عالمی وبا کے دوران ڈاکٹروں کی خدمات اور قربانیوں کے لئےان کو خراج تحسین پیش کیا
صحت کے شعبے کے بجٹ کو دوگنا کرتے ہوئے 2 لاکھ کروڑ روپئے سے بھی زیادہ کیا گیا : وزیراعظم
ہمارے ڈاکٹر اپنے تجربے اور مہارت کے ساتھ اس نئے اور تیزی سےبدلنے والے وائرس کا مقابلہ کر رہے ہیں: وزیر اعظم
ڈاکٹروں کے تحفظ کے لئے حکومت پابندعہد ہے: وزیراعظم
انہوں نے یوگا کے فائدوں کے بارے میں شواہد پر مبنی مطالعات کی اپیل کی
انہوں نے ڈاکیومنٹیشن کی اہمیت پر زور دیا ، کووڈ عالمی وبا مفصل ڈاکیومنٹیشن کے لئے ایک اچھا نقطۂ آغاز ہو سکتا ہے
نئی دہلی:یکم جولائی،2021۔نمسکار! آپ سبھی کو نیشنل ڈاکٹر ڈے (ڈاکٹروں کے قومی دن) کی بہت بہت مبارکباد۔ ڈاکٹربی سی رائے جی کی یاد میں منایا جانے والا یہ دن ہمارےڈاکٹرس کے ، ہماری طبی برادری کےاعلیٰ آدرشوں کی علامت ہے۔ خاص طور پر پچھلے ڈیڑھ سال میں ہمارےڈاکٹروں نے جس طرح ہم وطنوں کی خدمت کی ہے وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ میں 130 کروڑ ہم وطنوں کی جانب سے ملک کے سبھی ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، تشکر کا اظہار کرتا ہوں۔
ساتھیو،
ڈاکٹرس کو خدا کا دوسرا روپ کہا جاتا ہے، اور وہ ایسے ہی نہیں کہاجاتا۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہوں گے جن کی زندگی کسی بحران سے دوچار ہوئی ہوگی، کسی بیماری یا حادثے کا شکار ہوئی ہوگی، یا پھر کئی بار ہمیں ایسا لگنے لگتا ہے کہ کیاہم کسی اپنے کو کھو دیں گے لیکن ہمارے ڈاکٹرس ایسے مواقع پر کسی فرشتے کی طرح زندگی کی صورت بدل دیتے ہیں، ہمیں ایک نئی زندگی عطا کردیتے ہیں۔
ساتھیو،
آج جب ملک کورونا سے اتنی بڑی جنگ لڑرہا ہے تو ڈاکٹرس نے دن رات محنت کرکے، لاکھوں لوگوں کی زندگی بچائی ہے۔ یہ ثواب کاکام کرتے ہوئے ملک کے کئی ڈاکٹروں نے اپنی زندگی بھی نچھاور کردی۔ میں زندگی عطا کرنے والے ان سبھی ڈاکٹروں کو اپنا خراج عقیدت پیش کرتا ہوں، اور ان کے اہل خانہ کے تئیں اپنی تعزیت کااظہار کرتا ہوں۔
ساتھیو،
کورونا سے لڑائی میں جتنے چیلنجز سامنے آئے، ہمارے سائنسدانوں ، ڈاکٹروں نے ، اتنے ہی حل تلاش کیے،مؤثر دوائیاں بنائیں، آج ہمارے ڈاکٹرس ہی کورونا کے پروٹوکولس بنارہے ہیں، انہیں لاگو کروانے میں مدد کررہے ہیں۔ یہ وائرس نیا ہے،اس میں نئے نئے میوٹیشن بھی ہورہے ہیں، لیکن ہمارے ڈاکٹرس کی نالج،ان کا تجربہ، وائرس کے ان خطروں اور چیلنجوں کاملکر مقابلہ کررہے ہیں۔ اتنی دہائیوں میں جس طرح کا میڈیکل انفراسٹرکچر ملک میں تیار ہوا تھا، اس کی حدیں آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔ پہلے وقت میں میڈیکل انفراسٹرکچر کو کس طرح نظرانداز کیا گیا تھااس سے بھی آپ واقف ہیں۔ ہمارے ملک میں آبادی کادباؤ ا س چیلنج کو اور مشکل بنادیتا ہے، اس کے باوجود کورونا کے دوران اگر ہم فی لاکھ آبادی میں انفیکشن کو دیکھیں ،اموات کی شرح کو دیکھیں، بھارت کی صورتحال بڑے بڑے ترقی یافتہ اور خوشحال ملکوں کے مقابلے میں کہیں سنبھلی ہوئی رہی ہے۔ کسی ایک زندگی کا بے وقت ختم ہوجانا ،اتنا ہی افسوسناک ہے، لیکن بھارت نے کورونا سے لاکھوں لوگوں کی زندگی بچائی بھی ہے۔ اس کا بہت بڑا سہرا، ہمارے محنتی ڈاکٹروں ،ہمارے حفظان صحت کارکنوں، ہمارے اگلی صفوں میں کام کرنے والے ورکروں کو جاتاہے۔
ساتھیو،
