وزیر اعظم نےپی ایم کسان کی 20 ویں قسط جاری کی جس میں ملک بھر کے 9.7 کروڑ سے زیادہ کسانوں کو 20,500 کروڑ روپے سے زیادہ کی منتقلی کی گئی
حکومت کسانوں کی زندگیوں کو بدلنے، ان کی آمدنی بڑھانے، کاشتکاری کی لاگت کو کم کرنے کے لیے پوری طاقت سے کام کر رہی ہے، ہم بیج سے مارکیٹ تک کسانوں کے ساتھ کھڑے ہیں: وزیر اعظم
بھارت پر حملہ کرنے والا جہنم میں بھی محفوظ نہیں رہے گا: وزیر اعظم
آپریشن سندور کے دوران بھارت کے دیسی ہتھیاروں کی طاقت کا مشاہدہ پوری دنیا نے کیا: وزیراعظم
ہمارے کسانوں کے مفادات، ہماری چھوٹی صنعتیں ہمارے لیے اہم ہیں، حکومت اس سمت میں ہر ممکن کوشش کر رہی ہے: وزیراعظم
بھارت دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے جا رہا ہے، اسے اپنے معاشی مفادات کے بارے میں چوکنا رہنا ہوگا: وزیر اعظم

نمہ  پاروتی پتئے، ہر ہر مہادیو، ساون کے مقدس مہینے میں، آج ہمیں کاشی کے اپنے خاندان کے افراد سے ملنے کا موقع ملا ہے۔ ہم کاشی کے خاندان کے ہر فرد کو پرنام کرہئی۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جی، نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ جی، برجیش پاٹھک جی، پٹنہ سے ہمارے ساتھ شامل ہو ئے وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان جی ، ملک کے مختلف حصوں سے شریک تمام معزز وزرائے اعلیٰ،  گورنر حضرات، وزراء،  اتر پردیش حکومت کے وزراء، یوپی بی جے پی کے صدر بھوپندر سنگھ سنگھ چودھری جی  ،تمام ممبران اسمبلی اور عوامی نمائندگان  اور میرے پیارے کسان بھائیوں اور بہنوں اور خاص طور پر کاشی کے میرے مالک، ملک کے عوام!

آج ہم کاشی سے ملک بھر کے لاکھوں کسانوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ ساون کا مہینہ ہے، کاشی جیسا مقدس مقام  ہو اور ملک کے کسانوں سے جڑنے کا موقع ہو ، اس سے بڑی خوش قسمتی اور کیا ہوسکتی ہے؟ آج میں آپریشن سندور کے بعد پہلی بار کاشی آیا ہوں۔ جب 22 اپریل کو پہلگام میں دہشت گردانہ حملہ ہوا، جس میں 26 بے گناہ لوگ اس بے دردی سے مارے گئے، ان کے گھر والوں کا دکھ، ان بچوں کا دکھ، ان بیٹیوں کا درد، میرا دل بہت درد سے بھر گیا۔ تب میں بابا وشوناتھ سے  پرارتھنا کر رہا تھا کہ وہ تمام متاثرہ خاندانوں کو یہ درد برداشت کرنے کی ہمت دے۔ کاشی کے میرے  مالک ، میں نے اپنی بیٹیوں کے سندور کا بدلہ لینے کا جو وعدہ کیا تھا وہ بھی پورا ہو گیا۔ یہ مہادیو کی برکت سے ہی ممکن ہوا ہے۔ میں آپریشن سندورکی کامیابی ان کے قدموں میں وقف کرتا ہوں۔

ساتھیو،

ان دنوں مجھے شیو بھکتوں کی تصویریں دیکھنے کا موقع مل رہا ہے جو گنگا جل کو کاشی لے جاتے ہیں اور خاص طور پر ساون کے پہلے پیر کو جب ہمارے یادو بھائی گوری کیداریشور سے گنگاجل کو کندھوں پر اٹھائے بابا کا جل ابھیشیک کرنے نکلتے  تھے، یہ کتنا خوبصورت نظارہ ہوتا ہے۔ ڈمرو کی آواز، گلیوں میں شور، ایک حیرت انگیز احساس پیدا ہوتا ہے۔ مجھے ساون کے مقدس مہینے میں بابا وشوناتھ اور مارکنڈے مہادیو سے ملنے کی بھی بڑی خواہش تھی! لیکن،  میرے وہاں جانے سے مہادیو کے عقیدت مندوں کو تکلیف نہ ہو، ان کے درشن میں رکاوٹ نہ آئے، آج یہاں سے، میں بھولے ناتھ اور ماں گنگا کو نمن کر رہا ہوں۔ ہم سیواپوری کے ای منچ  سے بابا کاشی وشوناتھ کے پرنام کرت ہئی ۔ نمہ پاروتی پتئے، ہر ہر مہادیو!

