Share
 
Comments
“During Corona time, India saved many lives by supplying essential medicines and vaccines while following its vision of ‘One Earth, One Health’”
“India is committed to become world’s reliable partner in global supply-chains”
“This is the best time to invest in India”
“Not only India is focussing on easing the processes in its quest for self-reliance, it is also incentivizing investment and production”
“India is making policies keeping in mind the goals of next 25 years. In this time period, the country has kept the goals of high growth and saturation of welfare and wellness. This period of growth will be green, clean, sustainable as well as reliable”
“‘Throw away’ culture and consumerism has deepened the climate challenge. It is imperative to rapidly move from today’s ‘take-make-use-dispose’ economy to a circular economy”
“Turning L.I.F.E. into a mass movement can be a strong foundation for P-3 i.e ‘Pro Planet People”
“It is imperative that every democratic nation should push for reforms of the multilateral bodies so that they can come up to the task dealing with the challenges of the present and the future”

نمسکار!

130 کروڑ ہندوستانیوں کی جانب سے میں عالمی اقتصادی فورم میں تمام دنیا سے یکجا ہو ئے مندوبین کو  اپنی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ آج  ، جب میں آپ سے بات کر رہا ہوں، ہندوستان  پوری چوکسی  اور احتیاط کے ساتھ کورونا کی ایک  اور لہر سے  نمٹ ر ہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ  ہندوستان  اقتصادی شعبے  میں بھی  آگے بڑھ ر ہا ہے، جس میں کئی امید افزا  نتائج سامنے آئے  ہیں۔ آج  ہندوستان  اپنی آزادی کے  75  سال  کے  جشن کے جوش سے بھی بھرا ہوا ہے اور  صرف ایک سال کے اندر  160  کروڑ  کورونا کے ٹیکے لگائے جانے کے ساتھ  پُر اعتماد بھی ہے۔

دوستو،

ہندوستان جیسی  مضبوط  جمہوریت  نے  پوری دنیا کو  ایک خوبصورت تحفہ ، امیدوں کا ایک گلدستہ پیش کیا ہے۔ اس  گلدستہ میں ، ہم ہندوستانیوں کا  جمہوریت پر  غیر متزلزل  اعتماد  شامل ہے؛  اس  گلدستہ میں  وہ ٹیکنالوجی ہے، جو 21 ویں صدی کو  با اختیار بنائے گی اور  اس میں  ہم ہندوستانیوں کی صلاحیت اور  جوش وخروش  شامل ہے۔ ہم  ہندوستانی  جس کثیر لسانی ، کثیر ثقافتی ماحول میں رہ رہے ہیں ، وہ نہ صرف ہندوستان کے لئے ایک عظیم قوت  ہے بلکہ  پوری دنیا کے لئے بڑی طاقت ہے۔ یہ قوت  نہ  صرف  بحران  کے وقت میں  خود کے بارے میں سوچنے کا سبق دیتی ہے  بلکہ  انسانیت کے لئے کام کرنے کا  بھی  سبق  دیتی ہے۔ کورونا کے وقت میں  ہم نے دیکھا کہ  کس طرح  ہندوستان  نے  ایک  دنیا  -  ایک صحت  پر عمل کرتے ہوئے  بہت سے ملکوں کو  ضروری ادویات  اور ویکسین  فراہم کرتے ہوئے  کروڑوں زندگیاں بچائی ہیں۔ آج ہندوستان  دنیا کا تیسرا  سب سے بڑا  ادویات  بنانے والا ملک ہے  اور یہ دنیا کی  فارمیسی  ہے  کہ آج  ہندوستان دنیا کے اُن ملکوں میں شامل ہے ، جہاں کے صحت  کے پیشہ  ور  افراد اور ڈاکٹر  اپنی  حساسیت  اور مہارت  سے  ہر ایک کا اعتماد جیت رہے ہیں۔

