Share
 
Comments
The districts in which the new Medical Colleges are being established are Virudhunagar, Namakkal, The Nilgiris, Tiruppur, Thiruvallur, Nagapattinam, Dindigul, Kallakurichi, Ariyalur, Ramanathapuram and Krishnagiri.
In the last seven years, the number of medical colleges has gone up to 596, an increase of 54% Medical Under Graduate and Post Graduate seats have gone up to around 1 lakh 48 thousand seats,  an increase of about 80% from 82 thousand seats in 2014
The number of AIIMS has gone up to 22 today from 7 in 2014
“The future will belong to societies that invest in healthcare. The Government of India has brought many reforms in the sector”
“A support of over Rupees three thousand crore would be provided to Tamil Nadu in the next five years. This will help in establishing/ Urban Health & Wellness Centres, District Public Health labs  and Critical Care Blocks across the state”
“I have always been fascinated by the richness of the Tamil language and culture”

تمل ناڈو کے گورنر جناب آر این روی، تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ جناب ایم کے اسٹالن، کابینی وزیر جناب منسکھ مانڈویا، کابینہ میں میرے ساتھی جناب ایل مروگن ، تمل ناڈو سرکار میں وزیر بھارتی پوار جی، ممبران پارلیمنٹ ، تمل ناڈو اسمبلی کے ممبران،

 تمل ناڈو کے بھائی  اور بہنوں، ونکّم !میں آپ سب کو پونگل اور مکرسنکرانتی کی مبارکباد دیتے ہوئے اپنی بات شروع کرتاہوں، جیسا کہ مشہور نغمہ ہے-தை பிறந்தால் வழி பிறக்கும்

آج ہم دو خصوصی وجہوں سے مل رہے ہیں:11میڈیکل کالجوں کا افتتاح اور سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف کلاسیکل تمل  کی نئی عمارت کا افتتاح۔ اس طرح ہم اپنے سماج کی صحت کو آگے بڑھا رہے ہیں اور اپنی ثقافت کے ساتھ ربط کو مضبوط بنا رہے ہیں۔

دوستو،

طبی تعلیم پڑھائی  کے ضمن میں بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ہندوستان میں ڈاکٹروں کمی کے بارے میں تو سب جانتے ہیں، لیکن اس مسئلے کے حل کے لئے مناسب کوشش نہیں کی گئی۔غالباً پوشیدہ مفاد میں بھی پچھلی حکومتوں کو صحیح فیصلے نہیں لینے دیا اور اس طرح طبی تعلیم تک رسائی ایک اہم مسئلہ بنارہا۔ جب سے ہم نے کام کاج سنبھالا ہے، ہماری حکومت نے اس فرق کو دور کرنے کےلئے کام کیا ہے۔2014ء میں ہمارے ملک میں 387میڈیکل کالج تھے، پچھلے 7برسوں میں ہی یہ تعداد بڑھ کر 596میڈیکل کالج ہوگئی ہے۔یہ 54فیصد کا اضافہ ہے۔2014ء میں ہمارے ملک میں تقریباً 82ہزار میڈیکل انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ سیٹیں تھیں۔پچھلے 7برسوں میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 1لاکھ 48ہزار سیٹوں پر پہنچ گئی ہیں۔یہ تقریباً 80 فیصد کا اضافہ ہے۔2014ء میں ملک میں محض 7ایمس تھے، لیکن 2014ء کے بعد منظور شدہ ایمس کی تعداد بڑھ کر 22 ہوگئی ہے۔ساتھ ہی طبی تعلیم کے شعبے کو اور زیادہ شفاف بنانے کے لئے متعدد اصلاحات کی گئی ہیں۔معیار سے سمجھوتہ کئے بغیر میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں کے قیام کے ضابطوں میں نرمی لائی گئی ہے۔

