Share
 
Comments

آزادی کے 75  سال مکمل ہونے پر، اہل وطن  کو بہت بہت نیک خواہشات، بہت بہت مبارک باد۔ نہ صرف  ہندوستان کا ہر کونہ، بلکہ  دنیا کے ہر کونے میں آج کسی نہ  کسی شکل میں ہندوستانیوں کے ذریعہ یا  بھارت کے تئیں انتہائی محبت رکھنے والوں کے ذریعہ، ملک کے ہر کونے میں یہ ہمارا ترنگا  آن-بان- شان کے ساتھ لہرا رہا ہے۔ میں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے بھارت   سے محبت کرنے والوں کو ، ہندوستانیوں کو آزادی  کے  اس امرت مہوتسو کی  بہت بہت مبارک باد دیتا ہوں۔ آج کا یہ دن تاریخی  دن ہے۔ یہ ایک  اہم  پڑاؤ، ایک نئی راہ، ایک نیا عزم اور نئے حوصلے کے ساتھ قدم بڑھانے کا مبارک موقع ہے۔ آزادی کی جنگ میں غلامی کا پورادور جدوجہد میں  گزرا ہے۔ ہندوستان کا کوئی  کونہ ایسا نہیں تھا، کوئی دور  ایسا نہیں تھا، جب  ملک کے باشندگان  نے  سینکڑوں برسوں  تک  غلامی کے خلاف  جنگ  نہ کی  ہو۔ زندگی نہ کھپائی ہو، مشکلات نہ جھیلیں ہو، قربانی نہ دی ہو! آج ہم سب  اہل  وطنوں کے لئے ایسی عظیم شخصیات کو، قربانی دینے والے  ہر شخص کو، زندگی نچھاور کرنے والے ہر شخص کو ،سلام کرنے کا موقع ہے۔ ان کے قرض کو قبول کرنے کا موقع ہے اور ان کو یاد کرتے ہوئے، ان کے خوابوں کو جلد از جلد پورا کرنے کا عہد لینے کا موقع بھی ہے۔ ہم سبھی ہم وطن ،پوجیہ باپو، نیتا جی سبھاش چندر بوس کے، بابا صاحب امبیڈکر ، ویر ساورکرکے، جنہوں نے اپنی زندگی فرض کی راہ پر گزاردی، فرض کا یہ راستہ ان کی زندگی کا مقصد تھا۔ یہ ملک شکر گزار ہے، منگل پانڈے، تاتیا ٹوپے، بھگت سنگھ، سکھ دیو،راج گرو، چندر شیکھر آزاد، اشفاق اللہ خان، رام پرساد بسمل کا؛ ہمارے ایسے متعدد انقلابی ہیروز نے برطانوی سامراج  کی بنیاد ہلا کر رکھ دی تھی۔ یہ قوم شکر گزار ہے ان سرکردہ خواتین مجاہدین آزادی کا،رانی لکشمی بائی، جھلکاری بائی، درگا بھابھی، رانی گائی دنلیوکا، رانی چننما، بیگم حضرت محل، وینو نٹیارکا؛  کہ ہندوستان کی نسائی طاقت کیا ہوتی ہے۔

ہندوستانی خواتین کی طاقت کا عزم کیا ہوتا ہے۔ ہندوستانی خواتین کس حد تک قربانی دے سکتی ہیں، ایسی بے شمار بہادر خواتین کو یاد کرتے ہوئے ہر ہندوستانی فخر کے جذبے سے سرشار ہوجاتا ہے۔ آزادی کی جنگ بھی لڑنے والے اور آزادی کے بعد ملک بنانے والے بھی ڈاکٹر راجندر پرساد جی ہوں، نہرو جی ہوں، سردار ولبھ بھائی پٹیل، شیاما پرساد مکھرجی، لال بہادر شاستری، دین دیال اپادھیائے، جے پرکاش نارائن، رام منوہر لوہیا، آچاریہ ونوبابھاوے، نانا جی دیشمکھ، سبرامنیم بھارتی،  ایسی بے شمار عظیم شخصیات کو آج خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع ہے۔

ہم آزادی کی جنگ کی بات کرتے ہیں تو ہم ان جنگلوں میں جینے والے ہمارے آدیواسی سماج کی بھی عظمت بیان کرنا نہیں بھول سکتے ہیں۔ بھگوان برسا منڈا، سدھو کانو، الوری سیتارام راجو، گووند گرو،  ایسے بے شمار نام ہیں، جنہوں نے آزادی کی تحریک کی آواز بن کر دورافتادہ جنگلوں میں بھی... میرے آدیواسی بھائی بہنوں، میری ماؤوں، میرے نوجوانوں میں مادر وطن کے لیے جینے مرنے کا جذبہ پیدا کیا۔ یہ ملک کی خوش قسمتی رہی ہے کہ آزادی کی جنگ کی کئی شکلیں رہی ہیں اور اس میں ایک شکل وہ بھی تھی، جس میں نارائن گرو ہوں، سوامی وویکانند ہوں، مہرشی اروند ہوں، گرو دیو رابندر ناتھ ٹیگور ہوں، ایسی بے شمار عظیم شخصیات ہندوستان کے ہر کونے میں، ہر گاؤں میں بھارت کے شعور کو جگاتی رہیں۔ بھارت کو باشعور بناتی رہیں۔

امرت مہوتسو کے دوران  ملک نے  ... پورے ایک سال سے ہم دیکھ رہے ہیں۔ 2021 میں ڈانڈی یاترا سے شروعات ہوئی۔ اسمرتی دِوس کو  سنوارتے ہوئے ہندوستان کے ہر ضلع میں، ہر کونے میں، ملک کے شہریوں نے آزادی کے امرت مہوتسو سے متعلق پروگرام منعقد کئے۔ شاید تاریخ میں اتنا شاندار، اتنا بڑا، لمبا، ایک ہی مقصد کا جشن منایا گیا ہو وہ شاید یہ پہلا واقعہ ہے اور ہندوستان کے ہر کونے میں ان تمام شخصیات کو یا د کرنے کی کوشش کی گئی، جن کو کسی نہ کسی وجہ سے تاریخ میں جگہ نہیں ملی یا ان کو فراموش کردیا گیا تھا۔ آج ملک نے کھوج کھوج کرکے ہر کونے میں ایسے جانبازوں کو، شخصیات کو، قربانی دینے والوں کو، سچے بہادروں کو یاد کیا، ان کو خراج عقیدت پیش کیا۔ امرت مہوتسو کے دوران ان تمام شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع دسیتاب ہوا۔ کل 14 اگست کو بھارت نے تقسیم وطن کی تباہ کاری کا یادگاری دن بھی انتہائی رنج وغم کے ساتھ منایا۔

ان کروڑوں لوگوں نے بہت کچھ برداشت کیا تھا، ترنگے کی شان کے لئے برداشت کیا تھا ۔ مادر وطن کی مٹی سے محبت کی وجہ سے برداشت کیا تھا اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا۔ ہندوستان کی  محبت کے لئے نئی زندگی کی شروعات کرنے کا ان کا عزم  قابل ستائش ہے، تحریک حاصل کرنے  کے لائق ہے۔

آج جب ہم آزادی کا امرت مہوتسو منا رہے ہیں تو گزشتہ 75 سال میں ملک کے لئے جینے مرنے والے  ، ملک کی حفاظت کرنے والے ، ملک کے عزائم کو پورا کرنے والے ، چاہے فوج کے جوان ہوں، پولیس اہلکار ہوں،حکومت میں بیٹھے ہوئے بیوروکریٹس ہوں، عوامی نمائندے ہوں، مقامی  حکمرانی  کے اداروں کےحکمراں – منتظم رہے ہوں،  ریاستوں کے حکمراں – منتظم رہے ہوں،مرکز کے حکمراں –منتظم رہے ہوں؛75 سال میں ان سب کے تعاون  کو بھی آج یادکرنے کا موقع  ہے اور ملک کے کروڑوں شہریوں کو بھی ،جنہوں نے 75 سال میں کئی طرح کی مشکلات کے درمیان بھی ملک کو آگے بڑھانے کے لئے اپنے سے جو ہوسکا وہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

 

میرے پیارے ہم وطنو،

75 سال کا ہمارا یہ سفربہت سے نشیب وفراز سے بھرا ہوا ہے۔سکھ-دکھ کا سایہ منڈلاتا رہا ہے اور اس کے درمیان بھی ہمارے اہل وطن نے کامیابیاں حاصل کی ہیں، کوشش کی ہے، ہار نہیں مانی ہے۔ عزائم کو آنکھ سے اوجھل نہیں ہونے دیا ہے۔ اور اس لئے یہ بھی سچائی ہے کہ سینکڑوں برسوں کے غلامی کے دور نے ہندوستان کے من کو،ہندوستان کے باشندوں کے جذبات کو گہرے زخم دیئے ہیں، گہری چوٹیں پہنچائی تھیں، لیکن ان کے اندر ایک ضد بھی تھی ، ایک زبردست خواہش بھی تھی، ایک جنون بھی تھا، ایک جوش بھی تھا۔ اور اس کی وجہ سے محرومیوں کے درمیان بھی ،مضحکہ اڑائے جانے کے باوجود جب آزادی کی جنگ آخری مرحلے میں تھی تو ملک کو خوف زدہ کرنے کے لئے،ناامید کرنے کے لئے ، مایوس کرنے کے لئے تمام تدبیریں کی گئی تھیں، اگر آزادی آئی   انگریز چلے جائیں گے تو ملک ٹوٹ  جائے گا ،بکھرجائیں گے، لوگ اندر اندر لڑ کر مرجائیں گے، کچھ نہیں بچے گا، ہندوستان تاریکیوں کے دور میں چلا جائے گا، نہ جانے کیسے کیسے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔

لیکن ان  کو پتہ نہیں تھا یہ ہندوستان کی مٹی ہے، اس مٹی میں وہ صلاحیت ہے جو حکمرانوں سے بھی پرے صلاحیت کا ایک تاثر لے کر جیتا رہا ہے، صدیوں تک جیتا رہا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم نے کیا کچھ نہیں جھیلا ہے، کبھی اناج کا بحران جھیلا، کبھی جنگ کے شکار ہوگئے۔ دہشت گرد ی نے ڈگر –ڈگر چیلنج پیدا کئے، بے قصور شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیاگیا۔ چھوٹی موٹی جنگ چلتی رہی، قدرتی آفات آتی رہیں، کامیابی، ناکامی، امیدی، ناامیدی نہ جانے کتنے پڑاؤ آئے ہیں، لیکن اِن پڑاؤ کے دوران بھی ہندوستان آگے بڑھتا رہا ہے۔ ہندوستان کی گوناگونیت جو دوسروں کو ہندوستان کے لئے بوجھ لگتی تھی، وہ ہندوستان کی گوناگونیت ہی ہندوستان کی انمول طاقت ہے۔ طاقت کا ایک اٹوٹ ثبوت ہے۔ دنیا کو پتہ نہیں تھا کہ ہندوستان کے پاس ایک موروثی صلاحیت ہے، ایک وراثت ہے، ایک ذہن ودماغ کے خیالات کا بندھن ہے اور وہ ہے ہندوستانی جمہوریت کی آماجگاہ ۔ مدر آف ڈیموکریسی (جمہوریت کی ماں) ہے اور جن کے ذہن میں جمہوریت ہوتی ہے وہ جب عہد کرکے چل پڑتے ہیں ، وہ صلاحیت دنیا کی بڑی بڑی سلطنتوں کے لئے بھی بحران کا دور لے کر آتی ہے۔ یہ مدر آف ڈیموکریسی ، یہ جمہوریت کی آماجگاہ، ہمارے ہندوستان نے  ثابت کردی کہ ہمارے پاس ایک انمول صلاحیت ہے۔

