Share
 
Comments
The role of civil servants should be of minimum government and maximum governance: PM Modi
Take decisions in the national context, which strengthen the unity and integrity of the country: PM to civil servants
Maintain the spirit of the Constitution as you work as the steel frame of the country: PM to civil servants

نئی دہلی،31 اکتوبر ،2020   / انتظامی صورتحال میں بہت بڑا رول سنبھالنے والی ہماری نوجوان نسل کچھ ہٹ کر سوچنے کے لیے تیار ہے۔ نیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مجھے ان باتوں  میں سے ایک نئی امید ملی ہے اور اس لیے میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں۔ پچھلی مرتبہ آج ہی کے دن کیوریا میں آپ سے پہلے والے آفیسرز ٹریننگ کے ساتھ میری بڑی تفصیل سے بات چیت ہوئی تھی اور طے یہی ہوا تھا کہ ہر سال اس خصوصی انعقاد آرمبھ کے لیے یہی سردار پٹیل کا جو مجسمہ ہے،  ماں نرمدا کا  جو کنارہ ہے وہیں پر ہم ملیں گے اور ساتھ رہ کر ہم سب غور و خوض کریں گے اور اتبدائی حالات میں ہی ہم اپنے خیالات کو ایک شکل دینے کی کوشش کریں گے۔ لیکن کورونا کی وجہ سے اس مرتبہ یہ ممکن نہیں ہوا ہے۔ اس مرتبہ آپ سب مسوری میں ہیں۔ ورچوئل طریقے سے جڑے ہیں۔ اس صورتحال سے متعلق سبھی لوگوں سے میرا اصرار ہے  کہ جیسے ہی کورونا کا اثر اور کم ہو میں سبھی افسران سے بھی کہہ کر رکھتا ہوں کہ آپ ضرور سبھی ایک ساتھ ایک چھوٹا سا کیمپ یہیں سردار پٹیل کے اِس شاندار مجسمے کے  قریب لگایئے، کچھ وقت یہاں گزاریئے اور بھارت کے اس انوکھے شہر کو یعنی ایک سیاحتی مقام کیسے تشکیل پا رہا ہے ، اُس کا بھی آپ  تجربہ کیجیے۔

ساتھیوں، ایک سال پہلے جو حالات تھے، آج جو حالات ہیں اُس میں بہت بڑا فرق ہے۔ مجھے یقین ہے کہ بحران کے اس وقت میں ملک نے جس طرح کام کیا ملک کے انتظامات نے جس طرح  کام کیا اُس سے آپ نے بھی بہت کچھ سیکھا ہوگا۔ اگر آپ نے صرف دیکھا نہیں ہوگا ، مشاہدہ کیا ہوگا تو آپ کو بھی بہت کچھ میل جول جیسا لگا ہوا۔ کورونا سے لڑائی کے لیے بہت سی ایسی چیزیں جن کے لیے ملک دوسروں پر منحصر تھا آج بھارت ان میں سے کئی کو برآمد کرنے کے حالات میں آگیا ہے۔ عزم سے ثابت کرنے کی یہ بہت ہی شاندار مثال ہے۔

