وزیر اعظم نے کمیونٹی ثالثی تربیتی ماڈیول کا آغاز کیا
جب انصاف ہر ایک کے لیے قابل رسائی ہو، بروقت فراہم کیا جائے اور سماجی یا مالی پس منظر سے قطع نظر ہر فرد تک پہنچے، تب ہی وہ حقیقی معنوں میں سماجی انصاف کی بنیاد بنتا ہے: وزیر اعظم
کاروبار کرنے میں آسانی اور زندگی گزارنے میں آسانی اس وقت ہی حقیقی صورت اختیار کرتے ہیں جب انصاف میں آسانی کو بھی یقینی بنایا جائے؛ گزشتہ برسوں میں انصاف میں آسانی کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں اور آئندہ اس سمت میں کوششوں کو مزید تیز کیا جائے گا: وزیر اعظم
ثالثی ہمیشہ سے ہماری تہذیب کا ایک لازمی حصہ رہی ہے۔ نیا ثالثی ایکٹ اس روایت کو آگے بڑھاتا ہے اور اسے ایک جدید شکل دیتا ہے: وزیراعظم
ٹیکنالوجی آج شمولیت اور بااختیار بنانے کے لیے ایک طاقتور ذریعے کے طور پر ابھر رہی ہے۔ انصاف کی فراہمی میں ای کورٹ پروجیکٹ اس تبدیلی کی ایک قابل ذکر مثال ہے: وزیراعظم
جب لوگ قانون کو اپنی زبان میں سمجھتے ہیں، تو یہ بہتر تعمیل کا باعث بنتا ہے اور قانونی چارہ جوئی میں کمی آتی ہے۔ یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ فیصلے اور قانونی دستاویزات مقامی زبانوں میں دستیاب ہوں: وزیر اعظم

چیف جسٹس محترم بی آر گوائی جی، جسٹس سوریہ کانت جی، جسٹس وکرم ناتھ جی، مرکز میں میرے ساتھی ارجن رام میگھوال جی، سپریم کورٹ کے دیگر معزز جج صاحبان، ہائی کورٹس کے معزز چیف جسٹس صاحبان، خواتین و حضرات،

اس اہم موقع پر آپ سب کے درمیان موجود ہونا میرے لیے نہایت خاص موقع ہے۔ ’’لیگل ایڈ ڈلیوری میکانزم‘‘ کی مضبوطی اور ’’لیگل سروسز ڈے‘‘ سے وابستہ یہ پروگرام، ہماری عدالتی نظام کو ایک نئی طاقت عطا کرے گا۔ میں بیسویں نیشنل کانفرنس کے موقع پر آپ سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ آج صبح سے ہی آپ سب اسی کام میں مصروف ہیں، اس لیے میں آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا۔ میں یہاں موجود تمام معزز شخصیات، عدلیہ کے اراکین اور ’’لیگل سروسز اتھارٹیز‘‘ کا تہہ دل سے خیر مقدم کرتا ہوں۔

 

ساتھیو،

جب انصاف سب کے لیے قابلِ رسائی ہوتا ہے، بروقت ہوتا ہے، جب انصاف سماجی یا مالی پس منظر کو دیکھے بغیر ہر شخص تک پہنچتا ہے، تب ہی وہ سماجی انصاف کی بنیاد بنتا ہے۔ ’’قانونی امداد‘‘ اس بات میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے کہ انصاف سب کے لیے قابلِ رسائی ہو۔ قومی سطح سے لے کر تعلقہ سطح تک، ’’لیگل سروسز اتھارٹیز‘‘ عدلیہ اور عام انسان کے درمیان ایک پُل کا کام کرتی ہیں۔ مجھے اطمینان ہے کہ آج ’’لوک عدالتوں‘‘ اور ’’پری لِٹیگیشن سیٹلمنٹس‘‘ کے ذریعے لاکھوں تنازعات جلد، باہمی اتفاق اور کم خرچ میں حل کیے جا رہے ہیں۔ حکومتِ ہند کی جانب سے شروع کیے گئے ’’لیگل ایڈ ڈیفنس کاؤنسل سسٹم‘‘ کے تحت صرف تین برسوں میں تقریباً آٹھ لاکھ فوجداری مقدمات کا نپٹارا کیا گیا ہے۔ حکومت کی یہ کوششیں ملک کے غریب، دلت، مظلوم، استحصال زدہ اور پسماندہ طبقوں کے لیے ’’آسان انصاف‘‘ کو یقینی بنا رہی ہیں۔