 

میرے پیارے ہم وطنوں،

75سال کے سفر میں امیدیں، توقعات، اتار چڑھاؤ سب چیز کے بیچ میں ہر ایک کی کوشش سے ہم جہاں تک پہنچ پائے، پہنچے تھے اور 2014 میں ہم وطنوں نے مجھے ذمہ داری سونپی۔ آزادی کے بعد جنم ہوا، میں پہلا شخص تھا، جس کو لال قلعہ سے ہم وطنوں کی مدح سرائی کرنے کا موقع ملا تھا، لیکن میرے دل میں جو بھی آپ لوگوں سے سیکھا ہوں، جتنا آپ لوگوں کو جان پایا ہوں  میرے ہم وطنوں، آپ کے سکھ دکھ کو سمجھ پایا ہوں، ملک کی امیدوں، توقعات کے اندر وہ کونسی روح بستی ہے، اس کو جتنا میں سمجھ پایا ہوں، اس کو لے کر میں نے اپنا پورا دور ملک کے اُن لوگوں کو امپاور یعنی بااختیار کرنے میں کھپایا۔ میرے دلت ہوں، محروم ہوں، استحصال شدہ  یا متاثر لوگ ہوں، آدیواسی ہوں، خواتین ہوں، نوجوان ہوں، کسان ہوں، معذور ہوں، مشرق ہو، مغرب ہو، شمال ہو، جنوب ہو، سمندر کا ساحل ہو، ہمالیہ کی چوٹیاں ہوں، ہر کونے میں مہاتما گاندھی کا جو خواب تھا، آخری انسان کی فکر کرنے کا مہاتما گاندھی جی کی جو آرزو تھی، آخری کنارے پر بیٹھے ہوئے شخص کو صلاحیت مند بنانے کی، میں نے اپنے آپ کو اس کے لئے وقف کیا ہے اور اُن 8سال کا نتیجہ اور آزادی کی اتنی دہائیوں کا تجربہ آج 75 سال کے بعد جب امرت کال کی طرف قدم رکھ رہے ہیں، امرت کال کی یہ پہلی صبح ہے۔ میں ایک ایسی استعداد دیکھ رہا ہوں اور جس سے میں فخر سے بھر جاتا ہوں۔

 

ہم وطنو،

میں آج ملک کی  سب سے بڑی خوش قسمتی یہ دیکھ رہا ہوں کہ ہندوستان کے عوام آرزوؤں سے بھرے پڑے ہیں۔ آرزو مند سوسائٹی کسی بھی ملک کی بہت بڑی امانت ہوتی ہے اور ہمیں فخر ہے کہ آج ہندوستان کے ہر کونے میں ہر سماج کے ہر طبقے میں، ہر فرقے میں امیدیں اپنے عروج پر ہیں۔

ملک کا ہر شہری چیزیں بدلنا چاہتا ہے، بدلتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے، لیکن انتظار کرنے کو تیار نہیں ہے، اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا چاہتا ہے، ذمہ داری سے جڑ کر کرنا چاہتا ہے۔ وہ رفتار چاہتا ہے، ترقی چاہتا ہے۔ 75 سال میں سجائے ہوئے سارے خواب اپنی ہی آنکھوں کے سامنے پورا کرنے کے لیے وہ بیتاب ہے، پرجوش ہے، بے قرار بھی ہے۔ کچھ لوگوں کو اس کی وجہ سے پریشانیاں ہوسکتی ہیں، کیونکہ جب آرزومند سوسائٹی ہوتی ہے،تب سرکاروں کو بھی تلوار کی دھار پر چلنا پڑتا ہے۔ سرکاروں کو بھی وقت کے ساتھ دوڑنا پڑتا ہے اور مجھے یقین ہے ، چاہے مرکزی حکومت ہو، ریاستی حکومت ہو،مقامی حکومت کے ادارے ہوں، کسی بھی قسم کی انتظامیہ کیوں نہ ہو، ہر کسی کو آرزومند سوسائٹی پر توجہ مرکوز کرنی پڑے گی۔ ان کی آرزوؤں کے لیے ہم زیادہ انتظار نہیں کرسکتے۔ ہماری اس آرزومند سوسائٹی نے لمبے عرصے تک انتظار کیا ہے۔ لیکن اب وہ اپنی آنے والی نسل کو انتظار میں جینے کے لیے مجبور کرنے کو تیار نہیں ہے اور اس لیے یہ امرت کال کی پہلی صبح ہمیں اس آرزومند سوسائٹی کی خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے بہت بڑا سنہرا موقع لے کر آئی ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو!

ہم نے پچھلے دنوں دیکھا ہے، ایک دو طاقت کا ہم نے تجربہ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ بھارت میں اجتماعی شعور بیدار ہوا ہے۔ ایک اجتماعی شعور کی بیداری آزادی کی اتنی جدوجہد میں جو امرت تھا، وہ اب سنبھالا جارہا ہے، جمع ہورہا ہے۔ عزم میں تبدیل ہورہا ہے، شرمندہ تعبیر ہونے کی طرف گامزن ہے اور کامیابی کی راہ نظر آرہی ہے۔ یہ شعور، میں سمجھتا ہوں کہ شعور کی بیداری یہ ہماری سب سے بڑی امانت ہے۔ اور یہ شعور کی بیداری دیکھئے 10 اگست تک لوگوں کو پتہ تک نہیں ہوگا شاید کہ ملک کے اندر کون سی طاقت ہے۔ لیکن پچھلے تین دن سے جس طرح سے ترنگے جھنڈے کو لے کر، ترنگا کی یاترا کو لے کر ملک چل پڑا ہے۔بڑےبڑے سوشلسٹ، سوشل سائنس کے ایکسپرٹ وہ بھی شاید تصور نہیں کرسکتے کہ میرے  باطن میں،میرے ملک کے اندر کتنی بڑی صلاحیت ہے، ایک ترنگے جھنڈے نے دکھا دیا ہے۔ یہ شعور کی بیداری کا لمحہ ہے۔ یہ لوگ سمجھ نہیں پائے ہیں۔ جب ملک جنتاکرفیو کےلیے ہندوستان کا ہر کونہ نکل پڑتا ہے، تب اسے شعور کا احساس ہوتا ہے۔ جب ملک تالی، تھالی بجا کر کورونا وائرس کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑ ا ہوجاتا ہے تب شعور کا احساس ہوتا ہے۔ جب دیپ جلا کر کورونا واریئر س کو مبارکباد دینے کےلیے ملک نکل پڑتا ہے، تب اس شعور کا احساس ہوتا ہے۔ دنیا کورونا کے دور میں ویکسین لینا یا نہ لینا، ویکسین کام کی ہے یا نہیں ہے، اس الجھن میں جی رہی تھی، اس وقت میرے ملک کے گاؤں کے غریب بھی 200 کروڑ ڈوز دنیا کو چونکا دینے والا کام کرکے دکھا دیتے ہیں۔ یہی شعور ہے، یہی صلاحیت ہے، اسی صلاحیت نے آج ملک کو نئی طاقت دی ہے۔

 

میرے پیارے بھائیو بہنو،

اس ایک اہم صلاحیت کو میں دیکھ رہا ہوں، جیسے آرزومند سوسائٹی، جیسے شعور کی بیداری، ویسے ہی آزادی کی اتنی دہائیوں کے بعد پوری دنیا کا بھارت کی طرف دیکھنے کا نظریہ بدل چکا ہے۔

