Inaugurates, dedicates to nation and lays foundation stone for multiple development projects worth over Rs 34,400 crore in Chhattisgarh
Projects cater to important sectors like Roads, Railways, Coal, Power and Solar Energy
Dedicates NTPC’s Lara Super Thermal Power Project Stage-I to the Nation and lays foundation Stone of NTPC’s Lara Super Thermal Power Project Stage-II
“Development of Chhattisgarh and welfare of the people is the priority of the double engine government”
“Viksit Chhattisgarh will be built by empowerment of the poor, farmers, youth and Nari Shakti”
“Government is striving to cut down the electricity bills of consumers to zero”
“For Modi, you are his family and your dreams are his resolutions”
“When India becomes the third largest economic power in the world in the next 5 years, Chhattisgarh will also reach new heights of development”
“When corruption comes to an end, development starts and creates many employment opportunities”

جئے جوہر

چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائی جی، چھتیس گڑھ کے وزراء، دیگر عوامی نمائندوں اور چھتیس گڑھ کے کونے کونے سے مجھے بتایا گیا کہ وہاں 90 سے زیادہ مقامات  پر ہزاروں لوگ جڑے ہوئے ہیں۔ ہر کونے سے میرے ساتھیو! سب سے پہلے، میں چھتیس گڑھ کی تمام اسمبلی سیٹوں سے وابستہ لاکھوں خاندانوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔ آپ نے اسمبلی انتخابات میں ہم سب کو بہت نوازا ہے۔ یہ آپ کی مہربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہم ترقی یافتہ چھتیس گڑھ کے عزم کے ساتھ آپ کے درمیان ہیں۔ بی جے پی نے بنایا ہے، بی جے پی اسے بہتر بنائے گی، اس بات کی تصدیق آج اس تقریب سے ہو رہی ہے۔

دوستو

ترقی یافتہ چھتیس گڑھ غریبوں، کسانوں، نوجوانوں اور خواتین کی طاقت کو بااختیار بنا کر بنایا جائے گا۔ ترقی یافتہ چھتیس گڑھ کی بنیاد جدید انفراسٹرکچر سے مضبوط ہوگی۔ اس لیے آج چھتیس گڑھ کی ترقی سے متعلق تقریباً 35 ہزار کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا اور افتتاح کیا گیا۔ ان میں کوئلہ، شمسی توانائی، بجلی اور کنیکٹیویٹی سے متعلق کئی منصوبے شامل ہیں۔ اس سے چھتیس گڑھ کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مزید نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ چھتیس گڑھ کے میرے تمام بھائیوں اور بہنوں کو ان پروجیکٹوں کے لیے بہت بہت مبارکباد۔

 

دوستو

آج این ٹی پی سی کے 1600 میگاواٹ کے سپر تھرمل پاورا سٹیشن اسٹیج ون کو قوم کے نام وقف کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ اس جدید پلانٹ کے 1600 میگاواٹ کے اسٹیج 2  کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا ہے۔ ان پلانٹس کے ذریعے اہل وطن کو کم قیمت پر بجلی دستیاب ہو گی۔ ہم چھتیس گڑھ کو شمسی توانائی کا ایک بڑا مرکز بھی بنانا چاہتے ہیں۔ آج ہی راج آنند گاؤں  اور بھلائی میں بہت بڑے سولر پلانٹس کا افتتاح کیا گیا ہے۔ اس میں ایسا نظام بھی ہے کہ آس پاس کے لوگوں کو رات کو بھی بجلی ملتی رہے گی۔ حکومت ہند کا مقصد ملک کے لوگوں کو شمسی توانائی کے ذریعے بجلی فراہم کرنا ہے اور ان کے بجلی کے بلوں کو بھی صفر پر لانا ہے۔ مودی ہر گھر کو سورج گھر بنانا چاہتے ہیں۔ مودی گھر پر بجلی پیدا کرکے اور وہی بجلی بیچ کر ہر خاندان کو کمائی کا دوسرا ذریعہ دینا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ہم نے پی ایم سوریہ گھر – مفت بجلی اسکیم شروع کی ہے۔ فی الحال یہ اسکیم ایک کروڑ خاندانوں کے لیے ہے۔ اس کے تحت حکومت گھر کی چھت پر شمسی توانائی کے پینل لگانے میں مدد فراہم کرے گی اور براہ راست بینک اکاؤنٹ میں رقم بھیجے گی۔ اس سے 300 یونٹ تک بجلی مفت دستیاب ہوگی اور پیدا ہونے والی اضافی بجلی حکومت خریدے گی۔ جس کی وجہ سے خاندانوں کو سالانہ ہزاروں روپے کی آمدنی ہوگی۔ حکومت کا زور ہمارے ان داتا کو توانائی فراہم کرنے والا بنانے پر بھی ہے۔ سولر پمپس کے لیے حکومت بنجر زمینوں اور کھیتوں کے اطراف میں چھوٹے سولر پلانٹس لگانے کے لیے بھی مدد فراہم کر رہی ہے۔