دوستو،

مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ پہلی بار ہوگا ، جب کسی ایک ریاست میں ایک پی جھٹکے میں 11میڈیکل کالجوں کا افتتاح ہورہا ہے۔ابھی کچھ دن پہلے میں نے اُترپردیش میں ایک ہی وقت میں 9میڈیکل کالجوں کا افتتاح کیا تھا۔اس لئے مجھے اپنا ہی ریکارڈ توڑنے کا موقع مل رہا ہے۔علاقائی عدم  توازن کو دور کرنا بہت ضروری ہے۔اس تناظرمیں یہ دیکھنا بہت خوش کن ہے کہ جن دو میڈیکل کالجوں کا افتتاح کیا گیا، وہ رماناتھ پورم اور وِردھونگر  کے اضلاع میں ہے ، جہاں ان کی شدید ضرورت تھی۔ یہ وہ اضلاع ہیں، جہاں ترقی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایک کالج تو نیل گیری کے دور دراز پہاڑی ضلع میں ہے۔

دوستو،

زندگی میں پہلی بار آئی کووڈ-19وباء نے صحت سیکٹر کی اہمیت کی پھر سے تصدیق کردی ہے۔ مستقبل اُن معاشروں کا ہوگا ، جو صحت خدمات شعبے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ بھارت سرکار اس سیکٹر میں کئی اصلاحات لے کر آئی ہے۔ آیوشمان  بھارت کا شکریہ ، غریبوں کے پاس اعلیٰ معیار کی اور سستی صحت خدمت ہے۔گھٹنے کی منتقلی اور اسٹینٹ کی لاگت پہلے کے مقابلے ایک تہائی ہوگئی ہے۔پی ایم-جن اوشدھی یوجنا نے سستی دواؤں تک رسائی میں انقلاب لا دیا ہے۔ہندوستان میں ایسے 8000سے زیادہ اسٹور ہیں۔اس منصوبے سے خاص طور سے غریبوں اور متوسط طبقے کو بہت فائدہ ملا ہے۔دواؤں پر خرچ ہونے والی رقم اب بہت کم ہوگئی ہے۔خواتین کے مابین صحت مند طرز زندگی کو آگے بڑھانے کے لئے ایک روپے کی قیمت پر سینیٹری نیپکن  مہیا کئے جارہے ہیں۔میں تمل ناڈو کے لوگوں سے اس منصوبے کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی گزارش کروں گا۔ پردھان منتری آیوشمان بھارت انفراسٹرکچر مشن خاص طور سے ضلعی سطح پر صحت بنیادی ڈھانچے اور صحت سے متعلق تحقیق میں اہم فاصلے کو دور کرنا ہے۔تمال ناڈو کے لوگوں کو اس کا زبردست فائدہ ہوگا۔

دوستو،

آنے والے برسوں میں ، میں ہندوستان کو معیاری اور سستی صحت دیکھ بھال کے لئے جانے جانے والے مرکز کے شکل میں دیکھتا ہوں۔ ہندوستان میں میڈیکل ٹورزم کا ہب بننے کے لئے ضروری ہر چیز دستیاب ہے۔ میں یہ بات اپنے ڈاکٹروں کی صلاحیتوں کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ میں طبی برادری سے ٹیلی میڈیسن کی طرف بھی دیکھنے کی گزارش کرتاہوں۔آج دنیا نے ہندوستانی روایتوں پر بھی توجہ دینا شروع کردیا ہے، جو آگے چل کر بہت سودمند ثابت ہوتی ہے۔اس میں یوگا، آیوروید اور سِدھا شامل ہیں۔ہم انہیں اس زبان میں مقبول بنانے کےلئے کام کررہے ہیں، جسے دنیا سمجھتی ہے۔

دوستو،

سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف کلاسیکل تمل  کی نئی عمارت تمل مطالعات  کو اور مقبولیت عطا کرے گی۔یہ طلباء اور تحقیقی کام کرنے والوں کو ایک وسیع کینوس مہیا کرے گی۔مجھے بتایا گیا ہے کہ سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف کلاسیکل تمل تھیروکّورل کا مختلف ہندوستانی اور غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ کرنا چاہتا ہے، یہ ایک اچھا قدم ہے۔میں ہمیشہ تمل زبان اورمالا مال ثقافت کا عاشق رہا ہوں۔ میری زندگی کے سب سے پُر مسرت لمحات میں سے ایک تھا ، جب مجھے اقوام متحدہ میں دنیا کی سب سے قدیم زبان تمل میں کچھ لفظ بولنے کا موقع ملا۔سنگم کلاسک قدیم دور کے خوشحال سماج اور ثقافت کے لئے ایک کھڑکی ہیں۔ہماری سرکار کو بنارس ہندو یونیورسٹی میں تمل مطالعات پر ’سبرامنیم بھارتی چیئر‘قائم کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہوا ہے، جو کہ میرے پارلیمانی حلقے میں واقع ہے۔ اس سے تمل کے بارے میں زیادہ تجسس پیدا ہوگا۔ جب میں نے تھیروکّورل کا گجراتی میں ترجمے کا لانچ کیا تو مجھے پتہ چلا کہ اس زندہ کام کے مالامال خیالات گجرات کے لوگوں سے جڑیں گے اور قدیم تمل ادب میں لوگوں کی دلچسپی میں اضافہ ہوگا۔

