چاہے کوئی بھی جماعت ہو، ہمیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ نئے اراکینِ پارلیمنٹ اور پہلی بار پارلیمنٹ میں آنے والے اراکین کو بامعنی مواقع فراہم کیے جائیں:وزیرِ اعظم
بھارت نے ثابت کر دیا ہے کہ جمہوریت نتائج دے سکتی ہے: وزیرِ اعظم
یہ سرمائی اجلاس ہماری کوششوں میں نئی توانائی ڈالے گا تاکہ ہم ملک کو اور بھی تیز رفتار سے آگے لے جا سکیں:وزیرِ اعظم

نمسکار ساتھیوں

آپ بھی موسم کا لطف اٹھائیے۔

ساتھیوں،

یہ موسم سرما اجلاس صرف کوئی رسم و رواج نہیں ہے۔ یہ قوم کو ترقی کی جانب تیز رفتاری سے لے جانے کی موجودہ کوششوں میں توانائی بھرنے کا کام بھی کرے گا، اس کا مجھے مکمل یقین ہے۔ بھارت نے جمہوریت کو جیا ہے اور جمہوریت کے جوش اور جذبے کو وقتاً فوقتاً اس طرح ظاہر کیا ہے کہ جمہوریت پر اعتماد مزید مضبوط ہوتا رہتا ہے۔گزشتہ دنوں، بہار میں جو انتخابات ہوئے، ان میں ووٹنگ کے جو ریکارڈ بنے ہیں، وہ جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ ماں بہنوں کی بڑھتی ہوئی شرکت خود میں ایک نئی امید اور نیا اعتماد پیدا کرتی ہے۔ ایک طرف جمہوریت کی مضبوطی اور اس جمہوری نظام کے تحت معیشت کی مضبوطی،اس پر دنیا بہت غور سے نظر رکھ رہی ہے۔ بھارت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ  ڈیموکریسی کین ڈیلیور۔جس رفتار سے آج بھارت کی اقتصادی صورتحال نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے، یہ ہمیں ترقی یافتہ بھارت کے ہدف کی جانب جانے کے لیے نہ صرف نیا اعتماد دلاتی ہے بلکہ نئی طاقت بھی فراہم کرتی ہے۔

ساتھیوں،

پارلیمنٹ ملک کے لیے کیا سوچ رہی ہے، ملک کے لیے کیا کرنا چاہتی ہے اور ملک کے لیے کیا کرنے والی ہے، یہ سیشن اس بات پر مرکوز ہونا چاہیے۔ اپوزیشن کو بھی اپنا فرض پورا کرنا چاہیے، بحث میں مضبوط اور متعلقہ مسائل اٹھانے چاہئیں۔ ناکامی کی مایوسی سے نکل کر سامنے آئیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ایک یا دو جماعتیں ایسی ہیں جو ناکامی کو بھی برداشت نہیں کر پاتیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ بہار کے نتائج اتنے دنوں بعد، شاید اب تھوڑا سنبھل گئے ہوں گے، لیکن کل جو بیان بازی سن رہا تھا، اس سے لگتا ہے کہ ناکامی نے انہیں پریشان کر رکھا ہے۔میری تمام جماعتوں سے یہ اپیل ہے کہ موسم سرما اجلاس ناکامی کی الجھن کا میدان نہیں بننا چاہیے اور یہ سیشن فتح کے غرور میں بھی تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ بہت ہی متوازن طریقے سے، ذمہ داری کے ساتھ، جس طرح عوام نے ہمیں بطور نمائندہ ذمہ داری دی ہے اور توقعات رکھیں ہیں، ان کا خیال رکھتے ہوئے ہمیں آگے کے لیے سوچنا چاہیے۔ جو کام ہے، اسے کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے، اگر کچھ خراب ہو جائے تو اس پر درست اور معقول رائے کیسے دی جا سکتی ہے تاکہ ملک کے شہریوں کا بھی علم بڑھے۔ یہ محنت طلب کام ہے، لیکن ملک کے لیے کرنا چاہیے۔میری سب سے بڑی تشویش یہ رہی ہے کہ پچھلے کئی عرصے سے پہلی بار منتخب ہونے والے یا کم عمر تمام ممبران، چاہے وہ کسی بھی جماعت کے ہوں، بہت پریشان اور مایوس ہیں۔ انہیں اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے اور اپنے حلقے کے مسائل بیان کرنے کا موقع نہیں مل رہاہے۔ جو اپنی بات کہنا چاہتے ہیں تاکہ ملک کی ترقی کے سفر میں حصہ لے سکیں، ان پر بھی روک لگائی جا رہی ہے۔ کسی بھی جماعت کے ہوں، ہمیں ان نوجوان اور پہلی بار منتخب ہونے والے ممبران کو موقع دینا چاہیے تاکہ ان کے تجربات سے پارلیمنٹ کو فائدہ ملے اور یہ تجربات ملک کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوں۔میری اپیل ہے کہ ہم ان باتوں کو سنجیدگی سے لیں۔ ڈراما کرنے کے لیے جگہ بہت ہے، جس کو کرنا ہے وہ کریں، لیکن یہاں ڈراما نہیں، کام کی انجام دہی ہونی چاہیے۔ نعرے لگانے کے لیے بھی جگہ بہت ہے، پورا ملک ہے، جہاں ناکامی ہوئی ہے وہاں بول چکے ہیں اور جہاں مستقبل میں ناکامی ہونے والی ہے وہاں بھی بول دیں۔ لیکن یہاں نعرے نہیں، پالیسی اور کام پر زور ہونا چاہیے۔ اور یہ آپ کی نیت ہونی چاہیے۔