بھائیو اور بہنو،

چھتیس گڑھ میں جس طرح ڈبل انجن والی حکومت اپنی ضمانتیں پوری کر رہی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ چھتیس گڑھ کے لاکھوں کسانوں کو 2 سال کا بقایا بونس دیا گیا ہے۔ الیکشن کے وقت میں نے تیندوپتا جمع کرنے والوں کے پیسے بڑھانے کی گارنٹی بھی دی تھی۔ ڈبل انجن والی حکومت نے یہ گارنٹی بھی پوری کر دی ہے۔ سابقہ ​​کانگریس حکومت بھی غریبوں کو مکان بنانے اور رکاوٹیں کھڑی کرنے سے روک رہی تھی۔ اب بی جے پی حکومت نے غریبوں کے لیے گھر بنانے کے لیے تیزی سے کام کیا ہے۔ حکومت اب ہر گھر جل اسکیم کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے۔ پی ایس سی امتحان میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ میں مہتری وندن یوجنا کے لیے چھتیس گڑھ کی بہنوں کو بھی مبارکباد دیتا ہوں۔ اس اسکیم سے لاکھوں بہنیں مستفید ہوں گی۔ ان تمام فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی جو کہتی ہے وہ کرتی ہے۔ اس لیے لوگ کہتے ہیں، مودی کی گارنٹی کا مطلب پورا ہونے کی گارنٹی ہے۔

 

دوستو

چھتیس گڑھ میں محنتی کسان، باصلاحیت نوجوان اور قدرت وسائل کی  بے شماردولت ہے۔ ترقی کے لیے جس چیز کی ضرورت ہے، چھتیس گڑھ میں پہلے بھی تھی اور آج بھی ہے۔ لیکن آزادی کے بعد طویل عرصے تک ملک پر حکومت کرنے والوں کے پاس کوئی بڑا ویژن نہیں تھا۔ وہ اگلے 5 سال تک صرف اپنے سیاسی مفادات کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرتے رہے۔ کانگریس نے بار بار حکومتیں بنائیں، لیکن مستقبل کے ہندوستان کی تعمیر کو بھول گئے، کیونکہ ان کے ذہن میں حکومت بنانا ہی واحد کام تھا، ملک کو آگے لے جانا ان کے ایجنڈے میں نہیں تھا۔ آج بھی کانگریس کی سیاست کی حالت اور سمت وہی ہے۔ کانگریس اقربا پروری، بدعنوانی اور خوشامد سے آگے سوچنے سے قاصر ہے۔ جو لوگ صرف اپنے گھر والوں کے لیے کام کرتے ہیں وہ کبھی آپ کے گھر والوں کے بارے میں نہیں سوچ سکتے۔ جو لوگ صرف اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کا مستقبل بنانے میں مصروف ہیں وہ کبھی بھی آپ کے بیٹوں اور بیٹیوں کے مستقبل کی فکر نہیں کر سکتے۔ لیکن مودی کے لیے آپ سب مودی کا کنبہ ہیں۔ آپ کے خواب مودی کا عزم ہیں۔ اس لیے آج میں وکست بھارت وکست چھتیس گڑھ کی بات کر رہا ہوں۔

