کسانوں کے لیے منفرد پیکیج کا اعلان

Published By : Admin | June 28, 2023 | 16:06 IST
سی سی ای اے نے کسانوں کی فلاح و بہبود کو فروغ دینے، مٹی کی پیداواری صلاحیت کو بحال کرنے، اور غذائی تحفظ اور ماحولیاتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے اسکیموں کے مجموعہ کو منظوری دی
سی سی ای اے نے یوریا سبسڈی کو جاری رکھنے کی منظوری دی؛ 3 سال (23-2022 سے 25-2024 تک) کے لیے یوریا سبسڈی کی خاطر 368676.7 کروڑ روپے منظور کیے گئے
ویسٹ (کچرے) سے ویلتھ (دولت) کے ماڈل کو مثال بنانے کے لیے مارکیٹ ڈیولپمنٹ اسسٹنس (ایم ڈی اے) کی خاطر 1451 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی؛ گوبردھن پلانٹس سے پرالی اور نامیاتی کھاد کا استعمال مٹی کو افزودہ کرنے اور ماحولیات کو محفوظ اور صاف رکھنے کے لیے کیا جائے گا
مٹی میں سلفر کی کمی کو پورا کرنے اور کسانوں کی لاگت کو بچانے کے لیے سلفر کوٹیڈ یوریا (یوریا گولڈ) متعارف کرایا گیا

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی (سی سی ای اے) نے آج کسانوں کے لیے 370128.7 کروڑ روپے کے مجموعی اخراجات کے ساتھ اختراعی اسکیموں کے ایک منفرد پیکیج کو منظوری دی۔ اسکیموں کا یہ مجموعہ پائیدار زراعت کو فروغ دے کر کسانوں کی مجموعی بہبود اور معاشی بہتری پر مرکوز ہے۔ ان اقدامات سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، قدرتی/ نامیاتی کاشتکاری کو تقویت ملے گی، مٹی کی پیداواری صلاحیت کو از سر نو زندہ کیا جائے گا، اور غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔

سی سی ای اے نے یوریا سبسڈی اسکیم کو جاری رکھنے کی منظوری دی تاکہ کسانوں کو یوریا کی 45/242 کلوگرام کے بورے کی قیمت پر ٹیکس اور نیم کوٹنگ چارجز کو چھوڑ کر یوریا کی مستقل دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ مذکورہ منظور شدہ پیکیج میں سے 368676.7 کروڑ روپے کا وعدہ تین سالوں (23-2022سے 25-2024 تک) کے لیے یوریا سبسڈی کی خاطر کیا گیا ہے۔ یہ خریف سیزن 24-2023 کے لیے حال ہی میں منظور شدہ 38000 کروڑ روپے کی غذائیت پر مبنی سبسڈی کے علاوہ ہے۔ کسانوں کو یوریا کی خریداری کے لیے اضافی خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اور اس سے ان کی ان پٹ لاگت کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس وقت یوریا کی ایم آر پی فی 45 کلوگرام بورے پر 242 روپے ہے (اس میں نیم کی کوٹنگ اور قابل اطلاق ٹیکس کی رقم شامل نہیں ہے)، جب کہ بورے کی اصل قیمت تقریباً 2200 روپے ہے۔ اس اسکیم کو مکمل طور پر حکومت ہند کی طرف سے بجٹ کی مدد کے ذریعے مالی اعانت فراہم کی جاتی ہے۔ یوریا سبسڈی اسکیم کو جاری رکھنے سے یوریا کی مقامی پیداوار میں بھی اضافہ ہو گا تاکہ خود انحصاری کی سطح تک پہنچا جا سکے۔

بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے، کھاد کی قیمتیں گزشتہ برسوں میں عالمی سطح پر کئی گنا بڑھی ہیں۔ لیکن حکومت ہند نے کھاد کی سبسڈی میں اضافہ کرکے اپنے کسانوں کو کھاد کی قیمتوں میں اضافے سے بچایا ہے۔ ہمارے کسانوں کی حفاظت کی اپنی کوششوں کے تحت، حکومت ہند نے کھاد کی سبسڈی کو سال 15-2014 کے 73067 کروڑ روپے سے بڑھا کر 23-2022 میں 254799 کروڑ روپے کر دیا ہے۔

