ملک میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی موجودہ رفتار اور پیمانہ 140 کروڑ ہندوستانیوں کی خواہشات کے عین مطابق ہے
وہ دن دور نہیں جب وندے بھارت ملک کے ہر حصے کو آپس میں جوڑ دے گی
جی-20 کی کامیابی نے ہندوستان کی جمہوریت، آبادی اور تنوع کی طاقت کو ظاہر کیا ہے
ہندوستان بیک وقت اپنے حال اور مستقبل کی ضروریات پر کام کر رہا ہے
امرت بھارت اسٹیشن آنے والے دنوں میں نئے بھارت کی پہچان بنیں گے
اب ریلوے اسٹیشنوں پر سالگرہ منانے کی روایت کو مزید وسعت دی جائے گی اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں شامل ہوں گے
ریلوے کے ہر ملازم کو سفر میں آسانی اور مسافروں کو اچھا تجربہ فراہم کرنے کے لیے مسلسل حساس رہنا ہوگا
مجھے یقین ہے کہ ہندوستانی ریلوے اور معاشرے میں ہر سطح پر ہونے والی تبدیلیاں ترقی یافتہ ہندوستان کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہوں گی

  نمسکار!

اس تقریب میں مختلف ریاستوں کے گورنر، مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلی، مرکزی کابینہ کے میرے ارکان، ریاستوں کے وزرا، ممبران پارلیمنٹ، ایم ایل اے، دیگر عوامی نمائندے اور میرے اہل خانہ !

یہ ملک میں جدید رابطے کو وسعت دینے کا ایک بے مثال موقع ہے۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی یہ رفتار اور پیمانہ 140کروڑ بھارتیوں کی امنگوں سے پوری طرح میل کھاتا ہے۔ اور یہی آج کا بھارت چاہتا ہے۔ یہ نوجوانوں، کاروباریوں، خواتین، پیشہ ورافراد، تاجروں، نئے بھارت کی ملازمت اور پیشے سے جڑے لوگوں کی امنگیں ہیں۔ آج بیک وقت 9 وندے بھارت ٹرینوں کا افتتاح بھی اس کی ایک مثال ہے۔ آج راجستھان، گجرات، بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، اڑیسہ، تمل ناڈو، آندھرا پردیش، تلنگانہ، کرناٹک اور کیرالہ کے لوگوں کو وندے بھارت ایکسپریس کی سہولت ملی ہے۔ آج جو ٹرینیں شروع کی گئی ہیں وہ پہلے سے زیادہ جدید اور آرام دہ ہیں۔ یہ وندے بھارت ٹرینیں نئے جوش و خروش، نئے ولولےاور نئے بھارت کے نئے عزم کی علامت ہیں۔ مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ وندے بھارت کا جنون لگاتار بڑھ رہا ہے۔ اب تک ایک کروڑ 9 لاکھ سے زیادہ مسافر سفر کر چکے ہیں اور یہ تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔

ساتھیو،

اب تک ملک کی مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لوگوں کو 25 وندے بھارت ٹرینوں کی سہولت مل رہی تھی۔ اب اس میں مزید 9 وندے بھارت ایکسپریس ٹرینوں کا اضافہ کیا جائے گا۔ وہ دن دور نہیں جب وندے بھارت ملک کے ہر حصے کو جوڑے گی۔ مجھے خوشی ہے کہ وندے بھارت ایکسپریس اپنے مقصد کو بخوبی پورا کر رہی ہے۔ یہ ٹرین ان لوگوں کے لیے بہت اہم بن گئی ہے جو سفر کے وقت کو کم سے کم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ٹرین ان لوگوں کے لیے ایک بڑی ضرورت بن گئی ہے جو دوسرے شہر میں چند گھنٹے کام ختم کرنے کے بعد اسی دن واپس آنا چاہتے ہیں۔ وندے بھارت ٹرینوں نے سیاحت اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا ہے۔ جن مقامات پر وندے بھارت ایکسپریس کی سہولت پہنچ رہی ہے وہاں سیاحوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ سیاحوں کی تعداد میں اضافے کا مطلب ہے کہ وہاں تاجروں، دکانداروں کی آمدنی بڑھ رہی ہے۔ اس سے وہاں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

