“India's FinTech revolution is improving financial inclusion as well as driving innovation”
“India's FinTech diversity amazes everyone”
“Jan Dhan Yojana has been pivotal in boosting financial inclusion”
“UPI is a great example of India's FinTech success”
“Jan Dhan Program has laid strong foundations of financial empowerment of women”
“Transformation brought about by FinTech in India is not limited to just technology. Its social impact is far-reaching”
“FinTech has played a significant role in democratizing financial services”
“India's Fintech ecosystem will enhance the Ease of Living of the entire world. Our best is yet to come”

نمسکار!

آر بی آئی کے گورنر جناب شکتی کانت داس جی، کرس گوپال کرشنن جی، ممبرز آف  ریگولیٹر، فنانس انڈسٹری کے لیڈرز، فن ٹیک اور اِسٹارٹ اَپ ورلڈ کے میرے ساتھی، دیگر تمام معززین، خواتین و حضرات!

یہ ہندوستان میں تہواروں کا موسم ہے، ہم نے ابھی ابھی جنم اشٹمی منائی ہے اور خوشیاں دیکھیں، ہماری معیشت اور ہماری مارکیٹ میں بھی تہوار کا ماحول ہے۔ اس فیسٹو موڈ میں یہ گلوبل فنٹیک فیسٹیول ہو رہا ہے اور وہ بھی خوابوں کے شہر ممبئی میں۔ میں ان تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہتا ہوں جو ملک اور دنیا بھر سے یہاں آئے ہیں۔ یہاں آنے سے پہلے میں نے مختلف نمائشوں کا دورہ کیا تھا اور اپنے بہت سے دوستوں سے بات چیت کی تھی۔ ہمارے نوجوانوں کی اختراعات اور مستقبل کے امکانات کی ایک پوری نئی دنیا وہاں نظر آتی ہے۔ چلیے میں آپ کے کام کے لیے لفظ بدلتا ہوں، ایک پوری نئی دنیا دکھائی دے رہی ہے۔ میں اس فیسٹیول کے تمام منتظمین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

 

ساتھیو!

بیرونی ممالک سے بھی ہمارے مہمانوں کی بڑی تعداد یہاں آئی ہوئی ہے۔ ایک وقت تھا، جب لوگ ہندوستان آتے تھے، وہ ہمارے ثقافتی تنوع کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے تھے۔ اب جب لوگ ہندوستان آتے ہیں تو وہ ہمارے فنٹیک تنوع کو دیکھ کر بھی حیران ہوتے ہیں۔ ہوائی اڈے پر اترنے سے لے کر اسٹریٹ فوڈ اور خریداری کے تجربے تک، ہندوستان کا فنٹیک انقلاب ہر جگہ نظر آتا ہے۔ پچھلے 10 سالوں میں فنٹیک اسپیس میں31 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ ہمارے فنٹیک اِسٹارٹ اَپس میں 10 سالوں میں 500فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سستے موبائل فون، سستے ڈیٹا اورزیرو بیلنس جَن دَھن بینک اکاؤنٹس نے ہندوستان میں حیرت انگیز کام کیا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ پہلے کچھ لوگ پوچھتے تھے، پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر پوچھتے تھے اور جو لوگ اپنے آپ کو بہت زیادہ پڑھا لکھا سمجھتے تھے۔ وہ پوچھتے تھے۔ جب سرسوتی  جب  عقل بانٹ رہی تھی،  تووہ راستے میں پہلے ہی کھڑے تھے۔ اور کیا کہتے تھے؟ وہ پوچھتے تھے کہ  ہندوستان میں بینکوں کی اتنی شاخیں نہیں ہیں، ہر گاؤں میں بینک دستیاب نہیں ہیں۔ انٹرنیٹ نہیں ہے، انہوں نے یہاں تک پوچھ لیتے تھے- بجلی بھی تو نہیں ہے، ری چارجنگ کہاں ہوگا، فنٹیک انقلاب کیسے آئے گا؟ یہ پوچھا جاتا تھا اور مجھ جیسے چائے  والےسے یہ پوچھا جاتا تھا، لیکن آج دیکھئے صرف ایک دہائی میں ہی ہندوستان میں براڈ بینڈ استعمال کرنے والوں کی تعداد 60 ملین یعنی 6 کروڑ سے بڑھ کر 940 ملین یعنی تقریباً 94 کروڑ ہو گئی ہے۔ آج18 سال سے زیادہ عمر کا شاید ہی کوئی ہندوستانی ہو، جس کے پاس اپنی ڈیجیٹل شناخت، آدھار کارڈ نہ ہو۔ آج 530 ملین سے زیادہ یعنی 53 کروڑ لوگوں کے پاس جَن دَھن بینک کھاتے ہوگئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے 10 سالوں میں ہم نے ایک طرح سے پوری یوروپی یونین کے برابر آبادی کو بینکنگ سسٹم سے جوڑ دیا ہے۔