دنیا ہندوستان  کی جانب فخر سے دیکھ رہی ہے۔  امید سے دیکھ رہی ہے۔ مسائل  کاحل  ہندستان کی سرزمین پردنیا   تلاش کرنے  لگی ہے۔ دوستوں، دنیا کا یہ بدلاؤ ، دنیا کی سوچ میں یہ تبدیلی 75 سال کے ہمارے تجربے کے سفر  کا نتیجہ ہے۔ ہم جس طرح  اپنے عہد کو لے کر چل پڑے ہیں،  دنیا اسے دیکھ رہی ہے اور آخر کار دنیا بھی  امیدیں لے کر  جی  رہی ہے۔ امیدیں پوری کرنے کی صلاحیت کہاں موجود ہے وہ اسے نظر آنے لگی ہے۔ میں اسے  سہ رخی   طاقت کی شکل میں دیکھتا ہوں ۔تین صلاحیتوں کے طو ر پر دیکھتا ہوں اور یہ تین طاقتیں ہیں؛  امنگوں کی ، نشاط ثانیہ  کی اور دنیا کی امیدوں کی اورا سے پورا کرنا  ہم جانتے ہیں  ۔ دوستو ، آج دنیا میں ایک یقین  پیدا ہونے  میں میرے ہم وطنوں کا بہت بڑا کردار ہے۔  130 کروڑ ہم وطنوں نے کئی دہائیوں  کے تجربے کے بعد ، مستحکم حکومت کی اہمیت  کیا ہوتی ہے،سیاسی استحکام کی اہمیت کیا ہوتی ہے،سیاسی استحکام دنیا میں کس طرح کی قوت دیکھاسکتا ہے۔ پالیسیوں  میں کیسی صلاحیت ہوتی ہے ، ان پالیسیوں پر دنیا کا کیسا بھروسہ بنتا ہے، یہ بھارت نے دکھایا ہے  اور دنیا بھی اسے سمجھ رہی ہے۔ اور اب جب  سیاسی استحکام ہو، پالیسیوں میں ترقی پسندی ہو،فیصلوں میں تیزی ہو، ہر جا ظہور ہو،  عالمگیر  پیمانے پراعتماد ہو،تو ترقی کے لئے ہرکوئی شراکت دار بنتا ہے،ہم،سب کا ساتھ ، سب کا وکاس، کا منتر لے کر چلے تھے،لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ہم وطنوں نے سب کا وشواس اور سب کے پریاس سے اس میں اور رنگ بھر دیئے ہیں؛ اورا س لئے ہم نے دیکھا ہے، ہماری اجتماعی قوت کو، ہماری اجتماعی صلاحیت کو ہم نے دیکھا ہے۔ آزادی کا امرت مہوتسو جس طرح سے منایا گیا   جس طرح سے ہر ضلع میں  75 امرت سرور بنانے کی مہم چل رہی ہے،گاؤں گاؤں کے لوگ جڑ رہے ہیں،خدمت کررہے ہیں،اپنی کوششوں سے  اپنے گاؤ ں میں آبی تحفظ بڑی مہم چلا رہے ہیں اور اس لئے ،بھائیو بہنو، چاہے سوچھتا کی مہم ہو، چاہے غریبوں کی بہبود کا کام ہو، ملک آج پوری قوت سے آگے بڑھ رہا ہے۔لیکن بھائیو بہنو، ہم لوگ آزادی کی امرت کال میں ہمارے 75 سال کے سفر کو، اس کی بڑائیاں بیان کرتے رہیں گے،اپنی ہی پیٹھ تھپتھپا تے رہیں گے  ،تو ہمارے خواب کہیں دور چلے جائیں گے اور اس لئے 75 سال کی مدت کتنی ہی شاندار رہی ہو، کتنی ہی بحرانوں والی رہی ہو، کتنے ہی چیلنجوں والی رہی ہو، کتنے ہی خواب ادھورے نظر آتے ہوں، اس کے باوجودبھی جب آج ہم امرت کال میں داخل ہورہےہیں، اگلے 25 سال ہمارے ملک کے لئے  انتہائی اہم ہے اور اس لئے جب میں آج میرے سامنے لال قلعہ  سے 130 کروڑ ہم وطنوں کی صلاحیتوں  کو یادکرتاہوں  ، ان کے خوابوں کو دیکھتا ہوں، ان کے عہد بستگی کا احساس کرتا ہوں، تو ساتھیوں مجھے لگتا ہے کہ آنے والے 25 سال کے لئے ہمیں اپنے پانچ عہد پر اپنی قوت کو مرکوز کرنا ہوگا، اپنے عہدوں کو مرکوز کرنا ہوگا، اپنی صلاحیتوں کو مرکوز کرنا ہوگا اور ہمیں ان پانچ عہد کو لے کر ، 2047 کو جب آزادی کے سو سال ہوں گے، آزادی کے دیوانوں کے سارے خواب پورے کرنے  کی ذمہ داری اٹھاکر چلنا ہوگا۔ جب میں  پانچ عہد کی بات کرتا ہوں، تو پہلا عہد ، اب ملک بڑے عہد لے کر ہی چلے گا ، بہت بڑے عہد لے کر چلنا ہوگا۔اور وہ بڑا عزم ہے ترقی یافتہ ہندوستان ،اب اس سے کچھ کم نہیں ہونا چاہئے۔ بڑا عزم دوسری زندگی ہے کسی بھی کونے میں ہمارے من کے اندر ، ہماری عادتوں کے اندر غلامی کا ذرا سابھی حصہ اگر ابھی بھی کوئی ہے تو اس  کو کسی بھی حالت میں بچنے نہیں دینا ہے۔اب صدفیصد، صد فیصد سینکڑوں سال کی غلامی نے  جہاں ہمیں اپنی گرفت میں لے رکھا ہے، ہمیں، ہمارے جذبات کو باندھ کر کے رکھا ہوا ہے، ہماری سوچ میں خرابیاں پیدا کرکے رکھی ہیں، ہمیں غلامی کی چھوٹی سے چھوٹی  چیز بھی  کہیں نظرآتی ہے، ہمارے اندر نظر آتی ہے، ہمارے آس-پاس نظر آتی ہے، ہمیں اس سے نجات پانی ہی ہوگی۔ یہ ہماری  زندگی کی دوسری طاقت ہے۔ زندگی کی تیسری طاقت ہمیں اپنی وراثت پر فخر ہونا چاہئے، ہماری وراثت کے تئیں کیونکہ یہی وراثت ہے جس نے کبھی ہندوستان کو سنہرا دور دیا تھا ۔ اور یہی وراثت ہے جو وقت کے مطابق تبدیلی لانے کا مزاج رکھتی ہے۔ یہی وراثت ہے جو غیرضروری چیزوں کو چھوڑتی رہی ہے، روز نئی چیزوں کو قبول کرتی رہی ہے۔ اور اس لئے اس وراثت کے تئیں ہمیں فخر ہونا چاہئے۔ زندگی کی چوتھی طاقت وہ بھی اتنی ہی اہم ہے اور وہ ہے اتحاد اور یکجہتی ۔130 کروڑ اہل وطن میں اتحاد، نہ کوئی اپنا نہ کوئی پرایا، اتحاد کی طاقت، ’ ایک بھارت شریشٹھ بھارت‘ کے خوابوں کے لئے ہماری زندگی کی چوتھی طاقت ہے۔ اور پانچویں طاقت  ہے شہریوں کا  فرض  کا عہد، زندگی کی پانچویں طاقت ہے، شہریوں کا فرض،  جس سے وزیراعظم بھی باہر نہیں ہوتا، وزیراعلیٰ بھی باہر نہیں ہوتا، وہ بھی شہری ہے۔ شہریوں کا فرض  یہ ہمارے آنے والے 25 سال کے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے بہت ہی بڑی تحریک دینے والی طاقت ہے۔

 میرے پیارے ہم وطنو،

جب خواب بڑے ہوتے ہیں، جب عزائم بڑے ہوتے ہیں تو کوششیں بھی بہت بڑی ہوتی ہیں۔ طاقت بھی بہت زیادہ حاصل ہوجاتی ہے۔ اب کوئی تصور کرسکتا ہے  کہ ملک اس 42-40 کے دور کو یاد کیجئے، ملک اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔ کسی کے ہاتھ میں جھاڑو تھی، کسی نے تکلی اٹھائی تھی، کسی نے ریٹیا لیا تھا،کسی نے ستیہ گرہ کا راستہ اختیار کیا تھا، کسی نے جدوجہد کا راستہ اختیار کیا تھا، کسی نے دورانقلاب  کی بہادری کا راستہ اختیار کیا تھا۔ لیکن عزم بڑا تھا ’آزادی‘ اور طاقت دیکھئے بڑا عزم تھا تو آزادی لے کر رہے۔ ہم آزاد ہو گئے ۔ اگر عزم چھوٹا ہوتا ، محدود ہوتا تو شاید آج بھی جدوجہد کرنے کے دن چل رہے ہوتے، لیکن عزم بڑا تھا تو ، ہم نے حاصل بھی کیا۔

 

میرے پیارے ہم وطنو،

اب آج جب امرت کال کی پہلی صبح ہے، تو ہمیں ان 25 سال میں ترقی یافتہ ہندوستان بناکر رہنا ہے۔ اپنی آنکھوں کے سامنے اور بیس ، بائیس ، پچیس برس کے میرے نوجوان، میرے ملک کے میرے سامنے ہیں، میرے ملک کے نوجوانوں جب ملک آزادی کے 100 سال منائے گا۔

تب آپ پچاس -پچپن کے ہوئے ہوں گے، مطلب آپ کی زندگی کا یہ سنہری دور، آپ  کی عمر  کے یہ 25-30  سال ہندوستان کے خوابوں کو پورا کرنے کا دور ہے۔ آپ عہد کر کے میرے ساتھ چل پڑیئے ساتھیو، ترنگے جھنڈے کا  حلف  کر کے چل پڑیئے،  ہم سب  پوری طاقت سے لگ جائیں۔ عظیم عہد، میراملک  ترقی یافتہ ملک ہوگا، ڈولپڈ کنٹری ہوگا، وکاس کے ہر پیرامیٹر میں ہم بشریت کو اورصحت مندی کو فروغ دیں گے، ہمارے مرکز میں انسان ہوں گے،ہمارے مرکز میں انسان کی امیدیں اور خواہشیں ہوں گی۔ ہم جانتے ہیں، جب بھارت بڑے عہد کرتا ہے تو کرکے بھی دکھا تا ہے۔

جب میں نے یہاں صفائی ستھرائی کی بات کی تھی، اپنے پہلے خطاب میں، ملک  چل پڑا تھا، جس سے جہاں ہو سکا، صفائی ستھرائی کی جانب آگے بڑھا اور  گندگی کے تئیں نفرت ایک رویہ بنتا گیا۔ یہی تو ملک ہے، جس نے  ، جس کو کر کے دکھایا اور  کر بھی رہا ہے، آگے بھی کر رہا ہے؛ یہی  تو ملک ہے، جس نے  ویکسی نیشن، دنیا تکلیف میں تھی،  200 کروڑ  کا  نشانہ پا ر کرلیا ہے، مقررہ مدت میں کرلیا ہے، پرانے سارے ریکارڈ  توڑ کر کے کر لیا ہے، یہ ملک  کر سکتا ہے، ہم نے طے کیا تھا، ملک کو کھاڑی  کے تیل پر ہم  گزارا کرتے ہیں،جھاڑی کے تیل کی جانب کیسے بڑھیں، 10  فیصد  ایتھنول بلینڈنگ کا خواب بڑا لگتا تھا۔ قدیم تاریخ بتاتی تھی ممکن نہیں ہے، لیکن وقت سے  پہلے 10  فیصد  ایتھنول بلینڈنگ کر کے ملک نے  اس خواب کو  پورا کردیا ہے۔

 

 بھائیو- بہنو،

ڈھائی کروڑ لوگوں کو اتنے کم وقت میں بجلی کے کنکشن پہنچانا، چھوٹا کام نہیں تھا،  دیش  نے کر کے دکھایا ہے۔ لاکھوں خاندانوں کے گھر میں ‘نل سے جل’ پہنچانے کا کام آج  ملک تیز رفتاری سے کر رہا ہے۔ کھلے میں رفع حاجت  کرنے  سے چھٹکارا ، ہندوستان کے اندر  آج ممکن ہو پایا ہے۔

 

میرے پیارے ہم وطنو،

تجربہ کہتا ہے کہ ایک بار ہم سب عہد لے کر چل پڑے، تو ہم طے شدہ اہداف  کو پار کر سکتے ہیں۔ قابل تجدید توانائی کا  ہدف ہو،  ملک میں نئے میڈیکل کالج بنانے کا ارادہ ہو، ڈاکٹروں کی تیاری کروانی ہو، ہر شعبے میں پہلے سے رفتار بہت بڑی ہے اور اس لئے میں کہتا ہوں، اب آنے والے 25  سال بڑے عہد کے ہوں، یہی  ہماری زندگی، یہی  ہمارا عہد بھی ہونا چاہئے۔ دوسری  بات میں نے کہی ہے ، اس زندگی کی  طاقت  کا میں نے ذکر کیا ہے کہ  غلامی کی ذہنیت ، ملک کی سوچ ، سوچیئے بھائیو، تب تک دنیا ہمیں سرٹیفکٹ بانٹتی رہے گی؟ کب تک دنیا کے سرٹیفکٹ پر ہم گزارا کریں گے؟  کیا ہم  اپنا معیار نہیں  بنائیں گے ، کیا 130 کروڑ  کا دیش اپنے معیاروں کو پار کرنے کے لئے کاوشیں نہیں کرسکتا ہے۔ ہمیں کسی بھی حالت میں اوروں کے جیسا دیکھنے کی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم جیسے ہیں ویسے، لیکن وقار کے ساتھ کھڑے ہوں گے، یہ ہمارا مزاج ہونا چاہئے۔ ہمیں غلامی سے آزادی چاہئے۔ ہمارے من کے اندر دور دور 7 سمندر کے نیچے بھی  غلامی کا نشان نہیں بچے رہنا چاہئےساتھیوں۔ اور میں امید سے  دیکھتا ہوں ، جس طرح سے نئی قومی تعلیمی پالیسی بنی ہے، جس  غور وفکر کے ساتھ بنی ہے، لوگوں کے خیالات کے بہاؤ کو مرتب کرتے ہوئے بنی  ہے اور ہندوستان کی سرزمین سے  منسلک تعلیمی پالیسی بنی  ہے، رسکس ہماری  سرزمین کے میلے  ہیں ۔ ہم نے جس ہنر پر زور دیا ہے، یہ ایک ایسی طاقت ہے، جو ہمیں غلامی سے آزاد ہونے کی طاقت دے گی۔