ساتھیوں، آج بھارت کے ترقی کے سفر کے جس اہم مرحلے میں آپ ہیں، جس وقت آپ سول سروس میں آئے ہیں وہ بہت خاص ہے۔ آپ کا بیچ جب کام کرنا شروع کرے گا ، جب آپ صحیح معنوں میں فیلڈ میں جانا شروع کریں گے تو وہ وقت ہوگا جب بھارت اپنی آزادی کے 75ویں سال میں ہوگا۔ یہ بڑا سنگ میل ہے یعنی آپ کے ان حالات میں داخلہ اور بھارت کا آزادی کا 75واں سال اور ساتھیوں ، آپ ہی وہ افسران ہیں ، میری اس بات کو بھولنا نہیں، آج ہو سکے تو روم میں جاکر لکھ دیجیے ، ساتھیوں، آپ ہی وہ افسران ہیں جو اُس وقت میں بھی ملک کی خدمت میں ہوں گے ، اپنے کریئر کے ، اپنی زندگی کے اہم مرحلے میں ہوں گے جب بھارت اپنی آزادی کے 100 سال منائے گا۔ آزادی کے 75 سال سے 100 سال کے درمیان کے یہ 25 سال ، بھارت کے لیے بہت زیادہ اہم ہیں اور آپ وہ خوش قسمت پیڑھی ہیں، آپ وہ لوگ ہیں ، جو ان 25 برسوں میں سب سے اہم انتظامی حالات کا حصہ ہوں گے۔ اگلے 25 برس میں ملک کی دفاع  و سلامتی ، غریبوں کی بہبود ، کسانوں کی فلاح ، خاتون نوجوانوں کا مفاد، عالمی سطح پر بھارت کا ایک مناسب مقام بہت بڑی ذمہ داری آپ لوگوں پر ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ تب آپ کے درمیان نہیں ہوں گے، لیکن آپ رہیں گے ، آپ کے عزائم رہیں گے۔ آپ کے عزائم کا ثبوت رہے گا اور اس لیے آج کے اس مقدس دن ، آپ کو اپنے سے بہت سے وعدے کرنے ہیں، مجھے نہیں، خود سے ۔ وہ وعدے جن کے چشمدید گواہ صرف اور صرف آپ ہوں گے، آپ کی روح ہوگی۔ میرا آپ سے اصرار ہے کہ آج کی رات ، سونے سے پہلے خود کو آدھا گھنٹہ ضرور دیجیے۔ دل میں جو چل رہا ہے، جو اپنے فرض ، اپنی ذمہ داری ، اپنے عزم کے بارے میں آپ سوچ رہے ہیں وہ لکھ کر رکھ لیجیے۔

ساتھیوں، جس کاغذ پر آپ اپنے عزائم لکھیں گے، جس کاغذ پر آپ اپنے خوابوں کو الفاظ دیں گے، کاغذ کا وہ ٹکڑا ، صرف کاغذ کا نہیں ہوگا ، آپ کے دل کا ایک ٹکڑا ہوگا۔ یہ ٹکڑا ، زندگی بھر آپ کے عزائم کو پورا کرنے کےلیے آپ کے دل کی دھڑکن بن کر آپ کے ساتھ رہے گا۔ جیسے آپ کا دل ، جسم میں لگاتار بہاؤ لاتا ہے، ویسے ہی یہ کاغذ پر لکھے گئے الفاظ آپ کی زندگی کے عزائم کو اس کے بہاؤ کو لگاتار رفتار دیتے رہیں گے۔  ہر خواب کو عزم اور عزم کے ثبوت کے منتقل ہونے میں آگے لیتے چلیں گے۔ پھر آپ کو کسی جذبے ، کسی سبق کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہ آپ ہی کا لکھا ہوا کاغذ آپ کے دل کے جذبات سے ظاہر ہوئے الفاظ آپ کے من مندر سے نکلی ہوئی ایک ایک بات آپ کو آج کے دن کی یاد دلاتی رہے گی۔ آپ کے عزائم کو یاد دلاتا رہے گا۔

ساتھیوں، ایک طرح سے سردار ولبھ بھائی پٹیل ہی، ملک کی سول سروسز کے قائم کرنے والے تھے۔ 21 اپریل ، 1947 ایڈمنسٹریٹیو سروسز آفیسرز کے پہلے بیچ کو خطاب کرتے ہوئے سردار پٹیل نے افسر شاہوں کو ملک کا اسٹیل فریم کہا تھا۔ ان افسروں کو سردار صاحب کی صلاح تھی کہ ملک کے  شہریوں  کی خدمت آپ کا اولین فرض ہے۔ میرا بھی یہی اصرار ہے کہ افسر شاہ جو بھی فیصلہ کریں وہ قوم کے حق میں ہو۔ ملک کی یکجہتی اور  اتحاد کو مضبوط کرنے والے ہوں۔ آئین کی روح کو برقرار رکھنے والے ہوں۔ آپ کا میدان  بھلے ہی چھوٹا ہو، آپ جس محکمے کو سنبھالیں اُس کا دائرہ بھلے ہی کم ہو لیکن فیصلوں میں ہمیشہ ملک کا مفاد لوگوں کا مفاد ہونا چاہیے۔ ایک قومی نظریہ ہونا چاہیے۔