دوستو،

بحران کے دور میں ہی  حساسیت  کا امتحان ہوتا ہے لیکن  ہندوستان کی قوت  ایسے وقت میں پوری دنیا کے لئے ایک مثال ہے۔ اس بحران کے دوران  ہندوستان کے آئی ٹی سیکٹر نے 24 گھنٹے کام کرکے  دنیا کے تمام ملکوں  کو بچا یا  ہے۔ آج ہندوستان  پوری دنیا میں  ریکارڈ  تعداد میں سافٹ ویئر انجینئر بھیج رہا ہے ۔ 50 لاکھ سے زیادہ سافٹ ویئر ڈیولپرس ہندوستان میں کام کر رہے ہیں۔ آج  ہندوستان میں  یونیکون کی  تعداد  دنیا میں تیسری سب سے بڑی تعداد  ہے۔ پچھلے 6 مہینوں کے دوران 10  ہزار سے زیادہ  اسٹارٹ اپس  کا اندراج ہوا ہے۔ آج ہندوستان میں  ایک وسیع  محفوظ  اور  کامیاب  ڈیجیٹل ادائیگی  پلیٹ فارم موجود ہے۔ پچھلے ایک مہینے  میں ہی  ہندوستان میں  یونیفائڈ پیمنٹس انٹر فیس  (یو پی آئی)  کے ذریعہ  4.4  ارب  لین دین کئے گئے ہیں۔

دوستو،

 ہندوستان میں  پچھلے برسوں کے دوران  جو ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ  تیار  اور  استعمال کیا گیا ہے، وہ آج  ہندوستان کے لئے  ایک وسیع  قوت بن چکا ہے۔ کورونا  انفیکشن   سے نمٹنے کے لئے  اروگیہ سیتو ایپ  اور  ٹیکہ کاری کے لئے کو-وین پورٹل جیسے ٹیکنالوجی  کے حل ہندوستان کے لئے  ایک فخر کی بات ہے۔ ہندوستان  کے کو-  وین پورٹل کے ذریعہ  بکنگ سے لے کر  سرٹیفکٹس کی تیاری تک  آن لائن سہولیات میں  بڑے ملکوں کے  عوام کی بھی توجہ  اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔

دوستو،

ایک وقت تھا جب ہندوستان کی  لائسنس راج  کے ساتھ  شناخت کی جاتی تھی اور  زیادہ تر چیزوں پر حکومت کا کنٹرول تھا۔ میں  ان چیلنجوں کو سمجھتا ہوں، جو اُن دنوں ہندوستان میں کاروبار کرنے  میں در پیش تھے۔ ہم مسلسل  ان تمام چیلنجوں پر قابو پانے  کی کوشش کر رہے ہیں۔ آج ہندوستان کاروبار  کرنے میں آسانی  کو فروغ دے رہا ہے اور سرکاری  مداخلت کو کم سے کم کر رہا ہے۔ ہندوستان نے  کارپوریٹ ٹیکس  کو آسان بنا کر اور کم کر کے  پوری دنیا میں  سب سے زیادہ  مسابقتی  بنادیا ہے۔ صرف پچھلے  سال میں ہی ہم نے  25  ہزار سے  زیادہ تعمیلات کو ختم کیا ہے۔ ہندوستان نے  ماضی سے وابستہ  ٹیکس جیسے  اصلاحی اقدامات کے ذریعہ کاروباری برادری کا اعتماد حاصل کیا ہے۔ ہندوستان نے  ڈرون، خلاء ، جیو اسپیشیئل میپنگ جیسے  کئی  شعبوں کو ریگولیشن سے آزاد کیا ہے۔ ہندوستان نے  آئی ٹی سیکٹر اور   بی پی  او  سے متعلق فرسودہ  ٹیلی مواصلاتی  ریگولیشن  میں بڑی اصلاحات کی ہیں۔