ہم نے دیکھا ہے  کبھی کبھی  تو ہمارا ٹیلنٹ امیدوں کے رشتوں میں بندھ جاتا ہے، یہ غلامی کی ذہنیت  کا نتیجہ ہے۔ ہمیں ہماراے دیش  کی ہر زبان پر فخر ہونا چاہئے۔ ہمیں زبان آتی ہو یا نہ آتی ہو، لیکن میرے  دیش  کی زبان ہے، میرے  بزرگوں نے دنیا کی  دی ہوئی  یہ زبان ہے۔ ہمیں فخر ہونا چاہئے۔

 

میرے ساتھیوں،

آج ڈیجیٹل انڈیا کی شکل ہم دیکھ رہے ہیں۔ اسٹاٹ اپ دیکھ رہے ہیں۔ کون لوگ ہیں؟ یہ وہ ٹیلنٹ ہے جو ٹیئر-2، ٹیئر-3 سٹی میں کسی گاؤں غریب کے کنبہ میں بسے ہوئے لوگ ہیں۔ یہ ہمارے نوجوان ہیں جو آج نئی نئی کھوج کے ساتھ دنیا کے سامنے آرہے ہیں۔ غلامی کی ذہنیت کو ہمیں مسترد کرنا پڑے گا۔ اپنی صلاحیت پر اعتماد کرنا پڑے گا۔ دوسری ایک بات جو میں نے کہی ہے ، تیسری میری زندگی کی طاقت کی بات ہے وہ ہے ہماری وراثت پر۔ ہمیں فخر ہونا چاہئے۔ جب ہم اپنی سرزمیں سے جڑیں گے، جب ہم اپنی سرزمیں سے جڑیں گے تبھی تو اونچا اڑیں گے اور جب ہم اونچا اڑیں گے تو ہم دنیا کو بھی حل دے پائیں گے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جب ہم  اپنی چیزوں پر فخر کرتے ہیں، آج دنیا ہالیسٹک ہیلتھ کیئر(مجموعی حفظان صحت) کی گفتگو کررہی ہے لیکن جب مجموعی حفظان صحت کی گفتگو کرتی ہے تو اس کی نظر بھارت کے یوگ پر جاتی ہے۔ بھارت کے آیوروید پر جاتی ہے۔ بھارت کی جامع  طرز زندگی پر جاتی ہے۔ یہ ہماری وراثت ہے، جو ہم دنیا کو دے رہے ہیں۔ دنیا آج اس سے بہت متاثر ہورہی ہے۔ اب ہماری طاقت دیکھئے، ہم وہ لوگ ہیں جو  فطرت کے ساتھ جینا جانتے ہیں۔  فطرت کے ساتھ لگاؤ رکھنا جانتے ہیں۔ آج دنیا  کوماحولیات کی جس  پریشانی  کا سامنا ہے، ہمارے پاس وہ وارثت ہے ، عالمی تمازت  کے مسائل کے حل کا راستہ ہم لوگوں کے پاس ہے۔ ہمارے آبا واجداد نے دیا ہوا ہے، جب  ہم طرز زندگی کی بات کرتے ہیں، ماحول دوست  کے طرز زندگی کی بات کرتے ہیں، ہم لائف مشن کی بات کرتے ہیں تو دنیا کی توجہ ہماری طرف مبذول  ہوتی ہے، ہمارے پاس یہ صلاحیت ہے۔ ہمارا بڑا دھان، موٹا دھان، ملیٹ (جوار باجرہ)، ہمارے یہاں تو گھر گھر کی چیز رہی ہے۔ یہ ہماری وراثت ہے، ہمارے چھوٹے کسانوں کی محنت سے چھوٹی چھوٹی زمین کے ٹکرے میں پھلنے پھولنے والی ہماری دھان آج دنیا بین الاقوامی سطح پر جوار باجرے کا سال منانے کے لئے آگے بڑھ رہی ہے۔ مطلب ہماری وراثت کو اب دنیا، ہم اس پر فخر کرنا سیکھیں۔ ہمارے پاس دنیا کو دینے کے لئے بہت کچھ ہے۔  ہمارے کنبے کے اقدار دنیا کو سماجی تناؤ کی جب گفتگو ہورہی ہے، ذاتی تناؤ کی چرچا ہوتی ہے تو لوگوں کو یوگ نظر آتا  ہے۔ اجتماعی طور پر تناؤ کی بات ہوتی ہے تب ہندوستان کا خاندانی بندوبست  اور نظام نظر آتا ہے۔ مشترکہ خاندان کی ایک پونجی صدیوں سے ہماری ماؤں، بہنوں کی قربانی کے سبب خاندان نام کا جو بندوبست فروغ پایا ہے، یہ ہماری وراثت ہے۔ اِس وراثت پر ہم فخر کیسے کریں، ہم تو وہ لوگ ہیں، جو زندگی میں بھی شیو  دیکھتے ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جو انسان میں بھگوان دیکھتے ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جو خاتون کو دیوی کہتے ہیں، ہم وہ لوگ ہیں جو پودے میں پرماتما دیکھتے ہیں۔ہم وہ لوگ ہیں جو ندی کو ماں مانتے ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جو ہر کنکر میں شنکر دیکھتے ہیں۔ یہ ہماری صلاحیت ہے، ہر ندی میں ماں کی شکل دیکھتے ہیں۔  ماحولیات کا اتنا پھیلاؤ اور وسعت یہ ہمارا فخر جب دنیا کے سامنے خود فخر کریں گے تو دنیا کرے گی۔

بھائیو، بہنو،

ہم وہ لوگ ہیں جس نے دنیا کو واسو دیو کٹم بکم کا منتر دیا ہے۔ ہم وہ لوگ ہیں جو دنیا کو کہتے ہیں ایکن سدوپرا بہودھا ودنتی۔

آج جوکشمکش اور رسہ کشی کادور چل رہا ہے، تجھ سے بڑا میں ہوں، یہ جو تناؤ کی وجہ بنی ہوئی ہے، دنیا کو ’ایکم سدوپرابہودھا ودنتی‘ کا پیغام دینے والی وراثت ہمارے پاس ہے۔ جو کہتے ہیں سچائی ایک ہے، جانکار لوگ اس کو الگ الگ طریقے سے کہتے ہیں۔ یہ امتیاز ہمارا ہے،ہم لوگ ہیں،جوکہتے ہیں’یت پنڈے تت برہمانڈے‘، کتنی بڑی سوچ ہے، جو کائنات میں ہے، وہ ہر جاندار میں ہے، ’یت پنڈے تت برہمانڈے‘، یہ کہنے والے ہم لوگ ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جس نے دنیا کی فلاح دیکھی ہے، ہم عالمی فلاح و بہبود سے عوامی فلاح وبہبود کے راہی رہے ہیں۔ عوامی فلاح وبہبود سے عالمی فلاح وبہبود کی راہ پر چلنے والے ہم لوگ جب دنیا کا تصور کرتے ہیں، تب کہتے ہیں ’سروے بھونتو سکھینہ‘۔ ’سروے سنتو نرامیاہ‘ ۔ سب کی راحت کی بات کرکے آروگیہ کی بات کرنا یہ ہماری وراثت ہے اور اس لیے ہم نے بڑی شان کے ساتھ  ہماری اس وراثت پر فخر کرنا سیکھا، یہ ہماری روح کی طاقت ہے، جو ہمارے 25 سال کے خواب کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اسی طرح سے میرے پیارے ہم وطنو۔

ایک اور اہم موضوع ہے اتحاد، یکجہتی۔ اتنے بڑے ملک کے تنوع کو ہمیں  سیلیبریٹ کرنا ہے، اتنے مسلک اور روایات یہ ہماری آن بان شان ہے۔ کوئی نیچا نہیں، کوئی اونچا نہیں ہے، سب برابر ہیں۔ کوئی میرا نہیں، کوئی پرایا نہیں، سب اپنے ہیں۔ یہ جذبہ اتحاد کے لیے بہت ضروری ہے۔ گھر میں بھی اتحاد کی بنیاد تبھی رکھی جاتی ہے، جب بیٹا بیٹی ایک برابر ہوں۔ اگر بیٹا بیٹی ایک برابر نہیں ہوں گے تو اتحاد کے منتر کو پورا نہیں کرسکتے ہیں۔ صنفی برابری ہمارے اتحاد میں پہلی شرط ہے، جب ہم اتحاد کی بات کرتے ہیں، اگر ہمارے یہاں ایک ہی پیمانہ ہو، ایک ہی پیرامیٹر ہو، جس پیرامیٹر کو ہم کہیں، ’انڈیا فرسٹ‘ میں جو بھی کچھ کررہا ہوں، جو بھی سوچ رہا ہوں، جو بھی بول رہا ہوں،  ’انڈیا فرسٹ‘ کے موافق ہے۔ اتحاد کا راستہ کھل جائے گا دوست۔ ہمیں اتحاد سے باندھنے کا وہ منتر ہے، ہمیں اس کو پکڑنا ہے، مجھے پورا یقین ہے کہ ہم سماج کے اندر اونچ نیچ کی تفریق سے، میرے تیرے کی تفریق سے ...  ہم سب کے پجاری بنیں۔ شرمیوجیتےکہتے ہیں، ہم محنت کش کی عزت کرتے ہیں،  یہی ہمار ا کردار ہونا چاہیے۔

 

لیکن بھائیو بہنو،

میں لال قلعہ سے اپنا ایک درد بیان کرنا چاہتاہوں، یہ درد میں کہے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میں جانتا ہوں کہ شاید یہ لال قلعہ کا موضوع نہیں ہوسکتا۔لیکن میرے اندر کا درد میں کہاں کہوں گا۔ ملک کے شہریوں کےسامنے نہیں کہوں گا تو کہاں کہوں گا اور وہ ہے کسی نہ کسی وجہ سے ہمارے اندر ایک ایسی خرابی آئی ہے، ہماری بول چال میں ، ہمارے برتاؤ میں، ہمارے کچھ الفاظ میں،ہم خواتین کی بے عزتی کرتے ہیں۔ کیا ہم برتاؤ سے، اخلاقیات سے، روزمرہ کی زندگی میں خواتین کو بے عزت کرنے والی حرکتوں سے، آزادی کا عہدلے سکتے ہیں۔ خواتین کا وقار ملک کے خواب کو پورا کرنے میں بہت بڑا سرمایہ بننے والا ہے۔ یہ صلاحیت میں دیکھ رہا ہوں اور اس لیے میں اس بات کی اپیل کرتا ہوں۔

 

میرے پیارے ہم وطنو!