ساتھیوں ، اسٹیل فریم کا کام صرف بنیاد  دینا، صرف پہلے سے جاری حالات کو سنبھالنا ہی نہیں ہوتا ۔ اسٹیل فریم کا کام ملک کو یہ احساس دلانا بھی ہوتا ہے کہ بڑے سے بڑا مسئلہ ہو یہ پھر بڑے سے بڑی تبدیلی آپ ایک طاقت بن کر ملک کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ آپ کے فیسیلیٹیٹر کی طرح کامیابی سے اپنے فرائض کو پورا کریں گے۔ فیلڈ میں جانے کے بعد طرح طرح کے لوگوں سے گھرنے کے بعد ،  آپ کو اپنے اس رول کو لگاتار یاد رکھنا ہے۔ بھولنے کی غلطی کبھی مت کرنا، آپ کو یہ بھی یاد رکھنا ہے  کہ فریم کوئی بھی ہو، گاڑی کا ، چشمے کا یا کسی تصویر کا ، جب وہ سمٹا ہوا رہتا ہے تبھی کامیاب ہو پاتا ہے۔ آج جس اسٹیل فریم کی نمائندگی کر رہے ہیں، اس کا بھی زیادہ اثر تبھی ہوگا ، جب آپ ٹیم میں رہیں گے، ٹیم کی طرح کام کریں گے۔  آگے جا کر آپ کو پورے پورے ضلعے سنبھالنے ہیں، الگ الگ محکموں کی قیادت کرنی ہے۔ مستقبل میں، آپ ایسے فیصلے بھی کریں گے جن کا اثر پوری ریاست پر ہوگا، پورے ملک میں ہوگا۔ اس وقت آپ کا یہ ٹیم  جذبہ آپ کے اور زیادہ  کام آنے والا ہے۔ جب آپ اپنے شخصی عزائم کے ساتھ ملک کے مفاد کے دشوار ہدف کو جوڑ لیں گے، بھلے ہی کسی بھی سروس کے ہوں، ایک ٹیم کی طرح پوری طاقت لگا دیں گے، تو آپ بھی کامیاب ہوں گے اور میں یقین سے کہتا ہوں ملک بھی کبھی ناکام نہیں ہوگا۔

ساتھیوں،  سردار پٹیل نے ایک بھارت – سریشٹھ بھارت کا خواب دیکھا تھا۔ ان کا یہ خواب ’آتم نربھر بھارت‘ سے منسلک ہوا تھا ۔ کورونا عالمی وبا کے دوران بھی جو ہمیں سب سے بڑا سبق ملا ہے ، وہ آتم نربھر بھارت کا ہی ہے۔ آج ایک بھارت  – سریشٹھ بھارت کا جذبہ آتم نربھر بھارت کا جذبہ، ایک نئے بھارت کی تعمیر ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔ نیا بھارت ہونے کے کئی معنی ہو سکتے ہیں، کئی جذبے ہو سکتے ہیں، لیکن میرے لیے نئے کے معنی یہی نہیں ہیں کہ آپ اس پرانے کو ہٹا دیں اور کچھ نیا لے آئیں۔ میرے لیے نئے کے معنی ہیں، کایا پلٹ کرنا، تخلیقی  ہونا، تازہ ہونا اور توانائی سے بھرپور ہونا۔ میرے لیے نئے ہونے کے معنی ہیں جو پرانا ہے اسے اور زیادہ  معنی خیز بانا جو پرانا ہے اسے چھوڑتے چلے جانا ہے، چھوڑنے کے لیے بھی ہمت چاہیے ہوتی ہے  اور اس لیے آج  نیا اعلیٰ اور خود کفیل بھارت بنانے کے لیے  کیا ضرورتیں ہیں، وہ آپ کے  وسیلے سے کیسے پوری ہوں گی، اس پر آپ کو لگاتار غور کرنا ہوگا۔ ساتھیوں، یہ بات صحیح ہے کہ خود کفیل بھارت کے نشانے کو پورا کرنے کے لیے ہمیں سائنس و ٹکنالوجی کی ضرورت ہے۔ وسائل اور رقوم کی ضرورت ہے۔ لیکن اہم یہ بھی ہے کہ اس ویژن کو پورا کرنے کے لیے ایک افسر شاہ کے طور پر آپ کا رول کیا ہوگا۔ عوام کی امیدوں کی بھرپائی میں ، اپنے کام کی کوالیٹی میں ، رفتار میں آپ کو ملک کے اس نشانے کا چوبیسوں گھنٹے خیال رکھنا ہوگا۔

