مہاراج کی تخلیقات انسانیت کو درپیش چیلنجوں کے لیے روحانی حل پیش کرتی ہیں: وزیر اعظم
نوجوانوں کی طاقت ثقافتی جڑوں کو مضبوط کرتے ہوئے ترقی پسند ہندوستان کو آگے بڑھا رہی ہے: وزیر اعظم
وزیر اعظم مودی نے سماج اور ملک کے لیے نو قراردادوں کا اعادہ کیا

جے جِنِندرا!

آج کے اس مقدس موقع پر سب سے پہلے میں ہم سب کے سرچشمۂ تحریک، پوجیہ بھون بھانوسوریشور جی مہاراج صاحب کے قدموں میں عقیدت کے ساتھ سلام پیش کرتا ہوں۔ پرسنت مورتی سووشال گچھادھی پتی پوجیہ شریمد وجے راجندر سورییشور جی مہاراج صاحب، پوجیہ گچھادھی پتی شری کلپترو سورییشور جی مہاراج صاحب، سرسوتی کرپا پاتر پرم پوجیہ آچاریہ بھگوت شریمد وجے رتن سندر سورییشور جی مہاراج اور اس تقریب میں موجود تمام سادھو اور سادھویوں کو میں نمن کرتا ہوں۔

اُرجا مہوتسو کی اس کمیٹی سے وابستہ تمام اراکین، بھائی شری کمارپال بھائی، کلپیش بھائی، سنجے بھائی، کوشک بھائی اور ایسے تمام معزز حضرات کا بھی میں خیر مقدم کرتا ہوں۔ پوجیہ سنتو! آج ہم سب شریمد وجے رتن سندر سورییشور جی مہاراج صاحب کی پانچ سوویں کتاب کی رسمِ اجرا کے بابرکت لمحے کے گواہ بن رہے ہیں۔ مہاراج صاحب نے علم کو صرف گرنتھوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے اپنی زندگی میں عملی طور پر اُتار کر دکھایا اور دوسروں کو بھی زندگی میں اپنانے کی ترغیب دی۔ ان کی شخصیت ضبطِ نفس، سادگی اور وضاحت کا ایک حسین امتزاج ہے۔ جب وہ لکھتے ہیں تو الفاظ میں تجربے کی گہرائی ہوتی ہے، جب وہ بولتے ہیں تو ان کی وانی میں کرُونا کی طاقت جھلکتی ہے، اور جب وہ خاموش ہوتے ہیں تو بھی رہنمائی ملتی ہے۔ مہاراج صاحب کی پانچ سوویں کتاب کا موضوع ’’پریم نو وشو، وشو نو پریم‘‘—یہ عنوان اپنے آپ میں بہت کچھ کہہ دیتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارا سماج، ہمارے نوجوان اور پوری انسانیت اس تخلیق سے فائدہ اٹھائیں گے۔ اس خصوصی موقع پر اُرجا مہوتسو کا یہ اہتمام عوام میں ایک نئی فکری توانائی پیدا کرے گا۔ میں آپ سب کو اس موقع پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو!

مہاراج صاحب کی پانچ سو تصانیف خیالات کے انمول جواہرات سے بھرا ہوا ایک وسیع سمندر ہیں۔ یہ کتابیں انسانیت کے بے شمار مسائل کے لیے سادہ اور روحانی حل پیش کرتی ہیں۔ وقت اور حالات کے مطابق ہر تحریر رہنمائی کا ایک چراغ ثابت ہوتی ہے۔ ہمارے تیرتھنکروں اور قدیم آچاریوں کی تعلیمات—اہنسا، اپریگراہ اور انیکانتواد—کے ساتھ محبت، رواداری اور ہم آہنگی کی قدریں ان تحریروں میں جدید اور عصری انداز میں جلوہ گر نظر آتی ہیں۔ خصوصاً آج کے دور میں، جب دنیا تقسیم اور تصادم کا شکار ہے، “پریمنو وشو، وشو نو پریم” محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک منتر ہے۔ یہ منتر ہمیں محبت کی قوت سے روشناس کراتا ہے اور اس امن و آہنگ کا راستہ دکھاتا ہے جس کی دنیا شدت سے متلاشی ہے۔

ساتھیو!

ہمارے جین فلسفے کا رہنما اصول “پرسپروپگراہو جیونم” ہے—یعنی ہر زندگی دوسری زندگی سے جڑی ہوئی ہے۔ جب ہم اس اصول کو سمجھتے ہیں تو ہماری نگاہ فرد سے نکل کر اجتماع کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ ہم ذاتی خواہشات سے بلند ہو کر سماج، قوم اور انسانیت کے اہداف کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔ اسی جذبے کے تحت، آپ کو یاد ہوگا کہ میں نوکار منتر ڈے کے موقع پر آپ کے ساتھ شریک ہوا تھا۔ اس تاریخی موقع پر چاروں فرقے ایک ساتھ آئے تھے اور میں نے نو اپیلیں، نو عہد پیش کیے تھے۔ آج کا یہ موقع بھی انہیں دہرانے کا ہے۔

پہلا عہد — پانی بچانے کا۔

دوسرا عہد — ماں کے نام پر ایک درخت لگانا۔

تیسرا — صفائی کا مشن۔

چوتھا — ووکل فار لوکل۔

پانچواں — بھارت درشن۔

چھٹا — قدرتی کھیتی کو اپنانا۔

ساتواں — صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنا۔

آٹھواں — یوگا اور کھیل کو زندگی میں شامل کرنا۔

نواں — غریبوں کی مدد کا عہد۔

ساتھیو!