میں پانچویں عزم کی بات کرتا ہوں اور وہ پانچواں عزم ہے شہریوں کی ذمہ داری۔ دنیا میں جن جن ملکوں نے ترقی کی ہے، جن جن ممالک نے کچھ حاصل کیا ہے، ذاتی زندگی میں بھی جس نے حاصل کیا ہے، کچھ باتیں ابھر کر سامنے آتی ہیں۔ ایک سائشتہ زندگی، دوسرا ذمہ داری کا احساس۔ آدمی کی زندگی کی کامیابی ہو، سماج کی ہو، فیملی کی ہو، قوم کی ہو۔ یہ بنیادی راستہ ہے، یہ بنیادی قوت ارادی ہے۔دنیا میں جن جن ملکوں نے ترقی کی ہے، جن جن ملکوں نے کچھ حاصل کیا ہے، انفرادی زندگی میں بھی جس نے حاصل کیا ہے، کچھ باتیں اُبھر کر کے سامنے آتی ہیں۔ ایک نظم وضبط کی زندگی، دوسر ا فرض کے تئیں لگن، فرد کی زندگی کی کامیابی ہو، معاشرے کی ہو، خاندان کی ہو،قوم کی ہو، یہ بنیادی راستہ ہے۔ یہ بنیاد طور پر روحانی طاقت ہے اور اس لئے ہمیں فرض پر زور دینا ہی ہوگا۔ یہ انتظامیہ کا کام ہے کہ بجلی 24  گھنٹے پہنچانے کے لئے کام کریں، لیکن  یہ  شہری کا فرض  ہے کہ جتنی زیادہ  یونٹ بجلی  بچا سکتے ہیں، بچائیں۔ ہر کھیت میں پانی پہنچانا سرکار کی ذمہ داری ہے، سرکار کی کوشش ہے، لیکن  ‘پرڈروپ مور کروپ’ پانی بچاتے ہوئے آگے بڑھنا، میرے  ہر کھیت سے آواز اٹھنی چاہئے۔ کیمیکل سے پاک کھیتی، نامیاتی فارمنگ، قدرتی کھیتی، یہ ہمارا فرض ہے۔

ساتھیو، چاہے پولیس ہو، یا عوام ہو، حکمراں ہو، یا منتظم ہو، یہ شہری  فرض سے کوئی اچھوتا نہیں ہو سکتا۔ ہر کوئی اگر  شہریت کے فرضوں کو نبھائے گا تو مجھے یقین ہے کہ ہم  مطلوبہ ہدف  کو حاصل کرنے میں وقت سے پہلے  کامیابی  حاصل کرسکتے ہیں۔

 

میرے پیارے ہم وطنوں،

آج  مہارشی اربندو کی  یوم پیدائش بھی ہے۔میں اُس عظیم  شخصیت کے چرنوں میں نمن کرتا ہوں۔ لیکن ہمیں  اس عظیم شخص  کو یاد کرنا ہوگا، جنہوں نے کہا تھا کہ ‘سودیسی سے سوراج’ سوراج سے  سُراج۔ یہ ان کا منتر ہے، ہم سب کو سوچنا  ہوگا کہ ہم کب تک دنیا کی طرف لوگوں پر منحصر رہیں گے۔ کیا ہمارے ملک کو  اناج کی  ضرورت ہو، ہم آؤٹ سورس کر سکتے ہیں کیا۔ جب دیش نے طے کرلیا ہے کہ  ہمارا پیٹ ہم خود بھریں گے، دیش  نے کر کے دکھایا ، یا نہیں دکھایا، ایک بار عہد کرتے ہیں، تو ہوتا ہے ۔اور اس لئے خود کفیل ہندوستان  یہ ہر شہری کا، ہر سرکار کا ، سماج کی  ہر اکائی کا، یہ  فرض بن جاتا ہے۔ یہ خود کفیل بھارت یہ سرکاری ایجنڈا، سرکاری کام  کاج نہیں ہے۔ یہ  سماج کی  عوامی مہم ہے، جسے  ہمیں آگے بڑھانا ہے۔

میرے ساتھیو،  آج جب ہم نے یہ بات سنی، آزادی کے 75  سال کے بعد  جس آواز کو سننے کے لئے  ہمارے کان ترس رہے تھے، 75  سال کے بعد  وہ آواز  سنائی دی ہے۔ 75  سال کے بعد  لال قلعہ پر سے  ترنگے کو  سلامی  دینے کا کام  میڈ ان انڈیا توپ نے کیا ہے۔ کون ہندوستانی ہوگا،  جس کو یہ بات، یہ آواز  اسے نئی ترغیب، طاقت نہیں دے گی۔ اور اس لئے میرے پیارے بھائی بہنو، میں آج ، میرے دیش کی فوج کے جوانوں کا دل سے  استقبال کرنا چاہتا ہوں۔ میری  خود کفالت کی بات کو منظم شکل میں، جس جرأت کے ساتھ میری فوج کے جوانوں نے فوج کے  ہیروز  نے  جس ذمہ داری کےساتھ  کندھے پر اٹھایا ہے ۔ میں اُن کو  جتنا سلوٹ کروں ،اتنا کم ہے  دوستوں۔ ان کو آج میں سلام کرتا ہوں، کیونکہ  فوج کا جوان  موت کو مٹھی میں لے کر چلتا ہے۔ موت اور زندگی کے بیچ میں کوئی فاصلہ ہی نہیں ہوتا ہے، اور تب بیچ میں وہ ڈٹ کر کے کھڑا ہوتا ہے۔ اور وہ میری فوج کا جوان  طے کر کے کہ ہم 300  ایسی  چیزیں اب لسٹ کرتے ہیں، جو ہم  ودیس نہیں لائیں گے۔ ہمارے دیش کا یہ عہد  چھوٹا نہیں ہے۔

مجھے اس عزم میں ہندوستان کے ’آتم نربھر‘ بھارت کا روشن مستقبل نظرآرہا ہے، وہ بیج میں دیکھ رہا ہوں جو ان خوابوں کو  برگد کے درخت میں تبدیل کرنے والے ہیں۔  Salute! Salute!میری  فوج کے افسران کو سلیوٹ، میں اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں  کو 5 سال 7 سال کی عمر کے بچوں، ان کو بھی سلیوٹ کرنا چاہتا ہوں۔ ان کو بھی سلام کرنا چاہتا ہوں۔ جب ملک کے سامنے شعور پیدا ہوا، میں نے سینکڑوں خاندانوں سے سنا ہے، 5-5، 7 سال کے بچے گھر میں کہہ رہے ہیں کہ اب ہم غیرملکی کھلونوں سے نہیں کھیلیں گے۔ 5 سال کا بچہ گھر میں غیرملکی کھلونوں سے نہیں کھیلے گا، یہ جب عزم کرتا ہے نہ تب آتم نربھر بھارت  اس کی رگوں میں دوڑتا ہے۔ آپ دیکھئے پی ایل آئی اسکیم، ایک لاکھ کروڑ روپئے، دنیا کے کے لوگ ہندوستان میں اپنا  نصیب آزمانے آرہے ہیں ۔ ٹیکنالوجی لے کر کے آرہے ہیں۔ روزگار کے نئے مواقع  پیدا کررہے ہیں۔ ہندوستان مینوفیکچرنگ ہب بنتا جارہا ہے۔ آتم نربھر بھارت بھی بنیاد بنارہا ہے۔ آج الیکٹرانک گُڈس مینوفیکچرنگ ہو، موبائل فون کی مینوفیکچرنگ ہو، آج ملک بہت تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ جب ہمارا برہموس دنیا میں جاتا ہے، کون ہندوستانی ہوگا جس کا من آسمان کو نہ چھوتا ہوگا دوستو۔ آج ہماری میٹرو کوچز ، ہماری وندے بھارت ٹرین دنیا کے لئے توجہ کا مرکز بن رہی ہے۔

 

میرے پیارے ہم وطنو ،

ہمیں خودکفیل بننا ہے، ہمارے انرجی سیکٹر میں۔ ہم کب تک انرجی کے سیکٹر میں کسی اور پر منحصر  رہیں گے اور ہمیں شمسی  توانائی  کا شعبہ ہو، ونڈ انرجی کا شعبہ ہو، قابل تجدید توانائی   کے اور بھی جو راستے  ہوں، مشن ہائیڈروجن ہو، بایو فیول کی کوشش ہو، الیکٹر وہیکل پر جانے کی بات ہو، ہمیں  خودکفیل بنا کر کے ان  نظاموں  کو آگے بڑھانا ہوگا۔

 

میرے پیارے ہم وطنو،

آج قدرتی زراعت بھی خودکفیلی کا ایک راستہ ہے۔فرٹیلائزر سے جتنی زیادہ نجات ، آج ملک میں نینوفرٹیلائزر کے کارخانے ایک نئی امید لے کر  کےآئے ہیں ۔ لیکن قدرتی  زراعت، کیمیکل فری زراعت خودکفیلی کو تقویت دے سکتی ہے۔آج ملک میں روزگار کے میدان میں گرین جاب کے نئے نئے شعبے بہت تیزی سے کھل رہے ہیں۔ بھارت نے پالیسیوں کے ذریعہ  ’اسپیس ‘ کو کھول دیا ہے۔ ڈرون کی دنیا میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ پالیسی لے کر کے آئے ہیں۔ ہمارے ملک کے نوجوانوں کے لئے نئے دروازے کھول دیئے ہیں۔

 

میرے پیارے بھائیو –بہنو،

میں نجی شعبے سے بھی اپیل کرتا ہوں  آئیے... ہمیں دنیا میں چھا جانا ہے۔ آتم نربھربھارت کا یہ بھی خواب ہے کہ دنیا کی بھی جو ضرورتیں ہیں، ان کو پورا کرنے میں ہندوستان پیچھے نہیں رہے گا۔ ہماری چھوٹی صنعتیں ہوں، بہت چھوٹی صنعتیں ہوں، کاٹیج انڈسٹری ہوں، ’زیرو ڈیفیکٹ زیرو ایفیکٹ‘ ہمیں کرکے دنیا میں جانا ہوگا۔ ہمیں سودیشی پر فخر کرنا ہوگا۔

 

میرے پیارے ہم وطنو،

ہم بار بار لال بہادر شاستری جی کو یاد کرتے ہیں، جے جوان جے کسان کا ان  کا منتر آج بھی ملک کے لیے تحریک  کا باعث ہے۔ بعد میں اٹل بہاری واجپئی جی نے تب وگیان کہہ کر اس میں ایک کڑی جوڑ دی تھی اور ملک نے اس کو ترجیح دی تھی۔ لیکن اب امرت کال کے لیے ایک اور لازمیت ہے اور وہ ہے جے انوسندھان۔جے جوان جے کسان جے وگیان جے انوسندھان انوویشن۔ اور مجھے میرے ملک کی نوجوان نسل پر بھروسہ ہے۔ انوویشن کی طاقت دیکھئے، آج ہمارا یوپی آئی بھیم، ہمارا ڈجیٹل پیمنٹ، فن ٹیک کی دنیا میں ہمارا مقام، آج دنیا میں ریئل ٹائم 40 پرسنٹ اگر ڈجیٹلی  فائنانشیل کا ٹرانزیکشن  ہوتا ہے تو میرے ملک میں ہورہا ہے، ہندوستان نے یہ کرکے دکھایا ہے۔