ساتھیوں، ملک میں نئی تبدیلی کے لیے ، نئے نشانوں کی حصولیابی کے لیے ، نئے راستے اور نئے طور طریقے اپنانے کے لیے بہت بڑا رول تربیت کا ہوتا ہے، اسکیل – سیٹ کے فروغ کی ہوتی ہے۔ پہلے کے وقت ، اس پر بہت زور نہیں رہتا تھا۔ تربیت میں جدید نظریہ کیسے آئے ،  اس بارے میں بہت سوچا نہیں گیا۔ لیکن اب ملک میں انسانی وسائل کی صحیح اور جدید تربیت پر بھی بہت زور دیا جا رہا ہے۔ آپ نے خود بھی دیکھا ہے کہ کیسے گزشتہ دو تین برسوں میں ہی افسر شاہوں کی تربیت کی شکل بہت بدل گئی ہے۔ یہ آرمبھ صرف شروعات نہیں ہے ایک علامت بھی ہے اور ایک نئی روایت بھی۔ ایسے ہی حکومت میں کچھ دن پہلے ایک اور مہم شروع کی ہے  – مشن کرم یوگی۔ مشن کرم یوگی ، صلاحیت سازی کی جانب اپنی طرح کا ایک نیا تجربہ ہے، اس مشن کے ذریعے سرکاری ملازمین کو ان کی سوچ ، اپروچ کو جدید بنانا ہے، ان کا اسکیل – سیٹ سدھارنا ہے، انہیں کرم یوگی بنانے کا موقع دینا ہے۔

ساتھیوں، گیتا میں بھگوان کرشن نے کہا ہے  – ’یگیہ ارتھات کرمن انیتر لوکہ ایم کرم بندھن‘۔ یعنی،  یگیہ یعنی خدمت کے علاوہ، مفاد کے لیے کیے گیے کام، فرض نہیں ہوتے۔ وہ الٹا ہمیں ہی باندھنے والا کام ہوتا ہے۔ کرم وہی ہے، جو ایک بڑے خاکے کے ساتھ کیا جائے، ایک بڑے نشانے کے لیے کیا جائے۔ اسی کام کا بننا ہے، ساتھیوں آپ سبھی جس بڑے اور لمبے سفر پر نکل رہے ہیں، اس میں اصولوں کا بہت تعاون ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی آپ کو رول پر بھی بہت زیادہ توجہ دینی ہے۔  اصول اور کردار، مسلسل جدوجہد چلے گی، لگاتار کشیدگی آئے گی۔  اصولوں کی اپنی اہمیت ہے، رول کی اپنی اہم ذمہ داری ہے۔ ان دونوں کا توازن ، یہی تو آپ کے لیے  کھینچی ہوئی رسی پر چلنے والا کھیل ہے۔ گزشتہ کچھ وقت سے حکومت نے بھی رول پر مبنی طریق کار پر کافی زور دیا ہے۔ اس کے نتیجے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ پہلا – سول سروسز میں صلاحیت اور اہلیت اس کی تخلیق کے لیے نیا ڈھانچہ کھڑا ہوا ہے۔ دوسرا – سیکھنے کے طور طریقے جمہوری انداز کے ہوئے ہیں۔ اور تیسرا – ہر افسر کے لیے اس کی صلاحیت اور توقع کے حساب سے اس کی ذمہ داری بھی طے ہو رہی ہے۔ اس نظریے کے ساتھ کام کرنے کے پیچھے سوچ یہ ہے کہ جب آپ ہر رول میں اپنا کردار اچھی طرح نبھائیں گے ، تو آپ اپنی مجموعی زندگی میں بھی مثبت رہیں گے، یہی مثبت سوچ آپ کی کامیابی کے راستے کھولے گی۔ آپ کو ایک کرم یوگی کی شکل میں زندگی کے اطمینان کا بہت بڑا سبب بنے گی۔