 

ساتھیوں،

شاید سیاست میں منفی رویہ کبھی کبھار مفید ہوتا ہو، لیکن آخرکار قوم کی تعمیر کے لیے کچھ مثبت سوچ بھی ضروری ہونی چاہیے۔ منفی رویے کو اپنی حدود میں رکھتے ہوئے، قوم کی تعمیر کی طرف توجہ دینا چاہیے، یہ میری توقع رہے گی۔

 

ساتھیوں،

یہ موسم سرما اجلاس ایک اور وجہ سے بھی اہم ہے۔ ہمارے نئے معزز چیئرمین صاحب آج سے ہمارے اعلیٰ ایوان کی رہنمائی کا آغاز کر رہے ہیں۔ میں انہیں نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

ساتھیوں،

جی ایس ٹی اصلاحات نے اگلی نسل کی اصلاحات کے لیے ملک کے لوگوں کے دلوں میں ایک اعتقاد اور احترام کا ماحول پیدا کیا ہے۔ اس سیشن میں بھی اس سمت میں کئی اہم اقدامات ہونے والے ہیں۔ اگر ہمارے ملک کے میڈیا کے دوست کبھی تجزیہ کریں، تو انہیں یہ نظر آئے گا کہ پچھلے کچھ عرصے سے ہمارے ایوان کا استعمال یا تو انتخابی وارمنگ اپ کے لیے ہو رہا ہے یا ناکامی کی مایوسی نکالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔اب میں نے دیکھا ہے کہ کچھ ریاستیں ایسی ہیں جہاں اقتدار میں رہنے کے بعد اتنی اینٹی انکمبنسی ہے کہ وہ عوام میں نہیں جا پا رہے ہیں، وہاں جا کر اپنی بات نہیں پہنچا پا رہے ہیں اور اسی لیے سارا غصہ ایوان میں آ کر نکالا جاتا ہے۔ کچھ جماعتوں نے ایوان کو اپنی ریاست کی سیاست کے لیے استعمال کرنے کی ایک نئی روایت قائم کر دی ہے۔ اب انہیں ایک بار سوچنا چاہیے کہ پچھلے 10 سال سے یہ کھیل، ملک قبول نہیں کر رہا ہے۔ لہٰذا اپنی حکمت عملی بدلیں۔ میں انہیں ٹپس دینے کے لیے تیار ہوں کہ کیسے بہتر کارکردگی دکھائیں۔لیکن کم از کم ممبران پارلیمنٹ کے حقوق پر حملہ مت کریں۔ ممبران کو اظہار رائے کا موقع دیں۔ اپنی مایوسی اور ناکامی سے ممبران کو قربان نہ کریں۔ میں امید کرتا ہوں کہ ہم سب ان ذمہ داریوں کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔میں ملک کو یقین دلاتا ہوں کہ قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ قوم نئی بلندیوں کی جانب بڑھ رہی ہے اور یہ ایوان بھی اس میں نئی توانائی اور نئی قوت بھرنے کا کام کرے گا۔اسی اعتماد کے ساتھ، بہت بہت شکریہ۔

 

ساتھیوں،

یہ موسم سرما اجلاس ایک اور وجہ سے بھی اہم ہے۔ ہمارے نئے معزز چیئرمین صاحب آج سے ہمارے اعلیٰ ایوان کی رہنمائی کا آغاز کر رہے ہیں۔ میں انہیں نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