یہ ہماری سرکار ہی ہے جس نے ہیلتھ کیئر پر سب سے زیادہ زور دیا ہے۔ پچھلے برس، پہلی لہر کے دوران ہم نے لگ بھگ 15ہزار کروڑ روپئے ہیلتھ کیئر کے لئے مختص کیے تھے، جس سے ہمارے ہیلتھ انفراسٹرکچر کو بڑھانے میں مدد ملی۔ اس سال ہیلتھ سیکٹر کے لئے بجٹ مختص کرنے کاعمل دوگنا سے بھی زیادہ یعنی دو لاکھ کروڑ روپئے سے بھی زیادہ کیا گیا ۔ اب ہم ایسے علاقوں میں ہیلتھ انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنے کیلئے 50 ہزار کروڑ روپئے کی ایک کریڈٹ گارنٹی اسکیم لیکر آئے ہیں، جہاں صحت سہولتوں کی کمی ہے۔ ہم نے بچوں کے لئے ضروری ہیلتھ انفراسٹرکچر کو مستحکم کرنے کیلئے بھی 22 ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ مختص کیے ہیں۔ آج ملک میں تیزی سے نئے ایمس کھولے جارہے ہیں، نئے میڈیکل کالج بنائے جارہے ہیں، جدید ترین صحت بنیادی ڈھانچہ تیارکیاجارہا ہے۔ 2014 تک جہاں ملک میں صرف 6 ایمس تھے، وہیں ان سات برسوں میں 15نئے ایمس کا کام شروع ہوا ہے۔ میڈیکل کالجوں کی تعداد بھی تقریباً ڈیڑھ گنا بڑھی ہے اسی کانتیجہ ہے کہ اتنے کم وقت میں جہاں انڈر گریجویٹ سیٹس میں ڈیڑھ گنا سے زیادہ کا اضاف ہوا ہے وہیں پی جی سیٹس میں 80 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یعنی، جہاں تک پہنچنے کیلئے جو جدوجہد آپ کو کرنی پڑی، وہ پریشانی ہمارے نوجوانوں کو آپ کے بچوں کو جھیلنی نہیں پڑے گی۔ دور دراز علاقوں میں بھی ہمارے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو ڈاکٹر بننے کاموقع ملے گا۔ ان کی صلاحیت کو ، ان کے خوابوں کو نئی پرواز ملے گی۔ میڈیکل سیکٹر میں ہورہی ان تبدیلیوں کے درمیان ڈاکٹروں کے تحفظ کیلئے بھی سرکار عہد بستہ ہے۔ ہماری سرکار نے ڈاکٹروں کے خلاف تشدد کو روکنے کیلئے پچھلے برس ہی، قانون میں کئی سخت التزامات کیے ہیں۔ اسکے ساتھ ہی، ہم اپنے کووڈ جانبازوں کیلئے مفت بیمہ کور اسکیم بھی لیکر آئے ہیں۔
ساتھیو،
کورونا کے خلاف ملک کی لڑائی ہو، یا طبی انتظامات سدھارنے کا ملک کا ہدف ، ان سب میں آپ سبھی کو اہم کردار ادا کرنا ہے۔ مثال کے طور پر، جب آپ سبھی نے پہلے فیز میں ویکسین لگوائی تو اس سے ملک میں ویکسین کو لیکر جوش وجذبہ اور اعتماد کئی گنا بڑھ گیا۔ اسی طرح جب آپ لوگوں کو کووڈ کے موافق طرز عمل اپنانے کیلئے کہتے ہیں،تو لوگ پوری عقیدت کے ساتھ اس پر عمل کرتے ہیں۔ میں چاہوں گا،آپ اپنے اس کردار کو اور سرگرمی کے ساتھ نبھائیں، اپنا دائرہ اور زیادہ بڑھائیں۔
ساتھیو،
ان دنوں ایک اور اچھی چیز ہم نے دیکھی ہے کہ طبی برادری کے لوگ،یوگ کے بارے میں بیداری پھیلانے کیلئے بہت آگے آئے ہیں۔ یوگ کی ترویج و تشہیر کیلئے جو کام آزادی کے بعد پچھلی صدی میں کیا جانا چاہئے تھا وہ اب ہورہا ہے۔ کورونا کے اس عہد میں یوگ –پرانایام کالوگوں کی صحت پر کس طرح مثبت اثر پڑرہاہے ،کووڈ کے بعد کی پیچیدگیوں سے نمٹنے میں یوگ کس طرح مدد کررہاہے اس کے لئے جدید میڈیکل سائنس سے وابستہ کئی اداروں کے ذریعے شواہد پر مبنی مطالعات کرائی جارہی ہیں۔ اس پر آپ میں سے کئی لوگ کافی وقت دے رہے ہیں۔
ساتھیو،
آپ لوگ میڈیکل سائنس کو جانتے ہیں ، ایکسپرٹ ہیں، اسپیشلسٹ ہیں ، اور ایک بھارتی کو یوگ کو سمجھنا بھی فطری طور پر آسان ہوتا ہے۔ جب آپ لوگ یوگ پر اسٹڈی کرتے ہیں، تو پوری دنیا اسےبہت سنجیدگی سے لیتی ہے۔ کیاآئی ایم اے اسے مشن موڈ میں آگے بڑھا سکتی ہے، یوگ پر شواہد پر مبنی مطالعات کو سائنٹفک طریقے سے آگے لے جاسکتی ہے۔ ایک کوشش یہ بھی ہوسکتی ہے کہ یوگ سے متعلق مطالعات کو بین الاقوامی جریدوں میں شائع کیا جائے، اس کی تشہیر کی جائے ۔ مجھے یقین ہے یہ مطالعات دنیا بھر میں ڈاکٹروں کو اپنے مریضوں کو یوگ کے بارے میں مزید بیدار کرنے کیلئے بھی حوصلہ افزائی کریں گی۔
ساتھیو،
