’’آفت کے تئیں ہمارا ردعمل منقسم نہیں بلکہ مربوط ہونا چاہیے‘‘
’’بنیادی ڈھانچہ صرف واپسی کے بارے میں نہیں ہے بلکہ رسائی اور لچک کے بارے میں بھی ہے‘‘
’’بنیادی ڈھانچے کے معاملے میں کوئی چھوٹنا نہیں چاہیے‘‘
’’ایک آفت اور دوسری آفت کے درمیان وقت میں ریزیلنس پیدا ہوتا ہے‘‘
’’مقامی بصیرت کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی ریزیلنس کے لیے بہترین ثابت ہو سکتی ہے‘‘
’’مالی وسائل کی عہد بستگی آفات سے نمٹنے کے اقدامات میں کامیابی کی کلید ہے‘‘

نمسکار!

عزت مآب، سربراہان مملکت، ماہرین تعلیم، بزنس لیڈرز، پالیسی ساز  اور دنیا بھر  آئے ہوئے  میرے عزیز دوستو!

سب کو میرا نمسکار۔ ہندوستان میں خوش آمدید! سب سے پہلے، میں کولیشن فار ڈیزاسٹر ریزیلینٹ انفراسٹرکچر کو مبارکباد دینا چاہوں گا۔ ڈیزاسٹر ریزیلینٹ انفراسٹرکچر سے متعلق  بین الاقوامی کانفرنس کے 5ویں ایڈیشن  ، آئی سی ڈی آر آئی- 2023  کا موقع  حقیقت میں خصوصی اہمیت کا حامل  ہے۔

دوستو،

سی ڈی آر آئی ایک عالمی نقطہ نظر سے پیدا ہوا۔ ایک قریبی رابطے والی  دنیا میں، آفات کے اثرات صرف مقامی نہیں ہوں گے۔ ایک علاقے میں آنے والی آفات کا مکمل طور پر مختلف علاقے پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔ لہٰذا، ہمارا ردعمل الگ الگ نہیں بلکہ مربوط ہونا چاہیے۔

دوستو،

محض  چند برسوں میں 40 سے زیادہ ممالک سی ڈی آر آئی کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ کانفرنس ایک اہم پلیٹ فارم بن رہی ہے۔ ترقی یافتہ معیشتیں اور ترقی پذیر معیشتیں، بڑے اور چھوٹے ممالک، گلوبل نارتھ اور گلوبل ساؤتھ، اس فورم میں یکجا ہو رہے ہیں۔ یہ بات بھی حوصلہ افزا ہے کہ اس میں صرف حکومتیں شامل نہیں ہیں۔ عالمی ادارے، ڈومین ماہرین اور نجی شعبے بھی اپنا رول  ادا کررہے ہیں۔

دوستو،

جب ہم بنیادی ڈھانچے پر بات کرتے ہیں تو  کچھ ترجیحات کو یاد رکھنا ہوگا۔ اس سال کی کانفرنس کے لیے سی ڈی آر آئی کی تھیم ڈیلیورنگ ریزیلینٹ اینڈ  انکلوسیو انفراسٹرکچر سے متعلق ہے۔ بنیادی ڈھانچے کا مقصد  نہ صرف فائدہ پہنچانا ہوتا ہے  بلکہ رسائی اور لچک فراہم کرانا  بھی ہوتا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کو کسی کو پیچھے نہیں چھوڑنا چاہیے اور بحران کے وقت بھی لوگوں کی خدمت کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ  بنیادی ڈھانچے کے بارے میں ایک جامع نظریہ کی ضرورت ہے۔ سماجی اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ  اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ ٹرانسپورٹ  کا بنیادی ڈھانچہ۔

دوستو،

آفات کے دوران، یہ فطری بات ہے کہ ہمارا دل مصیبت زدہ لوگوں کی طرف جاتا ہے۔ راحت اوربچاؤ کے کاموں کو ترجیح دی جاتی ہے اور  یہ بلکل صحیح ہے۔ لچک کا تعلق اس بات سے ہوتا ہے کہ نظام کتنی جلدی معمول کی زندگی کی واپسی کو یقینی بنا سکتا ہے۔ ایک آفت اور دوسری آفت کے درمیان کی مدت میں لچک پیدا ہوتی ہے۔ ماضی کی آفات کا مطالعہ اور ان سے سبق سیکھنا ہی راستہ ہے۔ یہیں پر سی ڈی آر آئی اور اس کانفرنس کا کلیدی رول  ہے۔

دوستو،

ہر ملک اور خطہ مختلف قسم کی آفات کا سامنا کرتا ہے۔ معاشرے ایسے  بنیادی ڈھانچے سے متعلق معلومات  تیار کرتے ہیں جو آفات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے و جدید بنانے کے دوران ایسے علم کو ہوشیاری سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ مقامی بصیرت کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی لچک کے لیے بہترین ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ  اگر اچھی طرح سے دستاویز  بندی کی جائے تو، مقامی علم ایک بہترین عالمی طریقہ کار  بن سکتا ہے!