میرے اہلِ خانہ،

آج بھارت میں جوش و خروش اور اعتماد کا جو ماحول پیدا ہوا ہے وہ گزشتہ کئی دہائیوں میں پیدا نہیں ہوا ہے۔ آج ہر بھارتی کو اپنے نیو انڈیا کی کامیابیوں پر فخر ہے۔ چندریان-3 کی کامیابی نے عام آدمی کی امیدوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ آدتیہ ایل -1 کے لانچ نے حوصلہ دیا ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو مشکل ترین ہدف بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ جی 20 سربراہ اجلاس کی کامیابی نے بھارت کو اعتماد دیا ہے کہ جمہوریت، ڈیموگرافی اور تنوع کی طاقت کتنی حیرت انگیز ہے۔ آج پوری دنیا میں بھارت کی سفارتی صلاحیتوں کے چرچے ہو رہے ہیں۔ خواتین کی قیادت میں ترقی کے ہمارے وژن کو دنیا نے سراہا ہے۔ اس وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے حکومت نے پارلیمنٹ میں ’ناری شکتی وندنا ایکٹ‘پیش کیا۔ ناری شکتی وندنا ایکٹ کے متعارف ہونے کے بعد ہر شعبے میں خواتین کے تعاون اور ان کے بڑھتے ہوئے کردار پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ آج بہت سے ریلوے اسٹیشن بھی مکمل طور پر خواتین ملازمین کے ذریعہ چلائے جا رہے ہیں۔ میں اس طرح کی کوششوں کے لیے ریلوے کی ستائش کرتا ہوں، ایک بار پھر ناری شکتی وندنا ایکٹ کے لیے ملک کی سبھی خواتین کو مبارکباد دیتا ہوں۔

ساتھیو،

اعتماد کے اس ماحول کے درمیان امرت کال کا بھارت اپنی موجودہ اور مستقبل کی ضروریات پر مل کر کام کر رہا ہے۔ وزیر اعظم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان تیار کیا گیا ہے تاکہ بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی سے لے کر عمل درآمد تک ہر اسٹیک ہولڈر کے درمیان ہم آہنگی کو یقینی بنایا جاسکے۔ ہماری برآمدات کی لاگت کو کم سے کم کرنے کے لیے ملک میں نقل و حمل کی لاگت کو کم کرنے کے لیے ایک نئی لاجسٹک پالیسی نافذ کی گئی ہے۔ ملٹی ماڈل کنیکٹیوٹی پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ ملک میں نقل و حمل کا ایک طریقہ دوسرے کی حمایت کرے۔ ان تمام کوششوں کا بڑا مقصد بھارت کے شہری کے لیے سفر کی آسانی میں اضافہ کرنا ہے ، اپنے قیمتی وقت کو بچانا ہے۔ یہ وندے بھارت ٹرینیں اسی جذبے کی عکاس ہیں۔

ساتھیو،

بھارتی ریلوے ملک کے غریب اور متوسط طبقے کا سب سے قابل اعتماد ساتھی ہے۔ ہمارے پاس اتنے لوگ نہیں ہیں جتنے ایک دن میں ٹرین میں سفر کرتے ہیں، یہاں تک کہ بہت سے ممالک کی آبادی بھی نہیں ہے۔یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ اس سے پہلے بھارتی ریلوے کو جدید بنانے پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی تھی۔ لیکن اب ہماری حکومت بھارتی ریلوے کی تبدیلی میں لگی ہوئی ہے۔ حکومت نے ریلوے بجٹ میں بے مثال اضافہ کیا ہے۔ اس سال ریلوے کا بجٹ 2014 میں ریلوے کے بجٹ سے 8 گنا زیادہ دیا گیا ہے۔ ریلوے لائنوں کی ڈبلنگ ہو، بجلی کی سپلائی ہو، نئی ٹرینیں چلانا ہو یا نئے روٹس کی تعمیر ہو، کام تیز رفتاری سے ہو رہا ہے۔