جب بھی ہارڈ ورک،ٹیلنٹ اور اسکل کی بات آتی ہے ، تو ان میں آپ کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ میں آپ سے یہ بھی گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ آپ پوری توجہ کے ساتھ ہی اپنے تجربات کا ڈاکیومنٹیشن بھی کرتے رہیں۔ مریضوں کے ساتھ آپ کے تجربات کا ڈاکیومنٹیشن بہت ہی اہم ہے۔ ساتھ ہی مریض کے علامات، ٹریٹمنٹ پلان، اور اس کے رسپانس کا بھی تفصیلی ڈاکومنٹیشن ہوناچاہئے۔ یہ ایک ریسرچ اسٹڈی کے طور پر ہوسکتاہے، جس میں مختلف قسم کی دواؤں اور علاج کے اثر کو نوٹ کیا گیا ہو۔ جتنی بڑی تعداد میں آپ مریضوں کی خدمت اور دیکھ بھال کررہے ہیں اس کے حساب سے آپ پہلے سے ہی دنیا میں سب سے آگے ہیں۔ یہ وقت یہ بھی یقینی بنانے کیلئے ہے کہ آپ کےکام کا، آپ کی سائنٹفک اسٹڈیز کا دنیاجائزہ لے اور آنے والی نسل کو اس کافائدہ بھی ملے۔ اس سے دنیا کو جہاں میڈیکل سے منسلک کئی مشکل سوالوں کو سمجھنے میں آسانی ہوگی وہیں اس کے حل کی سمت بھی ملے گی۔ کووڈ کی یہ وبا اسکے لئے ایک اچھا شروعاتی نقطہ ہوسکتاہے۔ ویکسین کس طرح سے ہماری مدد کررہی ہے ، کس طرح سے جلدی تشخیص کافائدہ مل رہا ہے اور ایک خاص علاج کس طرح سے ہماری مدد کررہا ہے، کیاہم اس کو زیادہ سے زیادہ اسڈیز کرسکتے ہیں۔ پچھلی صدی میں جب وبا آئی تھی آج کاڈاکیومنٹیشن بہت دستیاب نہیں ہے۔ آج ہمارے پاس ٹیکنالوجی بھی ہے اور ہم اگر کووڈ سے کیسے مقابلہ کیا گیا ہے اس کے عملی تجربات کا ڈاکیومنٹیشن کرتے ہیں تو وہ مستقبل میں پوری انسانیت کیلئے بیحد مددگار ثابت ہوگی۔ آپ کا یہ تجربہ ملک کے میڈیکل ریسرچ کو ایک نئی رفتار بھی دیگا۔ آخر میں میں یہی کہوں گا کہ آپ کی خدمت ، آپ کی محنت، ’سروے بھونتو سکھن‘ کے ہمارے عہد کو یقینی طور پر ثابت کرے گی۔ ہمارا ملک کورونا سے بھی جیتے گا، اور ترقی کی نئی جہتیں بھی حاصل کریگا۔ انہیں نیک خواہشات کے ساتھ ، آپ کا بہت بہت شکریہ!
Corruption and appeasement politics of LDF and UDF harm Keralam’s culture and faith: PM Modi in Thiruvalla
April 04, 2026
Share
If any group has benefited the most from NDA policies, it is women. Women empowerment is our priority, says PM Modi in Thiruvalla
The Sabarimala Railway Project will unlock new opportunities across the region, directly connecting Sabarimala with devotees: PM Modi
In Keralam, we will form the government, improve quality of life, and address the concerns of fishermen and local communities, says PM Modi
From April 16–18, Parliament will reconvene to deliberate on the Nari Shakti Vandan Act, aiming to ensure 33% women’s representation from 2029: PM
जय केरलम... जय केरलम...
जय विकसिता केरलम... जय विकसिता केरलम
केरलत्तिले एंडे प्रियप्पेट्टा….
सहोदरी सहोदरनमारे, एल्लावर्कम एंडे नमस्कारम।
सर्वप्रथम मैं भगवान श्रीवल्लभन के चरणों में प्रणाम करता हूं।
तिरुवल्ला की इस पवित्र धरती से मैं सबरीमला तीर्थ को, और स्वामी अय्यप्पा को भी प्रणाम करता हूं।
मैं सबसे पहले तो छोटी बिटिया को आशीर्वाद देता हूं जो बढ़िया चित्र बनाकर मुझे भेंट किया है। उधर भी एक नौजवान ने मेरी मां का चित्र मुझे दिया है। मैं इन सबका हृदय से आभार व्यक्त करता हूं। इस बेटी को आशीर्वाद देता हूं। मैं अपना भाषण शुरू करूं उससे पहले इस चुनाव में जो कैंडिडेट है उनसे आग्रह करता हूं कि कैंडिडेट सारे आगे आ जाएं। कैंडिडेट वहां खड़ें हो जाएं जरा। मैं एक दो मिनट जाकर के आता हूं आपके पास।
आज तिरुवल्ला में इतनी बड़ी संख्या में आप सबकी उपस्थिति...NDA पर आप लोगों का ये भरोसा... मेरी माताओं-बहनों का ये स्नेह और विश्वास...पूरे केरलम में आज ऐसा ही माहौल दिख रहा है। मुझे निकट से केरलम के चुनाव देखने का अवसर मिला है। मैं पहले भी आया हूं लेकिन इस बार हवा का रूख कुछ और है। लोगों का मिजाज कुछ और है। केरलम में अब सबसे बड़ा परिवर्तन होने जा रहा है। 9 अप्रैल को वोटिंग और 4 मई को दशकों के कुशासन का अंत की घोषणा....अब ये पक्का हो चुका है....LDF सरकार के जाने का काउंट डाउन शुरू हो चुका है...केरलम में पहली बार बीजेपी और NDA की सरकार आने वाली है।
