بوئنگ سکنیا پروگرام کا آغاز کیا جس کا مقصد ملک کے بڑھتے ہوئے ہوا بازی کے شعبے میں لڑکیوں کے داخلے کی حمایت کرنا ہے
بوئنگ کیمپس وزیر اعظم کے خود کفیل بھارت اقدام کی جدید ترین مثالوں میں سے ایک بن جائے گا: محترمہ سٹیفنی پوپ، سی او او، بوئنگ کمپنی
‘‘ بی آئی ای ٹی سی ، ہوابازی کے شعبے میں اختراع اور ترقیات کے محرک کے مرکزطورپر کام کرے گا’’
‘‘بینگلور امنگوں کو اختراعات اور کامیابیوں سے جوڑتا ہے’’
‘‘بوئنگ کی نئی سہولت کرناٹک کے ایک نئے ہوابازی مرکز کے طور پر ابھرنے کا واضح اشارہ ہے’’
‘‘ہندوستان کی 15 فیصد پائلٹ خواتین ہیں جو عالمی اوسط سے 3 گنا زیادہ ہے’’
‘‘چندریان کی کامیابی نے ہندوستان کے نوجوانوں میں سائنسی مزاج کو فروغ دیا ہے’’
‘‘تیزی سے بڑھتا ہوا ہوا بازی کا شعبہ ہندوستان کی مجموعی ترقی کا محرک بن رہاہے اور روزگار کے مواقع پیدا کر رہا ہے’’
‘‘اگلے 25 سالوں میں ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر اب 140 کروڑ بھارتی شہریوں کا عزم بن گیا ہے’’
‘‘میک اِن انڈیا’’ کی حوصلہ افزائی کے لیے ہندوستان کا پالیسی نطقہ نظر ہر سرمایہ کار کے لئے جیت کی صورتحال ہے’’

کرناٹک کے گورنر محترم تھاور چند جی گہلوت، وزیر اعلیٰ محترم سدھا رمیا جی، کرناٹک اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر آر اشوک جی، ہندوستان میں بوئنگ کمپنی کی سی ای او محترمہ اسٹیفنی پوپ، دیگر انڈسٹری پارٹنرز، خواتین و حضرات!

میں بیرون ممالک سے آئے تمام مہمانوں کا بنگلورو میں استقبال کرتا ہوں۔ بنگلورو، ایسپریشنز کو انوویشنز اور اچیومینٹس سے جوڑنے والا شہر ہے۔ بنگلورو، ہندوستان کے ٹیک پوٹینشیل کو گلوبل ڈیمانڈ سے جوڑتا ہے۔ بوئنگ کا یہ نیا گلوبل ٹیکنالوجی کیمپس بھی بنگلورو کی اسی پہچان کو مضبوط کرنے والا ہے۔ یہ امریکہ کے باہر بوئنگ کمپنی کی سب سے بڑی فیسلیٹی ہوگی۔ اس لیے یہ فیسلیٹی، ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے ایوئیشن مارکیٹ کو ایک نئی طاقت دینے والی ہے۔ لیکن فرینڈز، اس فیسلیٹی کی اہمیت صرف اتنی ہی نہیں ہے۔ یہ گلوبل ٹیک، ریسرچ اور انوویشن، ڈیزائن اور ڈیمانڈ کو ڈرائیو کرنے کے، ہندوستان کے کمٹمنٹ کو بھی دکھاتا ہے۔ یہ میک اِن انڈیا، میک فار دی ورلڈ اس عزم کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ کیمپس، ہندوستان کے ٹیلنٹ پر دنیا کے بھروسے کو اور زیادہ مضبوط کرتا ہے۔ آج کا یہ دن، اس بات کو بھی سیلیبریٹ کرتا ہے کہ ایک دن ہندوستان، اس فیسلیٹی میں ایئرکرافٹ آف دی فیوچر کو بھی ڈیزائن کرے گا، اور اس لیے میں بوئنگ کے پورے مینجمنٹ کو، سبھی اسٹیک ہولڈرز کو،  بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں، بہت بہت نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