 

ساتھیو،

کچھ دن پہلے میں تمل ناڈو میں تھا، میں وہاں کے ایک ہزار سال پرانے تاریخی مندر گنگائی کونڈا چولاپورم مندر گیا، یہ مندر ملک کی شیو روایت کا ایک قدیم مرکز ہے۔ یہ مندر ہمارے ملک کے عظیم اور مشہور بادشاہ راجندر چولا نے بنوایا تھا۔ راجندر چولا نے شمالی ہندوستان سے گنگا جل حاصل کرکے شمال کو جنوب سے جوڑا تھا۔ ایک ہزار سال پہلے، شیو اور شیوائی روایت کے تئیں اپنی عقیدت کے ذریعے، راجندر چولا نے 'ایک بھارت، شریشٹھ بھارت' کا اعلان کیا۔ آج، کاشی-تمل سنگم جیسی کوششوں کے ذریعے، ہم اسے آگے لے جانے کی ایک شائستہ کوشش کر رہے ہیں۔ اور جب میں ابھی گنگائی کونڈا چولاپورم گیا تھا تو یہ میرے لیے بہت اطمینان کی بات تھی کہ ایک ہزار سال بعد آپ کے آشیرواد سے میں بھی گنگا جل کے ساتھ وہاں گیا تھا۔ ماں گنگا کے آشیرواد سے وہاں انتہائی مقدس ماحول میں پوجا کی گئی۔ مجھے وہاں گنگاجل کے ساتھ جلبھیشیک کرنے کی  خوش بختی  نصیب ہوئی۔

ساتھیو،

زندگی میں ایسے مواقع بہت زیادہ تحریک دیتے ہیں۔ ملک کا اتحاد ہر معاملے میں نیا شعور بیدار کرتا ہے تب ہی آپریشن سندور کامیاب ہوتا ہے۔ 140 کروڑ ہم وطنوں کا اتحاد آپریشن سندور کی طاقت بنتا ہے۔

ساتھیو،

آپریشن سندور فوجیوں کی بہادری کا وہ لمحہ ہے اور آج کسانوں کو سلام کرنے کا موقع ہے۔ آج یہاں ایک بہت بڑا کسان اتسو منعقد کیا جا رہا ہے۔ پی ایم کسان سمان ندھی کی شکل میں ملک کے 10 کروڑ کسان بھائیوں اور بہنوں کے کھاتوں میں 21 ہزار کروڑ روپے بھیجے گئے ہیں۔ اور جب کاشی سے پیسہ جاتا ہے تو خود بخود پرساد بن جاتا ہے۔ کسانوں کے کھاتوں میں 21 ہزار کروڑ روپے جمع۔

ساتھیو،

آج یہاں بھی 2 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ بابا کے آشیرواد سے کاشی میں ترقی کا بلا روک ٹوک بہاؤ ماں گنگا کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ میں آپ سب کو، ملک کے کسانوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔ ابھی کچھ دن پہلے کاشی میں ایم پی ٹورسٹ گائیڈ مقابلہ بھی منعقد کیا گیا تھا۔ یعنی مسابقت کے ذریعے مہارت کی ترقی، خود کوشش کے ذریعے مہارت کی ترقی، اس کے کئی تجربات آج کاشی کی سرزمین میں ہو رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں کاشی ایم پی فوٹوگرافی مقابلہ، ایم پی روزگار میلہ سمیت کئی اور پروگرام منعقد ہونے والے ہیں۔ میں یہاں کے تمام سرکاری ملازمین، حکومت کے تمام افسران کو عوامی سطح پر مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ وہ نوجوان نسل کو عوامی شراکت سے جوڑ کر ایسے شاندار پروگرام بنا کر کامیابی سے آگے بڑھائیں، اس کام میں شامل تمام افسران بھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ جو لوگ اس مقابلے میں حصہ لے رہے ہیں، میں بھی ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔

 

ساتھیو،

ہماری حکومت کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ پچھلی حکومتوں میں کسانوں کے نام پر کیے گئے ایک اعلان کو بھی پورا کرنا مشکل تھا۔ لیکن بی جے پی حکومت وہی کرتی ہے جو کہتی ہے! آج پی ایم کسان سمان ندھی حکومت کے پختہ ارادوں کی مثال بن چکی ہے۔