इस चुनाव में केरलम का तो फायदा होने वाला है लेकिन मेरा एक निजी नुकसान होने वाला है। आपको लगता होगा ऐसी क्या बात है कि केरलम का फायदा होगा और मोदी का नुकसान होगा। जी मेरा व्यक्तिगत नुकसान होने वाला है। आपके मन में होता होगा क्या है बताऊं... बताऊं आपको। ऐसा है ये जो अनूप लड़ रहा है ना चुनाव आपके यहां.. ये पिछले पांच साल से मेरे साथ काम करता है। और देश भर में घूमकर के चीजें खोज कर के लाता है। यानि एक प्रकार से मेरा डेडिकेटेड साथी रहा है। एक प्रकार से ऐसे कामों के लिए वो मेरा बांया हाथ बन गया है। और कभी भी, शायद यहां भी कई लोगों को पता नहीं होगा कि अनूप मेरे साथ इतने सालों से है। कभी बोलता नही है और मैंने इसकी शक्तियों को जाना है। चूपचाप काम करना। अपने काम के लिए दिन रात जुटे रहना। मैंने ऐसा नौजवान मुझे मिला मेरा बहुत काम हो गया। लेकिन मैंने देखा कि जब केरलम को इस नौजवान की सेवाओं का फायदा होगा तो मैंने कहा मेरा भले ही नुकसान हो जाए लेकिन मैं आज अनूप को आपको सुपुर्द करने के लिए आया हूं।
एंडे सुहुर्तगले,
तिरुवल्ला केरलम में विकास के नए युग की शुरुआत का केंद्र बनकर उभरा है। मैं इस जनसमर्थन के लिए तिरुवल्ला की जनता का बहुत-बहुत धन्यवाद करता हूं। तिरुवल्ला के लोगों का विश्वास हमारी सबसे बड़ी ताकत है। तिरुवल्लयिले जनंगलुडे विश्वासमाण्, यंगलुडे एट्टवुं वलिय शक्ति।
एंडे सुहुर्तगले,
अभी दो-तीन दिन पहले जब मैं दिल्ली में था...मेरी केरलम के बीजेपी कार्यकर्ताओं से फोन पर लंबी चर्चा हुई। मेरा बूथ सबसे मजबूत कार्यक्रम में 5 हजार से ज्यादा शक्ति केंद्र, इतने छोटे केरलम में 5 हजार से ज्यादा शक्ति केंद्र में बीजेपी के एक लाख 25 हजार से ज्यादा कार्यकर्ता मेरे साथ फोन पर जुड़े थे। और तीस-चालीस मिनट इस चर्चा में मैंने देखा, साफ दिखा कि केरलम की जनता ने LDF सरकार की विदाई पक्की कर ली है। इस चुनाव में मेहनत कर रहे सभी बीजेपी-एनडीए कार्यकर्ताओं की मैं हृदय से सराहना करता हूं, उनका बहुत-बहुत अभिनंदन करता हूं।
एंडे सुहुर्तगले,
मैं केरलम की ताकत को देख रहा हूं। अभी मेरा हेलीकॉप्टर जहां लैंड हुआ, हेलीपैड से यहां तक मैं आया, जितने लोग यहां हैं ना इससे ज्यादा लोगो वहां रोड शो में खड़े थे। मेरे लिए बड़ा सरप्राइज था... रोड शो का कार्यक्रम नहीं था, लेकिन पूरे रास्ते भर मैं देख रहा था। लोग ह्यूमन चेन की बात करते हैं लेफ्ट के लोग, आज यहां के लोगों ने ह्यूमल वॉल बनाकर के दिखा दिया।
एंडे सुहुर्तगले,
हमारे केरलम को ईश्वर ने अपार संसाधन और संभावनाएं दी हैं। यहाँ समंदर में ब्लू इकोनॉमी के असीम अवसर हैं। यहाँ उद्योगों के लिए संभावनाएं हैं। पर्यटन के क्षेत्र में कितना बड़ा potential है। लेकिन फिर भी, केरलम विकास की दौड़ में बाकी राज्यों से लगातार पिछर रहा है..पिछरते-पिछरते जा रहा है।
एंडे सुहुर्तगले,
LDF-UDF की सरकारों ने कभी इस क्षेत्र की परवाह नहीं की। यहाँ कनेक्टिंग रोड्स का हाल बेहाल है। मुझे आपके ही साथी बता रहे थे कि यहां कई बरसों से एक भी बड़ा पुल नहीं बना है। कोट्टयम में मेडिकल कॉलेज की हालत इतनी खराब है कि उसका वर्णन करना मुश्किल है। जहां बेसिक इंफ्रास्ट्रक्चर की ऐसी कमी हो, वहां आपकी क्वालिटी ऑफ लाइफ कैसी होगी, इसका अंदाजा हर कोई लगा सकता है।
एंडे सुहुर्तगले,
केरलम में कभी BJP सरकार नहीं रही। लेकिन, आप सब के आशीर्वाद से, देश की जनता-जनार्दन के आशीर्वाद से हम केंद्र सरकार के जरिए केरलम के विकास में कोई कोर कसर नहीं छोड़ रहे। जब कांग्रेस दिल्ली में सत्ता में थी.. और एलडीएफ-यूडीएफ दोनों मिलकर के दिल्ली में सरकार चलाते थे, उस समय जो केरलम को मदद मिली.उसकी तुलना में NDA सरकार ने मोदी सरकार ने 5 गुना ज्यादा पैसा केरलम को भेजा है।
एंडे सुहुर्तगले,