 

ساتھیوں،

آج کرناٹک کے باشندوں کے لیے بھی بہت بڑا دن ہے۔ پچھلے سال، کرناٹک میں ایشیا کی سب سے بڑی ہیلی کاپٹر مینوفیکچرنگ فیکٹری بن کر پوری ہوئی تھی۔ اب یہ گلوبل ٹیکنالوجی کیمپس بھی انہیں ملنے جا رہا ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ کرناٹک کس طرح  ایک بڑے ایوئیشن ہب کے طور پر  تیار ہو رہا ہے۔ میں خاص طور پر ہندوستان کے نوجوانوں کو مبارکباد دوں گا، کیوں کہ اس فیسلیٹی سے انہیں ایوئیشن سیکٹر میں نئی اسکلز سیکھنے کے متعدد مواقع حاصل ہوں گے۔

ساتھیوں،

ہماری کوشش ہے کہ آج ملک کے ہر سیکٹر میں  خواتین کی حصہ داری کو فروغ دیا جائے۔ اور آپ نے جی 20 سربراہ کانفرنس میں ہمارے ایک عزم کو دیکھا ہوگا۔ ہم نے دنیا کے سامنے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے ویمن لیڈ ڈیولپمنٹ کا۔ ایوئیشن اور ایرو اسپیس سیکٹر میں بھی ہم خواتین کے لیے نئے مواقع بنانے میں مصروف ہیں۔ چاہے فائٹر پائلٹس ہوں، یا پھر سول ایوئیشن ہو، آج بھارت، خواتین پائلٹس کے معاملے میں لیڈ کر رہا ہے۔ میں فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آج ہندوستان کے پائلٹس میں سے 15 پرسنٹ ویمن پائلٹس ہیں۔ اور اس کی اہمیت تب سمجھ میں آئے گی کہ یہ گلوبل ایوریج سے 3 گنا زیادہ ہے۔ آج جس بوئنگ سُکنیا پروگرام کی شروعات ہوئی ہے، اس سے ہندوستان کے ایوئیشن سیکٹر میں ہماری بیٹیوں کی حصہ داری مزید بڑھے گی۔ اس سے دور دراز کے علاقوں میں، غریب خاندانوں کی بیٹیوں کا پائلٹ بننے کا خواب پورا ہوگا۔ اس سے ملک کے  متعدد سرکاری اسکولوں میں پائلٹ بننے کے لیے کریئر کوچنگ اور  ڈیولپمنٹ کی سہولیات تیار ہوں گی۔

 