140 کروڑ ہم وطنوں کو اس خادم نے اپنی محنت اور اپنی وفاداری کی ضمانت دی ہے۔ 2014 میں مودی نے گارنٹی دی تھی کہ حکومت ایسی ہوگی جس پر دنیا بھر کے ہر ہندوستانی کو فخر ہوگا۔ میں نے اس گارنٹی کو پورا کرنے کے لیے اپنی کوشش کی۔ 2014 میں مودی نے گارنٹی دی تھی کہ حکومت غریبوں کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ غریبوں کو لوٹنے والوں کو غریبوں کا پیسہ واپس کرنا ہو گا۔ آج دیکھیں غریبوں کا پیسہ لوٹنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہو رہی ہے۔ جو پیسہ غریبوں کی لوٹ مار سے بچتا ہے وہ غریبوں کی فلاحی اسکیموں میں استعمال ہوتا ہے۔ مفت راشن، مفت علاج، سستی دوائیں، غریبوں کے لیے گھر، ہر گھر میں نل کا پانی، ہر گھر میں گیس کا کنکشن، ہر گھر میں بیت الخلا، یہ سب کام ہو رہے ہیں۔ یہ سہولتیں ان غریبوں کے گھروں تک پہنچ رہی ہیں جنہوں نے کبھی ان سہولیات کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ اسی لیے مودی کی گارنٹی والی گاڑی وکست بھارت سنکلپ یاترا کے دوران ہر گاؤں میں پہنچی۔ اور اب محترم وزیر اعلیٰ نے تمام اعداد و شمار بتائے کہ گارنٹی والی گاڑی میں کیا کام ہوا اور حوصلہ افزا باتیں بتائیں۔

 

دوستو

10 سال پہلے مودی نے ایک اور گارنٹی دی تھی۔ تب میں نے کہا تھا کہ ہم ایسا ہندوستان بنائیں گے جس کے خواب ہماری پچھلی نسلوں نے بڑی امید سے دیکھے اور پالے تھے۔ آج دیکھو، چاروں طرف، ایک نئے ہندوستان کی تعمیر ہو رہی ہے جس طرح کے خواب ہمارے آباؤ اجداد نے دیکھے تھے۔ کیا 10 سال پہلے کسی نے سوچا تھا کہ دیہات میں بھی ڈیجیٹل ادائیگی کی جا سکتی ہے؟ چاہے بینک کا کام ہو، بل ادا کرنا ہو یا درخواستیں بھیجنا، کیا یہ گھر بیٹھے ہو سکتے ہیں؟ کیا کبھی کسی نے سوچا تھا کہ جو بیٹا مزدوری کرنے نکلا ہے وہ پلک جھپکتے گاؤں میں اپنے گھر والوں کو پیسے بھیج سکے گا؟ کیا کبھی کسی نے سوچا تھا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت پیسے بھیجے گی اور غریبوں کے موبائل پر فوراً پیغام آئے گا کہ رقم جمع ہو گئی ہے۔ آج یہ ممکن ہو گیا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا، کانگریس کے ایک وزیر اعظم تھے، انہوں نے اپنی ہی کانگریس حکومت کےلئے کہا تھا ،خود کی ہی حکومت کے لئے کہا تھا کہ دلی سے ایک روپے بھیجتے ہیں تو تو گاؤں جاتے جاتے صرف 15 پیسہ پہنچتا  ہیں، 85 پیسے راستے میں غائب ہو جاتے ہیں۔ اگر یہی صورت حال ہتی  تو کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ آج کی صورتحال کیا ہوتی؟ اب آپ حساب لگائیں، پچھلے 10 سالوں میں بی جے پی حکومت نے 34 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ، 34 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے ہیں، یہ اعداد و شمار کم نہیں، ڈی بی ٹی، ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر کے ذریعے یعنی رقم دہلی سے سیدھی آپ کے موبائل تک پہنچتی ہے۔ ڈی بی ٹی کے ذریعے ملک کے لوگوں کے بینک کھاتوں میں 34 لاکھ کروڑ روپے بھیجے گئے ہیں۔ اب سوچیں، اگر کانگریس کی حکومت ہوتی اور 34 لاکھ کروڑ میں سے صرف 15 پیسے ہوتے تو کیا ہوتا، 34 لاکھ کروڑ روپے میں سے 29 لاکھ کروڑ روپے کسی نہ کسی دلال نے راستے میں ہی چبائے ہوتے۔ بی جے پی حکومت نے مدرا یوجنا کے تحت نوجوانوں کو روزگار اور خود روزگار کے لیے 28 لاکھ کروڑ روپے کی امداد بھی فراہم کی ہے۔ اگر کانگریس کی حکومت ہوتی تو اس کے دلال بھی اس سے 24 لاکھ کروڑ روپے جمع کر لیتے۔ بی جے پی حکومت نے کسانوں کو پی ایم کسان سمان ندھی کے تحت 3.45 لاکھ کروڑ روپے بینکوں کو منتقل کیے ہیں۔ اگر کانگریس کی حکومت ہوتی تو وہ 2.25 لاکھ کروڑ روپے اپنے گھرلے جاتی، لیکن یہ کسانوں تک نہیں پہنچتی۔ آج بی جے پی کی حکومت ہے جس نے غریبوں کو ان کا حق دیا ہے۔ جب بدعنوانی  رکتی ہے تو ترقیاتی منصوبے شروع ہوتے ہیں اور روزگار کے بے شمار مواقع میسر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ قریبی علاقوں کے لیے تعلیم اور صحت کی جدید سہولیات بھی پیدا کی گئی ہیں۔ آج جو چوڑی سڑکیں اور نئی ریلوے لائنیں بن رہی ہیں وہ بی جے پی حکومت کی گڈ گورننس کا نتیجہ ہیں۔