دوستو،

ہندوستان دنیا میں  عالمی سپلائی چین  میں ایک  بھروسہ مند ساجھیدار بننے کا عہد کئے ہوئے ہے۔ ہم  کئی ملکوں کے ساتھ  آزادی تجارتی معاہدے  کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی اور اختراعات  کو اپنانے  کی صلاحیت ،  ہندوستانیوں کی  صنعت کاری کا جذبہ  ہمارے عالمی  ساجھیداروں کو  نئی تقویت دے سکتے ہیں۔ اس لئے  یہ  ہندوستان میں سرمایہ کاری کا بہترین وقت ہے۔ ہندوستانی نوجوانوں میں   صنعت کاری  آج نئے عروج پر ہے۔ 2014  میں جب ہندوستان میں  صرف  چند سو  رجسٹرڈ  اسٹارٹ اپ تھے، آج  اُن کی تعداد 60  ہزار سے تجاوز  کر گئی ہے۔ ہندوستان میں 80  سے زیادہ یونیکون ہیں، جن میں  40  سے زیادہ  سال  2021  میں ہی  بنائے گئے ہیں۔ جس طرح  بیرونی ملکوں میں رہنے والے ہندوستانی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اسی طرح  ہندوستانی نوجوان ، ہندوستان میں  آپ کے تمام  کاروباروں کو نئی اونچائی تک پہنچانے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔

دوستو،

وسیع اقتصادی اصلاحات  کے لئے  ہندوستان  کا عہد ، ہندوستان کو  آج  سرمایہ کاری کا سب سے پسندیدہ مقام بنانے کی ایک اور بڑی وجہ ہے۔ کورونا کے دور میں،  جب  کہ دنیا  کوانٹی ٹیٹیو ایزنگ پروگرام (کیو ای پی) جیسی  جدت طرازی پر توجہ مرکو ز کر رہی تھی، ہندوستان نے اصلاحات  کے لئے  راہ ہموار کی۔ کورونا کے دور میں ہی  جدید ڈیجیٹل اور  ٹھوس  بنیادی ڈھانچے کے سب سے بڑے پروجیکٹوں  میں غیر معمولی   تیزی لائی گئی۔ ملک میں 6  لاکھ سے زیادہ گاؤوں کو  آپٹیکل فائبر کے ساتھ  مربوط کیا  جا رہا ہے، خاص طور پر کنکٹی ویٹی کے بنیادی ڈھانچے پر  1.3  ٹریلین  ڈالر  کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ 80  ارب ڈالر  کے حصول کے لئے اختراعی مالی طریقہ کار جیسے  ایسیٹ موناٹائزیشن (اے ایم) پر کام شروع کیا گیا ہے۔ ہندوستان نے ترقی کو فروغ دینے کی خاطر ہر فریق کو ایک ہی پلیٹ فار م پر لانے کے لئے گتی شکتی  قومی ماسٹر پلان کا آغاز کیا ہے۔ اس قومی ماسٹر پلان کے تحت  بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی، ترقی  اور نفاذ کے لئے مربوط انداز میں کام کیا جائے گا۔ اس سے  اشیاء، عوام اور خدمات  کی بلارکاوٹ کنکٹی ویٹی اور نقل وحمل کو نئی تیزی حاصل  ہوگی۔

دوستو،

خودکفالت  کی راہ پر چلتے ہوئے ہندوستان کی توجہ نہ صرف طریقہ کار کو آسان بنانے پر ہے بلکہ یہ سرمایہ کاری اور پیداوار  کے لئے بھی ترغیبات فراہم کر رہا ہے۔ اس طریقہ کار کے ساتھ آج  14 سیکٹروں میں 26  ارب ڈالر کی لاگت سے  پیداوار  سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی) اسکیمیں نافذ کی گئی ہیں۔ فیب، چپ اور ڈسپلے انڈسٹری  کے آغاز کے لئے 10  ارب ڈالر  کا ترغیباتی منصوبہ عالمی سپلائی چین  کو  بہتر بنانے کے لئے ہمارے عہد  کا ایک ثبوت ہے۔ ہم میک ان انڈیا ، میک فار دی ورلڈ کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ ٹیلی مواصلات ، انشورنس، دفاع ، ایرو اسپیس کے ساتھ ساتھ  سیمی کنڈکٹر کے شعبے  کے علاوہ بھی  ہندوستان میں بے شمار امکانات  موجود ہیں۔