 

ساتھیو!

جَن دَھن-آدھار-موبائل کی اس تثلیث نے ایک اور تبدیلی کو تحریک دی ہے۔ کبھی لوگ کہتے تھے کہ کیش بادشاہ ہے۔ آج دنیا کے تقریباً نصف ریئل ٹائم ڈیجیٹل لین دین ہندوستان میں ہوتا ہے۔ ہندوستان کا یوپی آئی پوری دنیا میں فنٹیک کی ایک بہترین مثال بن گیا ہے۔ آج گاؤں ہو یا شہر، سردی ہو یا گرمی، بارش ہو یا برف گر رہی ہو، ہندوستان میں بینکنگ سروس 24 گھنٹے ساتوں دن، 12 مہینے چلتی رہتی ہے۔ کورونا کے اتنے بڑے بحران کے دوران بھی ہندوستان دنیا کے ان ممالک میں شامل تھا ،جہاں ہماری بینکنگ خدمات بغیر کسی پریشانی کے جاری رہیں۔

ساتھیو!

ابھی دو تین دن پہلے ہی جَن دَھن یوجنا کے 10 سال مکمل ہوئے ہیں۔ جَن دَھن یوجنا خواتین کو بااختیار بنانے کا ایک بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔ جَن دَھن یوجنا کی وجہ سے تقریباً 290 ملین یعنی 29 کروڑ سے زیادہ خواتین کے بینک کھاتے کھولے گئے ہیں۔ ان کھاتوں نے خواتین کے لیے بچت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ جَن دَھن کھاتوں کے اسی فلسفے پر، ہم نے سب سے بڑی مائیکرو فنانس اسکیم، مدرا شروع کی۔ اس اسکیم کے تحت اب تک 27 ٹریلین روپے سے زیادہ کا قرضہ دیا جا چکا ہے،27 ٹریلین۔ اس اسکیم کے تقریباً 70 فیصداستفادہ کنندہ خواتین ہیں۔ جَن دَھن کھاتوں نے خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کو بھی بینکنگ سے جوڑ دیا ہے۔آج ملک کی 10 کروڑ دیہی خواتین اس کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ یعنی جَن دَھن پروگرام نے خواتین کو مالی طور پر بااختیار بنانے کی ایک مضبوط بنیاد رکھی ہے۔

 

ساتھیو!

پوری دنیا کے لیے متوازی معیشت بڑی تشویش کا باعث رہی ہے۔ فنٹیک نے متوازی معیشت کو بھی نقصان پہنچایا ہے اور آپ لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں۔آپ نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ہم نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے ہندوستان میں کس طرح شفافیت لے کر آئے ہیں۔ آج سیکڑوں سرکاری اسکیموں کے تحت براہ راست فائدہ کی منتقلی کی جاتی ہے۔ اس سے سسٹم سے لیکیج بند ہو گیا ہے۔ آج لوگ رسمی نظام میں شامل ہونے میں اپنا فائدہ دیکھتے ہیں۔

ساتھیو!