ساتھیو،

گزشتہ گیارہ برسوں میں ہمارا دھیان مسلسل ’’آسان کاروبار‘‘ اور ’’آسان زندگی‘‘ کے اصولوں پر مرکوز رہا ہے، اور ہم اس سمت میں مضبوطی سے قدم اٹھا رہے ہیں۔ کاروباری اداروں کے لیے چالیس ہزار سے زائد غیرضروری تعمیل کی شرائط کو ختم کیا گیا ہے۔ ’’جن وشواس ایکٹ‘‘ کے ذریعے تین ہزار چار سو سے زیادہ قانونی دفعات کو غیر فوجداری بنایا گیا ہے۔ پندرہ سو سے زیادہ غیر متعلقہ اور پرانے قوانین کو منسوخ کیا گیا ہے۔ دہائیوں سے نافذ پرانے قوانین کی جگہ اب ’’بھارتیہ نیائے سنہیتا‘‘ نے لے لی ہے۔

 

اور ساتھیو،

جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، ’’آسان کاروبار‘‘ اور ’’آسان زندگی‘‘ تبھی ممکن ہیں جب ’’آسان انصاف‘‘ بھی یقینی ہو۔ گزشتہ چند برسوں میں ’’آسان انصاف‘‘ کو بڑھانے کے لیے بھی کئی اقدامات کیے گئے ہیں، اور آئندہ ہم اس سمت میں اور تیزی سے آگے بڑھیں گے۔

ساتھیو،

اس سال ’’نالسا‘‘ یعنی ’’نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی‘‘ کے تیس برس مکمل ہو رہے ہیں۔ ان تین دہائیوں میں ’’نالسا‘‘ نے عدلیہ کو ملک کے غریب شہریوں سے جوڑنے کی ایک نہایت اہم کوشش کی ہے۔ جو لوگ ’’لیگل سروسز اتھارٹیز‘‘ کے پاس آتے ہیں، ان کے پاس اکثر نہ وسائل ہوتے ہیں، نہ نمائندگی، اور کبھی کبھی تو امید بھی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ انہیں امید اور تعاون دینا ہی ’’سروس‘‘ لفظ کا حقیقی مفہوم ہے، اور یہ مفہوم ’’نالسا‘‘ کے نام میں بھی شامل ہے۔ اس لیے مجھے پورا یقین ہے کہ اس کا ہر رکن صبر اور پیشہ ورانہ دیانتداری کے ساتھ اپنا فریضہ انجام دیتا رہے گا۔

ساتھیو،

آج ہم ’’نالسا‘‘ کا ’’کمیونٹی میڈی ایشن ٹریننگ ماڈیول‘‘ جاری کر رہے ہیں۔ اس کے ذریعے ہم بھارتی روایت کے اس قدیم علم کو زندہ کر رہے ہیں، جس میں بات چیت اور باہمی رضامندی کے ذریعے تنازعات کا حل نکالا جاتا تھا۔ گرام پنچایتوں سے لے کر گاؤں کے بزرگوں تک، ’’میڈی ایشن‘‘ ہمیشہ سے ہماری تہذیب کا حصہ رہی ہے۔ نیا ’’میڈی ایشن ایکٹ‘‘ اسی روایت کو آگے بڑھا رہا ہے اور اسے جدید شکل دے رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس ٹریننگ ماڈیول کے ذریعے ایسے ماہرین تیار ہوں گے جو تنازعات کے حل، ہم آہنگی کے فروغ اور مقدمہ بازی میں کمی کے لیے مددگار ثابت ہوں گے۔

 