 

بھائیو اور بہنو،

ترقی یافتہ چھتیس گڑھ کا خواب ایسے کاموں سے پورا ہو گا جو 21ویں صدی کی جدید ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ اگر چھتیس گڑھ ترقی کرتا ہے تو ہندوستان کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا؟ آنے والے 5 سالوں میں جب ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی اقتصادی طاقت بن جائے گا، چھتیس گڑھ بھی ترقی کی نئی بلندیوں پر ہوگا۔ یہ خاص طور پر پہلی بار ووٹروں اور اسکول اور کالج میں پڑھنے والے نوجوانوں کے لیے ایک بڑا موقع ہے۔ وکست چھتیس گڑھ ان کے خوابوں کو پورا کرے گا۔ ایک بار پھر آپ سب کو ان ترقیاتی کاموں کے لیے بہت بہت مبارکباد۔

شکریہ!

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
Flash composite PMI up at 61.7 in May, job creation strongest in 18 years

Media Coverage

Flash composite PMI up at 61.7 in May, job creation strongest in 18 years
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi addresses public meetings in Shimla & Mandi, Himachal Pradesh
May 24, 2024
Weak Congress government used to plead around the world: PM Modi in Shimla, HP
Congress left the border areas of India to their fate: PM Modi in Shimla, HP
The Congress has not yet arrived in the 21st century: PM Modi in Mandi, HP
The entire Congress is vehemently anti-women: PM Modi in Mandi, HP
Congress is leading Himachal to ruin: PM Modi in Mandi, HP

Prime Minister Narendra Modi addressed vibrant public meetings in Shimla and Mandi, Himachal Pradesh, invoking nostalgia and a forward-looking vision for Himachal Pradesh. The Prime Minister emphasized his longstanding connection with the state and its people, reiterating his commitment to their development and well-being.

“When the country didn't even know Modi, I was among you. Times have changed, but Modi has not changed. Modi's relationship with Himachal remains the same,” PM Modi remarked.

Highlighting his continuous engagement with the state, PM Modi sought the people’s blessings for a third term of the BJP government. “Today, I have come to seek your blessings for the BJP government for the third time. I need your blessings to make India strong, to make India Viksit, and for a developed Himachal. Five phases of elections have already taken place in the country. A BJP-NDA government is assured. Now, Himachal will score a hat-trick with a 4-0 victory. Vote for those who will form the government. What is the point of wasting your vote? So, say with me, ‘Phir Ek Baar, Modi Sarkar.”