فنٹیک کی وجہ سے ہندوستان میں جو تبدیلی آئی ہے، وہ صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں ہے۔ اس کا سماجی اثر بہت وسیع ہے۔ اس سے گاؤں اور شہر کے درمیان فاصلے کو ختم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ کبھی ہمارے یہاں بینک کی سروس حاصل کرنے میں ایک پورا دن لگ جاتا تھا۔ یہ ایک کسان، ایک ماہی گیر اور ایک متوسط ​​طبقے کے خاندان کے لیے ایک بڑا مسئلہ تھا۔ فنٹیک نے اس مسئلے کو حل کیا۔ کبھی بینک صرف ایک عمارت تک محدود ہوا کرتےتھے۔ آج بینک ہر ہندوستانی کے موبائل فون میں سمٹ گئے ہیں۔

 

ساتھیو!

فنٹیک نے مالیاتی خدمات کو جمہوری بنانے میں بھی بڑا کردار ادا کیا ہے۔ قرض، کریڈٹ کارڈ، سرمایہ کاری، انشورنس جیسے پروڈکٹ ہر کسی کے لیے آسانی سے قابل رسائی ہو رہے ہیں۔ فنٹیک نے کریڈٹ تک رسائی کو بھی آسان اور جامع بنا دیا ہے۔ میں ایک مثال دیتا ہوں۔ آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان میں خوانچوں والوں کی ایک پرانی روایت ہے، لیکن وہ رسمی بینکنگ سے باہر تھے۔فنٹیک نے اس صورتحال کو بھی بدل دیا ہے۔ آج وہ پی ایم سواندھی یوجنا سے بلاضمانت قرض لے پارہے ہیں، ڈیجیٹل لین دین کے ریکارڈ کی بنیاد پر وہ اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے مزید قرض حاصل کرتے رہتے ہیں۔ شیئر اور میوچل فنڈز جیسے پروڈکٹ میں سرمایہ کاری صرف بڑے شہروں میں ہی ممکن تھی۔ آج سرمایہ کاری کے اس راستے کو گاؤں اور قصبوں میں بھی بڑی تعداد میں ایکسپلور کیا جا رہا ہے۔ آج، ڈیمیٹ اکاؤنٹس صرف چند منٹوں میں گھر پر کھولے جا رہے ہیں اور سرمایہ کاری کی رپورٹیں آن لائن دستیاب ہیں۔ آج، ہندوستانیوں کی ایک بڑی تعداد دور دراز سے صحت کی دیکھ بھال کی خدمات لے رہی ہے، ڈیجیٹل طور پر آن لائن تعلیم حاصل کر رہی ہے، مہارتیں سیکھ رہی ہے، یہ سب فنٹیک کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ ہندوستان کا فنٹیک انقلاب بھی عزت کی زندگی، معیار زندگی کو بہتر بنانے میں بڑا رول ادا کر رہا ہے۔

 

ساتھیو!

ہندوستان کے فنٹیک انقلاب کی کامیابی صرف اختراعات کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ اپنانے کے بارے میں بھی ہے۔ جس رفتار اور پیمانے پر ہندوستان کے لوگوں نے فنٹیک کو اپنایا ہے، اس کی مثال کہیں اور نہیں مل سکتی۔ اس کا ایک بڑا کریڈٹ ہمارے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر- ڈی پی آئی اور ہمارے فنٹیکس کو بھی جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے اعتماد پیدا کرنے کے لیے ملک میں حیرت انگیز اختراعات کی گئی ہیں۔ کیو آر کوڈز کے ساتھ ساؤنڈ باکس کا استعمال بھی ایسی ہی ایک اختراع ہے۔ ہمارے فنٹیک سیکٹر کو بھی حکومت کے بینک سکھی پروگرام کا مطالعہ کرنا چاہیے اور میں فنٹیک کے تمام نوجوانوں کو بتانا چاہتا ہوں، کیا یہ بینک سکھی ہے کیا؟ میں ابھی جلگاؤں آیا تھا اور ایک دن میں ایسے ہی بہن سکھیوں سے ملا تو بڑے فخر سے کہتی ہیں کہ میں ایک دن میں 1.5 کروڑ روپے کا کاروبار کرتی ہوں۔ کیسا اعتماد اور وہ گاؤں کی ایک خاتون تھی۔ جس طرح ہماری بیٹیوں نے ہر گاؤں میں بینکنگ اور ڈیجیٹل بیداری پھیلائی ہے، اس سے فنٹیک کو ایک نیا بازار ملا ہے۔