بھائیو اور بہنو،

آپ کو یاد ہوگا، 2019 میں جب پی ایم-کسان سمان ندھی شروع ہوئی تھی، اس وقت ترقی مخالف لوگ، ایس پی-کانگریس جیسی ترقی مخالف پارٹیاں کس قسم کی افواہیں پھیلا رہی تھیں؟ وہ لوگوں کو گمراہ کر رہے تھے، کسانوں کو کنفیوز کر رہے تھے، کوئی کہتا تھا، مودی جی اسکیم لے کر آئے ہوں گے، لیکن 2019 کے الیکشن  جائیگا ، یہ سب رک جائے گا، یہی نہیں، مودی نے جو پیسہ اب جمع کرایا ہے، وہ بھی نکال لیں گے۔ یہ کیسا جھوٹ بولتے ہیں۔ اور یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ مخالف ذہنیت کے حامل لوگ مایوسی کی گہرائیوں میں ڈوبے ہوئے ایسے جھوٹے سچوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ صرف کسانوں سے، ملک کے لوگوں سے جھوٹ بول سکتے ہیں۔ آپ مجھے بتایئے ، کیا اتنے سالوں میں کبھی ایک بھی  قسط  رکی؟ پی ایم سمان کسان ندھی بغیر کسی وقفے کے جاری ہے۔ اب تک 3.75 لاکھ کروڑ روپے، اعداد و شمار کو یاد رکھیں، کسانوں کے کھاتوں میں 3.75 لاکھ کروڑ روپے بھیجے جاچکے  ہیں۔آپ  میرے ساتھ بولیں گے کتنے؟ 3.75 لاکھ کروڑ۔ کتنے؟ کتنے؟ اور یہ 3.75 لاکھ کروڑ، یہ رقم کس کے کھاتے میں جمع ہوئی؟ کس کے اکاؤنٹ میں جمع کرایا گیا؟ یہ میرے کسان بھائیوں اور بہنوں کے کھاتوں میں جمع کرایا گیا۔ یہاں یوپی میں بھی تقریباً 2.5 کروڑ کسانوں کو اس کا فائدہ ملا ہے۔ یوپی میں اس اسکیم کے تحت کسانوں کو 90 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم بھیجی گئی ہے۔ یہی نہیں میری کاشی کے کسانوں کو بھی تقریباً 900 کروڑ روپے ملے ہیں۔ آپ نے ایسا ایم پی منتخب کیا کہ آپ کے کھاتے میں 900 کروڑ روپے آگئے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بغیر کسی کٹ کمیشن، کوئی مڈل مین، کوئی کٹ، کوئی کمیشن، پیسے کی کوئی ہیرا پھیری کے بغیر، یہ رقم براہ راست کسانوں کے کھاتوں میں پہنچی ہے۔ اور مودی نے اسے ایک مستقل نظام بنا دیا ہے۔ نہ کوئی رسا ہوگا اور نہ ہی غریبوں کا حق چھینا جائے گا۔

 

ساتھیو،

مودی کا ترقی کا منتر ہے- جو جتنا زیادہ پسماندہ ہوگا، اسے اتنی ہی زیادہ ترجیح ملے گی! انسان جتنا پسماندہ ہو گا اسے اتنی ہی زیادہ ترجیح ملتی ہے! اس ماہ مرکزی حکومت نے ایک اور بڑی اسکیم کو منظوری دی ہے۔ اس کا نام ہے- پردھان منتری دھن-دھنیا کرشی یوجنا۔ کسانوں کی بہبود، زرعی نظام، زرعی ترقی کے لیے اس اسکیم پر 24 ہزار کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ ملک کے وہ اضلاع جو پچھلی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ترقی کی راہ میں پیچھے رہ گئے، پسماندہ ہی رہے، جہاں زرعی پیداوار بھی کم ہو رہی ہے، جہاں کسانوں کی آمدنی بھی کم ہے، ارے، کوئی پوچھنے والا نہیں، پردھان منتری دھن-دھانیہ  کرشی یوجنا کا فوکس ان اضلاع پر ہو گا۔ اس سے یوپی کے لاکھوں کسانوں کو بھی فائدہ ہوگا۔

ساتھیو،

کسانوں کی زندگیوں میں تبدیلی کے لیے، ان کی آمدنی بڑھانے کے لیے، کھیتی پر ہونے والے اخراجات کو کم کرنے کے لیے، این ڈی اے حکومت اپنی پوری طاقت لگا کر پوری طاقت کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ ہم بیج سے لے کر منڈی تک کسانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کھیتوں تک پانی کی پہنچ کو یقینی بنانے کے لیے ملک میں لاکھوں کروڑوں روپے کی آبپاشی کی اسکیمیں چلائی جا رہی ہیں۔

ساتھیو،

کسانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہمیشہ سے موسم رہا ہے، کبھی بہت زیادہ بارش ہوتی ہے، کبھی اولے پڑتے ہیں، کبھی ٹھنڈ پڑتی ہے! کسانوں کو اس سے بچانے کے لیے پی ایم فصل بیمہ یوجنا شروع کی گئی تھی۔ اس اسکیم کے تحت، اس اعداد و شمار کو یاد رکھیں، اس انشورنس اسکیم کے تحت، اب تک 1.75 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کاشتکاروں کو کلیم کے طور پر دیا جاچکا ہے۔ انشورنس کے ذریعے 1.75 لاکھ کروڑ روپے۔ کتنا بتائیں گے؟ کتنا؟ 1.75 لاکھ کروڑ روپے۔

ساتھیو،

ہماری حکومت اس بات کو بھی یقینی بنا رہی ہے کہ آپ کو اپنی فصل کی صحیح قیمت ملے۔ اس کے لیے فصلوں کے ایم ایس پی میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ دھان اور گیہوں جیسی بڑی فصلوں کے ایم ایس پی میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت ملک میں ہزاروں نئے گودام بھی بنا رہی ہے تاکہ آپ کی پیداوار محفوظ رہے۔

 

