عزت مآب ،

چانسلر مرز ، دونوں ممالک کے کاروباری قائدین ، نمسکار ۔

مجھے بھارت-جرمنی سی ای اوز فورم میں شامل ہونے پر انتہائی خوشی محسوس ہورہی ہے ۔  یہ میٹنگ ایک بہت اہم وقت پر ہو رہی ہے ، جب ہم ہندوستان-جرمنی تعلقات کی پلاٹینم جوبلی اور ہندوستان-جرمنی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی سلور جوبلی منا رہے ہیں ۔  اس کا مطلب ہے کہ ہمارا رشتہ پلاٹینم کی پائیداری  اور چاندی کی چمک رکھتا ہے ۔

دوستوں ،

ہندوستان اور جرمنی کے درمیان ہموار شراکت داری ہے ، جو مشترکہ اقدار اور باہمی اعتماد پر مبنی ہے ۔  ہر شعبے میں باہمی  سود مند مواقع موجود ہیں ۔  ہمارے ایم ایس ایم ای اور جرمنی کے مٹل اسٹینڈ کے درمیان جاری مینوفیکچرنگ تعاون ، آئی ٹی اور خدمات میں تیزی سے بڑھتا ہوا تعاون ، مشترکہ منصوبے اور آٹوموٹو ، توانائی ، مشینری اور کیمیائی شعبوں میں تحقیقی تعاون نئی ٹیکنالوجیز کو جنم دے رہے ہیں ۔  اور ان مضبوط روابط سے ہماری تجارت کو براہ راست فائدہ پہنچا ہے ، جو اب تقریبا 50 ارب ڈالر کا ہندسہ عبور کر چکی ہے ۔

دوستوں ،

دنیا تیزی سے  بدل  رہی ہے ، اور ہم دیکھتے ہیں کہ آج کس طرح اہم ٹیکنالوجیز اور کیپٹل مشینری پر انحصار کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے ۔  سوامی وویکانند کے یوم پیدائش کے مبارک موقع پر ہمیں ان کے خیالات اور پیغام سے تحریک حاصل کرنی چاہیے ۔  ان کا پیغام واضح تھا: ایک مضبوط قوم وہ ہے جو خود اعتمادی ، خود انحصاری اور ذمہ داری کے ساتھ دنیا سے جڑتی ہے ۔  آج کے عالمی تناظر میں یہ پیغام اور بھی زیادہ  وابستگی کاحامل  ہے ۔  اس سوچ کے مطابق ، ہماری مشترکہ ذمہ داری دنیا کے لیے قابل اعتماد اور پائیدار  سپلائی چین کو مضبوط کرنا ہے ، اور اس کوشش میں ، ہندوستان اور جرمنی جیسے قابل اعتماد شراکت داروں کی شراکت داری فیصلہ کن  رول  ادا کرتی ہے ۔

دوستوں ،

اپنے پہلے ایشیا کے دورے کے لیے چانسلر مرز نے ہندوستان کو منزل کے طور پر منتخب کیا ۔  یہ جرمنی کی تنوع کی حکمت عملی میں ہندوستان کے مرکزی  رول  کی عکاسی کرتا ہے ، اور یہ ہندوستان میں جرمنی کے اعتماد کا واضح اشارہ ہے ۔  اسی اعتماد کے مطابق آج ہم نے کئی اہم فیصلے کیے ہیں ۔  سب سے پہلے ، ہم نے اس ہموار اقتصادی شراکت داری کو لامحدود بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔  اس کا مطلب یہ ہے کہ روایتی اقتصادی شعبوں کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک شعبوں میں بھی گہرا تعاون نظر آئے گا ۔  دفاع میں آج ہم مشترکہ اعلامیہ ارادے کا تبادلہ کر رہے ہیں ۔  یہ ہماری کمپنیوں کو دفاع میں مشترکہ اختراع اور مشترکہ مینوفیکچرنگ کے لیے واضح پالیسی تعاون فراہم کرے گا ۔  خلائی شعبے میں بھی تعاون کے نئے مواقع کھلیں گے ۔  دوسرا ، ہم نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ قابل اعتماد شراکت داری کو اب ٹیکنالوجی شراکت داری کی شکل اختیار کرنی چاہیے ۔  دنیا کی دو بڑی جمہوری معیشتیں اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعاون کو  مضبوط  کریں گی ۔  ہم سیمی کنڈکٹر میں باہمی شراکت دار ہیں ۔  اس کے ساتھ ساتھ پاور الیکٹرانکس ، بائیوٹیک ، فنٹیک ، فارما ، کوانٹم اور سائبر میں بے پناہ امکانات ہیں ۔  تیسرا ، ہم سب کو مکمل طور پر یہ بات واضح ہے کہ ہندوستان-جرمنی شراکت داری نہ صرف باہمی طور پر فائدہ مند ہے ، بلکہ دنیا کے لیے بھی بہتر ہے ۔  ہندوستان سبز ہائیڈروجن ، شمسی ، ہوا اور حیاتیاتی ایندھن میں عالمی رہنما بننے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے ۔  جرمن کمپنیوں کے لیے شمسی خلیات ، الیکٹرولائزر ، بیٹریاں اور ونڈ ٹربائن بنانے کے بڑے مواقع موجود ہیں ۔  ہم مل کر ای-نقل و حرکت سے لے کر خوراک اور صحت کی یقینی فراہمی تک دنیا کے لیے حل تیار کر سکتے ہیں ۔  ہندوستان کے پاس اے آئی کے لیے ایک جامع وژن ہے ، اور جب جرمنی کا اے آئی ماحولیاتی نظام اس سے منسلک ہوجائے گا ، تو ہم ایک انسان مرکوز ڈیجیٹل مستقبل کو یقینی بنا سکیں گے ۔