ساتھیو!

اکیسویں صدی کی دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔ کرنسی سے کیو آر کوڈز تک کا سفر میں صدیاں لگ گئیں، لیکن اب ہم ہر روز نئی اختراعات دیکھ رہے ہیں۔ ڈیجیٹل اونلی بینکس اور نیو- بینکنگ جیسے تصورات ہمارے سامنے ہیں۔ ڈیجیٹل ٹوئنز جیسی ٹیکنالوجیز ڈیٹا بیسڈ بینکنگ کو اگلی سطح پر لے جا رہی ہے۔ اس سے رِسک مینجمنٹ، فراڈ کا پتہ لگانے اور کسٹمر کا تجربہ، سب کچھ بدلنے والا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہندوستان بھی مسلسل نئی فنٹیک پروڈکٹ لانچ کر رہا ہے۔ ہم ایسے پروڈکٹس تیار کر رہے ہیں جو مقامی ہیں، لیکن ان کا اطلاق عالمی ہے۔ آج  او این ڈی سی یعنی اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس آن لائن شاپنگ کو شمولیت والا بنا رہا ہے۔یہ چھوٹے کاروباروں، چھوٹے انٹرپرائزز کو بڑے مواقع سے جوڑ رہا ہے۔ اکاؤنٹ ایگریگیٹرز لوگوں اور کمپنیوں کے لیے کام کو آسان بنانے کے لیے ڈیٹا کا استعمال کر رہے ہیں۔ ٹریڈ پلیٹ فارم کی مدد سے چھوٹے اداروں کی لیکویڈیٹی اور کیش فلو میں بہتری آ رہی ہے۔ ای- روپی ایک ایسا ڈیجیٹل واؤچر بنا ہے ،جسے کئی شکلوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان کے یہ پروڈکٹ دنیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی یکساں مفید ہیں اور اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم نے جی-20 صدارت کے دوران ایک گلوبل ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر ریپوزٹری بنانے کی تجویز پیش کی تھی، جسے جی-20 کے اراکین نے تہہ دل سے قبول کر لیا تھا۔ میں مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کے بارے میں آپ کے خدشات کو بھی سمجھتا ہوں۔ لہذا ہندوستان نے بھی مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال کے لیے ایک عالمی فریم ورک بنانے پر زور دیا ہے۔

 

ساتھیو!

فنٹیک سیکٹر کی مدد کے لیے حکومت پالیسی کی سطح پر تمام ضروری تبدیلیاں کر رہی ہے۔ حال ہی میں ہم نے اینجل ٹیکس ہٹا دیا ہے۔ کیا یہ ٹھیک نہیں کیا؟ نہیں! ٹھی  کیا ہے نا؟ ہم نے ملک میں تحقیق اور اختراع کو فروغ دینے کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے کا فنڈ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ہم نے ڈیٹا کے تحفظ کا قانون بنایا ہے۔ مجھے اپنے ریگولیٹرز سے بھی کچھ توقعات ہیں۔ ہمیں سائبر فراڈ کو روکنے اور ڈیجیٹل لٹریسی کے لیے بڑے اقدامات کرنے ہوں گے۔ یہ ذہن میں رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ سائبر فراڈ اِسٹارٹ ا؟پس اور فنٹیک کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔

ساتھیو!