ساتھیوں، کہا جاتا ہے کہ زندگی ایک متحرک حالت ہے۔  حکمرانی بھی تو ایک متحرک عمل ہے۔ اس لیے ہم ایک سرگرم حکومت کی بات کرتے ہیں۔ ایک افسر شاہ کے لیے پہلے ضروری ہے کہ آپ ملک کے عام آدمی سے لگاتار منسلک رہیں۔ جب آپ لوک سے جڑیں گے تو لوک تنتر میں کام کرنا اور آسان ہو جائے گا۔ آپ لوگ  بنیادی تربیت اور پیشہ ورانہ تربیت پوری ہونے کے بعد فیلڈ تربیت کے لیے جائیں گے۔ میری پھر آپ کو صلاح ہوگی، آپ فیلڈ میں لوگوں سے جڑیے ، الگ تھلگ مت رہیے۔ دماغ میں کبھی بابو مت آنے دیجئے۔ آپ جس زمین سے نکلے ہوں، جس کنبے ، سماج سے نکلے ہوں ، اس کو کبھی بھولیے مت۔ سماج سے جڑتے چلیے ، جڑتے چلیے ، جڑتے چلیے، ایک طرح سے سماجی زندگی میں ضم  ہو جایئے۔ سماج آپ کی طاقت کا سہارا بن جائے گا۔ آپ کو دو ہاتھ یہ ہتھیار اور طاقت بن جائیں گے۔ یہ ہتھیار طاقت ، عوامی طاقت ہوتی ہے انہیں سمجھنے کی ، ان سے سیکھنے کی کوشش ضرور کریئے۔ میں اکثر کہتا ہوں سرکار سر سے نہیں چلتی ہے۔ پالیسیاں جس عوام کے لیے ہیں، ان کا ازالہ بہت ضروری ہے۔ عوام صرف حکومت کی پالیسیوں کی ، پروگرامس کی،  ریسیور نہیں ہیں، عوام الناس ہی اصل ڈرائیونگ فورس ہیں۔ اس لیے ہمیں حکومت سے حکمرانی کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔

ساتھیوں، اس اکیڈمی سے نکل کر ، جب آپ آگے بڑھیں گے تو سامنے دو راستے ہوں گے ۔ ایک راستہ آسانی کا، سہولتوں کا، نام اور شہرت کا راستہ ہوگا۔ ایک راستہ ہوگا جہاں چنوتیاں ہوں گی، مشکلات ہوں گی، جد وجہد ہوگی، مسائل ہوں گے۔ لیکن میں اپنے تجربے سے آج آپ سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ آپ کو اصل دشواری تبھی ہوگی جب آپ آسان راستہ اختیار کریں گے۔ آپ نے دیکھا ہوگا ، جو سڑک سیدھی ہوتی ہے، کوئی موڑ نہیں ہوتے ہیں وہاں سب سے زیادہ حادثات ہوتے ہیں لیکن جو ٹیڑھی میڑھی موڑ والی سڑک ہوتی ہے وہاں ڈرائیور بڑا ہوشیار رہتا ہے۔ وہاں حادثات کم ہوتے ہیں، اور اس لیے سیدھا سادا راستہ کبھی نہ کبھی بہت بڑا مشکل راستہ بن جاتا ہے۔ قوم کی تعمیر کے خود کفیل بھارت کے جس بڑے نشانے کی جانب  آپ قدم بڑھا رہے ہیں اُس میں آسان راستے ملیں یہ ضروری نہیں ہے۔ ارے، دل میں اس کی خواہش بھی نہیں کرنی چاہیے، اس لیے جب آپ ہر چنوتی کا حل نکالتے ہوئے آگے بڑھیں گے ، لوگوں کی زندگی کی آسانی کو بڑھانے کے لیے لگاتار کام کریں گے، تو اس کا فائدہ صرف آپ کو نہیں پورے ملک کو ملے گا۔ اور آپ ہی کی نظروں کے سامنے آزادی کی 75 سال سے آزادی کے 100 سال کا سفر پھلتے پھولتے ہندوستان کو دیکھنے کا مرحلہ ہوگا۔ آج ملک جس طریقے سے کام کر رہا ہے، اُس میں آپ سبھی افسر شاہوں کا رول کم سے کم حکومت ، زیادہ سے زیادہ حکمرانی کا ہی ہے۔ آپ کو یہ یقینی بنانا ہے کہ شہریوں کی زندگی میں آپ کا دخل کیسے کم ہو۔ عام آدمی کو بااختیار کیسے بنایا جائے۔