بھائیو اور بہنو،

ہمارا زور زرعی معیشت میں خواتین کی شرکت بڑھانے پر بھی ہے۔ ہم لکھپتی دیدی ابھیان چلا رہے ہیں۔ ہمارا ٹارگٹ ملک میں تین کروڑ لکھ پتی دیدیاں بنانا ہے، تین کروڑ لکھ پتی دیدی۔ یہ ایس پی لوگ یہ اعداد و شمار سنتے ہی اپنی سائیکلیں لے کر بھاگ جائیں گے۔ اب تک ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ لکھ پتی دیدیاں بھی بن چکی ہیں۔ تین کروڑ کے ہدف میں سے نصف مکمل ہو چکا ہے۔ غریب خاندانوں کی ہماری ڈیڑھ کروڑ بہنیں، گاؤں میں کام کرنے والے کسانوں کے خاندان، ڈیڑھ کروڑ بہنیں لکھپتی دیدی بنیں، یہ بہت بڑا کام ہو رہا ہے۔ حکومت کے ڈرون دیدی ابھیان نے بھی لاکھوں بہنوں کی آمدنی میں اضافہ کیا ہے۔

ساتھیو،

ہماری حکومت بھی زراعت سے متعلق جدید تحقیق کو کھیتوں تک لے جانے میں مصروف ہے۔ اس کے لیے مئی اور جون کے مہینوں میں خصوصی طور پر تیار کردہ کرشی سنکلپ ابھیان چلایا گیا تھا۔ لیب سے لینڈ کے منتر کے ساتھ، 1.25 کروڑ سے زیادہ کسانوں کے ساتھ براہ راست رابطہ کیا گیا ہے۔ ہمارے ملک میں یہ مانا جاتا ہے اور ایک نظام ہے کہ زراعت ریاست کا سبجیکٹ ہے اور یہ درست بھی ہے، لیکن اس کے باوجود حکومت ہند، این ڈی اے حکومت، مودی سرکار نے محسوس کیا کہ اگر یہ ریاست کا سبجیکٹ ہے تو بھی ریاستوں کو کرنا چاہیے، چاہے وہ کر سکیں یا نہ کریں، بہت سی ریاستیں ایسی ہیں جو یہ نہیں کر پا رہی ہیں، اس لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم خود کچھ کریں گے اور کروڑوں کسانوں کے ساتھ براہ راست رابطہ کیا۔

ساتھیو،

آج میں آپ کے ساتھ ایک اہم معلومات شیئر کرنا چاہتا ہوں تاکہ مرکزی حکومت کی اسکیموں کا فائدہ آپ سب تک پہنچ سکے۔ اور اس میں مجھے آپ کی مدد کے ساتھ ساتھ یہاں بیٹھے لوگوں کی مدد کی بھی ضرورت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جن دھن یوجنا کے تحت ملک میں 55 کروڑ غریبوں کے بینک کھاتے کھولے گئے ہیں۔ 55 کروڑ لوگوں کے اکاؤنٹس جن کو بینک کے دروازے دیکھنا نصیب نہیں ہوا، میں یہ کام تب سے کر رہا ہوں جب سے آپ نے مودی کو کام کرنے کا موقع دیا، 55 کروڑ۔ اب اس اسکیم کو حال ہی میں 10 سال مکمل ہوئے ہیں۔ اب بینکنگ سیکٹر میں کچھ اصول ہیں، قوانین میں کہا گیا ہے کہ 10 سال بعد دوبارہ بینک کھاتوں کی KYC کرنا ضروری ہے۔ ایک عمل مکمل کرنا ہے۔ اب آپ بینک جائیں، کریں یا نہ کریں، آپ کو سب کچھ پہلے کرنا ہوگا۔ اب میں نے آپ کا بوجھ تھوڑا کم کرنے کی پہل کی ہے۔ اس لیے میں نے بینک والوں سے کہا کہ لوگ آئیں، KYC کریں، یہ اچھی بات ہے۔ ہمیں شہریوں کو ہمیشہ چوکنا رہنا چاہیے۔ لیکن کیا ہم ایک مہم چلا سکتے ہیں؟ آج میں ریزرو بینک، ہمارے ملک کے تمام بینکوں، تمام بینک منیجروں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ آج، انہوں نے ایک ایسا کام اٹھایا ہے جو ہمیں فخر سے بھر دیتا ہے۔ بینک والوں کو ان 10 کروڑ لوگوں اور ان 55 کروڑ لوگوں کی KYC کا 10 سال بعد جائزہ لینا چاہیے، اس لیے اس کام کو مکمل کرنے کے لیے یکم جولائی سے ملک بھر میں ایک زبردست مہم چل رہی ہے۔ ہمارے بینک خود ہر گرام پنچایت تک پہنچ رہے ہیں۔ وہ وہاں میلوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ اب تک، بینکوں نے تقریباً ایک لاکھ ایسی گرام پنچایتوں میں اپنے کیمپ اور میلے منعقد کیے ہیں۔ لاکھوں لوگوں نے دوبارہ KYC بھی کروا لیا ہے۔ اور یہ مہم مزید جاری رہے گی۔ میں ہر ایسے شخص سے درخواست کروں گا جس کے پاس جن دھن اکاؤنٹ ہے اپنا KYC دوبارہ ضرور کروائیں۔