پہلے زمانے میں بینک ڈوبنے والا ہے یا بینک ڈوبا ہے یا ڈوب جائے گا،یہ بات پھیلتے ہوئے، اثر ہوتے ہوتے5 سے 7 دن نکل جاتے تھے۔ آج اگر کسی سسٹم میں سائبر فراڈ ہونے کا پتہ چل جائے تو ایک منٹ میں معاملہ پورا،وہ کمپنی گئی۔ فنٹیک کے لیے بہت اہم ہے اور سائبرسولیوشن، اس  کی موت بہت جلد ہو جاتی ہے۔ کوئی بھی سائبر سولیوشن  نکالیے، اس کا بے ایمان لوگ توڑ نکالنے میں دیر نہیں کرتے، تو اس سولیوشن کی  بچپن میں ہی موت ہوجاتی ہے، پھر آپ کو نیا سولیوشن لے کر آنا پڑتا ہے۔

 

ساتھیو!

آج پائیدار اقتصادی ترقی ہندوستان کی ترجیح ہے۔ ہم مضبوط، شفاف اور مؤثر نظام بنا رہے ہیں۔ ہم جدید ٹیکنالوجیز اور ریگولیٹری فریم ورک کے ساتھ مالیاتی منڈیوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔ ہم گرین فنانس سے پائیدار ترقی کی مدد کر رہے ہیں۔ ہم مالی شمولیت کی  تکمیل  پر زور دے رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہندوستان کا فنٹیک ایکو سسٹم ہندوستان کے لوگوں کو معیاری طرز زندگی فراہم کرنے کے مشن میں بہت بڑا رول ادا کرے گا۔ مجھے یقین ہے کہ ہندوستان کا فنٹیک ایکو سسٹم پوری دنیا کی زندگی گزارنے کی آسانی میں اضافہ کرے گا اور مجھے اپنے ملک کے نوجوانوں کے ٹیلنٹ پر بہت زیادہ اعتماد، اتنا بھروسہ ہے اور میں بڑے اعتماد کے ساتھ یہ کہتا ہوں – ہمارا بہترین کام ابھی باقی ہے۔

 

یہ آپ کا 5واں فنکشن ہے نا، تو 10ویں میں، میں آؤں گا اور پھر آپ نے سوچا بھی نہ ہو گا، وہاں پر آپ بھی پہنچے ہوں گے دوستو۔ آج میں آپ کے اِسٹارٹ اَپ یونٹ کے کچھ لوگوں سے ملا، سب سے تو نہیں مل پایا، لیکن ہر ایک کو دس دس ہوم ورک دے کر کے آیا ہوں، کیونکہ میں سمجھ سکتا ہوں کہ یہ ایک ایسا شعبہ ہے، جو بہت بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔ ایک بہت بڑا انقلاب برپا ہو رہا ہے اور ہم یہاں اس کی مضبوط بنیاد دیکھ رہے ہیں۔ اس اعتماد کے ساتھ، میں آپ سب کو نیک خواہشات پیش کرتا ہوں! بہت بہت شکریہ!

ہم نے یہ تصویر کرشن گوپال جی کے کہنے پر لی ہے، لیکن آپ حیران ہوں گے کہ اس کا کیا مطلب ہے، میں آپ کو فائدہ بتاتا ہوں– میں مصنوعی ذہانت کی دنیا سے وابستہ ایک شخص ہوں، اس لیے اگر آپ نمو ایپ پر جائیں گے تو نمو ایپ پر فوٹو ڈویژن پر جائیں گے ، وہاں اپنی سیلفی رکھیں گے اور آج کہیں پر بھی آپ میرے ساتھ نظر آتے ہیں تو آپ کو اپنی وہ تصویر مل جائے گی۔

شکریہ!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi lauds Bengaluru-based Prayoga Institute in Mann Ki Baat