ہمارے یہاں اپنشد میں کہا گیا ہے – ’نہ تت دوتیم استی‘۔ یعنی، کوئی دوسرا نہیں ہے، کوئی مجھ سے الگ نہیں ہے۔ جو بھی کام کریئے ، جس کیسی کے لیے بھی کریئے ، اپنا سمجھ کر کریئے۔ اور میں اپنے تجربے سے ہی کہوں گا کہ جب آپ اپنے محکمے کو ، عام لوگوں کو اپنا کنبہ سمجھ کر کام کریں گے تو آپ کو کبھی تھکان نہیں ہوگی۔ ہمیشہ آپ نئی توانائی سے بھرے رہیں گے۔ ساتھیوں ، فیلڈ تعیناتی کے دوران ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ افسروں کی پہچان ، اس بات سے بنتی ہے کہ وہ اضافی طور پر کیا کر رہے ہیں۔ جو چلتا رہا ہے، اس میں الگ کیا کر رہا ہے۔ آپ بھی فیلڈ میں ، فائلوں سے باہر نکل کر کے ، روز مرہ سے الگ ہٹ کر اپنے شعبے کی ترقی کے لیے ، لوگوں کے لیے جو بھی کریں گے، اس کا اثر الگ ہوگا۔ اس کا نتیجہ الگ ہوگا۔ مثال کے طور پر آپ جن ضلعوں میں بلاکوں میں کام کریں گے، وہاں کئی ایسی چیزیں ہوں گی ، کئی ایسی مصنوعات ہوں گی جن میں ایک عالمی امکان ہوگا۔ لیکن ، ان مصنوعات کو ، ان آرٹس کو ، ان کے آرٹسٹ کو عالمی سطح کا ہونے کے لیے مقامی مدد کی ضرورت ہے۔ یہ مدد آپ کو ہی کرنا ہوگی، یہ ویژن آپ کو ہی دینا ہوگا۔ اسی طرح آپ کسی ایک مقامی اختراع کار کی تلاش کر کے اس کے کام میں ایک ساتھی کی طرح اُس کی مدد کر سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے، آپ کے تعاون سے وہ اختراع سماج کے لیے بہت بڑے تعاون کی شکل میں سامنے آ جائے۔ ویسے میں جانتا ہوں، کہ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ سب کر تو لیں گے لیکن بیچ میں منتقلی ہو گئی ، تو کیا ہوگا؟ میں نے جو ٹیم جذبے کی بات شروع میں کی تھی نا، وہ اس لیے ہی تھی۔ اگر آپ ایک جگہ ہیں، کل دوسری جگہ ہیں تو بھی اس میدان میں اپنی کوششوں کو چھوڑیئے گا نہیں، اپنے مقاصد کو بھولیئے گا نہیں، آپ کے بعد جو لوگ آنے والے ہیں، ان کو اعتماد میں لیجیے، ان کا اعتماد بڑھایئے، ان کا حوصلہ بڑھایئے، ان کو بھی جہاں ہے، وہاں سے مدد کرتے رہیئے ۔ آپ کے خوابوں کو آپ کے بعد والی نسل بھی پورا کرے گی۔ جو نئے افسران آئیں گے، ان کو بھی اپنے مقاصد کا شراکت دار بنا سکتے ہیں۔