نینو یوریا ایکو سسٹم مضبوط ہوا

سال 26-2025 تک، 44 کروڑ بوتلوں کی پیداواری صلاحیت کے حامل آٹھ نینو یوریا پلانٹس جو روایتی یوریا کی 195 ایل ایم ٹی کے برابر ہیں، کام شروع کر دیں گے۔ نینو کھاد ایک کنٹرول انداز میں غذائی اجزاء جاری کرتی ہے جس سے غذائی اجزاء کے استعمال کی اعلی کارکردگی اور کسانوں کو کم لاگت آتی ہے۔ نینو یوریا کے استعمال سے فصل کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔

ہمارا ملک 23-2025 تک یوریا کے شعبے میں آتم نربھر بننے کی راہ پر گامزن ہے

چمبل فرٹی لمیٹڈ میں 6 یوریا پیداواری یونٹس کا قیام اور بحالی – کوٹہ، راجستھان؛ میٹکس لمیٹڈ، پان گڑھ، مغربی بنگال؛ رام گنڈم، تلنگانہ؛ گورکھپور، یو پی؛ سندری، جھارکھنڈ؛ اور برونی، بہار سال 2018 سے یوریا کی پیداوار اور دستیابی کے لحاظ سے ملک کو آتم نربھر بنانے میں مدد کر رہے ہیں۔ یوریا کی مقامی پیداوار 15-2014 کے دوران 225 ایل ایم ٹی کی سطح سے بڑھ کر 22-2021 کے دوران 250 ایل ایم ٹی ہو گئی ہے۔ سال 23-2022 میں پیداواری صلاحیت بڑھ کر 284 ایل ایم ٹی ہو گئی ہے۔ یہ نینو یوریا پلانٹس کے ساتھ مل کر یوریا پر ہمارے موجودہ درآمدی انحصار کو کم کریں گے اور آخر کار ہمیں 26-2025 تک خود کفیل بنائیں گے۔

مادر زمین کی بحالی، بیداری، تازگی اور بہتری کے لیے پی ایم پروگرام (پی ایم پرنام)

مادر زمین نے ہمیشہ بنی نوع انسان کو رزق کے وافر ذرائع فراہم کیے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ کاشتکاری کے مزید قدرتی طریقوں کی طرف واپس جائیں اور کیمیائی کھادوں کے متوازن/پائیدار استعمال کو فروغ دیا جائے۔ قدرتی / نامیاتی کاشتکاری، متبادل کھادوں، نینو کھادوں اور بائیو فرٹیلائزرز جیسی اختراعات کو فروغ دینا ہماری مادر زمین کی زرخیزی کو بحال کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ اس طرح، بجٹ میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ متبادل کھادوں اور کیمیائی کھادوں کے متوازن استعمال کو فروغ دینے کے لیے ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ترغیب دینے کے لیے ’’مادر زمین کی بحالی، بیداری، تازگی، اور بہتری کے لیے پی ایم پروگرام (پی ایم پرنام)‘‘ شروع کیا جائے گا۔

گوبردھن پلانٹس سے نامیاتی کھادوں کو فروغ دینے کے لیے مارکیٹ ڈیولپمنٹ اسسٹنس (ایم ڈی اے) کی خاطر 1451.84 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں

آج کا منظور شدہ پیکیج مادر زمین کی بحالی، تازگی اور بہتری کے لیے اختراعی ترغیبی طریقہ کار پر مشتمل ہے۔ نامیاتی کھادوں – یعنی خمیر شدہ نامیاتی کھاد (ایف او ایم)/ مائع ایف او ایم/ فاسفیٹ سے بھرپور نامیاتی کھاد (پی آر او ایم) جو امبریلا گوبردھن پہل کے تحت قائم کردہ بائیو گیس پلانٹس/ کمپریسڈ بایوگیس (سی بی جی) سے بائیو پروڈکٹ کے طور پر تیار ہوتی ہے – کی مدد کے لیے 1500 فی ایم ٹی کی شکل میں مارکیٹ ڈیولپمنٹ اسسٹنس (ایم ڈی اے) اسکیم شروع کی گئی ہے۔