 

ساتھیو،

بینک گرام پنچایتوں میں خصوصی کیمپ لگا رہے ہیں، لاکھوں پنچایتوں میں کام ابھی بھی جاری ہے۔ میرا خیال ہے کہ ان کیمپوں سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔ اور اس کے بہت سے فائدے ہیں، ایک اور فائدہ بھی ہے، ان کیمپوں میں پردھان منتری تحفظ بیمہ یوجنا، پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا، اٹل پنشن یوجنا جیسی کئی اسکیموں کا رجسٹریشن بھی کیا جا رہا ہے۔ اور یہ انشورنس ایسی ہے کہ اس کی قیمت ایک کپ چائے کی قیمت سے بھی کم ہے۔ یہ اسکیمیں آپ کی بہت مدد کرتی ہیں۔ اس لیے بینکوں نے جو بڑی مہم شروع کی ہے اس کا بھرپور فائدہ اٹھائیں، میں پورے ملک کے لوگوں سے کہتا ہوں کہ آپ ان کیمپوں میں ضرور جائیں۔ اگر آپ ابھی تک ان اسکیموں میں شامل نہیں ہوئے ہیں، تو ان کے لیے رجسٹر ہوں اور اپنے جن دھن اکاؤنٹ کا KYC بھی کروائیں۔ میں بی جے پی اور این ڈی اے کے تمام نمائندوں سے بھی کہوں گا کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس مہم کے بارے میں آگاہ کریں، بینکوں سے بات کریں، یہ کیمپ کب اور کہاں منعقد ہونے والا ہے؟ ہم کیا مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ ہمیں آگے آنا چاہیے اور اس بڑے کام میں بینکوں کی مدد کرنی چاہیے، ان کی مدد کرنی چاہیے اور جہاں بھی کیمپ لگائے جائیں، زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس مہم سے جوڑیں۔

ساتھیو،

آج مہادیو کے شہر میں اتنے ترقیاتی اور فلاحی کام ہوئے! شیو کا مطلب ہے فلاح! لیکن، شیو کا ایک اور روپ بھی ہے، شیو کی ایک شکل فلاح ہے، شیو کی دوسری شکل رودر روپ ہے! جب دہشت اور ناانصافی ہوتی ہے تو ہمارے مہادیو نے رودر کا روپ دھار لیا ہے۔ آپریشن سندور کے دوران دنیا نے بھارت کا یہ روپ دیکھا۔ جو ہندوستان پر حملہ کرے گا  وہ جہنم میں بھی نہیں بچ پائے گا۔

لیکن بھائیو اور بہنو،

بدقسمتی سے ہمارے ملک کے کچھ لوگ آپریشن سندور کی کامیابی پر اپنے پیٹ میں درد بھی محسوس کر رہے ہیں۔ یہ کانگریس پارٹی اور ان کے پیروکار، ان کے دوست یہ حقیقت ہضم نہیں کر پا رہے کہ بھارت نے پاکستان کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کر دیا ہے۔ میں اپنے کاشی کے مالکان سے پوچھنا چاہتا ہوں۔ آپ کو ہندوستان کی طاقت پر فخر ہے یا نہیں؟ آپ کو آپریشن سندور پر فخر ہے یا نہیں؟ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے پر فخر ہے یا نہیں؟

ساتھیو،

آپ نے وہ تصویریں دیکھی ہوں گی کہ کس طرح ہمارے ڈرونز، ہمارے میزائلوں نے درست حملے کیے اور دہشت گردی کے ہیڈ کوارٹر کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔ پاکستان کے کئی فضائی اڈے اب بھی آئی سی یو میں پڑے ہیں۔ پاکستان دکھی ہے، یہ سب سمجھ سکتے ہیں، لیکن کانگریس اور ایس پی پاکستان کا یہ دکھ برداشت نہیں کر پا رہے ہیں، ایک طرف دہشت گردی کا ماسٹر روتا ہے، دوسری طرف کانگریس-ایس پی والے دہشت گردوں کی حالت دیکھ کر روتے ہیں۔

 

ساتھیو،

کانگریس ہماری مسلح افواج کی بہادری کی مسلسل توہین کر رہی ہے۔ کانگریس نے آپریشن سندور کو تماشا قرار دیا ہے۔ آپ بتایئے  کیا سندور کبھی تماشا ہو سکتا ہے؟ کیا یہ ہو سکتا ہے؟ کیا کوئی سندور کو تماشا کہہ سکتا ہے؟ ہماری مسلح افواج کی بہادری، اور بہنوں کے سِندور کا بدلہ، یہ تماشہ کہنے کی جسارت، یہ بے شرمی۔

