ایک لمبے وقفہ کے بعد آج آپ لوگوں کا دیدار ہورہا ہے۔ آپ تمام لوگ خیریت سے ہیں نا؟ کوئی پریشانی تو نہیں آئی، آپ کی فیملی میں بھی؟ چلیے ایشور آ پ کو سلامت رکھے۔

ایک خاص ماحول میں پارلیمنٹ کا اجلاس آج شروع ہورہا ہے۔ کورونا بھی ہے، فرض منصبی بھی ہے اور تمام ممبران پارلیمنٹ نے ذمہ داری کا راستہ منتخب کیا ہے۔ میں تمام ممبران پارلیمنٹ کو اس پہل کے لیے مبارک باد دیتا ہوں اور ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

بجٹ اجلاس وقت سے پہلے ہی روکنا پڑا تھا۔ اس بار بھی دن میں دوبار، ایک بار راجیہ سبھا ، ایک بار لوک سبھا، وقت بھی بدلنا پڑا ہے۔ سنیچر، اتوار بھی اس بار رد کردیا گیا ہے، لیکن تمام ممبران پارلیمنٹ نے اس بات کو بھی قبول کیا ہے، استقبال کیا ہے اور ذمہ داری کے راستے پر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیاہے۔

اس اجلاس میں کئی اہم فیصلے ہوں گے، متعدد موضوعات پر مباحثہ ہوگا اور ہم سب کا تجربہ ہے کہ لوک سبھا میں جتنی زیادہ چرچہ ہوتی ہے، جتنی گہرائی سے چرچہ ہوتی ہے، جتنی ہمہ گیریت کے ساتھ چرچہ ہوتی ہے، اتنا ایوان کو بھی، اس موضوع کو بھی اور ملک کو بھی بہت فائدہ ہوتا ہے۔

اس بار بھی اس عظیم روایت میں ہم تمام ممبران پارلیمنٹ مل کر اس کی قدر میں اضافہ کریں گے، ایسا میرا یقین ہے۔ کورونا سے بنی جو صورت حال ہے، اس میں جن احتیاطوں کو برتنے کے لیے تاکید کی گئی ہے، ان احتیاطوں پر ہم سب کو عمل کرنا ہی  کرنا ہے۔ اور یہ بھی صاف ہے، جب تک دوائی نہیں، تب تک کوئی ڈھیلائی نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ بہت ہی جلد سے جلد دنیا کے کسی بھی کونے سے ویکسین دستیاب ہو، ہمارے سائنسداں جلد سے جلد کامیاب ہوں اور دنیا میں ہر کسی کو اس بحران سے باہر نکالنے میں ہم کامیاب ہوں۔

اس ایوان کی اور بھی ایک مخصوص ذمہ داری ہے اور خاص کراس اجلاس کی مخصوص ذمہ داری ہے۔ آج جب ہماری فوج کے بہادر جوان سرحد پر ڈٹے ہوئے ہیں، بڑی ہمت کے ساتھ، جذبے کے ساتھ، بلند حوصلوں کے ساتھ، مشکل پہاڑیوں میں ڈٹے ہوئے ہیں اور کچھ وقت کے بعد بارش بھی شروع ہوگی۔ جس اعتماد کے ساتھ وہ کھڑے ہیں، مادر وطن کی حفاظت کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں، یہ ایوان بھی ، ایوان کے تمام رکن ایک آواز سے، ایک جذبے سے، ایک عزم سے پیغام دیں گے-فوج کے جوانوں کے پیچھے ملک کھڑا ہے، پارلیمنٹ اور ممبران پارلیمنٹ کے توسط سے کھڑا ہے، پورا ایوان ایک آواز سے ملک کے بہادر جوانوں کے پیچھے کھڑا ہے، یہ بہت ہی مضبوط پیغام بھی یہ ایوان دے گا۔ تمام  معزز ممبران دیں گے۔ ایسا میرا پورا یقین ہے۔ میں آپ سے بھی گزارش کروں گا کہ کورونا کے اس دور میں آپ کو پہلے کی طرح آزادی سے سب جگہ پر جانے کاموقع نہیں ملے گا، اپنوں کو خود ضرور سنبھالنا دوستو۔ خبریں تو مل جائیں گی، آپ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے، لیکن خود کو ضرور سنبھالنا، یہ میری آپ سے ذاتی گزارش ہے۔

شکریہ دوستو۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen

Media Coverage

India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves increase in the Judge strength of the Supreme Court of India by Four to 37 from 33
May 05, 2026

The Union Cabinet chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi today has approved the proposal for introducing The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 in Parliament to amend The Supreme Court (Number of Judges) Act, 1956 for increasing the number of Judges of the Supreme Court of India by 4 from the present 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Point-wise details:

Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 provides for increasing the number of Judges of the Supreme Court by 04 i.e. from 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Major Impact:

The increase in the number of Judges will allow Supreme Court to function more efficiently and effectively ensuring speedy justice.

Expenditure:

The expenditure on salary of Judges and supporting staff and other facilities will be met from the Consolidated Fund of India.

Background:

Article 124 (1) in Constitution of India inter-alia provided “There shall be a Supreme Court of India consisting of a Chief Justice of India and, until Parliament by law prescribes a larger number, of not more than seven other Judges…”.

An act to increase the Judge strength of the Supreme Court of India was enacted in 1956 vide The Supreme Court (Number of Judges) Act 1956. Section 2 of the Act provided for the maximum number of Judges (excluding the Chief Justice of India) to be 10.

The Judge strength of the Supreme Court of India was increased to 13 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1960, and to 17 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1977. The working strength of the Supreme Court of India was, however, restricted to 15 Judges by the Cabinet, excluding the Chief Justice of India, till the end of 1979, when the restriction was withdrawn at the request of the Chief Justice of India.

The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1986 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India, excluding the Chief Justice of India, from 17 to 25. Subsequently, The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2008 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India from 25 to 30.

The Judge strength of the Supreme Court of India was last increased from 30 to 33 (excluding the Chief Justice of India) by further amending the original act vide The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2019.