"ہمیں صحت سے متعلق آئندہ ایمرجنسی کو روکنے، تیاری کرنے اور کارروائی کے لیے تیار رہنا چاہیے"
"یوگا کے بین الاقوامی دن کو عالمی سطح پر منایا جانا مکمل صحت کی عالمگیر خواہش کا ثبوت ہے"
"ہم 2030 ء کے عالمی ہدف سے پہلے ٹی بی کے خاتمے کی راہ پر گامزن ہیں"
"آئیے ،ہم اپنی اختراعات عوامی بھلائی کے لیے استعمال کریں ۔ آئیے فنڈنگ کی ڈپلیکیشن سے بچیں۔ آئیے ، ہم ٹیکنالوجی کی مساوی دستیابی کی سہولت فراہم کریں"

معززین،

خواتین و حضرات،

نمسکار!

ہندوستان کے ایک ارب  40 کروڑ لوگوں کی طرف سے، میں آپ کا ہندوستان اور اپنی آبائی ریاست گجرات میں  نہایت گرمجوشی کے ساتھ خیرمقدم کرتا ہوں۔ آپ کو خوش  آمدید کہنے میں میرے ساتھ 2.4 ملین ڈاکٹرز، 3.5 ملین نرسیں، 1.3 ملین نیم طبی عملے، 1.6 ملین فارماسسٹ، اور لاکھوں دیگر لوگ ہیں، جو ہندوستان میں حفظان صحت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

دوستو!

گاندھی جی صحت کو اتنا اہم مسئلہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے اس موضوع پر ایک کتاب ‘‘کی ٹو ہیلتھ’’ یعنی ‘‘صحت کی کلید’’  تحریر کی ۔ انہوں نے کہا کہ صحت مند رہنے کے لیے اپنے دماغ اور جسم کو ہم آہنگی اور توازن کی حالت میں رکھنا ہے۔ درحقیقت صحت زندگی کی بنیاد ہے۔ ہندوستان میں سنسکرت زبان میں ایک کہاوت ہے:

''आरोग्यं परमं भाग्यं स्वास्थ्यं सर्वार्थसाधनम्''

یعنی صحت ہی سب سے بڑی دولت ہے اور اچھی صحت سے ہر کام پورا کیا جا سکتا ہے۔

دوستو!

کووڈ - 19 وبائی مرض نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ صحت کو ہمارے فیصلوں کے  مرکز میں ہونا چاہیے۔ اس نے ہمیں بین الاقوامی تعاون کی قدر بھی ظاہر کی، خواہ ادویات اور ٹیکے کی فراہمی میں ہو، یا اپنے لوگوں کو وطن واپس لانے میں ہو۔ ویکسین میتری پہل کے تحت، ہندوستان نے 100 سے زیادہ ممالک کو 300 ملین ویکسین کی خوراکیں فراہم کیں، جن میں بہت سے عالمی خطہ جنوب کے ممالک بھی شامل ہیں۔ استحکام  وبا کے دور کی  سب بڑی تعلیمات میں سے ایک  بن کر ابھرا ہے۔ عالمی صحت کے نظام کو بھی لچکدار ہونا چاہیے۔ ہمیں آئندہ صحت کی ایمرجنسی کو روکنے، تیاری کرنے اور مؤثر حل فراہم کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ آج کی باہم جڑی ہوئی دنیا میں یہ خاص طور پر بے حد اہم ہے،  جیسا کہ ہم نے وبائی مرض کے دوران دیکھا۔  دنیا کے ایک حصے میں صحت کے مسائل بہت کم وقت میں دنیا کے دیگر تمام حصوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

دوستو!