بھائیو اور بہنو،

ووٹ بینک اور خوشامد کی اس سیاست میں سماج وادی پارٹی بھی پیچھے نہیں ہے۔ یہ ایس پی لیڈر پارلیمنٹ میں کہہ رہے تھے کہ اب آپ نے پہلگام کے دہشت گردوں کو کیوں مارا؟ اب بتاؤ۔ کیا میں انہیں فون کر کے پوچھوں؟ میں ایس پی والوں کو ماروں یا نہیں؟ کوئی بتائے بھائی، عقل سے بتائیں۔ کیا ہمیں دہشت گردوں کو مارنے کا انتظار کرنا چاہیے؟ کیا انہیں فرار ہونے کا موقع دیا جائے؟ یہ وہی لوگ ہیں جو یوپی میں اقتدار میں رہتے ہوئے دہشت گردوں کو کلین چٹ دیتے تھے۔ بم دھماکے کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف مقدمات واپس لے لیتے تھے۔ اب انہیں دہشت گردوں کی ہلاکت سے پریشانی کا سامنا ہے۔ آپریشن سندور کے نام پر انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ میں ان لوگوں کو کاشی کی سرزمین سے بتانا چاہتا ہوں۔ یہ ہے نیا ہندوستان۔ یہ نیا ہندوستان بھولی ناتھ کی پوجا کرتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ ملک کے دشمنوں کے سامنے کالبھیرو کیسے بننا ہے۔

ساتھیو،

آپریشن سندور کے دوران بھارت کے دیسی ہتھیاروں کی طاقت پوری دنیا دیکھ چکی ہے۔ ہمارے فضائی دفاعی نظام، ہمارے دیسی میزائل، مقامی ڈرونز نے خود انحصار ہندوستان کی طاقت کو ثابت کیا ہے۔ خاص طور پر ہمارے براہموس میزائل، ان کی دہشت نے ہندوستان کے ہر دشمن کو بھر دیا ہے۔ پاکستان میں کہیں برہموس کی آواز سنائی دے تو نیند نہیں آتی۔

میرے پیارے بھائیو اور بہنو،

میں یوپی سے ایم پی ہوں۔ یوپی سے رکن پارلیمنٹ ہونے کے ناطے مجھے خوشی ہے کہ وہ براہموس میزائل ہمارے یوپی میں بھی بنیں گے۔ برہموس میزائل کی تیاری لکھنؤ میں شروع ہو رہی ہے۔ یوپی ڈیفنس کوریڈور میں کئی بڑی دفاعی کمپنیاں بھی اپنے پلانٹ لگا رہی ہیں۔ آنے والے وقت میں یوپی میں بننے والے ہتھیار، ہندوستان کے ہر حصے میں بنائے گئے ہتھیار، ہندوستانی افواج کی طاقت بنیں گے۔ دوستو یہ بتاؤ کہ جب آپ خود انحصاری فوجی طاقت کا یہ چرچا سنتے ہیں تو کیا آپ کو فخر محسوس ہوتا ہے یا نہیں؟ ذرا پوری طاقت سے ہاتھ اٹھا کر بتاؤ، تمہیں فخر ہے یا نہیں؟ کیا آپ کو فخر ہے یا نہیں، ہر ہر مہادیو کہو۔ پاکستان نے دوبارہ کوئی گناہ کیا تو یوپی میں بنائے گئے میزائل دہشت گردوں کو نیست و نابود کر دیں گے۔

 

ساتھیو،

آج یوپی صنعتی طور پر اتنی تیز رفتاری سے ترقی کر رہا ہے، ملک اور دنیا کی بڑی کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری کر رہی ہیں، اس کے پیچھے بی جے پی حکومت کی ترقیاتی پالیسیوں کا بڑا کردار ہے۔ ایس پی کے دور میں یوپی میں مجرم بے خوف تھے اور سرمایہ کار یہاں آنے سے ڈرتے تھے۔ لیکن، بی جے پی حکومت میں، مجرموں کو خوف ہے اور سرمایہ کاروں کو یوپی کے مستقبل پر اعتماد نظر آرہا ہے۔ ترقی کی اس رفتار کے لیے میں یوپی حکومت کو مبارکباد دیتا ہوں۔

ساتھیو،

میں مطمئن ہوں کہ کاشی میں ترقی کا مہا یگیہ جاری ہے۔ ریل اوور برج کا آج سے آغاز ہوا، جل جیون مشن سے متعلق پروجیکٹ، کاشی میں اسکولوں کی تزئین و آرائش، ہومیوپیتھک کالج کی تعمیر، منشی پریم چند کی وراثت کا تحفظ، ان تمام کاموں سے بھاویہ کاشی، دیویا کاشی، سمردھ کاشی اور میری کاشی کی تعمیر میں تیزی آئے گی۔ یہاں سیواپوری آنا بھی خوش نصیبی کی بات ہے۔ یہ ماں کالکا دیوی کا گیٹ وے ہے۔ یہاں سے میں ما کالکا کے قدموں میں جھکتا ہوں۔ مجھے خوشی ہے کہ ہماری حکومت نے ماں کالکا دھام کو خوبصورت بنایا ہے اور اسے مزید شاندار بنایا ہے۔ مندر میں آنا بھی آسان ہو گیا ہے۔ سیواپوری کی تاریخ انقلاب کی تاریخ ہے۔ یہاں سے بہت سے لوگوں نے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا۔ یہ وہی سیواپوری ہے جہاں مہاتما گاندھی کا خواب پورا ہوا۔ یہاں تو ہر گھر میں مرد و خواتین کے ہاتھ میں چرخہ تھا اور اتفاق دیکھئے، اب چاند پور تا بھدوہی روڈ جیسے پروجیکٹ سے بھدوہی کے بُنکر بھی کاشی کے بُنکروں میں شامل ہو رہے ہیں۔ بنارسی ریشم کے بُننے والوں کو بھی اس سے فائدہ ہوگا اور بھدوہی کے کاریگروں کو بھی اس سے فائدہ ہوگا۔

