"ہندوستان ایک دہائی میں 11ویں سب سے بڑی معیشت سے پانچویں بڑی معیشت بن گیا"
کم کریں، دوبارہ استعمال کریں اور ری سائیکل کریں‘‘ہندوستان کے روایتی طرز زندگی کا ایک حصہ ہے‘‘
"ہندوستان ہر مشن کے لیے پیمانہ اور رفتار، مقدار اور معیار کو پیش نظر رکھتا ہے"

خواتین و حضرات، نمسکار۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی وزارتی  میٹنگ میں سب کو نمسکار۔ یہ بات اہم ہے کہ آئی ای اے اپنے قیام کی50 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اس  کامیابی کے لیے مبارکباد۔ میں اس اجلاس کی مشترکہ صدارت کرنے کے لیے آئرلینڈ اور فرانس کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

 

ساتھیو!

ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت ہے۔ پائیدار ترقی کے لیے توانائی کی حفاظت اور پائیداریت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک دہائی میں، ہم گیارہویں سب سے بڑی معیشت سے پانچویں سب سے بڑی معیشت بن گئے ہیں۔ اسی عرصے میں، ہماری شمسی توانائی کی صلاحیت 26 گنا بڑھ گئی ہے۔ہماری قابل تجدید توانائی کی صلاحیت بھی دوگنی ہو گئی۔ ہم اس سلسلے میں پیرس کے اپنے وعدوں سے پہلے، طے وقت سےآگے بڑھ گئے ہیں۔

ساتھیو!

ہندوستان عالمی آبادی کا 17فیصد گھر ہے۔ ہم توانائی تک رسائی کے دنیا کے سب سے بڑے اقدامات چلا رہے ہیں۔ اس کے باوجود ہمارے یہاں کاربن کا اخراج  پوری دنیا کے مقابلے صرف 4فیصد ہے۔ تاہم، ہم موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مضبوطی سے پرعزم ہیں۔ ہمارا ایک اجتماعی اور فعال نقطہ نظر ہے۔ ہندوستان پہلے ہی بین الاقوامی شمسی اتحاد جیسے اقدامات کی قیادت کر چکا ہے۔ ہمارا مشن لائف ایک اجتماعی اثر کے لیے سیارے کے حامی طرز زندگی کے انتخاب پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ ’ریڈیوس، ری یوز اور ری سائیکل‘ ہندوستان کے روایتی طرز زندگی کا ایک حصہ ہے۔ ہندوستان کی جی20 صدارت میں بھی اس محاذ پر اہم کارروائی دیکھی گئی۔ گلوبل بایو فیوئلز الائنس کا آغاز اس کی خاص باتوں میں سے ایک تھا۔ میں اس اقدام کے لیےآئی ای اےکی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

 

ساتھیو!

شمولیت کسی بھی ادارے کی ساکھ اور صلاحیت کو بڑھاتی ہے۔ ایک ارب40 کروڑ ہندوستانی ہنر، ٹیکنالوجی اور اختراع  میں  ایک ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم ہر مشن کے لیے پیمانہ اور رفتار، مقدار اور معیار کا خیال رکھتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آئی ای اے کو بڑا فائدہ ہوگا ، جب وہ اس میں  ہندوستان  کے لیے بڑا کردار ادا کرے گا۔ میں آئی ای اے کی وزارتی میٹنگ کی کامیابی کے لیے اپنی خواہشات پیش کرتا ہوں۔ آئیے ہم اس پلیٹ فارم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، موجودہ شراکت داری کو مضبوط کریں اور نئی شراکت داری کو تشکیل دیں۔ آئیے ہم ایک صاف ستھرا، سرسبز اور جامع دنیا بنائیں۔

شکریہ

بہت بہت شکریہ

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets

Media Coverage

PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister hold talks with Myanmar President U Min Aung Hlaing
June 01, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, today held productive talks with the President of Myanmar, U Min Aung Hlaing.

The Prime Minister noted that India is honoured that President U Min Aung Hlaing chose India for his first foreign visit as President. He also expressed happiness that the President began his programme in India from Bodh Gaya with the blessings of Lord Buddha.

During the talks, the two leaders reviewed the full range of India-Myanmar relations and discussed ways to further strengthen bilateral cooperation.

The discussions covered avenues to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. The two sides also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and other sectors of mutual interest.

The Prime Minister underlined that Myanmar is vital to India’s ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific policies, reaffirming the importance India attaches to its relations with Myanmar.

The Prime Minister wrote on X;

“Had a productive meeting with President U Min Aung Hlaing of Myanmar. We in India are honoured that he has chosen India for his first foreign visit as President. Equally gladdening is the fact that he began the visit from Bodh Gaya, with the blessings of Lord Buddha. We reviewed the full range of India-Myanmar relations. Myanmar is vital to India’s policies of ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific.”

“Our talks covered ways to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. We also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and more.”