ہندوستان میں، ہم ایک جامع اور سبھی کی شمولیت والا نقطہ نظر کو اپنا  رہے ہیں۔ ہم صحت کے بنیادی ڈھانچے  میں اضافہ کر رہے ہیں، ادویات کے روایتی نظام کو فروغ دے رہے ہیں، اور سب کو کفایتی  حفظان صحت فراہم کر رہے ہیں۔ یوگا کے بین الاقوامی دن کا عالمی جشن جامع صحت کی عالمی خواہش کا بین ثبوت ہے۔ اس سال، 2023 کو موٹے اناج کے بین الاقوامی سال کے طور پر منایا جا  رہا ہے۔ موٹے اناج  یا شری اَنّ جیسا کہ ہندوستان میں اسے جانا جاتا ہے، کے کئی صحت کے فوائد ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ مجموعی صحت اور تندرستی ہر ایک کی طاقت کو بڑھانے میں مدد کر سکتی ہے۔ گجرات کے جام نگر میں ڈبلیو ایچ او گلوبل سنٹر فار ٹریڈیشنل میڈیسن کا قیام اس سمت میں ایک اہم قدم ہے  اور، ڈبلیو  ایچ او  کے عالمی سربراہ  اجلاس کے ساتھ روایتی ادویات پر جی - 20  وزرائے صحت کے اجلاس کا انعقاد موٹے اناج  کی صلاحیت اور افادیت کو بروئے کار لانے کی کوششوں کو تیز کرے گا۔ روایتی ادویات کا عالمی ذخیرہ بنانے کے لیے ہماری مشترکہ کوشش ہونی چاہیے۔

دوستو!

صحت اور ماحول باضابطہ طور پر باہم  جڑے ہوئے ہیں۔ صاف ہوا، پینے کا صاف پانی، مناسب غذائیت اور محفوظ پناہ گاہ  صحت کے اہم عوامل ہیں۔ میں آپ کو  آب وہوا  اور صحت اقدامات  کے آغاز کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے لیے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ مائکروبیل مخالف  مزاحمت (اے ایم آر ) کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات بھی قابل تعریف ہیں۔ اے ایم آر  عالمی سطح پر صحت عامہ اور اب تک کی دواسازی کی تمام ترقی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ مجھے یہ بھی خوشی ہے کہ جی - 20 صحت  ورکنگ گروپ نے  ''ایک صحت'' کو ترجیح دی ہے۔ ‘‘ایک کرہ ارض ، ایک صحت’’  کا ہمارا نظریہ پورے ماحولی  نظام -  انسانوں، جانوروں، پودوں اور ماحولیات کے لیے اچھی صحت کا تصور کرتا ہے ۔ یہ مربوط نظریہ کسی کو پیچھے نہ چھوڑنے کے گاندھی جی کے پیغام کا حامل ہے۔

دوستو!

صحت اقدامات کی کامیابی میں عوامی شراکت  داری ایک کلیدی عنصر ہے۔ یہ ہماری جذام کے مکمل خاتمے کی مہم کی کامیابی کی ایک اہم وجہ تھی۔ تپ دق (ٹی بی) کے خاتمے سے متعلق ہمارا پرجوش پروگرام بھی عوامی شرکت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ہم نے ملک کے لوگوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ  نکشے متر  یا "ٹی بی کے خاتمے کے لیے دوست" بنیں۔  اس کے تحت تقریباً  10 لاکھ مریضوں کو ملک کے شہریوں نے گود لیا ہے۔ اب، ہم 2030 کے عالمی ہدف سے پہلے ٹی بی کے خاتمے کی راہ پر گامزن ہیں۔

دوستو!