बीजेपी-एनडीए को आपकी Ease of Living और क्वालिटी ऑफ लाइफ, दोनों की चिंता है। हमने पीएम आवास योजना के तहत गरीबों को पक्के घर दिये हैं। जल जीवन मिशन के तहत गांव-गांव पाइप से पानी पहुंचाने का काम हो रहा है। यहां रबर के किसान बड़ी संख्या में रहते हैं...केरलम के किसानों को हमने पीएम-किसान सम्मान निधि के जरिए Around thirteen thousand करोड़ रुपये की सहायता राशि सीधे उनके खातों में पहुंचाई है। इससे रबर के किसानों को भी मदद मिली है।
साथियों,
नॉर्थ-ईस्ट में ईसाई समाज की संख्या बहुत अधिक है। एक राज्य को छोड़कर के नॉर्थ-ईस्ट के सात राज्यों में एनडीए की सरकार है और वहां पिछले 50-60 साल में जो काम नही हुआ है वो हमने कर के दिखाया है। गोवा में ईसाई समाज निर्णायक है। गोवा के अंदर लगातार बिजेपी की एनडीए की सरकार है, गोवा विकास के नए ऊंचाइयों को छू रहा है। केरलम में भी NDA सरकार बनेगी तो विकास की नई ऊंचाइयों को पाएंगे, स्थानीय किसानों और फिशरमेन की हर समस्या का हम समाधान करेंगे।
एंडे सुहुर्तगले,
केंद्र की NDA सरकार ही केरलम में आधुनिक इनफ्रास्ट्रक्चर और सुविधाओं पर ज़ोर दे रही है। हम यहाँ नेशनल हाइवेज बनाने को गति दे रहे हैं। रेलवे इनफ्रास्ट्रक्चर का विकास किया गया है। यहाँ रेलवे लाइनों की डबलिंग का काम भी पूरा हो गया है। कोट्यम से अब हाइस्पीड आधुनिक वंदेभारत ट्रेन भी चलाई जा रही है।
एंडे सुहुर्तगले,
यहां सबरीमला रेलवे प्रोजेक्ट इस क्षेत्र में नई संभावनाओं को खोल सकता है। इससे सबरीमला तक सीधी कनेक्टिविटी बनेगी। श्रद्धालुओं की यात्रा आसान होगी... स्थानीय व्यापार को नई गति मिलेगी...और मेरे नौजवान मित्रों को मेरे युवा साथियों के लिए रोजगार के नए-नए रास्ते खुलेंगे। लेकिन साथियों, आपको ये बात हमेशा याद रखनी है। यहां प्रदेश सरकार ने इस प्रोजेक्ट को आगे बढ़ाने की जगह उसको लटकाए रखा! तिरुवल्ला को इसका बहुत बड़ा नुकसान हो रहा है। जब बीजेपी की डबल इंजन सरकार आएगी, तो ऐसी सभी रुकावटें हटेंगी। और ये मोदी की गारंटी है। NDA की राज्य सरकार में केरलम तेज गति से विकास की राह पर आगे बढ़ेगा। एनडीए सरकारिनु कीड़िल केरलम कसनत्तिन्टे पातयिल अतिवेगम मुन्नेरुम।
एंडे सुहुर्तगले,
NDA की नीतियों का सबसे बड़ा लाभ अगर किसी वर्ग को होता है, तो वो मेरी माताएं-बहने महिलाओं को होता है। महिलाओं का सशक्तिकरण, महिलाओं का प्रतिनिधित्व....ये हमारी प्राथमिकता है। हमने महिलाओं के जीवन से जुड़ी हर समस्या के समाधान का प्रयास किया है। हमने घर घर शौचालय बनवाए, जनधन खाते खुलवाए, महिलाओं के नाम उनके घर महिलाओं के नाम पर बनवाए...मुद्रा लोन के जरिए अपना कारोबार शुरू करने वालों में भी बड़ी हिस्सेदारी महिलाओं की है। उनको बैंक से पैसा मिला है। हम वूमन सेल्फ हेल्प ग्रुप्स को भी लाखों करोड़ रुपए की मदद दे रहे हैं। लखपति दीदी का अभियान सफलतापूर्वक आगे बढ़ा रहे हैं। पहले मैंने तीन करोड़ लखपति दीदी बनाने का लक्ष्य रखा था। देश में तीन करोड़ लखपति दीदी बन चुकी अब मैंने और नाइनटीन करोड़ महिलाओं को लखपति दीदी बनाने का लक्ष्य रखा है। केरलम में बीजेपी सरकार आएगी, तो यहाँ भी डबल इंजन सरकार का सबसे बड़ा लाभ मेरी माताओं, बहनों को, बेटियों को, महिलाओं को मिलने वाला है। आपने देखा होगा, अभी हमने एक बड़ा कार्यक्रम शुरू किया है। भविष्य में माताओ-बहनों को कैंसर ना हो, इसलिए 13-14 साल की बच्चियों को उनकी जांच करके वैक्सीन लेने की योजना है। ये भविष्य में हमारी माताओ-बहनों को, ये बटियां जब बड़ी हो जाएंगी, वो कैंसर से बच पाएगी। इतना बड़ा काम आज देश की बेटियों के लिए, महिलाओं के लिए, माताओं के लिए एनडीए-भाजपा सरकार कर रही है।
एंडे सुहुर्तगले,