ساتھیو،

بھارتی ریلوے میں اگر ٹرین مسافروں کے لیے چلتا پھرتا گھر ہوتی ہے تو ہمارے ریلوے اسٹیشن بھی ان کے عارضی گھر کی طرح ہیں۔ آپ اور میں جانتے ہیں کہ ہمارے پاس ہزاروں ریلوے اسٹیشن ہیں جو غلامی کے دور سے تعلق رکھتے ہیں، جو آزادی کے 75 سال بعد بھی زیادہ تبدیل نہیں ہوئے۔ ترقی پذیر بھارت کو اب اپنے ریلوے اسٹیشنوں کو بھی جدید بنانا ہوگا۔ اسی سوچ کے ساتھ پہلی بار بھارت میں ریلوے اسٹیشنوں کی ترقی اور جدید کاری کے لیے ایک مہم شروع کی گئی ہے۔ آج ملک میں ریلوے مسافروں کی سہولت کے لیے ریکارڈ تعداد میں فٹ اوور برج، لفٹ اور ایسکلیٹر تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ کچھ دن پہلے ہی ملک کے 500 سے زیادہ بڑے اسٹیشنوں کی تعمیر نو کا کام شروع کیا گیا ہے۔ امرت کال میں بنائے گئے ان نئے اسٹیشنوں کو امرت بھارت اسٹیشن کہا جائے گا۔ یہ اسٹیشن آنے والے دنوں میں نئے بھارت کی شناخت بن جائیں گے۔

میرے اہلِ خانہ،

ریلوے اسٹیشن جو بھی ہو، اس کا یوم تاسیس ضرور ہوتا ہے، سالگرہ ہوتی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اب ریلوے نے ریلوے اسٹیشنوں کی سالگرہ منانا شروع کردی ہے۔ حال ہی میں تمل ناڈو کے کوئمبٹور، ممبئی، پونے کے چھترپتی شیواجی ٹرمنس سمیت کئی اسٹیشنوں کا یوم تاسیس منایا گیا۔ کوئمبٹور کے ریلوے اسٹیشن نے مسافروں کے لیے خدمات کے 150 سال مکمل کر لیے ہیں۔ وہاں کے لوگوں کا ایسی کامیابیوں پر فخر کرنا فطری بات ہے۔ اب ریلوے اسٹیشنوں کی سالگرہ منانے کی اس روایت کو مزید وسعت دی جائے گی، زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے جڑیں گے۔

میرے اہلِ خانہ،

امرت کال میں ملک نے ایک بھارت شریشٹھ بھارت کے وژن کو عزم کے ذریعے تکمیل کا ذریعہ بنایا ہے۔ 2047 کو جب ملک آزادی کے 100 سال منائے گا تو 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ہر ریاست، ہر علاقے  کے لوگوں کی ترقی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ پچھلی حکومتوں میں جب کابینہ تشکیل دی گئی تھی تو اس بات پر کافی بحث ہوتی تھی کہ ریلوے کی وزارت کسے ملے گی۔ یہ مانا جارہا تھا کہ ریاست میں مزید ٹرینیں چلائی جائیں گی جہاں سے وزیر ریلوے ہوں گے۔ اور ہوا یہ کہ نئی ٹرینوں کا اعلان کیا گیا لیکن پٹریوں پر بہت کم آئیں۔ اس خود غرضانہ سوچ نے نہ صرف ریلوے بلکہ ملک کو بھی بہت نقصان پہنچایا ہے۔ انھوں نے ملک کے لوگوں کو نقصان پہنچایا۔ اب ملک کسی بھی ریاست کو پیچھے چھوڑنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ہمیں ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘کے وژن کے ساتھ آگے بڑھتے رہنا ہے۔