دوستو،

ہم نے اپنی قومی تعلیمی پالیسی 2020ء میں ہندوستانی زبانوں اور ہندوستانی معلوماتی نظام کو بڑھاو ادینے پر بہت زور دیا ہے۔تمل کو اب سیکنڈری سطح یا میڈل سطح پر اسکولی تعلیم میں کلاسک زبان کی شکل میں پڑھا جاسکتاہے۔تمل بھاشا-سنگم کی زبانوں میں سے ایک ہے، جہاں اسکولی طلباء آڈیو ویڈیو میں مختلف ہندوستانی زبانوں میں 100 جملوں سے واقف ہوسکتے ہیں۔بھارت وانی پروجیکٹ کے تحت تمل کی سب سے بڑی ای-کنٹنٹ کو ڈیجیٹل کیا گیا ہے۔

دوستو،

ہم اسکولوں میں مادری زبان اور مقام زبانوں میں تعلیم کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ ہماری سرکار نے ہندوستانی زبانوں میں طلباء کے لئے انجینئرنگ جیسے تکنیکی نصاب دستیاب کرانا شروع کردیا ہے۔تمال ناڈو نے کئی باصلاحیت انجینئرتلاش کئے ہیں، ان میں سے کئی اعلیٰ عالمی ٹیکنالوجی اور کاروبار کے قائد بن گئے ہیں۔ میں اُن باصلاحیت تمل غیر مقیم ہندوستانیوں سے ایس ٹی ای ایم نصاب میں تمل زبان کا مواد تیار کرنے میں مدد کی گزارش کرتاہوں۔ ہم تمل سمیت 12مختلف ہندوستانی زبانوں میں انگریزی زبان کے آن لائن نصاب کا ترجمہ کرنے کےلئے ایک آرٹیفشل انٹلی جنس پر مبنی ترجمہ کرنے والے آلات تیار کررہے ہیں۔

دوستو،

ہندوستان کی تکسیریت ہماری طاقت ہے۔ ایک بھارت شریشٹھ بھارت  تکسیریت میں اتحاد کے جذبے کو بڑھانے اور ہمارے لوگوں کو قریب لانے کی کوشش کرتاہے۔جب ہری دوار میں ایک چھوٹا بچہ تھیروولّور کے مجسمے کو دیکھتا ہے اور ان کی عظمت کے بارے میں جانتا ہے تو ایک بھارت شریشٹھ بھارت تخم ایک نوجوان دماغ میں رکھا جاتا ہے۔ ایسا ہی جذبہ تب دیکھنے کو ملتا ہے، جب ہریانہ کا ایک بچہ کنیا کماری کے شلایادگار پر جاتا ہے، جب تمل ناڈو یا کیرل کے بچے ویربال دِوس کے بارے میں سیکھتے ہیں ، تو وہ صاحبزادوں کی زندگی اور پیغامات سے جڑ جاتے ہیں۔اس سرزمین کے یہ وہ عظیم سپوت ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کو قربان کردیا ،لیکن اپنے اصولوں سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔ آئیے ہم دیگر ثقافتوں کو تلاش کرنے کی کوشش کریں۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ اس سے لطف اندوز ہوں گے۔