ڈیجیٹل حل اور اختراعات ہماری کوششوں کو مساوی اور جامع بنانے کے لئے مفید وسائل ہیں۔ دور دراز کے مریض ٹیلی میڈیسن کے ذریعے معیاری حفظان صحت خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔  ہندوستان کے قومی پلیٹ فارم ای سنجیونی نے آج تک 140 ملین ٹیلی ہیلتھ مشاورت کی سہولت فراہم کی ہے۔ ہندوستان کے  کو-وِن  پلیٹ فارم نے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی  ٹیکہ کاری  مہم کو کامیابی کے ساتھ  انجام دیا ہے ۔ اس نے 2.4 بلین سے زیادہ ویکسین کی خوراک کی فراہمی اور عالمی سطح پر قابل تصدیق ٹیکہ  کاری  سرٹیفکیٹس کی عین وقت پر دستیابی کا انتظام کیا۔ ڈیجیٹل صحت  سے متعلق عالمی پہل مختلف ڈیجیٹل صحت اقدامات کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھا کرے گی۔ آئیے اپنی اختراعات کو عوامی بھلائی کے لیے کھولیں۔ آئیے فنڈنگ کی نقل کرنے سے بچیں۔ آئیے ٹیکنالوجی کی مساوی دستیابی کو آسان بنائیں۔ یہ اقدام گلوبل ساؤتھ  (عالمی خطہ  جنوب) کے ممالک کو حفظان صحت خدمات کی فراہمی میں فرق کو ختم کرنے کے قابل  بنائے گا۔ یہ ہمیں صحت  تک ہمہ گیر   رسائی کے حصول کے اپنے ہدف کے  قریب  ایک قدم  اور لے جائے گا۔

دوستو!

میں انسانیت کے لئے ایک قدیم ہندوستانی خواہش کے ساتھ  اپنی  بات  کا اختتام کرتا ہوں: सर्वे भवन्तु सुखिनःसर्वे सन्तु निरामयः یعنی 'سب خوش رہیں، سب بیماری سے آزاد رہیں'۔  میں آپ کے غور و خوض میں آپ کی کامیابی کی  تمنا کرتا ہوں۔

شکریہ!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Inspiring India: Gujarat Woman's Solar Mission Earns PM Modi’s Praise, Invitation to I-Day Ceremony

Media Coverage

Inspiring India: Gujarat Woman's Solar Mission Earns PM Modi’s Praise, Invitation to I-Day Ceremony
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves a highway construction project in Assam worth ₹8,970.20 crore
August 06, 2026

The Cabinet Committee on Economic Affairs, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has approved the development of 135.871 km, 4-lane access-controlled Guwahati-Tezpur Corridor of NH-15 in Assam. The project will be developed on Built-Operate -Transfer (BOT) Toll Mode at a total capital cost of Rs.8970.20 crore under NH(O).

The project envisages construction of an Emergency Landing Facility (ELF) (4.9 Km.) in Tezpur Bypass which have been finalized in coordination with IAF and would decongest existing NH-27 (East west Corridor) on the south side of Brahmaputra river. The project includes construction of 05 major bypasses of length 58.7 Km., thereby easing congestion on stretches passing through densely populated areas such as Baihata Chariali, Sipajhar, Kharupetia, Dekiajuli, Tezpur.

In addition, the project has provision for 15 Major Bridge, 30 Minor Bridge, 19 flyovers, 01 Elephant Under Pass (in Tezpur bypass). 46 Underpasses and 19 Flyovers with 210 Km. of service road will also be constructed as part of the project to maintain cross movement of the traffic as the project is proposed to be developed as access controlled.

The project will increase average travel speeds by 100%, reduce travel time to half, improve overall road safety, enhance fuel efficiency, and lower vehicle operating costs, thereby enhancing regional mobility and socio-economic development.

The project will provide seamless connectivity to key economic, social, and logistics nodes across Assam and Arunachal Pradesh. Additionally, the upgraded corridor will enhance connectivity to 08 PM Gati-Shakti Economic Nodes (08 Industrial Parks), 02 Social Nodes (02 Aspirational districts of Darrang and Udalguri), 03 Tourist Nodes (Maa Kamakhaya Temple, Kaziranga National Park, Orang National Park) and 07 Logistic Nodes (03 Major Railway Stations, 02 Airports,02 Waterway Terminal), thereby facilitating faster movement of goods and passengers across the region.

Map of corridor