ساتھیو،

کاشی دانشوروں کا شہر ہے۔ آج جب ہم اقتصادی ترقی کی بات کر رہے ہیں تو میں آپ کی توجہ عالمی صورتحال کی طرف بھی مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ آج دنیا کی معیشت کئی خدشات سے گزر رہی ہے، عدم استحکام کی فضا ہے۔ ایسے میں دنیا کے ممالک اپنے اپنے مفادات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے ملک کے مفادات پر توجہ دے رہے ہیں۔ ہندوستان بھی دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے جا رہا ہے۔ اس لیے بھارت کو بھی اپنے معاشی مفادات سے چوکنا رہنا ہوگا۔ ہمارے کسان، ہماری چھوٹی صنعتیں، ہمارے نوجوانوں کا روزگار، ان کے مفادات ہمارے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ حکومت اس سمت میں ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ لیکن ملک کے شہری ہونے کے ناطے ہماری بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ اور یہ صرف مودی ہی نہیں، ہندوستان کے ہر فرد کو ہر لمحہ اپنے دل میں یہی کہتے رہنا چاہیے، دوسروں کو بتاتے رہنا چاہیے، جو ملک کی بھلائی چاہتے ہیں، جو ملک کو تیسری بڑی معیشت بنانا چاہتے ہیں، کوئی بھی سیاسی پارٹی، کوئی بھی سیاست دان، اپنی ہچکچاہٹ کو ایک طرف چھوڑ کر، ملک کے مفاد میں، ہر لمحہ، ہر وقت، ہر جگہ، انہیں یہ احساس بیدار کرنا ہو گا، ہمیں ملک میں سودے کا جذبہ بیدار کرنا ہو گا۔ اب ہم کون سی چیزیں خریدیں گے، کس پیمانہ سے تولیں گے۔

 

میرے بھائیو اور بہنو، میرے ہم وطنو،

اب ہم جو بھی خریدیں گے، اس کا ایک ہی پیمانہ ہونا چاہیے، ہم وہ چیزیں خریدیں گے، جو ایک ہندوستانی کے پسینے سے بنی ہیں۔ اور وہ چیز جو ہندوستان کے لوگوں نے بنائی ہے، ہندوستان کے لوگوں کی مہارت سے بنائی ہے، ہندوستان کے لوگوں کے پسینے سے بنائی گئی ہے۔ ہمارے لیے وہ سودیشی ہے۔ ہمیں ووکل فار لوکل، ووکل فار لوکل منتر کو اپنانا ہوگا۔ ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم صرف میک ان انڈیا مصنوعات کو فروغ دیں گے۔ ہمارے گھر جو بھی نیا سامان آتا ہے، میں نئے سامان کی بات کر رہا ہوں۔ ہمارے گھر میں جو بھی نیا سامان آئے گا، وہ سودیشی ہوگا، ہر ملک کو یہ ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔ اور آج میں کاروباری دنیا کے اپنے بھائیوں اور بہنوں سے ایک خصوصی درخواست کرنا چاہتا ہوں، میں اپنے دکاندار بھائیوں اور بہنوں سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ جب دنیا اس طرح کے عدم استحکام کے ماحول سے گزر رہی ہے، پھر چاہے وہ کاروبار ہو، چھوٹی دکان ہو، کاروبار ہو۔ اب ہم اپنی جگہ سے صرف اور صرف سودیشی اشیاء فروخت کریں گے۔

 

ساتھیو،

سودیشی اشیاء فروخت کرنے کی یہ قرارداد بھی ملک کی سچی خدمت ہوگی۔ آنے والے مہینے تہواروں کے مہینے ہیں۔ دیوالی آئے گی، بعد میں شادیوں کا وقت آئے گا۔ اب ہم صرف دیسی مصنوعات ہی خریدیں گے۔ جب میں نے ہم وطنوں سے کہا کہ ہندوستان میں بدھ۔ اب بیرون ملک جا کر اور شادیاں کر کے ملکی دولت برباد نہ کریں۔ اور مجھے خوشی ہے کہ بہت سے نوجوان مجھے خطوط لکھتے تھے کہ ہمارے خاندان نے بیرون ملک شادی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن آپ کی بات سن کر ہم نے وہاں سب کچھ منسوخ کر دیا، کچھ اخراجات بھی ہوئے۔ لیکن اب ہم انڈیا میں ہی شادی کریں گے۔ ہمارے یہاں بھی بہت اچھی جگہیں ہیں، جہاں شادیاں ہو سکتی ہیں۔ ہر چیز میں دیسی ہونے کا احساس آنے والے دنوں میں ہمارے مستقبل کا فیصلہ کرنے والا ہے۔ دوستو، یہ بھی مہاتما گاندھی کو ایک زبردست خراج عقیدت ہوگا۔