 

میرے پیارے ہم وطنو،

اب ہم 5جی  کے دور میں قدم رکھ رہے ہیں۔ بہت دور انتظار نہیں کرنا ہوگا، ہم قدم ملانے والے ہیں۔ ہم آپٹیکل فائبر گاؤں گاؤں میں پہنچا رہے ہیں۔ ڈجیٹل انڈیا کا خواب گاؤں سے گزرے گا،یہ مجھے پوری جانکاری ہے۔آج مجھے خوشی ہے ہندوستان کے چار لاکھ  کامن سروس سینٹرز  گاؤوں میں تیار ہورہے ہیں۔گاؤں کے نوجوان بیٹے بیٹیاں کامن سروس سینٹرز چلا رہے ہیں۔ ملک  فخر کرسکتا ہے کہ  گاؤں کے علاقے میں چار لاکھ ڈجیٹل صنعت کاروں کا تیار ہونا اور تمام خدمات گاؤں کے لوگ ان کے یہاں لینے کے عادی بن جائیں، یہ اپنے آپ میں ٹیکنالوجی ہب بننے کی بھارت کی طاقت ہے۔

 

میرے پیارے ہم وطنو،

یہ جو ڈجیٹل انڈیا کی مہم ہے، جو سیمی کنڈکٹر کی طرف  ہم قدم بڑھا رہے ہیں، 5 جی کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں، آپٹیکل فائبر کا نیٹ ورک بچھا رہے ہیں، یہ صرف جدیدیت کی پہچان ہے، ایسا نہیں ہے۔ تین بڑی طاقتیں اس کے اندر شامل ہیں، تعلیم کے شعبے میں بنیادی انقلاب –  یہ ڈجیٹل طریقے سے آنے والا ہے۔ طبی خدمات میں بنیادی انقلاب ڈجیٹل سے آنے والا ہے۔ کسی  کی زندگی میں بھی بہت بڑی تبدیلی ڈجیٹل سے آنے والی ہے۔ ایک نئی دنیا تیار ہورہی ہے۔ بھارت اسے بڑھانے کے لیے، اور میں صاف دیکھ رہا ہوں دوستو یہ دہائی ، انسانوں کے لیے ٹیک ایج کا وقت ہے، ٹیکنالوجی کی دہائی ہے۔  بھارت کے لیے تو یہ ٹیک ایج، جس کا من ٹیکنالوجی سے جڑا ہوا ہے۔ آئی ٹی کی دنیا میں بھارت نے اپنا ایک لوہا منوالیا ہے، یہ ٹیک ایج کی صلاحیت بھارت کے پاس ہے۔

ہمارا اٹل انوویشن مشن، ہمارے انکیوبیشن سینٹر، ہمارے اسٹارٹ اپ، ایک نئے، پورے علاقے کی ترقی کو آگے بڑھا رہے ہیں، نوجوان نسل کے لیے نئے مواقع لے کر آرہے ہیں۔ خلائی مشن کی بات ہو، ہمارے ڈیپ اوشن مشن کی بات ہو، سمندر کی گہرائی میں جانا ہو یا ہمیں آسمان کو چھونا ہو، یہ نئے شعبے ہیں، جس کو لے کر ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔

 

میرے پیارے ہم وطنو،

ہم اس بات کو نہ بھولیں اور بھارت نے صدیوں سے دیکھا ہوا ہے،  جیسے ملک میں بطور نمونہ کچھ کاموں کی ضرورت ہوتی ہے، کچھ بڑی بڑی اونچائیوں کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن ساتھ ساتھ زمین پر مضبوطی بہت ضروری ہوتی ہے۔ بھارت کی اقتصادی  ترقی کے امکانات زمین کی مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں اور اس لیے ہمارے چھوٹے کسان، ان کی صلاحیت، ہمارے چھوٹے صنعت کار، ان کی صلاحیت،ہماری چھوٹی صنعت، گھریلو صنعت، انتہائی چھوٹی صنعت، ریڑی       پٹری والے لوگ، گھروں میں کام کرنے والے لوگ، آٹو رکشہ چلانے والے لوگ، بس سروس دینے والے لوگ، یہ سماج کا جو سب سے بڑا طبقہ ہے، اس کا باصلاحیت ہونا ہندوستان کی صلاحیت کی گارنٹی ہے اور اس لیے ہماری اقتصادی ترقی کی یہ جو بنیادی زمینی طاقت ہے، اس طاقت کو زیادہ سے زیادہ مضبوطی عطا کرنے کی سمت میں ہماری کوشش چل رہی ہے۔

 

میرے پیارے ہم وطنو،

ہمارے پاس 75 سال کا تجربہ ہے، ہم نے 75 سال میں کئی کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔

ہم نے 75 سال کے تجربے میں نئے خواب بھی سجائے  ہیں، نیا عہد بھی کیا ہے، لیکن امرت کال کے لئے ہمارے انسانی وسائل کا زیادہ سے زیادہ نتیجہ کیسے حاصل  ہو؟ ہمارے قدرتی وسائل کا زیادہ سے زیادہ ماحصل کیسے ہو؟ اس مقصد کو لے کر ہمیں چلنا ہے اور تب میں پچھلے کچھ سالوں کے تجربے سے کہنا چاہتا ہوں۔ آپ نے دیکھا ہوگا، آج عدالت کے اندر دیکھئے ہماری وکیل کے شعبے میں کام کرنے والی ہماری ناری شکتی (خاتون کی طاقت) کس عزم کے ساتھ نظر آرہی ہے۔ آپ دیہی علاقے میں عوامی نمائندے کی شکل میں دیکھئے۔ ہماری ناری شکتی کس مزاج سے پورے جذبے  سے اپنے گاؤں کے مسائل کو سلجھانے میں لگی ہوئی ہے۔ آج علم کا شعبہ دیکھ لیجئے ، سائنس کا شعبہ دیکھ لیجئے، ہمارے ملک کی ناری شکتی سرفہرست نظر آرہی ہے۔ آج ہم پولیس میں دیکھیں، ہماری ناری شکتی لوگوں کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھا رہی ہے۔ ہم زندگی کے ہر شعبے میں دیکھیں، کھیل کود کا میدان دیکھیں یا جنگ کا میدان دیکھیں، بھارت کی ناری شکتی ایک نئی صلاحیت، نئے اعتماد کے ساتھ آگے آرہی ہے۔ میں اس کو ہندوستان کے  75 سال کے جو سفر میں جو تعاون ہے، اس میں اب  آنے والے 25 سال میں اپنی ناری شکتی کا کئی گنا تعاون دیکھ رہا ہوں، میری ماتاؤں ، بہنوں کا میری بیٹیوں کا تعاون دیکھ رہا ہوں اور اس لئے یہ سارے حساب کتاب سے اوپر ہے۔ سارے آپ کے پیرا میٹر کے علاوہ ہے۔ ہم اس پر جتنا دھیان دیں گے، ہم جتنے زیادہ موقع ہماری بیٹیوں کو دیں گے، جتنی سہولتیں ہماری بیٹیوں کے لئے مرکوز کریں گے، آپ دیکھنا وہ ہمیں بہت کچھ لوٹا کر دیں گی۔  وہ ملک کو اِس اونچائی پر لے جائیں گی۔ اس امرت کال میں جو خواب پورے کرنے میں جو محنت لگنے والی ہے، اگر اس میں ہماری ناری شکتی کی محنت جڑ جائے گی اور باقاعدہ طور سے جڑ جائے گی تو ہماری محنت کم ہوگی، ہمارا وقت بھی کم ہوجائے گا۔ ہمارے خواب اور روشن ہوں گے ، نورانی ہوں گے اور شاندار ہوں گے۔

 

اور اس لیے آئیے ساتھیو،

ہم ذمہ داریوں کو لے کر آگے بڑھیں ۔ میں آج ہندوستان کے آئین کے معماروں کا بھی شکریہ کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے جو ہمیں وفاقی ڈھانچہ دیا ہے، اس کے جذبے کو بناتے ہوئے اُس کے جذبے کی قدر کرتے ہوئے ہم کندھے سے کندھا ملا کر اِس امرت کال میں چلیں گے تو خواب پورے ہوکر رہیں گے۔ پروگرام مختلف بھی ہوسکتے ہیں، کام کرنے کا طریقہ مختلف ہوسکتا ہے، لیکن عہد مختلف نہیں ہوسکتے۔ ملک کے لئے خواب مختلف نہیں ہوسکتے۔ آئیے ہم ایک ایسے دور کے اندر آگے بڑھیں۔ مجھے یاد ہے جب میں گجرات کا وزیر اعلیٰ تھا، مرکز میں ہمارے نظریے کی سرکار نہیں تھی، لیکن میرے گجرات میں ہر جگہ پر، میں ایک ہی منتر لے کر چلتا تھا کہ ہندوستان کی ترقی کے لئے گجرات کی ترقی۔ ہندوستان کی ترقی۔ ہم کہیں پر بھی ہوں، ہم سب کے دل ودماغ میں رہنی چاہئے۔ ہمارے ملک کی کئی ریاستیں ہیں، جنہوں نے ملک کو آگے بڑھانے میں بہت نمایاں رول ادا کیا ہے۔ قیادت کی ہے۔ کئی شعبوں میں بے مثال کام کئے ہیں۔ یہ ہماری وفاقیت کی طاقت کو بخشتی ہے، لیکن آج وقت کی مانگ ہے کہ ہمیں اشتراک  پر مبنی وفاقیت کے ساتھ ساتھ  امداد باہمی   مقابلہ جاتی وفاقیت کی ضرورت ہے۔ ہمیں ترقی کی مسابقت کی ضرورت ہے۔

ہرریاست کو لگنا چاہئے کہ وہ ریاست آگے نکل گئی۔ میں اتنی محنت کروں  گی کہ میں آگے نکل جاؤں۔ ا س نے یہ 10 اچھے کام کئے ہیں  ، میں 15 اچھے کام کرکے دکھاؤں گی۔ اس نے تین سال میں پورا کیا ہے، میں دو سال میں پورا کرکے دکھاؤں گی۔ ہماری ریاستوں کے درمیان میں  ہماری سروس  حکومت کی تمام اکائیوں کے درمیان میں ایسے مسابقت کے ماحول کی ضرورت ہے ، جو ہمیں ترقی کی نئی بلندیوں پر لے جانے کے لئے کوشش کرے۔

 

