وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے آئی این-اسپیس کے زیر اہتمام خلائی شعبے کے لیے وقف 1000 کروڑ روپے کے وینچر کیپٹل فنڈ کے قیام کو منظوری دی ہے۔

 

مالیاتی مضمرات:

مجوزہ 1,000 کروڑ روپے کے وی سی فنڈ کی تعیناتی کی مدت فنڈ کی کارروائیوں کے آغاز کی اصل تاریخ سے پانچ سال تک ہونے کا منصوبہ ہے۔ سرمایہ کاری کے مواقع اور فنڈ کی ضروریات کے لحاظ سے اوسط تعیناتی رقم 250-150 کروڑ روپے سالانہ ہو سکتی ہے۔ مالی سال کے لحاظ سے مجوزہ گوشوارہ درج ذیل ہے:

 

نمبر شمار

 

مالی سال

 

تخمینہ(روپے کروڑ میں)

 

I

 

2025-26

 

150.00

 

2

 

2026-27

 

250.00

 

3

 

2027-28

 

250.00

 

4

 

2028-29

 

250.00

 

5

 

2029-30

 

100,00

 

 

 

کل اِنویلپ (وی سی)

 

1000.00

 

 

سرمایہ کاری کی اشاریہ حد60-10 کروڑ روپے تجویز کی گئی ہے، جو کمپنی کے مرحلے، اس کی ترقی کی رفتار اور قومی خلائی صلاحیتوں پر اس کے ممکنہ اثرات پر منحصر ہے۔ اشارے ایکویٹی سرمایہ کاری کی حد ہو سکتی ہے:

  • نمو کا مرحلہ: 10 کروڑ روپے – 30 کروڑ روپے
  • دیر سے نموکا مرحلہ: 30 کروڑ روپے – 60 کروڑ روپے

اوپر کی سرمایہ کاری کی حد کی بنیاد پر فنڈ سے تقریباً 40 اِسٹارٹ اَپس کی حمایت کی توقع ہے۔

تفصیلات:

 

فنڈ کو حکمت عملی کے مطابق ہندوستان کے خلائی شعبے کو آگے بڑھانے کے لیے بنایا گیا ہے، جو قومی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے اور درج ذیل اہم اقدامات کے ذریعےاختراع اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ہے:

  1. سرمایہ کا ادخال
  2. ہندوستان میں کمپنوں کو برقرار رکھنا
  3. بڑھتی ہوئی خلائی معیشت
  4. خلائی ٹیکنالوجی کی ترقی کو تیز کرنا
  5. عالمی مسابقت کو فروغ دینا
  6. آتم نر بھربھارت کی حمایت
  7. ایک متحرک اختراعی ماحولیاتی نظام کی تشکیل
  8. اقتصادی ترقی اور ملازمت کی تخلیق کو آگے بڑھانا
  9. طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانا

 

اِن نکات کو حل کرتے ہوئے فنڈ کا مقصد ہندوستان کو سرکردہ خلائی معیشتوں میں سے ایک کے طور پرحکمت عملی کے ساتھ رکھنا۔

 

فوائد:

  1. بعد کے مرحلے کی ترقی کے لیے اضافی فنڈز حاصل کرکے ایک ضارب اثر پیدا کرنے کے لیے سرمایہ کا ادخال ، اس طرح نجی سرمایہ کاروں میں اعتماد پیدا کرنا۔
  2. ہندوستان کے اندر مقیم خلائی کمپنیوں کو برقرار رکھنا اور ہندوستانی کمپنیوں کے بیرون ملک مقیم ہونے کے رجحان کا مقابلہ کرنا۔
  3. اگلے دس سالوں میں ہندوستانی خلائی معیشت کے پانچ گنا توسیع کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے نجی خلائی صنعت کی ترقی کو تیز کرنا۔
  4. خلائی ٹیکنالوجی میں ترقی کو آگے بڑھانا اور نجی شعبے کی شراکت کے ذریعے ہندوستان کی قیادت کو مضبوط کرنا۔
  5. عالمی مسابقت کو فروغ دینا۔
  6. آتم نر بھر بھارت کی حمایت

 

اثر، بشمول روزگار پیدا کرنے کے امکانات:

مجوزہ فنڈ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پورے خلائی سپلائی چین — اَپ اسٹریم، مڈ اسٹریم اور ڈاون اسٹریم میں اسٹارٹ اپس کی مدد کرکے ہندوستانی خلائی شعبے میں روزگار کو فروغ دے گا۔اس سے کاروبار کے پیمانے، آر اینڈ ڈی میں سرمایہ کاری اور ان کی افرادی قوت کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔ ہر سرمایہ کاری انجینئرنگ، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، ڈیٹا تجزیہ اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں سینکڑوں براہ راست ملازمتیں پیدا کر سکتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ سپلائی چین، لاجسٹکس اور پیشہ ورانہ خدمات میں ہزاروں بالواسطہ ملازمتیں بھی پیداہو سکتی ہیں۔ ایک مضبوط اِسٹارٹ اَپ ماحولیاتی نظام کو فروغ دے کر، فنڈ نہ صرف ملازمتیں پیدا کرے گا ،بلکہ ایک ہنر مند افرادی قوت کو بھی تیار کرے گا،جواختراع کو آگے بڑھاتا ہے اور خلائی مارکیٹ میں ہندوستان کی عالمی مسابقت کو بڑھاتا ہے۔

 

پس منظر:

حکومت ہند نے 2020 کے خلائی شعبے کی اصلاحات کے ایک حصے کے طور پر خلائی سرگرمیوں میں نجی شعبے کی شرکت کو فروغ دینے اور اس کی نگرانی کے لیے آئی این-اسپیس قائم کیا۔ آئی این-اسپیس نے ہندوستان کی خلائی معیشت کی ترقی کے لیے 1000 کروڑ روپے کے وینچر کیپٹل فنڈ کی تجویز پیش کی ہے، جس کی مالیت اس وقت 8.4 بلین ڈالر ہے، جس کا ہدف 2033 تک 44 بلین ڈالر تک پہنچنا ہے۔ فنڈ کا مقصدرِسک کیپٹل کے لیے اہم ضرورت کو پورا کرنا ہے، کیونکہ روایتی قرض دہندگان اس ہائی ٹیک سیکٹر میں اِسٹارٹ اَپس کو فنڈ دینے میں ہچکچاتے ہیں۔ ویلیو چین میں اُبھرنے والے تقریباً 250 اسپیس اِسٹارٹ اَپس کے ساتھ ان کی ترقی کو یقینی بنانے اور بیرون ملک ٹیلنٹ کے نقصان کو روکنے کے لیے بروقت مالی تعاون بہت ضروری ہے۔ مجوزہ حکومتی حمایت یافتہ فنڈ سرمایہ کاروں کے اعتماد کوبڑھائے گا، نجی سرمایہ کو راغب کرے گا اور خلائی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے حکومت کے عزم کا اشارہ دے گا۔ یہ سیبی کے ضوابط کے تحت ایک متبادل سرمایہ کاری فنڈ کے طور پر کام کرے گا، جو اسٹارٹ اپس کو ابتدائی مرحلے میں ایکویٹی فراہم کرے گا اور انہیں مزید پرائیویٹ ایکویٹی سرمایہ کاری کے بڑھانےکے قابل بنائے گا۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
'Housing for all' by 2029: Centre approves Rs 10,021 crore fund for PMAY-G in 12 states

Media Coverage

'Housing for all' by 2029: Centre approves Rs 10,021 crore fund for PMAY-G in 12 states
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves road upgradation projects in Madhya Pradesh worth Rs. 4,415.60 Crore
June 03, 2026
Total Length-233.653 kms with cost of Rs. 4,415.60 Crore

The Cabinet Committee on Economic Affairs, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has approved upgradation of the existing intermediate lane to 2 Lane with Paved Shoulder Standard (125.01 kms) of Hiwarkhedi -Roshni-Ashapur-Rudhy Section of NH-347B and widening of existing 2 lane to 4 lanes from Deshgaon-Julwaniya Section of NH-347B of length (108. 643 kms) in the State of Madhya Pradesh on Hybrid Annuity Mode at a cost of Rs.4,415.60 Crore.

The proposed upgradation of the Hiwarkhedi-Roshni-Ashapur-Rudhy & Deshgaon-Julwaniya Section of NH-347B in Madhya Pradesh will address severe geometric deficiencies, sharp curves, and congestion in built-up areas across Betul, Khandwa, Khargone & Barwani district. An extended Greenfield Bypass of Khargone district of 16.20 Km length will be developed as part of instant project. The project will increase average travel speeds, reduce travel time, and improve overall road safety, fuel efficiency, and vehicle operating costs, thereby enhancing regional mobility and socio-economic development.

The project will provide seamless connectivity to key economic, social, and logistics nodes across Madhya Pradesh. The upgraded corridor will enhance multi-modal integration by connecting with 06 PM Gati-Shakti Economic Nodes (01 Textile Cluster, 02 Mega Food Park, 01 Industrial park, 02 Super Thermal Power Plants), 5 social nodes (02 Aspirational Districts- Khandwa & Barwani, 03 Tribal Districts-Betul, Khandwa, Khargone) and 5 Logistic Nodes (02 Major Railway Stations, 02 Airports, 01 MMLP), thereby facilitating faster movement of goods and passengers across the region.

Map of Corridor 

Appendix - I: Project Details

Feature

Details

Project Name

Upgradation of the existing intermediate lane to 2 Lane with Paved Shoulder Standard (125.01 kms) of Hiwarkhedi -Roshni-Ashapur-Rudhy Section of NH-347B and widening of existing 2 lane to 4 lane from Deshgaon-Julwaniya Section of NH-347B of length (108. 643 kms) in the State of Madhya Pradesh on Hybrid Annuity Mode. (Total Length-233.653 kms)

Corridor

Betul-Khandwa-Vadodara

Length (km)

233.653

Total Civil Cost (Rs in Cr.)

2705.08

Land Acquisition Cost (Rs in Cr.)

432.77

Total Capital Cost (Rs in Cr.)

4415.60

Mode

Hybrid Annuity Mode (HAM)

Bypasses

Hiwarkhedi-Roshni-Ashapur-Rudhy Section

 

Bypass Length=70.39 km

Deshgaon-Julwaniya Section

 

 

Bypass Length = 54.273 km

Major Roads Connected

National Highways – NH-47, NH-753, NH-347BG and NH-52

State Highways – SH-15 and MDR

Economic / Social / Transport Nodes Connected

Airport: Indore & Nagpur

Railway Stations: Betul, Khandwa

Multi Model Logistic Park (MMLP) : Indore

Economic Nodes: 01 Textile Cluster, 02 Mega Food Park, 01 Industrial park, 02 Super Thermal Power Plants

Major Cities / Towns Connected

Betul, Khandwa, Khargone, Barwani

Employment Generation Potential

19.50 lakhs person-days (Direct) & 23.00 lakh person-days (Indirect)