بلٹ ٹرین ملازم : بلٹ ٹرین ہے پہچان ہماری ، یہ حصولیابی مودی جی آپ کی ہے  اور ہماری ۔

وزیر اعظم:-کیا آپ کو لگتا ہے کہ رفتار ٹھیک ہے؟ کیا آپ اپنے مقرر کردہ ٹائم ٹیبل پر قائم ہیں، یا آپ کو کوئی مسئلہ درپیش ہے؟

بلٹ ٹرین ملازم - نہیں سر، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

وزیراعظم - کیا کہیں گےآپ ؟

بلٹ ٹرین  ملازم – سر میں کیرالہ سے ہوں۔ میں یہاں سیکشن 2 نوساری شور میں ہوں...

وزیر اعظم - کیا یہ آپ کا   گجرات میں پہلا موقع ہے؟

بلٹ ٹرین  ملازم - جی سر، میں یہاں سیکشن 2 شور بیریئر فیکٹری میں ہوں، روبوٹک یونٹ کو دیکھ رہا ہوں۔ ہم روبوٹ کی مدد سے شور کی روٹ کے ریبارکیج کو ویلڈنگ کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم - اس بلٹ ٹرین کو بنانے اور ہندوستان کی پہلی ٹرین بننے کے بارے میں آپ  کیا خیال ہے؟ آپ کے ذہن میں اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ اپنے گھر والوں کو اس بابت  کیا بتاتے ہیں؟

بلٹ ٹرین  ملازم – سر ایسا لگتا ہے جیسے یہ کوئی خواب ہے۔ میں جو کام کر رہا ہوں وہ بہت مفید ہو گا سر۔ یہ میرے خاندان کے لیے قابل فخر لمحہ ہےسر۔

وزیر اعظم - دیکھیں، جب تک آپ کے ذہن میں یہ احساس نہیں ہے، ’میں اپنے ملک کے لیے کام کر رہا ہوں، میں ملک کو کچھ نیا دے رہا ہوں،‘ پہلا خلائی سیٹلائٹ لانچ کرنے والے شخص کو ایسا ہی محسوس ہوا ہوگا، اور آج سینکڑوں سیٹلائٹ لانچ کیے جا رہے ہیں۔

بلٹ ٹرین  ملازم - ہیلو، سر، میرا نام شروتی ہے۔ میں بنگلور سے ہوں اور میں لیڈ انجینئرنگ مینیجر ہوں۔ میں ڈیزائن اور انجینئرنگ کنٹرول کی نگرانی کرتی  ہوں۔ لہذا، جیسا کہ آپ کہتے ہیں، ابتدائی منصوبہ اور عمل درآمد سب سے پہلے کیا جاتا ہے. پھر، جیسے جیسے ہم عمل درآمد کی طرف بڑھتے ہیں، ہم راستے کے ہر قدم پر فوائد اور نقصانات کی جانچ کرتے ہیں۔ اور اگر یہ کا  م نہیں کر رہا ہے تو یہ کا  م کیوں نہیں کر رہا ہے؟ اس بابت ہم پہلے حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر یہ اب بھی کا م نہیں کرتا ہے، تو ہم متبادل حل تلاش کریں گے اور قدم بہ قدم آگے بڑھیں گےسر ۔

 

وزیر اعظم - اگر آپ کے تجربات کو بلیو بک کی طرح ریکا رڈ کرکے تیار کیا جائے تو ہم ملک میں بڑے پیمانے پر بلٹ ٹرینوں کی طرف بڑھیں گے۔ اب، ہم نہیں چاہتے کہ ہر کوئی کچھ نیا تجربہ کرے۔ جو کچھ بھی ہم نے یہاں سیکھا ہے اسے وہاں نقل کیا جانا چاہیے۔ لیکن یہ نقل تب ہی ہو گی جب ہم سمجھیں کہ اسے کیوں کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری صورت میں، اگر آپ اس طرح کے ریکارڈ کو برقرار رکھتے ہیں، تو یہ مستقبل میں طلباء کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ ہم اپنی زندگی یہیں لگا دیں گے اور ملک کو کچھ دے کر جائیں گے ۔

بلٹ ٹرین  ملازم - مجھے شہرت نہیں، مجھے انعام نہیں چاہیے۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ ہمارا ملک ترقی کرے۔

وزیر اعظم - واہ۔

بلٹ ٹرین ملازم - مودی جی، آپ کے تمام خواب پورے ہوں۔ مودی جی، آپ کی تمام خواہشات کی تکمیل ہو ۔ ملک  کا نام بہت اونچا ہو۔ بلٹ ٹرین ہماری پہچان بنے ، بلٹ ٹرین ہے   پہچان ہماری ، بلٹ ٹرین ہے   پہچان ہماری،  یہ حصولیابی ہے مودی جی کی اور ہماری ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Over 52,000 Indians return safely from Gulf amid Iran war: MEA

Media Coverage

Over 52,000 Indians return safely from Gulf amid Iran war: MEA
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves revised cost estimate for the construction of Greenfield Connectivity in Uttar Pradesh and Haryana
March 10, 2026

The Cabinet Committee on Economic Affairs, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has approved the Revised Total Capital Cost of Rs.3630.77 crore for the Construction of Greenfield Connectivity to Jewar International Airport from Delhi-Faridabad-Ballabhgarh-Sohna Spur of the Delhi-Mumbai Expressway on Hybrid Annuity Mode in the States of Uttar Pradesh and Haryana.

This 31.42 km long project corridor will provide direct and high-speed connectivity from South Delhi, Faridabad and Gurugram to Jewar International Airport, thereby promoting economic growth and logistics efficiency across National Capital Region (NCR).

The corridor intersects Eastern Peripheral Expressway, Yamuna Expressway, and Dedicated Freight Corridor (DFC), enabling multimodal transport convergence. The elevated corridor is not merely a structural enhancement but a strategic enabler for urban transformation, regional connectivity, and national logistics efficiency. Its construction is imperative to unlock the full potential of the Jewar Airport–Delhi–Mumbai Expressway corridor and to ensure sustainable urban development in Faridabad.

About 11 km length of this project is to be developed as elevated highway which forms a critical segment of the Greenfield connectivity between DND-Ballabhgarh Bypass and Jewar International Airport, linking it to the Delhi-Mumbai Expressway. This corridor traverses the area earmarked for high-density urban development and future infrastructure expansion under the Faridabad Master Plan, 2031. The additional cost of the proposed elevated corridor is Rs.689.24 crore and the Government of Haryana has agreed to bear Rs.450 crore for elevated corridor.

Project Alignment Map for Greenfield Connectivity to Jewar International Airport from Delhi-Faridabad-Ballabhgarh-Sohna Spur of the Delhi-Mumbai