دوستو،

ختم کرنے سے پہلے میں آپ تمام لوگوں سے گزرش کرنا چاہوں گا کہ کووڈ -19سے متعلق ضابطوں پر عمل کریں، خاص طور سے ماسک ضرور لگائیں ۔ ہندوستان کی ٹیکہ کاری مہم قابل ذکر پیش رفت کررہی ہے۔پچھلے کچھ دنوں میں 15 سے 18سال کی عمر زمرے کے نوجوانوں کو اس کی خوراک ملنا شروع ہوگئی ہے۔بزرگوں اور صحت خدمات سے جڑے ملازمین کے لئے احتیاطی خوراک بھی دی جارہی ہے۔میں ان تمام لوگوں سے جو ٹیکہ کاری کے اہل ہیں، ٹیکہ ضرور لگوائیں۔

سب کا ساتھ ، سب کا وِکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس  کے منتر سے متحرک ہوکر ہم سب کو 135کروڑ ہندوستانیوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کےلئے مل کرکام کرنا ہوگا۔وباء سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہم اپنے تمام ملک کے شہریوں کو شمولیاتی اور معیاری صحت خدمات کو یقینی بنانے کےلئے کام کرتے رہے ہیں۔ہمیں اپنی خوشحال ثقافت سے سیکھنے اور آنے والی نسلوں کے لئے امرت کال کی بنیاد بنانے کی ضرورت ہے۔پونگل کے موقع پر ایک بار پھر میں آپ سب کو مبارکباد دیتا ہوں اور دعا کرتاہوں کہ یہ ہم سب کے لئے خوشیاں اور خوشحالی لائے۔

وَنکّم

شکریہ۔

 

Share beneficiary interaction videos of India's evolving story..
Explore More
وزیر اعظم کی پریکشا پہ چرچا پی  ایم مودی کے ساتھ کا متن

Popular Speeches

وزیر اعظم کی پریکشا پہ چرچا پی ایم مودی کے ساتھ کا متن
In 5 charts: Why India needs Agnipath for military modernisation

Media Coverage

In 5 charts: Why India needs Agnipath for military modernisation
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi takes part in 14th BRICS Summit
June 24, 2022
Share
 
Comments

Prime Minister Shri Narendra Modi led India’s participation at the 14th BRICS Summit, convened under the Chairship of President Xi Jinping of China on 23-24 June 2022, in a virtual format. President Jair Bolsonaro of Brazil, President Vladimir Putin of Russia, and President Cyril Ramaphosa of South Africa also participated in the Summit on 23 June. The High-level Dialogue on Global Development, non-BRICS engagement segment of the Summit, was held on 24 June.

On 23 June, the leaders held discussions including in fields of Counter-Terrorism, Trade, Health, Traditional Medicine, Environment, Science, Technology & Innovation, Agriculture, Technical and Vocational Education & Training, and also key issues in the global context, including the reform of the multilateral system, COVID-19 pandemic, global economic recovery, amongst others. Prime Minister called for strengthening of the BRICS Identity and proposed establishment of Online Database for BRICS documents, BRICS Railways Research Network, and strengthening cooperation between MSMEs. India will be organizing BRICS Startup event this year to strengthen connection between Startups in BRICS countries. Prime Minister also noted that as BRICS members we should understand security concerns of each other and provide mutual support in designation of terrorists and this sensitive issue should not be politicized. At the conclusion of the Summit, BRICS Leaders adopted the ‘Beijing Declaration’.

On 24 June, Prime Minister highlighted India’s development partnership with Africa, Central Asia, Southeast Asia, and from Pacific to Caribbean; India’s focus on a free, open, inclusive, and rules-based maritime space; respect for sovereignty and territorial integrity of all nations from the Indian Ocean Region to Pacific Ocean; and reform of multilateral system as large parts of Asia and all of Africa and Latin America have no voice in global decision-making. Prime Minister noted the importance of circular economy and invited citizens of participating countries to join Lifestyle for Environment (LIFE) campaign. The participating guest countries were Algeria, Argentina, Cambodia, Egypt, Ethiopia, Fiji, Indonesia, Iran, Kazakhstan, Malaysia, Senegal, Thailand and Uzbekistan.

Earlier, in the keynote speech delivered at the Opening Ceremony of BRICS Business Forum on 22 June, Prime Minister appreciated BRICS Business Council and BRICS Women Business Alliance which continued their work despite COVID-19 Pandemic. Prime Minister also suggested the BRICS business community to further cooperate in field of technology-based solutions for social and economic challenges, Startups, and MSMEs.