ایسی نامیاتی کھادوں کو بھارت برانڈ ایف او ایم، ایل ایف او ایم اور پی آر او ایم کے ناموں سے برانڈ کیا جائے گا۔ یہ ایک طرف فصلوں کی باقیات کے انتظام کے چیلنج اور پرالی جلانے کے مسائل سے نمٹنے میں سہولت فراہم کرے گا، ماحول کو صاف ستھرا اور محفوظ رکھنے میں مدد دے گا اور ساتھ ہی کسانوں کو آمدنی کا ایک اضافی ذریعہ بھی فراہم کرے گا۔ کسانوں کو سستی قیمتوں پر نامیاتی کھاد (ایف او ایم/ ایل ایف او ایم/ پی آر او ایم ملے گی۔

یہ پہل ان بی جی/سی بی جی پلانٹس کی عملداری کو بڑھا کر، سرکلر اکانومی کو فروغ دینے کے لیے گوبردھن اسکیم کے تحت 500 نئے ویسٹ ٹو ویلتھ پلانٹس کے قیام کے بجٹ کے اعلان پر عمل آوری میں سہولت فراہم کرے گی۔

قدرتی کاشتکاری کو ایک پائیدار زرعی مشق کے طور پر فروغ دینا مٹی کی صحت کو بحال کر رہا ہے اور کسانوں کے لیے ان پٹ لاگت کو کم کر رہا ہے۔ 425 کے وی کے (کرشی وگیان کیندر) نے قدرتی کاشتکاری کے طریقوں کے مظاہرے کیے ہیں اور 6.80 لاکھ کسانوں پر مشتمل 6777 بیداری پروگراموں کا اہتمام کیا ہے۔ بی ایس سی کے ساتھ ساتھ ایم ایس سی پروگراموں کے لیے قدرتی کاشتکاری کے لیے کورس کا نصاب بھی تیار کیا گیا ہے جو تعلیمی سال جولائی-اگست 2023 سے نافذ کیا جائے گا۔

مٹی میں سلفر کی کمی کو دور کرنے اور کسانوں کے لیے ان پٹ لاگت کو بچانے کے لیے سلفر کوٹڈ یوریا (یوریا گولڈ) کا تعارف

پیکیج میں شامل ایک اور پہل یہ ہے کہ ملک میں پہلی بار سلفر کوٹڈ یوریا (یوریا گولڈ) متعارف کرائی جا رہی ہے۔ یہ فی الحال استعمال شدہ نیم کوٹڈ یوریا سے زیادہ کفایتی اور موثر ہے۔ یہ ملک میں مٹی کے لیے سلفر کی کمی کو دور کرے گا۔ یہ کسانوں کے لیے ان پٹ لاگت کو بھی بچائے گا اور پیداوار اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کے ساتھ کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ کرے گا۔

پردھان منتری کسان سمردھی کیندروں (پی ایم کے ایس کے) کی تعداد ہوئی ایک لاکھ

ملک میں تقریباً ایک لاکھ پردھان منتری کسان سمردھی کیندر (پی ایم کے ایس کے) پہلے ہی بن چکے ہیں۔ کسانوں کی سہولت کے لیے، کسانوں کی تمام ضروریات سے متعلق  ون اسٹاپ حل کے طور پر کاشتکاری کے ان پٹ فراہم کیے جا رہے ہیں۔

فوائد:

منظور شدہ اسکیموں سے کیمیائی کھادوں کے درست استعمال میں مدد ملے گی، اس طرح کسانوں کے لیے کاشت کی لاگت میں کمی آئے گی۔ قدرتی/ نامیاتی کاشتکاری کو فروغ دینا، جدید اور متبادل کھاد جیسے نینو فرٹیلائزرز اور نامیاتی کھادیں ہماری مادر زمین کی زرخیزی کو بحال کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔

  1. مٹی اور پانی کی آلودگی میں کمی کی وجہ سے مٹی کی صحت میں بہتری غذائیت کی کارکردگی اور محفوظ ماحول کی طرف لے جاتی ہے۔ محفوظ اور صاف ستھرا ماحول انسانی صحت کو بہتر بنانے میں معاون ہے۔
  2. پرالی جیسی فصل کی باقیات کا بہتر استعمال فضائی آلودگی کے مسئلے کو حل کرنے اور صفائی ستھرائی اور ماحول کو بہتر بنانے میں مدد کرے گا اور فضلہ کو دولت میں تبدیل کرنے میں بھی مدد کرے گا۔
  3. کسانوں کو مزید فوائد حاصل ہوں گے – انہیں یوریا کے لیے کوئی اضافی رقم ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ یکساں سستی قیمت پر دستیاب ہے۔ نامیاتی کھادیں (ایف او ایم/ پی آر او ایم) بھی سستی قیمتوں پر دستیاب ہوں گی۔ کم لاگت والی نینو یوریا اور کیمیائی کھادوں کے کم استعمال اور نامیاتی کھادوں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے کسانوں کی ان پٹ لاگت میں کمی آئے گی۔ صحت مند مٹی اور پانی کے ساتھ کم ان پٹ لاگت سے فصلوں کی پیداوار اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ کسانوں کو ان کی پیداوار کا اچھا منافع ملے گا۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report

Media Coverage

Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi chairs 51st PRAGATI Meeting
May 27, 2026
PM reviews seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of around ₹30,000 crore
PM also reviews Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0
PM says Ken-Betwa River Inter-linking Project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues amicably
PM asks States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants
PM calls for mission-mode rooftop solar coverage in urban areas
Acting upon the advice of PM, system of monthly review of social sector schemes at State level operationalised, starting with review of Swachh Bharat Mission

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 51st meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform aimed at fostering Pro-Active Governance and Timely Implementation, by seamlessly integrating efforts of the Central and State governments, at Seva Teerth, earlier today.

During the meeting, the Prime Minister reviewed seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors covering nine States worth around ₹30,000 crore. These projects, pivotal to economic growth and public welfare, were reviewed with a focus on timelines, inter-agency coordination, and timely issue resolution. Prime Minister also reviewed Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0.

While reviewing power sector projects, Prime Minister emphasized the need to accelerate rooftop solar adoption across urban areas, with a special focus on cities, residential clusters and public institutions. He underlined that rooftop solar should be taken up in mission mode to reduce electricity costs, improve energy security and promote clean energy at the household and community level.

While reviewing road and port connectivity projects, it was emphasised that Vadhavan Port should be developed as a model of port-led, multi-modal development, where every major mode of transport is seamlessly integrated to create a future-ready logistics ecosystem. The project should not be seen merely as a port, but as a national gateway connected through coastal shipping, inland waterways, dedicated freight corridors, high-speed rail connectivity, highways and airport linkages.

Prime Minister emphasised the need for effective implementation of Swachh Bharat Mission 2.0 and underlined that the mission should move beyond infrastructure creation and ensure measurable outcomes through regular monitoring, citizen participation and convergence between various stakeholders. He asked States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants.

While reviewing Ken-Betwa River Inter-linking Project, Prime Minister observed that Ken-Betwa project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues through cooperation, timely clearances, technology-based monitoring and mission-mode execution. States were encouraged to identify similar opportunities where river-linking, water conservation, groundwater recharge and efficient irrigation can be taken up in an integrated manner to ensure long-term water security.

Prime Minister also underlined that the delay in the implementation of public projects leads not only to cost escalation but also deprives citizens of timely access to essential facilities and development benefits. He observed that every delay has a direct impact on people’s lives, regional growth and public resources. He stressed that Ministries, Departments and States must adopt a more proactive and time-bound approach to resolve pending issues, remove bottlenecks and ensure faster execution.

Prime Minister also emphasized that innovative use of canal networks should be explored, including installation of solar panels along canals and over canals for clean electricity generation. This would help optimize land use, reduce evaporation losses, generate renewable energy and create additional economic value from water infrastructure.

At the beginning of the meeting, the Cabinet Secretary informed that, in pursuance of the directions of the Prime Minister, a system of monthly review of social sector schemes at the State level has also been operationalised. This mechanism aims to ensure regular monitoring, faster resolution of implementation issues and greater accountability at the State and district levels. As part of this initiative, Swachh Bharat Mission has been taken up for review at the State level in the first instance.