ये हमारी ही सरकार है जिसने लोकसभा और विधानसभा में महिलाओं को thirty three percent reservation दिया है। और आप सभी की जानकारी में है कि बजट सत्र का हमने पूर्णाहुति करने वी बजाए उसका विस्तार किया है। तीन दिन के लिए 16-17 और 18 अप्रैल को संसद फिर से मिलने वाली है। आपको पता है क्यों मिलने वाली है। जो कानून हमने पारित किया है। 33 पर्सेंट महिलाओं के लिए 2029 में लोकसबा के चुनाव से इसका लाभ मिलना शुरू हो जाए। 33 पर्सेंट बहनें पार्लियामेंट में आकर बैठे। इसके लिए कानून बनाने की जरूरत है। जैसे पार्लियामेंट ने सर्वसम्मति से महिला आरक्षण बिल पास किया था बैसे ही 16-17 -18 को दो काम करने हैं। केरल हो तमिलनाडु हो और बाकी राज्य हो, जिन्होंने जनसंख्या नियंत्रण में अच्छा काम किया है, लोग झूठ फैला रहे हैं कि जनसंख्या कम हो रही हैं तो सीटें कम हो जाएगी। हम इस बार पार्लियामेंट में पक्का करना चाहते हैं कि पार्लियामेंट में कानून में ठप्पा लगाना चाहते हैं कि केरल हो, तमलनाडु हो, कर्नाटक हो, आंध्र हो, गोवा हो, तेलंगाना हो कहीं पर भी लोकसभा की सीटें कम ना हो, इसका ठप्पा लगाने के लिए और दूसरा महिलाओं के लिए जो सीटें होंगी वो अतिरिक्त सीटें बढ़ जाएं इतना बड़ा फायदा हमारे दक्षिण भारत के राज्य को मिले इसके लिए हम कानून संशोधन के लिए हम सत्र बुला रहे हैं। हमने कांग्रेस के लोगों को मीटिंग के लिए बुलाया। हम आशा करते हैं कि वो हमारी बात मानकर के आएंगे।
हमने इंडिया एलायंस के मित्रों से बात की है। आप ही लोगों को बताइए, कांग्रेस के लोगो को बताइए, एलडीएफ के लोगों को बताएं कि महिलाओं के अधिकार ये कानून निर्विरोध पास होना चाहिए। ये उन से वादा लीजिए आपलोग । और में उनसे भी प्रार्थना करता हूं कि मेरी माताओं-बहनों का ये हक 40 सालों से लटका हुआ है। अब 2029 के चुनाव में फिर से लटकना नहीं चाहिए। इसलिए मैं सभी राजनीतिक दलों पर देश की माताएं-बहनें दबाव डालें। सब संसद में आएं और इस कानून को पारित करें। महिला जनप्रतिनिधियों की संख्या इस विषय को देखते हुए नारीशक्ति वंदन कानून में संशोधन किया जाएगा। ये आवश्यक है कि ये संशोधन सर्वसम्मति से पास हो ताकि साल 2029 में होने वाले चुनाव में ही इसका लाभ हमारी माताओं -बहनों को मिलना शुरू हो जाए। मैं सभी दलों से आग्रह करूंगा कि ये नारीशक्ति से हित से जुड़ा काम है, इसलिए खुले मन से, कोई भी राजनीतिक हिसाब किए बिना पूर्ण समर्थन कर के माताओं-बहनों का विश्वास जीतने में आप भी भागीदान बनिए।
एंडे सुहुर्तगले,
आज केरलम में युवाओं का पलायन सबसे बड़ी चिंता बन चुका है। केरलम में रोजगार के लिए यहाँ इंडस्ट्री लगाने की जरूरत है। रोजगार के लिए जरूरी है कि, यहाँ service sector बढ़े। start-ups को जगह मिले, skill को सही value मिले। लेकिन इन सबके आगे केरलम में सबसे बडी दीवार है- करप्शन और कम्यूनलिज्म। जब यहां करप्शन और कम्यूनलिज्म की दीवार टूटेगी, तभी केरलम का विकास होगा। और इसके लिए आपको LDF-UDF दोनों को हराना होगा।
एंडे सुहुर्तगले,
रोजगार की तलाश में यहाँ से लाखों युवा विदेशों में भी गए हैं। NRI के तौर पर भी वो केरलम की सेवा करते हैं। यहाँ अपनी आय का बड़ा हिस्सा remittance के तौर पर भेजते हैं। इसी का परिणाम है, ये क्षेत्र बैंकिंग कैपिटल बनकर उभरा है। लेकिन कांग्रेस ने आपके और आपके संबंधियों के खिलाफ एक बहुत खतरनाक काम किया है। मैं विस्तार से आपको ये बात बताना चाहता
एंडे सुहुर्तगले,