 

دوستوں ،

ہندوستان کی صلاحیت  کا ذخیرہ ، ٹیلنٹ پول جرمن صنعت میں اختراع اور پیداوریت کو آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔  حالیہ برسوں میں ، خاص طور پر ہائی ٹیک شعبے میں ، ہنر مندی کی نقل و حرکت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔  ہم جرمن کمپنیوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ہندوستان کی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کریں اور ہنر مندی ، اختراع اور صنعتی روابط کو مزید مضبوط کریں ۔

دوستوں ،

آج کے چیلنجنگ عالمی ماحول میں ، ہندوستان 8فیصد سے زیادہ ترقی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ۔  اس کے پیچھے صرف ایک وجہ نہیں بلکہ مسلسل اور جامع اصلاحات ہیں ۔  نجی شعبے کو ہر سیکٹر میں فروغ دیا جا رہا ہے ، چاہے وہ دفاع ہو ، خلاء ہو ، کان کنی ہو ، یا جوہری توانائی ہو ۔ عمل آوری  کی ضروریات کو مسلسل کم کیا جا رہا ہے ، کاروبار کرنے میں آسانی بہتر ہو رہی ہے ۔  ان کوششوں نے آج ہندوستان کو دنیا کے لیے ترقی اور امید کی علامت بنا دیا ہے ۔  ہندوستان-یوروپی یونین آزاد تجارتی معاہدہ بھی جلد ہی تکمیل کو پہچنے  والا ہے ۔  اس سے ہماری تجارت ، سرمایہ کاری اور شراکت داری کے لیے ایک نیا باب کھل جائے گا ۔  اس کا مطلب ہے کہ آپ کے لیے راستہ صاف ہے ۔  میں ہندوستان کے پیمانے اور رفتار سے جڑنے کے لیے جرمن درستگی اور اختراع کو مدعو کرتا ہوں ۔  آپ ہندوستان میں مینوفیکچرنگ کر سکتے ہیں ، گھریلو مانگ کا پورا فائدہ اٹھا سکتے ہیں ، اور بغیر کسی رکاوٹ کے برآمد کر سکتے ہیں ۔

دوستوں ،

حکومت کی طرف سے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہندوستان مستحکم پالیسیوں ، باہمی اعتماد اور طویل مدتی وژن کے ساتھ جرمنی کے ساتھ تعاون کو آگے بڑھائے گا ۔  مختصر طورپر  میرا پیغام یہ ہے: ہندوستان تیار ، رضا مند  اور قابل ہے ۔  آئیے ہم مل کر اختراع کریں ، سرمایہ کاری کریں اور ترقی کریں ۔  آئیے ہم نہ صرف ہندوستان اور جرمنی بلکہ عالمی مستقبل کے لیے پائیدار حل تیار کریں ۔

آپ کا شکریہ ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Parliament on verge of history, says PM Modi, as it readies to take up women's bills

Media Coverage

Parliament on verge of history, says PM Modi, as it readies to take up women's bills
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Booth strength, people’s trust and grassroots outreach - PM Modi’s interaction with BJP Karyakartas from West Bengal
April 14, 2026
The citizens across West Bengal have described the BJP’s Sankalp Patra (manifesto) as practical, implementable and focused on holistic development and welfare: PM Modi
PM Modi constantly reiterated to the BJP karyakartas of West Bengal that booth-level strength is the foundation of electoral success
The scale of victory in West Bengal will directly translate into relief and better governance for its people: PM Modi to BJP karyakartas

PM Modi interacted with BJP karyakartas from across West Bengal under the ‘Mera Booth, Sabse Mazboot’ initiative, extending his best wishes for the Bengali New Year to all citizens of the state.


During the interaction, the PM reflected on his recent visits across various parts of West Bengal, highlighting the remarkable enthusiasm, energy and growing support for the BJP among the people. He credited this momentum to the tireless efforts and dedication of booth-level karyakartas.

The PM appreciated the positive response to the BJP’s Sankalp Patra (manifesto), stating that citizens across the state have described it as practical, implementable, and focused on holistic development and welfare.

During the interaction, several karyakartas shared their on-the-ground experiences, highlighting key concerns among the people, including safety, employment, corruption, political violence, and governance challenges. Women karyakartas spoke about concerns over security and dignity, while youth-related issues such as migration due to lack of opportunities were also raised.

PM Modi acknowledged these concerns and emphasised the need for continuous engagement with citizens at the grassroots level. He urged karyakartas to strengthen booth-level organisation through regular outreach and small group meetings, actively connect with women, youth, farmers and first-time voters , clearly communicate the benefits and vision outlined by the BJP, ensure transparency, development and safety, use social media and digital tools effectively to amplify facts and counter misinformation.
He also stressed the importance of documenting and communicating local issues, ensuring that the voices of the people are consistently heard and represented.

The PM constantly reiterated that booth-level strength is the foundation of electoral success, stating that “Booth jeeta, toh chunav jeeta.” He expressed confidence that the growing trust of the people in BJP presents a significant opportunity to bring transformation in West Bengal.

Concluding the interaction, PM Modi said that the scale of victory in West Bengal will directly translate into relief and better governance for its people. He encouraged all karyakartas to work with renewed energy, expand outreach, and ensure that every household becomes a partner in this journey of development.