دوستو،

آج ہندوستان، حال کے ساتھ ساتھ  اگلے 25  برسوں  کے لئے پالیسیاں مرتب  کر رہا ہے، فیصلے کر رہا ہے۔ اس مدت کے لئے ہندوستان نے  اعلیٰ فروغ اور  صحت تندرستی  اور فلاح وبہبود  کے  عروج کے ساتھ اہداف  مقرر کئے ہیں۔ ترقی کا یہ دور  سبز بھی ہوگا، صاف بھی ہوگا، پائیدار بھی ہوگا اور قابل بھروسہ بھی ہوگا۔ بڑے وعدے کرنے اور اُن پر پورا اترنے کی روایت کو جاری رکھتے ہوئے  ہم نے 2070  تک  صفر اخراج کا ہدف  بھی مقرر کیا ہے۔ ہندوستان دنیا کی  17  فیصد آبادی کے ساتھ  کاربن کے عالمی اخراج میں  5  فیصد ، صرف 5  فیصد  کا تعاون کر سکتا ہے لیکن  آب وہوا کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے ہمارا  عہد  100  فیصد  ہے۔ بین الاقوامی شمسی اتحاد  اور  آب وہوا  میں تبدیلی کو اپنانے کے لئے آفات میں بحال رہنے والے بنیادی ڈھانچے  کا اتحاد جیسے اقدامات  اس کا ثبوت ہیں۔ گزشتہ برسوں کی کوششوں کے نتیجے میں  آج  ہماری توانائی  کا 40  فیصد حصہ غیر معدنی ایندھن کے ذریعہ حاصل ہو رہا ہے۔ ہم نے  پیرس میں  ہندوستان کے ذریعہ کئے گئے وعدوں کو  اپنے ہدف  سے 9  سال پہلے ہی حاصل کر لیا ہے۔

دوستو،

ان کوششوں کے دوران  ہم نے اس بات کو بھی  سمجھا ہے کہ ہمارا طرز زندگی  بھی  آب وہوا کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ’’تھرو اوے‘‘ (پھینکنا) کے کلچر  اور  کنزیومرازم  نے  آب وہوا کے چیلنج کو  زیادہ سنگین بنادیا ہے۔ یہ بہت اہم  ہے کہ آج کی  ’’ٹیک- میک – یوز – ڈسپوز‘‘ معیشت کو  تیزی کے ساتھ  سرکلر معیشت  کی جانب منتقل کیا جائے۔ یہی  جذبہ ’مشن لائف  ‘کے تصور کی بنیاد ہے، جس پر میں نے سی او پی – 26 میں  بات کی تھی۔ لائف کا مطلب ہے، ماحولیات کے لئے طرز زندگی ، ایک ایسے بحال ہونے والے اور پائیدار طرز  زندگی کا تصور  جو نہ صرف  آب وہوا کے بحران سے نمٹنے میں کار آمد ہو، بلکہ  مستقبل میں ہونے والے  نامعلوم چیلنجوں کے لئے بھی کار آمد ہوں۔ اس لئے  مشن لائف  کو  ایک عالمی  عوامی تحریک  میں بدلنا بہت اہم ہے۔ لائف جیسی مہم میں  عوامی شرکت کو  3- پی  یعنی  ’’پرو پلانٹ پیوپل ‘‘ کے لئے ایک بڑی  بنیاد  بنایا جاسکتا ہے۔

دوستو،

آج 2022  کے آغاز میں جب ہم  ڈیووس میں  ان معاملات پر غور وفکر کر رہے ہیں،  ہندوستان کچھ اور چیلنجوں سے  ہر ایک کو روشناس کرانا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ آج عالمی نظام میں تبدیلی کے ساتھ  ہم  ایک عالمی کنبے کے طور پر  جن چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں، ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان سے نمٹنے کے لئے ہر ملک، ہر عالمی ایجنسی کو مل کر اور  تال میل کے ساتھ  کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ سپلائی چین میں رکاوٹ ، افراط زر  میں اضافہ، آب وہوا میں تبدیلی ان چیلنجوں کی چند مثالیں ہیں، ایک اور مثال کرپٹو کرنسی کی ہے۔ یہ  جس طرح کی ٹیکنالوجی  سے وابستہ ہے،  اس  معاملے میں کسی واحد ملک کے ذریعہ کئے گئے فیصلے اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے  ناکافی ہوں گے۔ ہمیں ایک یکساں ذہن بنانا ہوگا  لیکن آج  کے عالمی منظر نامے  کو  دیکھتے ہوئے  سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا  کثیر جہتی  ادارے  نئے  عالمی نظام  اور نئے چیلنجوں سے  نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔ کیا  ان کے پاس  ان سے نمٹنے کی قوت ہے؟  ان اداروں کی جب تشکیل کی گئی  تھی ، اس وقت  صورت حال مختلف تھی، آج کے حالات مختلف ہیں۔ اس لئے  یہ ہر جمہوری ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ  ان اداروں میں اصلاحات پر زور دے  تاکہ وہ  موجودہ  اور مستقبل  کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے تیار ہو سکیں۔ مجھے یقین ہے کہ  ڈیووس میں  تبادلہ  خیال کے دوران اس سلسلے میں بھی مثبت مذاکرات ہوں گے۔