वेस्ट एशिया के युद्ध संकट ने कांग्रेस और उसके साथी दलों के मंसूबों को एक्सपोज कर दिया है। आज पूरा देश देख रहा है... खाड़ी के देशों में कैसे हालात बने हुये हैं। और वहां हमारे लाखों लोग केरल के मेरे भाई-बहन वहां काम कर रहे हैं। लेकिन कांग्रेस के बड़े-बड़े नेता जानबूझकर ऐसे बयान देते हैं... ऐसे बयान देते हैं... जिनसे वेस्ट एशिया में रहने वाले भारतीयों की सुरक्षा खतरे में पड़ जाए ! वहां के लोगों को बीच में अविश्वास पैदा हो जाए। वहां की सरकार ये तो हमारी दोस्ती अच्छी है कि गल्फ की सभी सरकारें हमारे सभी भारतीयों को अपने ही परिवार मानकर के उनकी रक्षा कर रहे हैं। लेकिन यहां से ऐसी-ऐसी भाषा बोली जा रही है। ऐसी भड़काव बातें हो रही हैं। मैं उनको कह-कह कर थक गया कि ये बोलने का समय नहीं है। ये हमारे लाखों भाई-बहन वहां है ना उनकी सुरक्षा ही मेरा पहला दायित्व है। सबसे बड़ी प्रायरिटी है, कृपा कर के अनाप-शनाप बोलना बंद करो ताकि हमारे नौजवानों को हमारी बेटियों को वहां कोई तकलीफ ना हो।
एंडे सुहुर्तगले,
कांग्रेस चाहती है कि वेस्ट एशिया के देश भारत को अपना दुश्मन समझें...यहां हम कोई गलती कर दे ऐसा कोई बयान कर दे और गल्फ कंट्रीज से भारतीयों को वहां से बाहर निकलने के लिए मूसीबत आ जाए ! इसलिए कांग्रेस...गल्फ कंट्रीज को नाराज करने वाले बयान दे रही है। कांग्रेस चाहती है कि पैनिक फैले और उसे मोदी को गाली देने का मौका मिल जाए। अरे कांग्रेस के लोगो, एलडीएफ के लोगो, यूडीएफ के लोगो, अरे राजनीति अपनी जगह पर है, अरे चुनाव आते जाते रहेंगे, लेकिन मेरे केरलम के लाखों भाई-बहन वहां है मेरे लिए उनकी सुरक्षा सबसे बड़ा काम है और मैं इसके लिए कमिटेड हूं। चुनाव जीतने के लिए, मोदी को गाली देने के लिए....कांग्रेस 1 करोड़ प्रवासियों का जीवन संकट में डालने को तैयार बैठी है। उधर ईरान में हमारा फिशरमैन केरल के हैं तमिलनाडु के हैं, गोवा के हैं आंध्र के हैं, तेलंगाना के हैं, पुड्डुचेरी के हैं। उनकी जिंदगी खतरे में है। हम वहां के संकट में से उनको बाहर ले आ रहे हैं। आज सैकड़ों की तादाद में मेरे मछुआरे भाई-बहन भारत लौटने वाले हैं। हमारे लिए उनकी जिंदगी बचाना ये महत्वपूर्ण है बयानबाजी करने के लिए और बहुत मौके आएंगे अभी तो हमारे लोगों की, हमारे मछुआरे भाई-बहनों को हमें जिंदा वापस लाना है। कांग्रेस को इन सारी चीजों से कोई लेना देना नहीं है। बस चुनाव... चुनाव... चुनाव.. क्या देश के लोगों की चिंता नहीं करोगे... काँग्रेस इस स्वार्थी सियासत के लिए केरलम के लोगों से माफी मांगनी चाहिए। पाप कर रहे हो।
एंडे सुहुर्तगले,
युद्ध की इन परिस्थितियों में मैं आपकी चिंता समझता हूं। इसलिए गल्फ कंट्रीज के नेताओं से लगातार संपर्क में हूं। इसलिए गल्फ कंट्रीज के नेताओं से मैं लगातार संपर्क में हूं। वहां की सरकारों से हम लगाता बात कर रहे हैं। मैं आप सभी परिजनों को आश्वस्त करता हूँ.... आपका बेटा, आपकी बेटी, आपके परिवारजन भले ही आपसे दूर हों...लेकिन, वो अकेले नहीं हैं। भारत सरकार इन देशों में रह रहे हर भारतीय के साथ है। युद्ध के बीच भी हम भारत के लोगों को हर संभव मदद पहुंचा रहे हैं।
एंडे सुहुर्तगले,
इस चुनाव में LDF-UDF वालों ने मिलकर एक और propaganda शुरू किया है। लेफ्ट वाले कहते हैं कि, कांग्रेस बीजेपी की B टीम है। और, कांग्रेस कहती है कि लेफ्ट BJP की B टीम है। इन्हें ये इसलिए कहना पड़ रहा है... क्योंकि ये दोनों भी जानते हैं कि इस चुनाव में केरलम में अगर कोई पार्टी A टीम है तो A टीम BJP ही है।
साथियों,
आपने ये भी देखा है कि इस चुनाव में LDF और UDF दोनों मिलकर सिर्फ BJP को गालियां दे रही हैं, उनके निशाने पर सिर्फ बीजेपी है। इसकी एक वजह और भी है जो आपको जरूर नोट करनी चाहिए। दरअसल LDF और UDF की सीक्रेट पार्टनरशिप इतनी पक्की है कि ये एक दूसरे पर आरोप लगाने से बच रहे हैं। असल में ये दोनों एक ही सिक्के दो साइड हैं। इनकी दुश्मनी नकली है... WWWF है। LDF और UDF की दोस्ती एवरग्रीन है! जब दिल्ली में सरकार बनती है दोनों साथ होते हैं। बगल में तमिलनाडु में साथ में चुनाव लड़ रहे हैं।
एंडे सुहुर्तगले,