Media Coverage

PM Modi lauds Bengaluru-based Prayoga Institute in Mann Ki Baat
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit Gujarat on 31 March
March 30, 2026
On the occasion of Mahavir Jayanti, PM to inaugurate Samrat Samprati Museum at Koba Tirth in Gandhinagar
Museum showcases rich historical, cultural, and spiritual legacy of Jainism and will help visitors gain a chronological understanding of the evolution of Jainism and its profound cultural impact
Marking a significant milestone in India’s semiconductor journey, PM to inaugurate the Kaynes Semicon Plant at Sanand
It will be the second semiconductor facility to commence commercial production in India
Facility to contribute to building indigenous semiconductor packaging capacity, addressing critical gap in India’s chip ecosystem and furthering the vision of self-reliance
PM to lay foundation stone, inaugurate, and dedicate to the Nation multiple development projects worth more than ₹20,000 crore in Vav-Tharad
Projects span key sectors including Power, Railways, Road Transport & Highways, Health, Urban Development, Tribal Development, and Rural Development

Prime Minister, Shri Narendra Modi will visit Gujarat on 31st March 2026. At around 10 AM, Prime Minister will inaugurate the Samrat Samprati Museum in Gandhinagar. He will also address the gathering on the occasion. At around 12:45 PM, Prime Minister will inaugurate the Kaynes Semicon Plant at Sanand, Ahmedabad and also address a public gathering. Thereafter, Prime Minister will travel to Vav-Tharad where, at around 4 PM, he will lay the foundation stone, inaugurate, and dedicate to the nation multiple development projects worth more than ₹20,000 crore. He will also address the gathering on the occasion.

PM in Gandhinagar

On the occasion of Mahavir Jayanti, Prime Minister will inaugurate the Samrat Samprati Museum at Koba Tirth in Gandhinagar. Named after Samrat Samprati, the grandson of Ashoka and a revered figure in Jain tradition known for his commitment to non-violence and propagation of Jainism, the museum showcases the rich historical, cultural, and spiritual legacy of Jainism.

Located within the Mahavir Jain Aradhana Kendra campus, the museum features seven distinct wings, each dedicated to unique aspects of India’s civilizational traditions. It offers visitors a comprehensive journey through centuries of knowledge and heritage. The museum integrates traditional exhibits with modern digital and audio-visual installations, creating an immersive and engaging experience for visitors, researchers, and scholars.

The museum preserves and displays centuries-old rare relics, Jain artefacts, and traditional heritage collections. These include intricately crafted stone and metal idols, large Tirth Patta and Yantra Patta, miniature paintings, silver chariots, coins, and ancient manuscripts, all exhibited across seven grand galleries. Housing over two thousand rare treasures arranged in expansive halls, the museum enables visitors to gain a chronological understanding of the evolution of Jainism and its profound cultural impact.

PM in Sanand

Prime Minister will inaugurate the Kaynes Semicon Plant at Sanand GIDC, Ahmedabad. This will mark the commencement of commercial production at the facility, representing a significant milestone in India’s semiconductor journey.

Commercial production will start with the manufacturing of advanced Intelligent Power Modules (IPMs), which are critical components for automotive and industrial applications requiring compact, efficient, and reliable power switching systems. Each module comprises 17 chips and will be supplied to California-based Alpha and Omega Semiconductor (AOS). When all phases of the plant are completed, it will have the capacity to produce 6.33 million units per day.

The inauguration of the Kaynes Semicon Plant is a major step under the India Semiconductor Mission (ISM). It will be the second semiconductor facility, after Micron Technology, among the approved projects under the programme to commence commercial production.

The project holds particular significance as it establishes India’s second OSAT/ATMP (Outsourced Semiconductor Assembly and Test / Assembly, Testing, Marking, and Packing) unit entering the production phase. It also marks the entry of an Indian-origin Electronics Manufacturing Services (EMS) player into semiconductor manufacturing, thereby strengthening domestic capabilities.

The facility will contribute to building indigenous semiconductor packaging capacity, addressing a critical gap in India’s chip ecosystem, and furthering the vision of self-reliance in high-technology manufacturing.