ساتھیوں،

جی ایس ٹی اصلاحات نے اگلی نسل کی اصلاحات کے لیے ملک کے لوگوں کے دلوں میں ایک اعتقاد اور احترام کا ماحول پیدا کیا ہے۔ اس سیشن میں بھی اس سمت میں کئی اہم اقدامات ہونے والے ہیں۔ اگر ہمارے ملک کے میڈیا کے دوست کبھی تجزیہ کریں، تو انہیں یہ نظر آئے گا کہ پچھلے کچھ عرصے سے ہمارے ایوان کا استعمال یا تو انتخابی وارمنگ اپ کے لیے ہو رہا ہے یا ناکامی کی مایوسی نکالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔اب میں نے دیکھا ہے کہ کچھ ریاستیں ایسی ہیں جہاں اقتدار میں رہنے کے بعد اتنی اینٹی انکمبنسی ہے کہ وہ عوام میں نہیں جا پا رہے ہیں، وہاں جا کر اپنی بات نہیں پہنچا پا رہے ہیں اور اسی لیے سارا غصہ ایوان میں آ کر نکالا جاتا ہے۔ کچھ جماعتوں نے ایوان کو اپنی ریاست کی سیاست کے لیے استعمال کرنے کی ایک نئی روایت قائم کر دی ہے۔ اب انہیں ایک بار سوچنا چاہیے کہ پچھلے 10 سال سے یہ کھیل، ملک قبول نہیں کر رہا ہے۔ لہٰذا اپنی حکمت عملی بدلیں۔ میں انہیں ٹپس دینے کے لیے تیار ہوں کہ کیسے بہتر کارکردگی دکھائیں۔لیکن کم از کم ممبران پارلیمنٹ کے حقوق پر حملہ مت کریں۔ ممبران کو اظہار رائے کا موقع دیں۔ اپنی مایوسی اور ناکامی سے ممبران کو قربان نہ کریں۔ میں امید کرتا ہوں کہ ہم سب ان ذمہ داریوں کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔میں ملک کو یقین دلاتا ہوں کہ قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ قوم نئی بلندیوں کی جانب بڑھ رہی ہے اور یہ ایوان بھی اس میں نئی توانائی اور نئی قوت بھرنے کا کام کرے گا۔اسی اعتماد کے ساتھ، بہت بہت شکریہ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's pace of economic growth shows that its Viksit Bharat dream is not out of reach

Media Coverage

India's pace of economic growth shows that its Viksit Bharat dream is not out of reach
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs valedictory session of National Departmental Summit on Water
September 02, 2026
This marks the first in a series of Summits envisioned by PM to strengthen spirit of Team India and deepen cooperative federalism
PM stresses adoption of a continuous process of review and follow up to act on actionable and time-bound outcomes
Emphasising Jan Bhagidari, PM calls for promoting Jal Utsav to deepen public awareness on water conservation
PM calls for greater adoption of water-saving technologies and learning from global best practices
PM calls for robust water data governance through effective use of AI
PM suggests structured inter-State Study-visits involving public representatives, officials and farmers on water related issues

Prime Minister Shri Narendra Modi today chaired the valedictory session of the two-day National Departmental Summit on Water, organised by the Ministry of Jal Shakti. The Summit is the first in a series of Departmental Summits envisioned by Prime Minister to strengthen the spirit of Team India, deepen cooperative federalism and foster collective ownership of national priorities through closer collaboration between the Centre and the States. It brought together Ministers and senior officials from States and Union Territories for focused deliberations on various dimensions of India’s water security.

Prime Minister appreciated the intensive two-day deliberations and emphasised that the actionable and time-bound action points emerging from the Summit should be pursued through a continuous process of review and learning. He suggested that the Summit should not remain a one-time exercise and called for a continuous process of review and follow-up.

Prime Minister called for sensitising Urban Local Bodies to the challenges arising from urbanisation, including population growth and future water requirements, and suggested organising similar Chintan Shivirs for Urban Local Bodies. He called for greater adoption of water-saving technologies. He also suggested dedicated exhibitions and workshops, including exposure to global best practices, to enable Indian manufacturers and stakeholders to develop and scale efficient solutions.

Emphasising Jan Bhagidari, Prime Minister suggested promoting “Jal Utsav” to create greater awareness among people. Prime Minister called for making de-silting a regular programme and developing clear criteria and SOPs for de-silting. On dam safety, he stressed rigorous preparedness before every monsoon, adherence to prescribed precautions and creating awareness among school students, including through suitable incorporation in educational curricula.

Prime Minister further called for strengthening knowledge and capacity on water management and governance in universities and higher educational institutions. He suggested structured inter-State study-visits involving public representatives, officials and farmers to facilitate practical learning and replication of successful interventions.

Prime Minister called for robust water data governance, with water-sector data brought together, systematically managed, analysed and effectively utilised. He recommended the use of AI for data collection and analysis through a uniform format. He also stressed anticipatory and integrated planning to address water scarcity through suitable utilisation of treated water for agriculture and industrial purposes.

Drawing upon his experience as Chief Minister of Gujarat, Prime Minister noted that instances of water scarcity could be transformed into opportunities through systematic planning, commitment and deployment of adequate resources and capable officers.

Union Minister for Jal Shakti Shri C. R. Patil highlighted four key outcomes of the summit: accelerated completion of water infrastructure projects; strengthening water conservation as a sustained people’s movement; ensuring long-term sustainability of drinking-water sources; and institutionalising effective operation and maintenance of rural drinking-water schemes.