میرے پیارے ہم وطنو،

 اس 25 سال کے امرت کال کے لئے جب ہم ذکر کرتے ہیں ، تب میں جانتا ہوں کہ چیلنج بہت سارے ہیں۔ خواہشات بہت ہیں، مصیبتیں بھی بہت ہیں، بہت کچھ ہے، ہم اس کو کم نہیں گردانتے۔راستے تلاش کرتے ہیں۔ مسلسل کوشش کررہے ہیں لیکن دو موضوعات پر  میں یہاں بات کرنا چاہتا ہوں۔ بات  متعدد موضوعات پر ہوسکتی ہے۔ لیکن میں ابھی وقت کی حد کے ساتھ دو موضوعات پر بات کرنا چاہتا ہوں اور میں مانتا ہوں کہ ہمارے ان تمام چیلنجوں کی وجہ ، خرابیوں کی وجہ ،امراض کی وجہ،اس  25 سال کا یہ امرت کال ، اس پر شاید اگر ہم وقت رہتے بیدار نہیں ہوئے، وقت رہتے حل نہیں نکالاگیا، تو یہ خوفناک شکل اختیار کرسکتا ہے ۔اور اس لئے میں  سب کا ذکر نہ کرتے ہوئے دو باتوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ ایک ہے بدعنوانی اور دوسری ہے اقرباءپروری ، خاندان پروری ۔ ہندوستان جیسی جمہوریت میں جہاں لوگ غریبی کا سامنا کررہے ہیں ،جب اس طرف سے دیکھتے ہیں، ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کے پاس رہنے کے لئے جگہ نہیں ہے۔ دوسری جانب وہ لوگ ہیں جن کو اپنا چوری کیا ہوا مال رکھنے کے لئے جگہ نہیں ہے۔ یہ صورتحال اچھی نہیں ہے دوستو۔ اور اس لئے ہمیں بدعنوانی کے خلاف پوری طاقت سے لڑنا ہے۔ گزشتہ 8 برسوں میں براہ راست فائدے کی منتقلی کے ذریعہ آدھار ، موبائل ان تمام جدید سہولتوں کا استعمال کرتے ہوئے دو لاکھ کروڑ روپئے جو غلط ہاتھوں میں جاتے تھے، ان کو بچاکر کے ملک کی فلاح وبہبود کے لئے کام میں لگانے میں ہم کامیاب ہوئے۔ جو لوگ گزشتہ حکومتوں میں بینکوں کو لوٹ لوٹ کر بھاگ گئے، ان کی جائیداد ضبط کرکے واپس لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ کئی لوگوں کو جیلوں میں رہنے کے لئے مجبور کرکے رکھا ہوا ہے۔ ہماری کوشش ہے  جنہوں نے ملک کو لوٹا ہے ،ان کو واپس آنا پڑے، وہ صورت ہم پیدا کریں گے۔

 

بھائیو –بہنو،

اب بدعنوانی کے خلاف میں صاف دیکھ رہا ہوں کہ ہم ایک فیصلہ کن دور میں قدم رکھ رہے ہیں۔ بڑے بڑے انتہاپسند بھی  بچ نہیں پائیں گے۔ اس مزاج کے ساتھ بدعنوانی کے خلاف ایک فیصلہ کن دور میں اب ہندوستان قدم رکھ رہا ہے اور میں لال قلعہ کی فصیل سے بڑی ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہا ہوں  اور اس لئے بھائیو-بہنو، بدعنوانی دیمک  کی طرح ملک کو کھوکھلا کررہی ہے۔ مجھے اس کے خلاف لڑائی لڑنی ہے،لڑائی کو تیز کرنا ہے، فیصلہ کن موڑ پر اسے لے کر کے ہی جانا ہے۔ تب میرے 130 کروڑ اہل وطن ، آپ مجھے آشیرواد دیجئے، آپ میرا ساتھ دیجئے، میں آج آپ سے ساتھ مانگنے آیا ہوں، آپ کا تعاون مانگنے آیا ہوں، تاکہ میں اس لڑائی کو لڑپاؤں۔اس لڑائی کو ملک جیت پائے اور عام شہری کی زندگی بدعنوانی نے تباہ کرکے رکھی ہوئی ہے۔ میں اپنے ان عام شہریوں کی زندگی کو پھر سے آن،بان ، شان سے جینے کے لئے راستہ بنانا چاہتا ہوں ۔اور اس لئے ، میرے پیارے ہم وطنو یہ تشویش کی بات ہے کہ آج ملک میں بدعنوانی کے تئیں نفرت تو نظرآتی ہے، اس کا اظہار بھی کیا جاتا ہےلیکن کبھی کبھی بدعنوان لوگوں  کے تئیں رواداری برتی جاتی ہے، کسی بھی ملک میں یہ بات زیبا نہیں دیتی۔

اور کئی لوگ تو اتنی بے شرمی تک چلے جاتے ہیں کہ کورٹ میں سزا ہوچکی ہو، بدعنوان ثابت ہوچکے ہوں، جیل جانا طے ہوچکا ہو، جیل میں زندگی گزار رہے ہو، اس کے باوجود بھی ان کی تعریفوں کے پل باندھنے میں لگے رہتے ہیں، ان کی شان و شوکت میں لگے رہتے ہیں، ان کی عزت بڑھانے میں لگے رہتے ہیں۔ جب تک سماج میں گندگی کے تئیں نفرت نہیں ہوتی ہے، صفائی کا شعور پیدا نہیں ہوتا ہے، جب تک بدعنوانوں اور بدعنوانی کے تئیں نفرت کا جذبہ  پیدا نہیں ہوتا ہے، سماجی طور پر اس کو نیچا دیکھنے کے لیے مجبور نہیں کرتے، تب تک یہ ذہنیت ختم ہونے والی نہیں ہے اور اس لیے بدعنوانی کے تئیں بھی اور بدعنوانوں کے تئیں بھی ہمیں بہت بیدار رہنے کی ضرورت ہے۔ دوسری ایک بات میں کرنا چاہتا ہوں اقرباء پروری کی، اور جب میں اقرباء پروری کی بات کرتا ہوں تو لوگوں کو لگتا ہے کہ میں صرف سیاسی شعبے کی بات کررہا ہوں۔ جی نہیں، بدقسمتی سے سیاسی شعبے کی  اس برائی میں ہندوستان کے تمام اداروں نے اقرباء پروری کی آبیاری کی ہے۔ اقرباءپروری ہمارے متعدد اداروں کو اپنے میں لپیٹے ہوئے ہیں اور اس کی وجہ سے میرے ملک کے ٹیلنٹ کو نقصان ہوتا ہے۔ میرے ملک کی لیاقت کو نقصان ہوتا ہے۔ جن کے پاس مواقع کے امکانات ہیں، وہ اقرباء پروری کے بعد باہر رہ جاتے ہیں۔بدعنوانی کی بھی ایک  وجہ یہ بن جاتی ہے، تاکہ اس کا کوئی بھائی بھتیجے کا سہارا نہیں ہے تو لگتا ہے کہ بھئی چلو کہیں سے خرید کرکے جگہ بنالوں، اس اقرباءپروری سے ہمیں تمام اداروں میں ایک نفرت پیدا کرنی ہوگی، بیداری پیدا کرنی ہوگی، تب ہم اپنے اداروں کو بچا پائیں گے۔ اداروں کے  روشن مستقبل  کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔  اسی طرح سے سیاست میں بھی اقرباء پروری نے ملک کی لیاقت کے ساتھ سب سے زیادہ ناانصافی کی ہے۔ اقرباءپروری پر مبنی سیاست خاندان کی بھلائی کےلیے ہوتی ہے، اس کو ملک کی بھلائی سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ہے اور اس لیے لال قلعہ کی فصیل سے ترنگے جھنڈے کی آن بان شان کے نیچے ہندوستان کے آئین کو یاد کرتے ہوئے میں ہم وطنو ں کو کھلے ذہن سے یہ کہنا چاہتا ہوں، آئیے ہندوستان کی سیاسی پاکیزگی کے لیے بھی، ہندوستان کے تمام اداروں کی پاکیزگی کے لیے بھی ہمیں ملک کو اس اقرباءپروری پر مبنی ذہنیت سے آزادی دلا کر اہلیت کی بنیاد پر ملک کو آگے لے جانے کی طرف بڑھنا ہوگا۔ یہ ناگزیر ہے، ورنہ ہر شخص افسردہ رہتا ہے کہ میں اس کے لیے اہل تھا، مجھے نہیں ملا، کیونکہ میرا کوئی چاچا، ماما، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی، کوئی وہاں تھے نہیں۔ یہ ذہنی کیفیت کسی بھی ملک کے لیے اچھی نہیں ہے۔

میرے ملک کے نوجوانوں، میں آپ کے روشن مستقبل کے لیے، آپ کے خوابوں کے لیے، میں اقرباء پروری کے خلاف لڑائی میں آپ کا ساتھ چاہتا ہوں۔ اقرباءپروری پر مبنی سیاست کے خلاف لڑائی میں، میں آپ کا ساتھ چاہتا ہوں۔ یہ آئینی ذمہ داری مانتا ہوں میں۔ یہ جمہوریت کی ذمہ داری مانتا ہوں میں۔ یہ لال قلعہ کی فصیل سے کہی گئی بات  کی طاقت میں مانتا ہوں ۔ اور اس لیے میں آج آپ سے یہ موقع چاہتا ہوں۔ ہم نے دیکھا پچھلے دنوں کھیلوں میں، ایسا تو نہیں ہے کہ ملک کے پاس پہلے صلاحیتیں نہیں رہی ہوں گی، ایسا تو نہیں ہے کہ کھیل کود کی دنیا میں ہندوستان کے نوجوان ہمارے بیٹے بیٹیاں کچھ کر نہیں رہے۔ لیکن سلیکشن اقرباء پروری کے چینل سے  گزرتے تھے اور اس کی وجہ سے وہ کھیل کے میدان تک، اس ملک تک تو پہنچ جاتے تھے، جیت ہار سے انہیں لینا دینا نہیں تھا۔ لیکن جب شفافیت آئی تو اہلیت کی بنیاد پر کھلاڑیوں کا انتخاب ہونے لگا، پوری شفافیت سے کھیل کے میدان میں لیاقت کی عزت ہونے لگی۔ آج دیکھئے دنیا میں کھیل کے میدان میں ہندوستان کا ترنگا لہراتا ہے۔ بھارت کا قومی گیت گایا جاتا ہے۔

فخر ہوتا ہے اور خاندانی پروری سے نجات ملتی ہے، اقرباء پروری سے نجات ملتی ہے، تو یہ نتیجے آتے ہیں۔ میرے  پیارے ہم وطنوں یہ ٹھیک ہے، چیلنج بہت سارے ہیں، اگر اس ملک کے سامنے کروڑوں مشکلات ہیں، تو کروڑوں حل بھی ہیں۔ اور میرا 130 کروڑ  ہم وطنوں پر  بھروسہ ہے، 130  اہل وطن مقررہ مقصد کے ساتھ عزم کے تئیں سپردگی کے ساتھ جب  130  کروڑ  اہل وطن ایک قدم آگے رکھتے ہیں، تو ہندوستان 130  قدم آگے بڑھ جاتا ہے۔ اس صلاحیت کو لے کر کے ہمیں آگے بڑھنا ہے، اس امرت کال میں، ابھی  امرت کال کا آغاز ہے، پہلی  صبح ہے، ہمیں آنے والے 25  سال کے ایک پل بھی  بھولنا نہیں ہے، ایک ایک دن وقت کا ہر ایک لمحہ ،زندگی کا ہر ایک زرہ، مادر وطن کے لئے زندہ رہنا اور  تبھی  آزادی کے دیوانوں سے  ہماری  سچی  شردھانجلی ہوگی۔ تبھی 75  سال تک  دیش  کو یہاں تک پہنچانے میں جن جن لوگوں نے  حصہ رسدی کی،  اُن کی میٹھی یادیں ہمارے کام آئیں گی۔

میں ہم وطنوں سے درخواست کرتے ہوئے نئے امکانات کو  تصور کرتے ہوئے، نئے عہدوں کو  پار کرتے ہوئے، آگے بڑھنے کا یقین لے کر آج  امرت کال کی  شروعات کرتے ہیں۔ آزادی کا امرت مہوتسو، اب امرت کال کی  سمت میں پلٹ چکا ہے، آگے بڑھ چکا ہے، تب اس امرت کال میں سب کا  پریاس ناگزیر ہے۔ سب کا پریاس  یہ نتیجہ لانے والا ہے۔ ٹیم انڈیا کا جذبہ  ہی  دیش  کو آگے بڑھانے والا ہے۔ 130 کروڑ  ہم وطنوں کی یہ ٹیم  انڈیا  ایک ٹیم کے روپ میں آگے بڑھ کر کے سارے خوابوں کو پورا کرے گی۔ اس پورے یقین کے ساتھ میرے  ساتھ بولئے۔

جے ہند!