PM in Vav-Tharad

Prime Minister will lay the foundation stone, inaugurate, and dedicate to the Nation multiple development projects worth more than ₹20,000 crore. These projects span key sectors including Power, Railways, Road Transport & Highways, Health, Urban Development, Tribal Development, and Rural Development.

Prime Minister will inaugurate the Ahmedabad-Dholera Expressway, an access-controlled highway built at a cost of over ₹5,100 crore. The expressway will enhance regional connectivity, support industrial development in the Dholera Special Investment Region (DSIR), and boost economic growth.

Prime Minister will lay the foundation stone for the construction of the 4-lane Idar–Badoli bypass section with paved shoulders. He will also lay the foundation stone for the upgradation of the Dholavira–Mauvana–Vauva–Santalpur section (Package-II) of NH-754K to a two-lane paved shoulder carriageway. These projects will strengthen highway infrastructure, improve connectivity to key regions including tourism destinations such as Dholavira, enhance logistics efficiency, and support socio-economic development.

Prime Minister will also lay the foundation stone of key road infrastructure projects, including the flyover at Bhaijipura Junction on the Gandhinagar–Koba–Airport Road, which will ease traffic congestion and provide organized parking space beneath the structure. The Flyover Bridge at PDPU Junction on Gandhinagar-Koba-Arodram Road will also be inaugurated. The road connecting Gandhinagar to the airport handles a daily traffic volume of over 140,000 vehicles. The flyover will ensure smooth and uninterrupted traffic flow from CH-0 Junction to the airport between Ahmedabad & Gandhinagar.

Prime Minister will inaugurate key power transmission projects including the Khavda Pooling Station-2 and associated transmission systems for evacuation of 4.5 GW renewable energy, with a combined cost of around ₹3,650 crore. These projects will strengthen renewable energy integration and transmission capacity.

In the rail sector, Prime Minister will dedicate to the Nation the Kanalus–Jamnagar doubling project (28 km), part of the Rajkot–Kanalus doubling project (111.20 km), and the quadrupling of the Gandhidham–Adipur section (10.69 km). These projects will enhance rail capacity, reduce congestion, improve operational efficiency, and enable faster movement of passengers and freight.

Prime Minister will also inaugurate the Himmatnagar–Khedbrahma gauge conversion project (54.83 km), which will improve rail connectivity and passenger movement in the region. He will also flag off the Khedbrahma–Himmatnagar–Asarwa train service.

Prime Minister will inaugurate and lay the foundation stone of 44 Urban Development projects worth around ₹5,300 crore across Gujarat, aimed at enhancing urban infrastructure and improving quality of life. Prime Minister will inaugurate various Health and Family Welfare initiatives including the inauguration of an 858-bed Rain Basera at Civil Hospital, Asarwa, Ahmedabad, and a similar facility at Gandhinagar Civil Hospital and GMERS Medical College, Gandhinagar.

Prime Minister will inaugurate Tourism projects including the Light and Sound Show at Rani ki Vav, Patan, the Water Screen Projection Show at Sharmishtha Lake, Vadnagar, and lay the foundation stone of tourism infrastructure works at Balaram Mahadev and Vishweshwar Mahadev in Banaskantha, aimed at enhancing tourism experience and promoting cultural heritage.

Prime Minister will dedicate to the nation two major water pipeline projects worth around ₹1,780 crore including the Kasara-Dantiwada Pipeline in Banaskantha and the Dindrol-Mukteshwar Pipeline across Patan and Banaskantha. Prime Minister will lay the foundation stone for the water supply scheme for Ambaji and surrounding rural areas. It will provide potable water to 34 villages and Ambaji town, benefiting approximately 1.5 lakh people in Danta and Amirgadh talukas of Banaskantha district. Prime Minister will also lay the foundation stones for three Sabarmati Riverfront expansion projects in Gandhinagar district, with a combined investment of around ₹1000 crore.

Prime Minister will inaugurate the Government Boys Hostel at Vejalpur, Ahmedabad. The facility will support tribal students pursuing higher education.