ساتھیوں، آپ جہاں بھی جائیں، آپ کو ایک اور بات ذہن میں رکھنی ہے۔ آپ جس دفتر میں ہوں گے، اس کے بورڈ میں درج آپ کے کام کی مدت سے ہی آپ کی پہچان نہیں ہونی چاہیے۔ آپ کی پہچان آپ کے کام سے ہونی چاہیے۔ ہاں، بڑھتی ہوئی پہچان میں، آپ کو میڈیا اور سوشل میڈیا بھی بہت راغب کریں گے۔ آپ کی وجہ سے میڈیا میں چرچہ ہونا ایک بات ہے، اور میڈیا میں چرچہ کے لیے ہی کام کرنا، وہ ذرا دوسری بات ہے۔ آپ کو دونوں کا فرق سمجھ کر آگے بڑھنا ہے۔ آپ کو یاد رکھنا ہوگا کہ افسر شاہوں کی ایک پہچان – انام رہ کر کام کرنے کی رہی ہے۔ آپ پچھلے آزادی کے بعد اپنے مرحلے کو دیکھیے ، کہ اوجسوی  – تیجسوی چہرے کبھی کبھی ہم سنتے ہیں، وہ اپنے عہدے کی پوری مدت میں بے نام ہی رہے، کوئی نام نہیں جانتا تھا۔ ریٹائر ہونے کے بعد کسی نے کچھ لکھا ، تب پتہ چلا اچھا یہ بابواتنا بڑا ملک کو دے کر گیے۔ آپ کے لیے بھی وہی قدر ہے۔ آپ سے پہلے کی چار – پانچ دہائیوں  میں جو آپ کے سینئرز رہے ہیں، انہوں نے اس پر  بہت ڈسپلن کے ساتھ  عمل کیا ہے، آپ کو بھی یہ بات ذہن میں رکھنی ہے۔

ساتھیوں،  میں جب اپنے نوجوان سیاسی ساتھی جو ہمارے ممبران اسمبلی ہیں، ہمارے ممبر پارلیمنٹ ہیں، ان سے ملتا ہوں تو میں باتوں – باتوں میں ضرور کہتا ہوں اور میں کہتا ہوں کہ ’دکھاس‘ اور ’چھپاس‘ ان دو روگوں سے دور رہیئے گا۔ میں آپ سے بھی  یہی کہوں گا کہ دکھاس اور چھپاس ٹی وی پے دکھائی دینا اور اخباروں میں چھپنا دکھاس اور چھپاس ہے، یہ دکھاس اور چھپاس کا روگ جسے لگا، پھر آپ وہ مقصد نہیں حاصل کر پائیں گے، جو لے کر آپ سول سروس میں آئے ہیں۔

ساتھیوں، مجھے امید ہے آپ سب اپنی سروس سے، خود کو وقف کر دینے سے ، ملک کی ترقی کے سفر میں، ملک کو خود کفیل بنانے میں بہت بڑا تعاون دیں گے۔ میری بات ختم کرنے سے پہلے میں آپ لوگوں  کو ایک کام دینا چاہتا ہوں آپ کریں گے، سب ہاتھ اوپر کریں تو میں مانوں گا کہ آپ کریں گے، سب کے -سب کے ہاتھ اوپر ہوں گے کیا، کریں گے، اچھا سن لیجیے،  آپ کو بھی ووکل فار لوکل اچھا لگتا ہوگا سننا، لگتا ہے نا، پکا لگتا ہوگا، آپ ایک کام کریں گے، آنے والے دو – چار دن میں آپ اپنے پاس جو چیز ہیں جو روز مرہ کے استعمال  میں ہے، اس میں کتنی چیزیں وہ ہیں، جو بھارتی بناوٹ کی ہیں، جس میں بھارت کے شہری کے پسینے کی مہک ہے۔ جس میں بھارت کے نوجوان کی صلاحیت نظر آتی ہے، اس سامان کی ذرا ایک فہرست بنایئے اور دوسری وہ فہرست بنایئے کہ آپ کے جوتوں سے لے کر سر کے بالوں تک کیا کیا غیر ملکی چیزیں آپ کے کمرے میں ہے۔ آپ کے بیگ میں ہے، کیا کیا آپ استعمال کرتے ہیں، ذرا دیکھیے اور دل میں طے کیجیے کہ یہ جو بالکل لازمی ہے جو بھارت میں آج دستیاب نہیں ہے، ممکن نہیں ہے، جس کو رکھنا پڑے میں مان سکتا ہوں لیکن یہ 50 میں سے 30 چیزیں ایسی ہیں وہ تو میرے لوکل میں دستیاب ہے۔ ہو سکتا ہے کہ میں اسکی تشہیر کے اثر میں نہیں آیا ہوں، میں اس میں سے کتنا کم کر سکتا ہوں۔