लेफ्ट और काँग्रेस दोनों वोटबैंक के लिए कट्टरपंथी लोगों को राजनीति में आगे बढ़ाते हैं। मुनंबम जैसी घटनाएं केरलम में आम होती जा रही हैं... वहाँ सैकड़ों ईसाई और हिंदू परिवारों को डराया गया। लेकिन, केरलम सरकार पीड़ितों को सहायता देने की जगह कट्टरपंथी ताकतों के साथ ही खड़ी नज़र आती है। ये एक खतरनाक ट्रेंड है। वोटबैंक के लिए केरलम और देश की सुरक्षा से ये खिलवाड़.... केरलम के देशभक्त लोग इसे कभी भी कामयाब नहीं होने देंगे।
एंडे सुहुर्तगले,
लेफ्ट और काँग्रेस का भ्रष्टाचार हो, या उनका तुष्टीकरण... इसका सीधा हमला केरलम की संस्कृति और आस्था पर हो रहा है। पहले इन लोगों ने सबरीमला तीर्थ को बदनाम करने के लिए कैसे-कैसे षड्यंत्र रचे थे! और अब, सबरीमला इनकी लूट और चोरी के निशाने पर भी आ गया है।
एंडे सुहुर्तगले,
सबरीमला में हुये इस पाप का एक पैटर्न है... ये चोरी LDF की सरकार में हुई। और, इसमें चोरी करने वालों के तार काँग्रेस के शीर्ष नेताओं के जुड़े पाए गए। लेफ्ट वाले तो हमेशा से हिन्दू आस्था पर हमले के लिए जाने जाते हैं। इसीलिए, LDF सरकार मामले की जांच CBI को नहीं सौंप रही है। और, जो काँग्रेस हमेशा मंदिर से जुड़े विषयों को अछूत मानती थी... वो आज हिंदुओं की हितैषी बनने का नाटक कर रही है दिखावा कर रही है। मैं ये साफ-साफ कहना चाहता हूँ... NDA सरकार बनने के बाद LDF-UDF को उनके अपराध की सजा जरूर मिलेगी। और जो लूटा है वो लौटाना पड़ेगा। स्वामी अयप्पा और उनके भक्तों के आक्रोश के आगे ये लोग बच नहीं पाएंगे। ये कांग्रेस वाले ये यूडीएफ वाले, ये एलडीएफ वाले हर चीज में झूठ बोलना ये जैसे उनका स्वभाव बन गया है।
देश को गुमराह करना ये उनका स्वभाव बन गया है। जब सीएए लाए तो देश को इतना झूठ बोला... इतना झूठ बोला आज सीएए लागून हुआ देश को कोई नुकसान नहीं हुआ, झूठ बोलने में माहिर है.. केरलम फाइल्स आई फिल्म तो बोलने लगे कि सब झूठ है... कश्मीर फाइल आई तो बोलने लगे सब झूठ है..धुरंधर फिल्म आई तो बोलने लगे कि झूठ है। कुछ भी करो बता देना... झूठ फैला देना। इन दिनो सीआआर को लेकर भी, ऐसा ही झूठ फैलाया जा रहा है। यूसीसी के लिए ऐसा ही झूठ फैलाया जा रहा है। गोवा में सीसीए आया हुआ है, दशकों से है लेकिन झूठ फैलाना एफसीआरए के लिए झूठ फैलाना, सीएए के लिए झूठ फैलाना, धुरंधर जैसी फिल्म के लिए झूठ फैलाना केरलम फिल्म के लिए झूठ फैलाना, कश्मीर फाइल्स के लिए झूठ फैलाना। झूठ फैलाने का कारोबाल लेकर के बैठे हुए हैं।
एंडे सुहुर्तगले,
केरलम की आस्था, संस्कृति इसकी रक्षा हो... केरलम विकास की नई ऊंचाइयों को छूए... ये हम सभी का संकल्प है। आप भाजपा-एनडीए उम्मीदवार को वोट देकर विकसित केरलम की यात्रा शुरू करिए। मैं आपको निमंत्रण देता हूं आप आइए.. ये मेरी जिम्मेदारी है ये मेरी गारंटी है 50 सालों में केरलम का विकास नहीं हुआ, हम पांच साल में करके देंगे।
एंडे सुहुर्तगले,
कल ईस्टर है। मैं ईस्टर की आपको शुभकामनाएं देता हूं। कुछ ही सप्ताह में सभी मलयाली साथी विशु भी मनाएंगे। मैं विशु की भी अग्रिम शुभकामनाएं देता हूं। मैं सबसे पहले तो आप सबसे माफी मांगना चाहता हूं, क्योंकि मैं मलयालम, मलयाली, ये आपकी बहुत सुंदर भाषा है, मैं बोल नहीं पाता हूं, मुझे हिंदी में बोलना पड़ा। लेकिन इसके बावजूद भी, एक भी व्यक्ति यहां से हटा नहीं। मैं जानता हूं यहां गांव के लोग आए हैं, हो सकता है मेरी भाषा नहीं समझ पाते हों, लेकिन ये आपके प्यार की ताकत है। ये आपका आशीर्वाद है... एक भी व्य़क्ति हिल नहीं रहा है हट नहीं रहा है। मेरा ये बहुत बड़ा सौभाग्य है। मैं आपका ये कर्ज, मैं आपका प्यार कभी भूलूंगा नहीं, ये मेरे पर आपका कर्ज है... और मैं केरलम के विकास को प्राथमिकता देकर के सवा गुना विकास करके इस कर्ज को चुकाऊंगा ये आज मैं वादा करता हूं।
मैं आप सब का बहुत-बहुत धन्यवाद करता हूं। मेरे साथ बोलिए, दोनों हाथ ऊपर करके बोलिए...