ساتھیو،

ٹیکنالوجی یقینی طور پر ایک تغیر پیدا کرنے والی طاقت ہے، لیکن اگر اس میں عوام دوستی کا پہلو شامل ہو تو یہی ٹیکنالوجی جمہوری قوت بن جاتی ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کس طرح ’’یو پی آئی‘‘ نے ڈیجیٹل ادائیگیوں میں انقلاب برپا کر دیا۔ آج چھوٹے سے چھوٹے فروشندے بھی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بن چکے ہیں۔ دیہاتوں کو لاکھوں کلومیٹر آپٹک فائبر سے جوڑا گیا ہے۔ ابھی چند ہفتے قبل ہی، دیہی علاقوں میں ایک ساتھ تقریباً ایک لاکھ موبائل ٹاورز کا آغاز ہوا ہے۔ یعنی آج ٹیکنالوجی ’’شمولیت‘‘ اور ’’اختیار‘‘ کا ذریعہ بن رہی ہے۔ ’’ای کورٹس‘‘ منصوبہ بھی اس کا ایک شاندار نمونہ ہے، جو دکھاتا ہے کہ ٹیکنالوجی کس طرح عدالتی عمل کو جدید اور انسانی پہلو سے ہم آہنگ بنا سکتی ہے۔ ’’ای فائلنگ‘‘ سے لے کر ’’الیکٹرانک سمن سروس‘‘ تک، ’’ورچوئل سماعت‘‘ سے لے کر ’’ویڈیو کانفرنسنگ‘‘ تک، ٹیکنالوجی نے سب کچھ آسان بنا دیا ہے۔ اس سے انصاف تک رسائی کا راستہ مزید سہل ہو گیا ہے۔ آپ سب واقف ہیں کہ اس منصوبے کے تیسرے مرحلے کے لیے بجٹ بڑھا کر سات ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کر دیا گیا ہے۔ یہ اس منصوبے کے تئیں حکومت کے مضبوط عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

ساتھیو،

ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ ’’قانونی بیداری‘‘ کی کیا اہمیت ہے۔ کوئی غریب شخص اس وقت تک انصاف نہیں پا سکتا جب تک اسے اپنے حقوق کا علم نہ ہو، وہ قانون کو نہ سمجھے، اور نظام کی پیچیدگیوں سے خوفزدہ رہے۔ اس لیے کمزور طبقات، خواتین اور بزرگوں میں قانونی بیداری کو بڑھانا ہماری ترجیح ہے۔ آپ سب اور ہماری عدالتیں اس سمت میں مسلسل کوششیں کر رہی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے نوجوان، خاص طور پر قانون کے طلبہ، اس میں ایک تبدیلی لانے والا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر نوجوان قانون کے طلبہ کو ترغیب دی جائے کہ وہ غریبوں اور دیہی عوام سے جڑیں، انہیں ان کے قانونی حقوق اور قانونی عمل سمجھائیں، تو اس سے انہیں معاشرے کی نبض کو براہِ راست محسوس کرنے کا موقع ملے گا۔ ’’سیلف ہیلپ گروپس‘‘، ’’کوآپریٹیوز‘‘، ’’پنچایتی راج اداروں‘‘ اور دیگر مضبوط عوامی نیٹ ورکس کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہم قانونی علم کو ہر دروازے تک پہنچا سکتے ہیں۔

 

ساتھیو،

قانونی امداد سے جڑا ایک اور پہلو ہے جس کا میں اکثر ذکر کرتا ہوں۔ انصاف کی زبان وہی ہونی چاہیے جو انصاف پانے والے کو سمجھ آئے۔ اس بات کا لحاظ قانون بناتے وقت رکھنا بہت ضروری ہے۔ جب لوگ قانون کو اپنی زبان میں سمجھتے ہیں تو اس سے بہتر تعمیل ہوتی ہے اور مقدمہ بازی میں کمی آتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ عدالتی فیصلے اور قانونی دستاویزات مقامی زبانوں میں دستیاب ہوں۔ یہ واقعی نہایت قابلِ تعریف ہے کہ سپریم کورٹ نے 80 ہزار سے زائد فیصلوں کو 18 بھارتی زبانوں میں ترجمہ کرنے کی پہل کی ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ کوشش آئندہ ہائی کورٹس اور ضلعی سطح پر بھی جاری رہے گی۔