ساتھیوں،

ابھی کچھ مہینے پہلے ہی آپ نے دیکھا ہے کہ کیسے ہندوستان کا چندریان وہاں پہنچا، جہاں کوئی ملک نہیں پہنچ پایا۔ اس کامیابی نے ملک کے نوجوانوں میں سائنٹفک ٹیمپر کو ایک نئی بلندی پر پہنچا دیا ہے۔ بھارت ایس ٹی ای ایم ایجوکیشن کا بھی بہت بڑا ہب ہے، اور بڑی تعداد میں بھارت میں لڑکیاں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھ کی پڑھائی کرتی ہیں۔ اور مجھے یاد ہے، میں کبھی میرے غیر ملکی دورے کے وقت ایک ملک کے بہت بڑے لیڈر مجھے پوچھ رہے تھے کہ کیا بھارت میں بیٹیاں ایس ٹی ای ایم کی طرف دلچسپی رکھتی ہیں کیا؟ وہاں پڑھتی ہیں کیا؟ اور جب میں نے ان سے کہا کہ ہمارے یہاں  میل اسٹوڈنٹس سے زیادہ فیمیل اسٹوڈنٹس کی تعداد اس میں زیادہ ہے، تو ان کے لیے سرپرائز تھا۔ بوئنگ سکنیا پروگرام کو ہندوستان کی بیٹیوں کی اس صلاحیت کا بھی بہت فائدہ ملنے جا رہا ہے۔ فرینڈز، آپ سبھی نے ایوئیشن مارکیٹ  کے طور پر ہندوستان کی گروتھ کو اسٹڈی بھی کیا ہے اور اس کی ٹریجکٹری کو فالو بھی کر رہے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان کا ایوئیشن مارکیٹ پوری طرح سے ٹرانسفارم ہو گیا ہے۔ آج ایوئیشن سیکٹر سے جڑا ہر اسٹیک ہولڈر نئی جوش سے بھرا ہوا ہے۔ مینوفیکچرنگ سے لے کر سروسز تک، ہر اسٹیک ہولڈر بھارت میں نئے امکانات تلاش کر رہا ہے۔ آج بھارت دنیا کا تیسرا بڑا ڈومیسٹک ایوئیشن مارکیٹ بن چکا ہے۔ ایک دہائی میں ہندوستان میں ڈومیسٹک پیسنجرز کی تعداد دوگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ اس میں اڑان جیسی اسکیموں نے بڑا رول ادا کیا ہے۔ اب اگلے کچھ برسوں میں ڈومیسٹک پیسنجرز کی یہ تعداد اور بھی بڑھنے جا رہی ہے۔ اتنی بڑی ڈیمانڈ کو کو دیکھتے ہوئے ہی، ہماری ایئرلائنس نے سینکڑوں نئے ایئرکرافٹس کا آرڈر دیا ہے۔ یعنی بھارت، دنیا کے ایوئیشن مارکیٹ کو ایک نئی توانائی فراہم کرنے جا رہا ہے۔

فرینڈز، آج ہم سبھی بھارت کے ایوئیشن سیکٹر کو لے کر اتنے جوش سے بھرے ہوئے ہیں۔ لیکن 10 سال میں ایسا کیا ہوا، جس سے گلوبل ایوئیشن سیکٹر میں بھارت اتنا آگے بڑھ گیا؟ یہ اس لیے ہوا ہے کیوں کہ آج بھارت، اپنے شہریوں کی ایسپریشنز اور ’ایز آف لیونگ‘ کو سب سے اوپر رکھتے ہوئے کام کرتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب خراب ایئر کنکٹیویٹی، ہمارے یہاں بہت بڑا چیلنج تھی۔ اس وجہ سے ہندوستان اپنے پوٹنشیل کو پرفارمنس میں نہیں بدل پا رہا تھا۔ اس لی ہم نے کنکٹیویٹی انفراسٹرکچر میں انویسٹمنٹ کو اپنی ترجیح بنایا۔ آج بھارت، دنیا کے سب سے ویل کنکٹیڈ مارکیٹ میں سے ایک بن رہا ے۔ 2014 میں بھارت میں 70 کے آس پاس آپریشنل ایئرپورٹس تھے۔ آج ملک میں 150 کے آس پاس آپریشنل ایئرپورٹ ہیں۔ ہم نے نئے ایئرپورٹ ہی نہیں بنائے، بلکہ اپنے ایئرپورٹس کی افیشئنسی کو بھی کئی گنا بڑھایا ہے۔

 

 

فرینڈز،

بھارت کی ایئرپورٹ کیپسٹی بڑھنے سے ایئر کارگو کے شعبہ میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس سے ہندوستان کے دور دراز کے علاقوں کے پروڈکٹس، اس کو انٹرنیشنل مارکیٹس تک پہنچانا آسان ہو رہا ہے۔ تیزی سے بڑھتا ایوئیشن سیکٹر، بھارت کی مجموعی ترقی اور امپلائمنٹ جنریشن کو بھی رفتار دے رہا ہے۔

