اس ابھیان کے تحت، سائنسدانوں کی ہماری ٹیم لیب سے کھیتوں تک جائے گی اور کسانوں کو جدید زراعت کے بارے میں آگاہ کرے گی اور موسم شروع ہونے سے پہلے کسانوں کی مدد کے لیے تمام ڈیٹا فراہم کرائے گی: وزیر اعظم
اس ابھیان کا مقصد ہندوستانی زراعت کو وکست بھارت کی اہم بنیادبنانا ہے: وزیر اعظم
ہندوستان کو نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرنی چاہئے بلکہ عالمی خوراک فراہم کرنے والے کے طور پر بھی ابھرنا چاہئے: وزیر اعظم
وکست کرشی سنکلپ ابھیان کسانوں کے لیے ترقی کی نئی راہیں کھولے گا اور زراعت میں جدید کاری کو فروغ دے گا: وزیر اعظم

جے جگن ناتھ!

آج بھگوان جگن ناتھ کے آشیرواد سے ملک کے کاشتکاروں کے لیے ایک بہت بڑی مہم شروع ہو رہی ہے۔ 'وکست کرشی سنکلپ ابھیان' اپنے آپ میں ایک منفرد پہل ہے۔ مانسون دستک دے رہا ہے، خریف سیزن کی تیاریاں جاری ہیں اور ایسے میں آئندہ 12 سے 15 دنوں تک ملک کے سائنسدانوں، ماہرین، حکام اور ترقی پسند کاشتکاروں کی 2 ہزار سے زائد ٹیمیں گاؤں گاؤں جا رہی ہیں۔ یہ ٹیمیں ملک کے 700 سے زیادہ اضلاع میں کروڑوں کاشتکاروں تک پہنچیں گی۔ میں ملک کے تمام کسانوں، ان ٹیموں میں شامل تمام ساتھیوں، اس عظیم مہم کے لیے، ایک بڑے پرجوش پروگرام اور زراعت کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو،

ہمارے ملک میں زراعت ایک ریاستی موضوع رہا ہے۔ یہ حکومتی نظام کے تحت ریاست کا موضوع ہے۔ ہر ریاست اپنی زرعی پالیسیاں بناتی ہے اور کاشتکاروں کے مفاد میں اقدامات کرتی ہے۔ لیکن آج اس تیزی سے بدلتے وقت میں ہندوستانی زراعت میں ایک جامع تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے کسانوں نے ریکارڈ فصلیں پیدا کر کے اناج کے ذخائر کو بھر دیا ہے لیکن اب مارکیٹ بھی بدل رہی ہے اور صارفین کی ترجیح بھی بدل گئی ہے۔ ایسے میں ہماری یہ عاجزانہ کوشش ہے کہ کسانوں کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومتوں کے لیے زرعی نظام میں تبدیلی لائیں اور ہندوستانی زراعت کو مزید جدید کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ اس پر کسانوں سے بات چیت ہونی چاہیے۔ اس لیے اس مہم کے تحت ہمارے سائنسدانوں کی ٹیم ایک عظیم مہم لیب سے لینڈ کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ تمام اعداد و شمار کے ساتھ، یہ کاشتکاروں کو جدید زراعت کے بارے میں معلومات فراہم کرے گی اور سیزن شروع ہونے سے قبل کاشتکاروں کی مدد کے لیے کھڑا ہوگی۔

ساتھیو،

گذشتہ دہائیوں میں ہمارے زرعی سائنسدانوں نے بہت سے شعبوں میں اچھی تحقیق کی ہے اور بہتر نتائج ظاہر کیے ہیں۔ دوسری جانب ہمارے ملک کے ترقی پسند کاشتکاروں نے بھی اپنے تجربات کرکے زرعی شعبے میں بہت سی تبدیلیاں لائی ہیں، پیداوار میں بھی اضافہ کیا ہے اور کئی کامیاب تجربات بھی کیے ہیں۔ یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ سائنسدانوں کی کامیاب تحقیق اور ترقی پسند کاشتکاروں کے کامیاب تجربات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات ہمارے کاشتکاروں تک پہنچیں۔ آپ سب اس سمت میں پہلے سے کوشش کر رہے ہیں لیکن اب اس کام کو ایک نئی توانائی کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے۔ وکاسیت کرشی سنکلپ ابھیان کے ذریعے آپ کو اس کے لیے کافی موقع ملے گا۔

ساتھیو،

ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے ہندوستانی زراعت کو بھی ترقی کرنا ہوگی۔ اس طرح کے کئی موضوعات ہیں جن پر مرکزی حکومت مسلسل توجہ دے رہی ہے۔ مثال کے طور پر کاشتکاروں کو ان کی فصلوں کی صحیح قیمت کیسے مل سکتی ہے؟ زرعی معیشت کو کیسے مضبوط کیا جا سکتا ہے؟ ملکی ضروریات کے مطابق فصلیں کیسے پیدا کی جا سکتی ہیں؟ ہندوستان اپنی ضروریات کے ساتھ دنیا کی ضروریات کو کیسے پورا کرسکتا ہے؟ یہ دنیا کی خوراک کی ٹوکری کیسے بن سکتی ہے؟ ہم موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے کیسے نمٹ سکتے ہیں؟ ہم کم پانی میں زیادہ اناج کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟ ہم زمین کو خطرناک کیمیکلز سے کیسے بچا سکتے ہیں؟ زراعت کو جدید کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ سائنس اور ٹیکنالوجی فارم تک کیسے پہنچ سکتی ہے؟ ہماری حکومت نے پچھلے 10-11 سالوں میں ایسے بہت سے موضوعات پر بہت کام کیا ہے۔ اب اس مہم کے تحت آپ کو ہمارے کسانوں کو زیادہ سے زیادہ آگاہ کرنا ہوگا۔

