے تقسیم کار کمپنیوں کے مالی معاملات میں بہتری آتی ہے، پانی اور بجلی کی بچت کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور بہتر مالیاتی اور تکنیکی کارکردگی کے ذریعے سروس کے معیار میں بہتری آتی ہے۔ 13 ریاستوں نے کم از کم ایک جزو کو نافذ کیا، جب کہ 6 ریاستوں نے ڈی بی ٹی جزو کو نافذ کیا۔ اس کے نتیجہ میں، 13201 کروڑ روپے کے اضافی قرض کی اجازت دی گئی۔

مجموعی طور پر، 23 ریاستوں نے امکانی 2.14 لاکھ کروڑ روپے میں سے 1.06 لاکھ کروڑ روپے کے اضافی قرض لیے۔ اس کے نتیجہ میں ریاستوں کو 21-2021 کے لیے (مشروط اور غیر مشروط) ابتدائی تخمینی جی ایس ڈی پی کے 4.5 فیصد کے مجموعی قرض کی اجازت دی گئی۔

ہمارے جیسے پیچیدہ چیلنجز والے ایک بڑے ملک کے لیے، یہ ایک انوکھا تجربہ تھا۔ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ متعدد اسباب کی بناپر، اسکیمیں اور اصلاحات سالوں تک غیر فعال رہتی ہیں۔ یہ ماضی کی خوشگوار روانگی تھی، جہاں مرکز اور ریاستیں وبائی مرض کے دوران بہت ہی مختصر وقت میں عوام دوست ان اصلاحات کو نافذ کرنے کے لیے ایک ساتھ آئیں۔ یہ سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس والے ہمارے نقطہ نظر کی وجہ سے ممکن ہو پایا۔ان اصلاحات پر کام کرنے والے افسران کی رائے ہے کہ اضافی رقم کی اس ترغیب کے بغیر، ان پالیسیوں کو نافذ کرنے میں برسوں لگ جاتے۔  بھارت نے ’چوری چھپے اور زبردستی اصلاحات‘ کا ماڈل دیکھا ہے۔ یہ ’پختہ عزم اور ترغیبات سے اصلاحات‘ کا نیا ماڈل ہے۔ میں ان تمام ریاستوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اپنے شہریوں کی بہتری کے لیے اس مشکل وقت میں ان پالیسیوں کو سب سے آگے بڑھ کر شروع کیا۔ ہم 130 کروڑ ہندوستانیوں کی تیزی سے ترقی کے لیے ساتھ مل کر کام کرنا جاری رکھیں گے۔