فرینڈز،

اپنے ایوئیشن سیکٹر کی یہ گروتھ بنی رہے، اور تیز ہو، اس کے لیے بھارت پالیسی لیول پر لگاتار قدم اٹھا رہا ہے۔ ہم ریاستی حکومتوں کو ترغیب دے رہے ہیں کہ ایوئیشن فیول سے جڑے ٹیکسز کو کم کیا جائے۔ ایئرکرافٹ لیزنگ کو بھی ہم آسان بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ایئرکرافٹ لیزنگ اور فائنانسنگ میں بھارت کی آف شور ڈیپنڈنس کم ہو۔ اس لیے گفٹ سٹی میں، انٹرنیشنل فائنانشیل سروسز سنٹرز اتھارٹی  قائم کی گئی ہے۔ اس کا فائدہ بھی پورے ملک کے ایوئیشن سیکٹر کو ملے گا۔

ساتھیوں،

لال قلعہ سے میں نے کہا تھا – یہی وقت ہے،  صحیح وقت ہے۔ بوئنگ اور دوسری انٹرنیشنل کمپنیوں کے لیے بھی یہی وقت ہے۔ یہ ان کے لیے ہندوستان کی تیز گروتھ کے ساتھ اپنی گروتھ کو جوڑنے کا وقت ہے۔ آنے والے 25 سال میں ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر اب 140 کروڑ ہندوستانیوں کا عزم بن چکا ہے۔ گزشتہ 9 سالوں میں ہم نے تقریباً 25 کروڑ ہندوستانیوں کو غریبی سے باہر نکالا ہے۔ یہ کروڑوں ہندوستانی اب ایک نیو مڈل کلاس کی تعمیر کر رہے ہیں۔ آج بھارت میں ہر انکم گروپ میں اپ وار موبلٹی دیکھی جا رہی ہے۔ بھارت کا ٹورزم سیکٹر بھی تیز رفتار سے ایکسپینڈ کر رہا ہے۔ یعنی آپ سب کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ آپ کو اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہے۔

 

فرینڈز،

جب بھارت میں اتنے امکانات ہیں، تب ہمیں بھارت میں ایئرکرافٹ مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم بھی تیزی سے تعمیر کرنا ہوگا۔ ہندوستان میں ایم ایس ایم ای کا ایک مضبوط نیٹ ورک ہے۔ ہندوستان میں ایک بہت بڑا ٹیلنٹ پول ہے۔ ہندوستان میں ایک اسٹیبل سرکار ہے۔ ہندوستان میں میک اِن انڈیا،  وزیر اعلیٰ صاحب ایسا ہوتا رہتا ہے۔ ہندوستان میں میک ان انڈیا کو آگے بڑھانے والی پالیسی اپروچ ہے۔ اس لیے یہ ہر سیکٹر کے لیے وِن وِن سچویشن ہے۔ مجھے یقین ہے، ہندوستان میں بوئنگ کے پہلے فُلیّ ڈیزائنڈ اور مینوفیکچرڈ ایئرکرافٹ کے لیے بہت زیادہ انتظار نہیں کرنا ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ ہندوستان کی ایسپریشنز اور آپ کی ایکس پینشن– یہ ایک مضبوط پارٹنرشپ کے طور پر ابھرے گی۔ آپ سبھی کو اس نئی فیسلیٹی کے لیے پھر سے نیک خواہشات۔ اور خاص طور پر دِویانگ جنوں کو لے کر کے آپ نے جو کام کیا ہے۔ اور صرف مجھے جن سے میرا ملنا ہوا ہے اور جس طرح میرے سے بات ہو رہی تھی مجھے صرف ایک انتظام ہی نہیں  دکھائی دے رہا تھا، مجھے اس میں اموشنل ٹچ فیل ہوتا تھا۔ اور بوئنگ کی ٹیم کے کنوکشن کے بغیر اموشنل ٹچ ممکن نہیں ہے۔ میں اس کے لیے بوئنگ ٹیم کو خاص طور سے مبارکباد دیتا ہوں، شکریہ ادا کرتا ہوں۔ بہت بہت شکریہ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India stands tall in shaky world economy as Fitch lifts FY26 growth view to 7.5%