دوستو،

سی ڈی آر آئی کے کچھ اقدامات  نے پہلے ہی اس کی شمولیت والی منشا  کو ظاہر کیاہے۔ انفراسٹرکچر  فار ریزیلینٹ آئی لینڈ  اسٹیٹس پہل یا  آئی آر آئی ایس سے بہت سے جزیرہ  ممالک کو فائدہ ہوتا ہے۔ یہ جزیرے چھوٹے ہو سکتے ہیں لیکن ان میں رہنے والا ہر انسان ہمارے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ ابھی پچھلے سال ہی  انفراسٹرکچر ریزیلینس ایکسلریٹر فنڈ کا اعلان کیا گیا تھا۔ 50 ملین ڈالر کے اس فنڈ نے ترقی پذیر ممالک میں بے پناہ دلچسپی پیدا کی ہے۔ مالی وسائل کا عزم اقدامات کی کامیابی کی کلید ہے۔

دوستو،

حالیہ آفات نے ہمیں درپیش چیلنجوں کے پیمانے کی یاد دلائی ہے۔ میں آپ کو چند مثالیں دیتا ہوں۔ پورے ہندوستان اور یورپ میں گرمی کی لہر آئی تھی۔ کئی جزیرہ ملکوں کو زلزلوں، طوفانوں اور آتش فشاں سے نقصان پہنچا۔ ترکی اور شام میں زلزلوں  سے  بہت زیادہ جانی و مالی نقصان ہوا۔ اس سے آپ کے  کام  کی موزونیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سی ڈی آڑ آئی سے بہت زیادہ توقعات  وابستہ ہیں۔

دوستو،

اس سال ہندوستان بھی اپنی  جی 20 صدارت کے ذریعے دنیا کو ایک مقام پر لا رہا ہے۔ جی 20 کے صدر کے طور پر، ہم نے پہلے ہی سی ڈی آر آئی کو کئی ورکنگ گروپوں میں شامل کر لیا ہے۔ آپ  یہاں  جو حل تلاش کریں گے وہ عالمی  پالیسی سازی کی اعلیٰ سطحوں پر توجہ حاصل کریں گے۔ یہ سی ڈی آر آئی کے لیے بنیادی ڈھانچے کی لچک  کے لئے ، خاص طور پر آب و ہوا کے  خطرات اور آفات کے خلاف  تعاون کرنے کا ایک موقع ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ آئی سی ڈی آر آئی 2023 میں کیا جانے والا غور و خوض  زیادہ لچکدار دنیا کے مشترکہ وژن کو حاصل کرنے کا راستہ فراہم کرے گا۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Parliament on verge of history, says PM Modi, as it readies to take up women's bills

Media Coverage

Parliament on verge of history, says PM Modi, as it readies to take up women's bills
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit Karnataka on 15th April
April 14, 2026
PM to inaugurate Sri Guru Bhairavaikya Mandira at Sri Kshetra Adichunchanagiri in Mandya
Sri Guru Bhairavaikya Mandira is a memorial dedicated to Sri Sri Sri Dr. Balagangadharanatha Mahaswamiji, the 71st Pontiff of Sri Adichunchanagiri Mahasamsthana Math
PM to also jointly release the book titled “Saundarya Lahari and Shiva Mahimna Stotram” along with former Prime Minister Shri H. D. Deve Gowda ji

Prime Minister, Shri Narendra Modi will visit Karnataka on 15th April 2026. At around 11 AM, Prime Minister will inaugurate the Sri Guru Bhairavaikya Mandira at Sri Kshetra Adichunchanagiri in Mandya district. He will also address the gathering on the occasion.

During the visit, Prime Minister will also jointly release the book titled “Saundarya Lahari and Shiva Mahimna Stotram” along with former Prime Minister Shri H. D. Deve Gowda ji.

Sri Guru Bhairavaikya Mandira is a memorial dedicated to the revered seer, Sri Sri Sri Dr. Balagangadharanatha Mahaswamiji, the 71st Pontiff of Sri Adichunchanagiri Mahasamsthana Math. Constructed in the traditional Dravidian architectural style, the Mandira stands as a tribute to the life and legacy of the late seer. The Mandira is envisioned not only as a place of reverence but also as a source of inspiration for future generations.

Sri Sri Sri Dr. Balagangadharanatha Mahaswamiji was widely respected for his lifelong commitment to social service, having established numerous educational institutions and healthcare facilities. He firmly believed that service to society is the highest form of worship, and his teachings transcended barriers of caste, creed, and region, inspiring millions.