Addressing the strategic importance of Himachal Pradesh, a state bordering the frontier, PM Modi underscored the necessity of a robust government. “Himachal Pradesh is a state bordering the frontier. The people of Himachal understand the importance of a strong government. Modi will risk his life for you but will not let any harm come to you. The weak Congress government used to plead around the world. Modi says, why should India go to the world? India will fight its battles on its own.”

The Prime Minister also highlighted the infrastructural developments under his administration, contrasting them with the previous Congress regimes. “This is the same Congress that left the border areas of India to their fate. Modi has given many times more money than Congress. Today, hundreds of kilometers of new roads have been built along the border. Today, the lives of soldiers and our people living near the border have become easier.”

PM Modi highlighted the successful implementation of the One Rank One Pension scheme, a long-standing demand of military personnel fulfilled under his leadership. “Congress made military families yearn for One Rank One Pension for four decades. Congress used to say they would bring OROP by showing just 500 crores. This was a huge insult to our army because it was impossible to implement OROP with just 500 crores. It is Modi who has implemented OROP. Modi has given about 1.25 lakh crore rupees to former soldiers through OROP. That's why people say, Modi delivers what he guarantees.”

PM Modi also spoke about sensitive issues, accusing Congress and the INDI alliance of undermining the reservation system and conspiring against the Ram Temple. “I have come today to warn the people of Himachal about another conspiracy by Congress and the INDI alliance. These people want to completely abolish the reservation for SC-ST-OBC and give it to Muslims. Congress is also opposing the Ram temple. You people of Himachal tell me, did you feel good visiting Ram Lalla? But Congress cannot tolerate the Ram temple. Congress is conspiring to lock the Ram temple. Will you allow the Ram temple to be locked?”

Reaffirming his government's commitment to development, PM Modi listed the various initiatives taken for Himachal Pradesh, including the establishment of prestigious educational institutions and infrastructural projects. “No one thought that institutions like IIIT, IIM, and AIIMS could exist in Himachal. But with Modi, it is possible. Himachal has received a bulk drugs park and a medical device park. Himachal is among the first states in the country where the Vande Bharat train started.”

“Modi has guaranteed to make 3 crore sisters associated with self-help groups ‘Lakhpati Didis.’ Modi has also brought a big scheme to make your electricity bill zero. With the ‘PM Suryaghar Muft Bijli Yojana’ your bill will be zero, and you will also earn thousands of rupees. Just as Modi has fulfilled previous guarantees, Modi will fulfill these guarantees as well,” he added.

Addressing his second public meeting in Mandi, Himachal Pradesh, PM Modi spoke about the aspirations of the youth and the importance of women's empowerment. He stressed the need for inclusive development and equal opportunities for all citizens.

PM Modi denounced the Congress party's regressive policies and divisive politics, calling for support to build a prosperous and united India. He said, “The Congress has not yet arrived in the 21st century. While people progress, Congress moves in the opposite direction. It's heading back to the 20th century. The Congress royal family is staunchly against daughters. The entire Congress is vehemently anti-women. But for my family in Himachal, listen to me carefully, and educate your daughters well. The assurance of providing them with an open and safe environment and offering them new heights is from Modi.”

“I have opened the doors of military schools and defense academies for daughters. The doors that were once closed for daughters in the army have also been opened. The number of women in central forces has more than doubled in ten years. Whether fighter pilots or passenger aircraft pilots, the coming five years are going to be a soaring flight for daughters. This is Modi's Guarantee,” he added.

Speaking about Congress’ misrule in the state and how his government took initiatives to preserve the state’s heritage, PM Modi said, “Modi government has vigorously promoted this heritage. Himachal's, the country's pride and prosperity, require your every vote. Congress is leading Himachal to ruin. So, it is necessary to stop it. I need your support to remove Himachal from the clutches of Congress.”

While concluding his address, PM Modi called upon the people of Himachal Pradesh to reject the Congress party's outdated ideology and support the BJP in the upcoming elections. He urged voters to elect BJP candidates to ensure continued progress and development in the region.