آج بھارت دنیا کے سب سے کم عمر ممالک میں شامل ہے۔ ہماری نوجوان قوت ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ہماری ثقافتی جڑوں کو بھی مضبوط بنا رہی ہے۔ اس تبدیلی میں مہاراج صاحب جیسے سنتوں کی رہنمائی، ان کا ادب اور ان کے وہ کلمات—جو گہری روحانی ریاضت سے ہمیشہ مزیّن ہوتے ہیں—نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک بار پھر میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ان کی پانچ سوویں کتاب کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ ان کے افکار بھارت کے فکری، اخلاقی اور انسانی سفر کو روشن کرتے رہیں گے۔

مجھے آپ سب سے معذرت بھی طلب کرنی ہے۔ میں دل سے چاہتا تھا کہ خود یہاں حاضر ہوں اور میں نے اس کی منصوبہ بندی بھی بہت پہلے کر لی تھی، مگر جیسا کہ آپ جانتے ہیں، کچھ حالات ایسے پیش آئے جن کی وجہ سے میں آپ کے درمیان حاضر نہ ہو سکا اور آپ کے درشن سے محروم رہا۔ تاہم یہ مہاراج صاحب کی کرپا ہے کہ انہوں نے میری مجبوری کو سمجھا اور مجھے اس ویڈیو پیغام کے ذریعے آپ سے جڑنے، آپ سے ملنے اور بات کرنے کا موقع عطا کیا۔ اس کے لیے بھی میں ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔

جے جِنِندرا!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report

Media Coverage

Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves integration and continuation of two schemes under umbrella scheme SARTHAK-PDS
May 27, 2026
Centre to spend Rs. 25,530 crore in next 5 years for SARTHAK PDS
Continuation of schemes to ensure last-mile delivery of Food grains with higher FPS Dealers’ commission
Government strive for intelligently optimized PDS operations through advanced technologies to ensure transparency, security and sustainability in PDS operations

The Cabinet Committee on Economic Affairs (CCEA) chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi has approved the continuation of the “Scheme for Assistance in Ration Transport and Handling-Income with Automation in PDS” (SARTHAK PDS) as an umbrella scheme, in the 16th Finance Commission cycle award period, with an outlay of Rs. 25,530 crore as Central share.

The CCEA has also decided to revise the norms of Central assistance for meeting expenditure incurred by States/UTs intra-state movement & handling of foodgrains and FPS dealers’ margin and continuation of the existing funding pattern of Central Assistance.

The Scheme is conceived as an umbrella scheme integrating the ongoing schemes: (i) “Assistance to State Agencies for intra-State movement of foodgrains and FPS dealers’ margin under NFSA” and (ii) “Scheme for Modernization and Reforms through Technology in Public Distribution System (SMART PDS)” to comprehensively strengthen implementation of the National Food Security Act, 2013 (NFSA).

SARTHAK-PDS Scheme aims to provide (a) assured financial support for intra-State movement, handling and FPS dealer’s margin, and (b) a unified, citizen-centric, intelligent and interoperable PDS architecture that ensures last-mile service delivery, minimizes leakages and strengthens the nation’s commitment to food security under NFSA, with the merged scheme to operate up to 31.03.2031.

SARTHAK-PDS Scheme seeks to modernize, integrate and intelligently optimize PDS operations through advanced technologies such as Artificial Intelligence (AI), Machine Learning (ML), Natural Language Processing (NLP) and Blockchain, by creating standardized architectures and unified databases for real-time monitoring, AI-driven grievance and analytics systems, State Command Control Centres for data-driven oversight, and ISO-certified process frameworks to ensure transparency, security and sustainability in PDS operations.

Government of India has a social & legal commitment to the people of the nation - a dignified life by ensuring them access to food and nutritional security through the availability of adequate quantities of quality food grains. The Scheme will work towards fulfilling the Government of India's commitment to 81.35 crore persons covered under NFSA. Building on the statutory and policy framework, SARTHAK-PDS retains and streamlines the financial assistance component while simultaneously embedding it within a modern, technology-driven PDS ecosystem.

Over the past decade, the Government has implemented multiple digitization initiatives such as End-to-End Computerization of TPDS, Integrated Management of PDS (IM-PDS) and SMART PDS, along with citizen-facing applications like Mera Ration, Anna Mitra, Rightful Targeting Dashboard and Anna Sahayata, and since 1st April 2023, the SMART PDS scheme has acted as the cornerstone of technology-led reforms by enabling complete digitization of ration cards, Aadhaar seeding, FPS automation through e-PoS, online allocation and computerized supply-chain management across 36 States/UTs.