دوستو،

ان نئے چیلنجوں کے درمیان آج دنیا کو نئے راستوں اور  نئے حل کی ضرورت ہے۔ آج دنیا کے ہر ملک کو پہلے سے زیادہ  ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہے اور یہی  بہتر مستقبل کا ایک راستہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ڈیووس میں  ہونے والا تبادلہ خیال اس جذبے  میں توسیع کرے گا۔ ایک بار  پھر مجھے  آپ سب سے  ورچوئل طور پر ملاقات کا موقع ملا، آپ سب کا بہت بہت شکریہ!

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
The Bharat Budget: Why this budget marks the transition from India to Bharat

Media Coverage

The Bharat Budget: Why this budget marks the transition from India to Bharat
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM addresses Krishnaguru Eknaam Akhanda Kirtan for World Peace
February 03, 2023
Share
 
Comments
“Krishnaguru ji propagated ancient Indian traditions of knowledge, service and humanity”
“Eknaam Akhanda Kirtan is making the world familiar with the heritage and spiritual consciousness of the Northeast”
“There has been an ancient tradition of organizing such events on a period of 12 years”
“Priority for the deprived is key guiding force for us today”
“50 tourist destination will be developed through special campaign”
“Gamosa’s attraction and demand have increased in the country in last 8-9 years”
“In order to make the income of women a means of their empowerment, ‘Mahila Samman Saving Certificate’ scheme has also been started”
“The life force of the country's welfare schemes are social energy and public participation”
“Coarse grains have now been given a new identity - Shri Anna”

The Prime Minister, Shri Narendra Modi addressed the Krishnaguru Eknaam Akhanda Kirtan for World Peace, being held at Krishnaguru Sevashram at Barpeta, Assam via video conferencing today. Krishnaguru Eknaam Akhanda Kirtan for World Peace is a month-long kirtan being held from 6th January at Krishnaguru Sevashram.

Addressing the gathering, the Prime Minister said that Krishnaguru Eknaam Akhanda Kirtan has been going on for a month. He underlined that the traditions of knowledge, service and humanity in ancient India which were propagated by Krishna Guru ji are in perpetual motion even today. The Prime Minister observed that the divinity of the contributions of Guru Krishna Premanand Prabhu Ji and the efforts of his disciples are clearly visible on this magnificent occasion. Expressing his desire to join the august gathering in person today as well as on previous occasions, the Prime Minister sought the blessings of Krishna Guru so he gets the opportunity to visit the sevashram in the near future.

Referring to the tradition of Akhand Eknaam Jap every twelve years by Krishnaguru ji, the Prime Minister noted the Indian tradition of organizing spiritual events with duty as the key thought. “These events rekindle a sense of duty in the individual and society. People used to gather to discuss and analyze the happenings of the last twelve years, evaluate the present and create a blueprint for the future”, the Prime Minister said. The Prime Minister gave examples of Kumbh, Pushkaram Celebration in the Brahmaputra River, Mahamaham at Kumbakonam in Tamil Nadu, Mahamastakabhisheka of Bhagwan Bahubali, blooming of Neelakurinji flower as key events that take place once in twelve years.  Eknaam Akhanda Kirtan is laying down a similarly powerful tradition and making the world familiar with the heritage and spiritual consciousness of the Northeast, he added.  