جے ہند!

جے ہند!

بھارت ماتا کی جے،

بھارت ماتا کی جے،

بھارت ماتا کی جے،

وندے ماترم،

وندے ماترم،

وندے ماترم،

بہت بہت مبارک باد!

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
'Ambitious... resilient': What World Bank experts said on Indian economy

Media Coverage

'Ambitious... resilient': What World Bank experts said on Indian economy
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Text of PM's speech welcoming Vice President, Shri Jagdeep Dhankhar in Rajya Sabha
December 07, 2022
Share
 
Comments
Welcomes Vice President to the Upper House
“I salute the armed forces on behalf of all members of the house on the occasion of Armed Forces Flag Day”
“Our Vice President is a Kisan Putra and he studied at a Sainik school. He is closely associated with Jawans and Kisans”
“Our democracy, our Parliament and our parliamentary system will have a critical role in this journey of Amrit Kaal”
“Your life is proof that one cannot accomplish anything only by resourceful means but by practice and realisations”
“Taking the lead is the real definition of leadership and it becomes more important in the context of Rajya Sabha”
“Serious democratic discussions in the House will give more strength to our pride as the mother of democracy”

आदरणीय सभापति जी,

आदरणीय सभी सम्‍मानीय वरिष्‍ठ सांसदगण,

सबसे पहले मैं आदरणीय सभापति जी, आपको इस सदन की तरफ से और पूरे देश की तरफ से बहुत-बहुत बधाई देता हूं। आपने एक सामान्‍य परिवार से आ करके संघर्षों के बीच जीवन यात्रा को आगे बढ़ाते हुए आप जिस स्‍थान पर पहुंचे हैं, वो देश के कई लोगों के लिए अपने-आप में एक प्रेरणा का कारण है। इस उच्‍च सदन में, इस गरिमामय आसन को आप सुभोभित कर रहे हैं और मैं कहूंगा कि किठाणा के लाल, उनकी जो उपलब्धियां देश देख रहा है तो देश की खुशी का ठिकाना नहीं है।

आदरणीय सभापति जी,

ये सुखद अवसर है कि आज Armed Forces Flag Day भी है।

आदरणीय सभापति जी,

आप तो झुंझुनू से आते हैं, झुंझुनू वीरों की भूमि है। शायद ही कोई परिवार ऐसा होगा, जिसने देश की सेवा में अग्रिम भूमिका न निभाई हो। और ये भी सोने में सुहागा है कि आप स्‍वयं भी सैनिक स्‍कूल के विद्यार्थी रहे हैं। तो किसान के पुत्र और सैनिक स्‍कूल के विद्यार्थी के रूप में मैं देखता हूं कि आप में किसान और जवान, दोनों समाहित हैं।

मैं आपकी अध्‍यक्षता में इस सदन से सभी देशवासियों को Armed Forces Flag Day की भी शुभकामनाएं देता हूं। मैं इस सदन के सभी आदरणीय सदस्‍यों की तरफ से देश के Armed Forces को सैल्‍यूट करता हूं।

सभापति महोदय,

आज संसद का ये उच्‍च सदन एक ऐसे समय में आपका स्‍वागत कर रहा है, जब देश दो महत्‍वपूर्ण अवसरों का साक्षी बना है। अभी कुछ ही दिन पहले दुनिया ने भारत को जी-20 समूह की मेजबानी का दायित्व सौंपा है। साथ ही, ये समय अमृतकाल के आरंभ का समय है। ये अमृतकाल एक नए विकसित भारत के निर्माण का कालखंड तो होगा ही, साथ ही भारत इस दौरान विश्‍व के भविष्‍य की दिशा तय करने पर भी बहुत अहम भूमिका निभाएगा।

आदरणीय सभापति जी,

भारत की इस यात्रा में हमारा लोकतंत्र, हमारी संसद, हमारी संसदीय व्‍यवस्‍था, उसकी भी एक बहुत महत्‍वपूर्ण भूमिका रहेगी। मुझे खुशी है कि इस महत्‍वपूर्ण कालखंड में उच्‍च सदन को आपके जैसा सक्षम और प्रभावी नेतृत्‍व मिला है। आपके मार्गदर्शन में हमारे सभी सदस्‍यगण अपने कर्तव्‍यों का प्रभावी पालन करेंगे, ये सदन देश के संकल्‍पों को पूरा करने का प्रभावी मंच बनेगा।

आदरणीय सभापति महोदय,

आज आप संसद के उच्‍च सदन के मुखिया के रूप में अपनी नई जिम्‍मेदारी का औपचारिक आरंभ कर रहे हैं। इस उच्‍च सदन के कंधों पर भी जो जिम्‍मेदारी है उसका भी सबसे पहला सरोकार देश के सबसे निचले पायदान पर खड़े सामान्‍य मानवी के हितों से ही जुड़ा है। इस कालखंड में देश अपने इस दायित्‍व को समझ रहा है और उसका पूरी जिम्‍मेदारी से पालन कर रहा है।

आज पहली बार महामहिम राष्‍ट्रपति श्रीमती द्रौपदी मुर्मू के रूप में देश की गौरवशाली आदिवासी विरासत हमारा मार्गदर्शन कर रही है। इसके पहले भी श्री रामनाथ कोविंद जी ऐसे ही वंचित समाज से निकलकर देश के सर्वोच्‍च पद पर पहुंचे थे। और अब एक किसान के बेटे के रूप में आप भी करोड़ों देशवासियों की, गांव-गरीब और‍ किसान की ऊर्जा का प्रतिनिधित्‍व कर रहे हैं।

आदरणीय सभापति जी,

आपका जीवन इस बात का प्रमाण है कि सिद्धि सिर्फ साधनों से नहीं, साधना से मिलती है। आपने वो समय भी देखा है, जब आप कई किलोमीटर पैदल चल कर स्‍कूल जाया करते थे। गांव, गरीब, किसान के लिए आपने जो किया वो सामाजिक जीवन में रह रहे हर व्‍यक्ति के लिए एक उदाहरण है।

आदरणीय सभापति जी,

आपके पास सीनियर एडवोकेट के रूप में तीन दशक से ज्‍यादा का अनुभव है। मैं विश्‍वास से कह सकता हूं कि सदन में आप कोर्ट की कमी महसूस नहीं करेंगे, क्‍योंकि राज्‍यसभा में बहुत बड़ी मात्रा में वो लोग ज्‍यादा हैं, जो आपको सुप्रीम कोर्ट में मिला करते थे और इसलिए वो मूड और मिजाज भी आपको यहां पर जरूर अदालत की याद दिलाता रहेगा।

आपने विधायक से लेकर सांसद, केन्‍द्रीय मंत्री, गवर्नर तक की भूमिका में भी काम किया है। इन सभी भूमिकाओं में जो एक बात कॉमन रही, वो है देश के विकास और लोकतांत्रिक मूल्‍यों के लिए आपकी निष्‍ठा। निश्चित तौर पर आपके अनुभव देश और लोकतं‍त्र के लिए बहुत ही महत्‍वपूर्ण हैं।

आदरणीय सभापति जी,

आप राजनीति में रहकर भी दलगत सीमाओं से ऊपर उठकर सबको साथ जोड़कर काम करते रहे हैं। उपराष्‍ट्रपति के चुनाव में भी आपके लिए सबका वो अपनापन हमने स्‍पष्‍ट रूप से देखा। मतदान के 75 पर्सेंट वोट प्राप्‍त करके जीत हासिल करना अपने-आप में अहम रहा है।

आदरणीय सभापति जी,

हमारे यहां कहा जाता है- नयति इति नायक: - अर्थात् जो हमें आगे ले जाए, वही नायक है। आगे लेकर जाना ही नेतृत्‍व की वास्‍तविक परिभाषा है। राज्‍यसभा के संदर्भ में ये बात और महत्‍वपूर्ण हो जाती है, क्‍योंकि सदन पर लोकतांत्रिक निर्णयों को और भी रिफाइंड तरीके से आगे बढ़ाने की जिम्‍मेदारी है। इसलिए जब आपके जैसा जमीन से जुड़ा नेतृत्‍व इस सदन को मिलता है, तो मैं मानता हूं कि ये सदन के हर सदस्‍य के लिए सौभाग्‍य है।

आदरणीय सभापति जी,

राज्‍यसभा देश की महान लोकतांत्रिक विरासत की एक संवाहक भी रही है और उसकी शक्ति भी रही है। हमारे कई प्रधानमंत्री ऐसे हुए, जिन्‍होंने कभी न कभी राज्‍यसभा सदस्‍य के रूप में कार्य किया है। अनेक उत्‍कृष्‍ट नेताओं की संसदीय यात्रा राज्‍यसभा से शुरू हुई थी। इसलिए इस सदन की गरिमा को बनाए रखने और आगे बढ़ाने के लिए एक मजबूत जिम्‍मेदारी हम सभी के ऊपर है।

आदरणीय सभापति जी,

मुझे विश्‍वास है कि आपके मार्गदर्शन में ये सदन अपनी इस विरासत को, अपनी इस गरिमा को आगे बढ़ायेगा, नई ऊंचाइयां देगा। सदन की गंभीर चर्चाएं, लोकतांत्रिक विमर्श, लोकतंत्र की जननी के रूप में हमारे गौरव को और अधिक ताकत देंगे।

आदरणीय सभापति महोदय जी,

पिछले सत्र तक हमारे पूर्व उपराष्‍ट्रपति जी और पूर्व सभापति जी इस सदन का मार्गदर्शन करते थे और उनकी शब्‍द रचनाएं, उनकी तुकबंदी सदन को हमेशा प्रसन्‍न रखती थी, ठहाके लेने के लिए बड़ा अवसर मिलता था। मुझे विश्‍वास है कि आपका जो हाजिर जवाबी स्‍वभाव है वो उस कमी को कभी खलने नहीं देगा और आप सदन को वो लाभ भी देते रहेंगे।

इसी के साथ मैं पूरे सदन की तरफ से, देश की तरफ से, मेरी तरफ से आपको बहुत-बहुत शुभकामनाएं देता हूं।

धन्‍यवाद।