دیکھیے خود کفالت کی شروعات خود سے ہونی چاہیے۔ آپ ووکل فار لوکل کیا شروعات کر سکتے ہیں۔ دوسرا – جس ادارے کا نام لال بہادر شاستری سے وابستہ ہوا ہواس پورے کیمپس میں بھی آپ کے کمروں میں، آپ کے آڈیٹوریم میں، آپ کے کلاس روم میں، ہر جگہ پہ کتنی چیزیں غیرملکی ہیں ضرورت فہرست بنایئے اور آپ سوچیئے کہ ہم جو ملک کو آگے بڑھانے کے لیے آئے ہیں، جہاں سے ملک کو آگے بڑھانے والی ایک پوری پیڑھی تیار ہوتی ہے، جہاں بیج اختیار کیا جاتا ہے، کیا اس جگہ پر بھی ووکل فار لوکل یہ ہماری زندگی کا حصہ ہے، یا نہیں ہے۔ آپ دیکھیے ، آپ کو مزہ آئے گا۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا ہوں، کہ آپ اپنے ساتھیوں کے لیے بھی یہ راستے کھولیئے۔ خود کے لییے ہے۔ آپ کو دیکھیے ، آپ نے بغیر سبب ایسی ایسی چیزیں آپ کے پاس پڑی ہوں گی جو ہندوستانی ہونے کے بعد بھی آپ نے باہر سے لی ہوئی ہیں۔ آپ کو پتا بھی نہیں ہے یہ باہر کی ہیں۔ دیکھیے بھارت کو خود کفیل بنانے کے لیے ہم سب نے خود سے شروع کر کے ملک کو خود کفیل بنانا ہے۔

میرے پیارے ساتھیوں، میرے نوجوان ساتھیوں، ملک کو آزادی کے 100 سال ، آزادی کے 100 سال کے خواب، آزادی کے 100 سال کے عزم، آزادی کے آنے والی پیڑھیاں ان کو آپ کے ہاتھ میں ملک سپرد کر رہا ہے۔ ملک آپ کے ہاتھ میں آنے والے 25 سے 35 سال آپ کو سپرد کر رہا ہے۔ اتنا بڑا تحفہ آپ کو مل رہا ہے۔ آپ کو اس کو بڑی زندگی کا ایک خوش قسمتی مان کر اپنے ہاتھ میں لیجیے، اپنے ہاتھوں لیجیے۔ کرم یوگی کا جذبہ جگایئے۔ کرم یوگ کے راستے پر چلنے کے لیے آپ آگے بڑھیئے، اس نیک خواہش کے ساتھ آپ سبھی کو ایک بار بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ میں آپ کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں ہر لمحہ آپ کے ساتھ ہوں۔ میں لمحہ لمحہ آپ کے ساتھ ہوں۔ جب بھی ضرورت پڑے، آپ میرا دروازہ کھٹ کھٹا سکتے ہیں۔ جب تک میں ہوں جہاں بھی ہوں، میں اپکا دوست ہوں، آپ کا ساتھی ہوں، ہم سب مل کر آزادی کے 100 سال کے خواب پورا کرنے کا ابھی سے کام شروع کریں آیئے ہم سب آگے بڑھتے ہیں۔

بہت بہت شکریہ۔

'من کی بات ' کے لئے اپنے مشوروں سے نوازیں.
20 تصاویر سیوا اور سمرپن کے 20 برسوں کو بیاں کر رہی ہیں۔
Explore More
دیوالی کے موقع پر جموں و کشمیر کے نوشہرہ میں ہندوستانی مسلح افواج کے جوانوں کے ساتھ وزیر اعظم کی بات چیت کا متن

Popular Speeches

دیوالی کے موقع پر جموں و کشمیر کے نوشہرہ میں ہندوستانی مسلح افواج کے جوانوں کے ساتھ وزیر اعظم کی بات چیت کا متن
Capital expenditure of States more than doubles to ₹1.71-lakh crore as of Q2

Media Coverage

Capital expenditure of States more than doubles to ₹1.71-lakh crore as of Q2
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
سوشل میڈیا کارنر،6 دسمبر 2021
December 06, 2021
Share
 
Comments

India takes pride in the world’s largest vaccination drive reaching 50% double dose coverage!

Citizens hail Modi Govt’s commitment to ‘reform, perform and transform’.