The Prime Minister underlined that the exceptional talent, spiritual realizations and extraordinary incidents related to the life of Krishnaguru act as a source of inspiration for each one of us. Dwelling on his teachings, the Prime Minister noted that no work or person is big or small. Similarly, the Prime Minister said that the nation has worked towards the betterment of its people with the same spirit of taking everyone along (Sabka Saath) for everyone’s development (Sabka Vikas) with absolute dedication. Underlining that the nation gives top priority to those who have been so far deprived and neglected, the Prime Minister said, “Priority to the deprived” Giving examples of the state of Assam and the Northeast, the Prime Minister observed that these regions have been neglected for decades when it comes to development and connectivity, but they are being given top priority today.  

Referring to this year’s Budget the Prime Minister underlined the same priority to the deprived as the key guiding sentiment. Noting the key role of tourism in the economy of Northeast, the Prime Minister mentioned this year’s Budget provision of developing and upgrading 50 tourist destinations which will benefit the region a great deal. The Prime Minister also talked about the Ganga Vilas Cruise which will soon reach Assam. He highlighted that Indian heritage’s most valuable treasures are situated on the river banks.  

The Prime Minister also mentioned Krishnaguru Sewashram’s work for artisans in traditional skills and informed the country has done historical work in developing the traditional skills and linking the artisans with the global markets in the last few years. He also informed about changing laws about bamboo and changing its category from tree to grass, which opened the avenues of bamboo business. He said that ‘Unity Malls’, proposed in the Budget, will help farmers, artisans and youth of Assam by showcasing their products. These products will be showcased in the Unity Malls in other states and big tourist places.  The Prime Minister also talked about his fondness for Gamosa  and said that it encapsulates the hard work and skills of the women of Assam. He also noted the increasing demand for Gamosa  and self-help groups that have emerged to meet the rising demand. Shri Modi said that the Budget has made special provisions for these self-help groups. “In order to make the income of women a means of their empowerment, ‘Mahila Samman Saving Certificate’ scheme has also been started. Women will especially get the benefit of higher interest on savings” he said. He also said that PM Awas Yojana allocation has been increased to 70 thousand crores and most of the houses built under the scheme are in the name of the women of the house. “There are many such provisions in this budget, from which women of North Eastern states like Assam, Nagaland, Tripura, Meghalaya will be widely benefited, new opportunities will be created for them’, he added. 

Quoting the teachings of Krishnaguru, the Prime Minister said that one should always serve their own soul while believing in the daily acts of devotion. Underlining that the lifeline of various government run schemes for the development of the country make for the power of the society and public participation, the Prime Minister said that these Sewa Yagya like the one organized today are becoming a great strength of the country. Giving the examples of Swacch Bharat, Digital India and various other schemes that were made successful by public participation, the Prime Minister emphasized that Krishnaguru Sevashram has an important role to play in taking forward schemes like Beti Bachao Beti Padhao, Poshan Abhiyan, Khelo India, Fit India, Yoga  and Ayurveda that will further strengthen the nation. 

The Prime Minister pointed out that the country is starting PM Vishwakarma Kaushal Yojana for the traditional artisans. “The country has now for the first time resolved to enhance the skills of these traditional artisans”, the Prime Minister emphasized, requesting Krishnaguru Sevashram to work to spread awareness about the scheme. The Prime MInister asked the Sewashram to propagate coarse grains, recently branded as Shri Anna by preparing ‘Prasada’ with Shri Anna. He also asked them to take the history of the freedom fighters to the younger generation through Sevashram publications. Concluding the address, the Prime  Minister said that we will be witnessing a more empowered India when this Akhand Kirtan will take place after 12 years.

Background

Paramguru Krishnaguru Ishwar established the Krishnaguru Sevashram in 1974, at Nasatra village in Barpeta, Assam.  He is the ninth descendant of Mahavaishnab Manohardeva, who was a follower of the great Vaishnavite saint Shri Shankardeva. Krishnaguru Eknaam Akhanda Kirtan for World Peace is a month-long kirtan being held from 6th January at Krishnaguru Sevashram.