میرے اہلِ خانہ،

آج میں اپنے محنتی ریلوے ملازمین سے بھی ایک بات کہوں گا۔ جب کوئی کسی دوسرے شہر یا دور دراز جگہ سے سفر کرتا ہے، تو سب سے پہلے اس سے پوچھا جاتا ہے کہ سفر کیسے گزرا۔ وہ شخص نہ صرف اپنے سفر کا تجربہ بتاتا ہے بلکہ گھر سے نکلنے سے لے کر منزل تک پہنچنے تک کی پوری بات کے بارے میں بات کرتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ریلوے اسٹیشن کتنے بدل چکے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ ٹرینوں کا آپریشن کتنا منظم ہو گیا ہے۔ ان کے تجربات میں ٹی ٹی کا طرز عمل، ہاتھ میں کاغذ کے بجائے ٹیبلیٹ، سیکیورٹی انتظامات، کھانے کا معیار شامل ہیں۔ لہذا،  ہر ریلوے ملازم کو، سفر میں آسانی کے لیے مسافروں کو ایک اچھا تجربہ فراہم کرنے کے لیے مسلسل حساس رہنا ہوتا ہے۔ اور آج کل جب آپ یہ باتیں سنتے ہیں کہ اچھا ہوا، اتنا اچھا ہوا ، اتنا اچھا ہوا تو من کو خوشی ملتی ہے۔ اس لیے میں ایسے پرعزم ملازمین کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

میرے اہلِ خانہ،

صفائی ستھرائی کے سلسلے میں بھارتی ریلوے نے جو نیا نمونہ تخلیق کیا ہے اس پر بھی تمام ہم وطنوں نے دھیان دیا ہے۔ ہمارے اسٹیشن، ہماری ٹرینیں پہلے سے کہیں زیادہ صاف ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ گاندھی جینتی زیادہ دور نہیں ہے۔ ہم گاندھی جی کے صفائی ستھرائی پر اصرار کو بھی جانتے ہیں۔ صفائی ستھرائی کے لیے کی جانے والی ہر کوشش گاندھی جی کو حقیقی خراج عقیدت ہے۔ اسی جذبے کے ساتھ آج سے کچھ دن بعد یکم اکتوبر کو صبح 10 بجے صفائی ستھرائی پر ایک بہت بڑا پروگرام منعقد ہونے جا رہا ہے۔ یہ ملک کے کونے کونے میں اور ہم وطنوں کی قیادت میں ہو رہا ہے۔ میں آپ سے صفائی ستھرائی کی اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کرتا ہوں۔یکم اکتوبر کو، 10 بجے، ابھی سے پکا کرلیں۔ گاندھی جینتی کے موقع پر ہر ہم وطن کو کھادی اور دیسی مصنوعات خریدنے کا منتر دہرانا چاہیے۔ 2 اکتوبر کو گاندھی جینتی ہے، 31 اکتوبر کو سردار ولبھ بھائی پٹیل کا یوم پیدائش ہے۔ ایک طرح سے، پورے مہینے، ہم کھادی خریدنے، ہینڈ لوم خریدنے، دستکاری خریدنے کی کوشش کریں۔ ہمیں لوکل کے لیے زیادہ سے زیادہ ووکل ہونے کی ضرورت ہے۔

ساتھیو،

مجھے یقین ہے کہ بھارتی ریلوے اور سماج میں ہر سطح پر جو تبدیلیاں آ رہی ہیں وہ ترقی یافتہ بھارت کی سمت میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوں گی۔ میں ایک بار پھر نئی وندے بھارت ٹرینوں کے لیے ملک کے عوام کو اپنی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

آپ کا بہت شکريہ۔

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
Boosting ‘Make in India’! How India is working with Asean to review trade pact to spur domestic manufacturing

Media Coverage

Boosting ‘Make in India’! How India is working with Asean to review trade pact to spur domestic manufacturing
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
سوشل میڈیا کارنر، 13 اپریل 2024
April 13, 2024

PM Modi's Interaction with Next-Gen Gamers Strikes a Chord with Youth

India Expresses Gratitude for PM Modi’s Efforts to Achieve Exponential Growth for the Nation