ساتھیو،

جب ہم ترقی یافتہ (وکست ) بھارت کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، تو میں قانونی پیشے، عدالتی خدمات اور اس سے جڑے تمام افراد سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ یہ تصور کریں کہ جب ہم خود کو ایک ترقی یافتہ قوم کہیں گے، تو ہمارا نظامِ انصاف کیسا ہوگا؟ اسی سمت میں ہمیں مل کر آگے بڑھنا ہے۔ میں ’’نالسا‘‘، پوری قانونی برادری اور ’’نظامِ انصاف‘‘ سے وابستہ تمام لوگوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں۔ میں ایک بار پھر آپ سب کو اس پروگرام کی نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں اور آپ سب کے درمیان آنے کے موقع پر اپنی گہری ممنونیت کا اظہار کرتا ہوں۔

شکریہ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Chronic therapies power 11% growth in Indian pharma market in May

Media Coverage

Chronic therapies power 11% growth in Indian pharma market in May
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Visit of Prime Minister to France and Slovakia (June 13-18, 2026)
June 09, 2026

At the invitation of the President of France, H.E. Mr. Emmanuel Macron, Prime Minister Shri Narendra Modi will be undertaking an official visit to France from 13 - 14 June 2026 (Nice), and 16 – 19 June, 2026 (Evian and Paris), as also to Slovakia from 14 – 16 June, 2026. In the first leg of the visit, Prime Minister will visit Nice for a bilateral meeting with President Macron on 14 June. Both leaders will review the full spectrum of the India-France bilateral relationship, which was elevated to the level of a Special Global Strategic Partnership earlier this year. In Nice, both leaders will also jointly inaugurate the 'Bharat Innovates' event, which will bring together top innovation startups and Venture Capital funds from India, France, and other countries. Being held during the India-France Year of Innovation, this signature event reinforces the vibrant innovation partnership that exists between the two countries.

On the second leg of his visit, at the invitation of the Prime Minister of the Slovak Republic, H.E. Mr. Robert Fico, Prime Minister Shri Narendra Modi will pay a State Visit to the Slovak Republic from 14 – 16 June 2026. This will be the first-ever visit by an Indian Prime Minister to Slovakia since its independence in 1993. The visit follows Hon’ble Rashtrapatiji’s State Visit to Slovakia in April 2025 and Slovak President H.E. Mr. Peter Pellegrini’s visit to India for the AI Impact Summit in February 2026. Prime Minister will hold talks with Prime Minister Fico, and explore new avenues of cooperation. Prime Minister will also meet President Pellegrini. The visit will reaffirm India's commitment towards strengthening its bilateral relationship with Slovakia in various sectors, including trade, investment, and automobile and railway manufacturing.

On the third leg of the visit, Prime Minister will participate in the G7 Summit in Evian, France, on 16 - 17 June 2026. During the Summit, he will exchange views with G7 leaders, and those from invited partner countries and International Organizations, participating in the summit sessions on - Forging New Partnerships and Rebuilding International Solidarity; Reviving Balanced, Shared and Sustainable Economic Growth for all; and Ensuring a Safe, Rapid and Efficient Rollout of AI. On the sidelines of the summit, Prime Minister will also hold bilateral meetings with several world leaders.

On the final leg of the visit, Prime Minister will visit Paris on 18 June 2026 for further bilateral engagements, and to attend the VivaTech Summit, Europe's largest technology and startup event. Prime Minister is also expected to address the members of the Indian community in Paris.

Prime Minister’s upcoming visit to Europe will further deepen India’s partnership with France, Slovakia, and the G7. Prime Minister’s presence at the G7 reflects India’s standing as a leading voice of the Global South and a key partner in addressing global challenges. Prime Minister's participation in both Bharat Innovates and the Vivatech Summit will spotlight India as a global hub for innovation, digital transformation and entrepreneurship, and is expected to catalyse new partnerships between Indian, French and European technology ecosystems. The visit will also reaffirm India's commitment towards advancing its broader strategic partnership with the European Union.