ساتھیو،

ایک اہم مسئلہ کاشتکاروں کو آمدنی کے اضافی ذرائع فراہم کرنا ہے۔ کھیتوں کی حدود میں سولر پینلنگ کی جائے۔ ملک میں جو شیریں انقلاب برپا ہو رہا ہے، شہد کی مکھیاں پالنے والے مستفید ہو رہے ہیں، زیادہ سے زیادہ کاشتکار اس میں کیسے شامل ہو سکتے ہیں؟ ان باقیات سے توانائی کیسے بنائی جائے جو کھیتوں سے نکلتی ہیں اور کوڑے کے طور پر پھینک دی جاتی ہیں؟ فضلے سے دولت کیسے پیدا کی جائے؟ کون سا شری اَن کس کھیت میں اُگایا جا سکتا ہے؟ کسی پروڈکٹ کی قدروقیمت میں اضافہ کیسے کیا جائے؟ ویسے تو اب دودھ نہ دینے والے جانور بھی گوبر دھن یوجنا کے ذریعے کمائی کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ ہمیں ان سب کے بارے میں اپنے کسان بھائیوں اور بہنوں کو ان کے ساتھ بیٹھ کر، ان سے بات چیت کرکے اور ان سے بات چیت کرکے تفصیلی جانکاری دینی ہوگی۔

ساتھیو،

بھارت کی کھیتی کو ترقی یافتہ بھارت کی اہم بنیاد بنانے کا یہ بہت بڑا عزم ہے۔ میں اپنے کاشتکار بھائیوں – بہنوں سے کہوں گا جو سائنس داں آپ کے گاؤں میں پہنچنے والے ہیں، ان سے خوب سارے سوال کیجئے گا، اور میں سائنسدانوں اور دیگر ملازمین سے بھی کہوں گا، آپ کے سامنے ایک بہت بڑا مشن ہے۔ جو بیڑا آپ اٹھا رہے ہیں، اسے سرف ایک سرکاری کام سمجھ کر نہیں کرنا ہے۔ اسے ملک کی خدمت کے جذبے کے ساتھ کرنا ہے۔ آپ کو کاشتکاروں کے ہر تجسس کو مطمئن کرنا ہے۔ ساتھ ہی کاشتکاروں کے بیش قیمتی مشوروں کو بھی درج کرنا ہے۔ ’وکست کرشی سنکلپ ابھیان‘ ہمارے اَن داتاؤں کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھولے گا۔ اسی امید کے ساتھ پوری ٹیم کو، سبھی کاشتکاروں کو ڈھیر ساری نیک خواہشات۔

شکریہ!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
UPI — an eventful journey

Media Coverage

UPI — an eventful journey
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 53rd PRAGATI Meeting
August 25, 2026
PM reviews six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of more than ₹30,000 crore
PM says Infrastructure projects should be viewed as an integrated whole, rather than as individual sections or packages
PM calls for continuous reforms across all stages of project implementation and a proactive work culture across Ministries and States
PM says Speed must go hand-in-hand with quality
While reviewing AgriStack, PM emphasises the need to leverage the latest digital technologies including AI to derive greater value from agricultural data
On cyber fraud and ‘digital arrest’, PM stresses training, public awareness, cyber-safety education and coordinated action

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 53rd meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform for Pro-Active Governance and Timely Implementation, at Seva Teerth earlier today.

During the meeting, Prime Minister reviewed six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors, spanning nine States with a cumulative cost of more than ₹30,000 crore. The projects, significant for strengthening connectivity, supporting industrial and economic activity and improving public services, were reviewed with particular emphasis on adherence to timelines, inter-agency coordination, resolution of pending issues and expeditious completion.

Prime Minister emphasised that delays in infrastructure projects have consequences beyond cost escalation, as they also postpone the benefits intended for citizens, businesses and the economy. He said that infrastructure projects should be viewed and monitored as an integrated whole, rather than as isolated sections, stretches or packages. He noted that progress in individual packages should ultimately translate into timely completion and operationalisation of the entire project. Ministries and States were therefore asked to adopt an end-to-end approach, and address critical gaps that could delay the overall commissioning and delivery of benefits. He called for fostering a proactive work culture across Ministries and State Governments, with greater ownership at every level of project implementation.

Prime Minister stressed the need to explore common utility corridors for infrastructure services, wherever feasible, particularly while planning major transport and infrastructure projects. He called upon Ministries and States to examine such integrated approaches at the planning stage itself, keeping in view their technical and economic feasibility.

Prime Minister said that speed of execution must be accompanied by uncompromising quality. He called upon Ministries, States and implementing agencies to adopt modern technologies and strengthen quality assurance and supervision at every stage.

While reviewing AgriStack under the Digital Agriculture Mission, Prime Minister emphasised the need to leverage the latest digital technologies, including Artificial Intelligence, to derive greater value from agricultural data. He stressed that the data ecosystem should be effectively utilised across the agricultural value chain, from input planning to processing, enabling more informed interventions, better targeting and data-driven decision-making. He appreciated the efforts of the States and the Central Government in building the AgriStack ecosystem and called for further strengthening its use for delivering better outcomes for farmers.

During the review of cyber fraud cases, including incidents of digital arrest, Prime Minister said that prevention must be strengthened through a sustained focus on training, awareness and education. He stressed the need for continuous and targeted public-awareness campaigns, particularly for senior citizens, youth and other vulnerable sections, to familiarise them with common fraud techniques, warning signs and safe digital practices. He also called for regular capacity-building of personnel involved so that emerging modes of cyber fraud are identified and acted upon swiftly.