Media Coverage

India stands tall in shaky world economy as Fitch lifts FY26 growth view to 7.5%
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi lays foundation stone, inaugurates various development works worth Rs.18,700 crore in Kolkata, West Bengal
March 14, 2026
Today, a vigorous nationwide campaign to modernise railways is underway, and we are determined that West Bengal should not be left behind in this effort: PM
The central government is rapidly expanding the railway infrastructure in West Bengal: PM
Ports like Kolkata and Haldia have long been major centers of trade in Eastern India: PM
Mechanisation at the Haldia Dock Complex will speed up cargo operations, enhance port capacity and strengthen trade facilities: PM

Prime Minister Shri Narendra Modi laid the foundation stone, inaugurated various development works worth more than Rs.18,000 crore in Kolkata, West Bengal, today. Addressing the gathering the Prime Minister remarked, "Today, from the land of Kolkata, a new chapter of development is being written for West Bengal and Eastern India."

The Prime Minister highlighted that the foundation stones and dedications of projects worth more than ₹18,000 crore related to roads, railways, and port infrastructure have been carried out at this event. He emphasized that these projects will give new momentum to West Bengal and Eastern India, boost trade and industry, and make life easier for lakhs of people by providing them new opportunities. Referring to some of the key projects, the Prime Minister noted that the completion of the Kharagpur–Moregram Expressway will accelerate economic activities across many parts of West Bengal. He also mentioned the Dubrajpur Bypass and the major bridges being constructed over the Kangsabati and Shilabati rivers, which will further improve connectivity. "I congratulate the people of West Bengal and the entire Eastern India for these transformative projects," remarked Shri Modi.

The Prime Minister stated that a vigorous campaign is underway across the country to modernize the Indian Railways, and it is the firm resolve of the government that West Bengal does not lag behind in this mission. He pointed out that the Central Government is rapidly expanding the railway infrastructure in West Bengal. On this occasion, the Automatic Block Signalling System on the Kalaikunda–Kanimahuli section has been dedicated to the nation. "These initiatives will enhance the capacity of busy rail routes, make journeys safer, and also increase speed and convenience for passengers", asserted Shri Modi.

The Prime Minister announced the inauguration of six stations, Kamakhyaguri, Anara, Tamluk, Haldia, Barabhum, and Siuri,as Amrit Bharat Stations. He noted that the great culture of Bengal is now shining even more brightly at these stations, and several more stations are undergoing redevelopment. A new express train service between Purulia and Anand Vihar Terminal has also been flagged off. "This train service will benefit not only the people of West Bengal but also those in Jharkhand, Bihar, Uttar Pradesh, and Delhi" , affirmed Shri Modi.

The Prime Minister emphasized that ports and water transport play an equally important role as road and rail connectivity in driving economic progress. He observed that for decades, this immense potential of Eastern India was largely neglected, but today, waterways are opening new avenues for trade and industrial advancement. In this direction, foundation stones and dedications of key port infrastructure projects have been carried out. The Prime Minister highlighted that Kolkata and Haldia ports have long been major centres of trade in Eastern India, and the mechanization of the Haldia Dock Complex will accelerate cargo operations, enhance port capacity, and provide new facilities for trade. Additionally, the renovation of the Bascule Bridge in the Kolkata Dock System and the augmentation of cargo handling capacity at Kidderpore Dock are also being undertaken. "All these projects will further strengthen the logistics system of Eastern India", asserted Shri Modi.

In his concluding remarks, the Prime Minister underscored that the new projects related to roads, railways, and ports are paving the way for a modern future for West Bengal. He noted that the benefits of these projects will reach farmers, traders, entrepreneurs, students, and every section of society. New opportunities will emerge in sectors like tourism, and local industries and services will gain fresh momentum. The Prime Minister recalled Bengal's historic role in showing the way to India and expressed his conviction that strong connectivity and modern infrastructure will form the foundation of a developed Bengal. "It is our resolve that Bengal, which has always shown the way to India, should once again achieve that glory by becoming a 'Viksit Bengal' ", emphasized Shri Modi.