ساتھیو،

ترقی یافتہ ہندوستان کا خواب سب کی کوششوں سے ہی پورا ہوگا۔ ایک بار پھر میں آج کے ترقیاتی کاموں کے لیے آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور مستقبل میں اگر ہم مقامی کے لیے ووکل  فار لوکل خریدیں گے تو سودیشی خریدیں گے، گھر سجائیں گے تو  سودیشی سجائیں گے، زندگی بڑھائیں  گے تو سودیشی سے  بڑھائیں  گے۔ اس منتر کولیکر کے  چل پڑے۔ بہت بہت شکریہ۔ میرے ساتھ  بولو ہر ہر مہادیو ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Proud Moment For Every Indian: PM Modi On Sarnath Being Inscribed On UNESCO World Heritage List

Media Coverage

Proud Moment For Every Indian: PM Modi On Sarnath Being Inscribed On UNESCO World Heritage List
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Participants of Viksit Vibrant Village Programme share their experiences with PM Modi
July 26, 2026
Solo travel is a way of discovering the world while discovering oneself: PM
Every young person and every daughter of the country should move forward with confidence and self-belief: PM
Border villages may be geographically distant, but their residents are emotionally deeply connected with the nation: PM
Those who were last in priority earlier are now the first: PM
Journey of young participants reflects the spirit of Ek Bharat, Shreshtha Bharat: PM
Citizens should spend at least five per cent of their travel budget on purchasing local products: PM

Prime Minister Shri Narendra Modi today interacted virtually with participants of the Viksit Vibrant Village Programme 2026, during which young MYBharat Volunteers shared their experiences from border villages in Himachal Pradesh, Uttarakhand and Ladakh. The interaction highlighted the transformation of these villages through improved infrastructure, connectivity and public services, along with women-led development, tourism, community participation and stronger national integration. More than 5,000 MYBharat Volunteers from 245 districts across the country joined the programme virtually.

Introducing the programme, MYBharat Volunteer Shri Divyansh Joshi from Dadra and Nagar Haveli and Daman and Diu outlined initiatives including the Viksit Bharat Young Leaders Dialogue, Viksit Bharat Youth Parliament, Budget Twist, mentorship and volunteering programmes. He said more than 2.30 crore young people had benefitted from MYBharat initiatives, while 2.86 lakh youth participated in the nationwide quiz through which 403 volunteers were selected to visit border villages. Recounting his visit to Leo village in Kinnaur district of Himachal Pradesh, he highlighted interactions with residents, senior citizens and schoolchildren, career counselling for local youth, sports and cultural activities, the leadership of the woman Sarpanch and the functioning of the Ayushman Arogya Mandir. He said his homestay experience showed that belonging transcends language and State boundaries, adding that the volunteers paid homage to the country’s brave soldiers at the Kargil War Memorial and would compile their experiences for submission to the Prime Minister while remaining committed to the vision of Viksit Bharat.

MYBharat Volunteer Ms Nikita Pravin Solanki from Dadra and Nagar Haveli and Daman and Diu said her selection through the MYBharat quiz enabled her first independent journey to Dhar Chango Nichla village in Kinnaur district. The affectionate welcome extended by the villagers strengthened her confidence and reflected changing societal attitudes towards women. Through her interactions with the woman Pradhan, Panchayat representatives, farmers, senior citizens and children, she witnessed the multiple responsibilities shouldered by rural women and found, contrary to her earlier perceptions, quality roads, regular electricity, drinking-water connections and digital connectivity, which residents attributed to the Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana, Jal Jeevan Mission and Ayushman Bharat. She also participated in cleanliness, sports and cultural activities, recalled the curiosity of village children about her home region and said she continued to remain in touch with her host family.

Recalling his Diwali visit to the Chango region in 2016, the Prime Minister said Ms Solanki’s journey reflected the growing confidence of India’s daughters and that MYBharat had transformed individual journeys into one national family. “Solo travelling is a way of discovering the world while discovering yourself,” observed Shri Modi.

MYBharat Volunteer Shri Sunil Kumar Kela from Jalore, Rajasthan, said that being from a border village himself enabled him to connect readily with the people of Dhar Chango Uprela village in Himachal Pradesh. Despite geographical and climatic differences, he found the people of both regions united by courage, patriotism and warmth. He remained connected with his family through video calls, showing them the Sutlej River, school, Jan Aushadhi Kendra, hospital and sports facilities, while his social-media posts encouraged friends to explore MYBharat. His initial apprehensions regarding roads, accommodation, electricity and mobile connectivity were dispelled by the high-quality roads reaching the homestay, solar-energy installations and improved infrastructure that had transformed daily life. He added that he remained in contact with his host family and had invited them to visit Rajasthan.

The Prime Minister observed that young people from border villages across Rajasthan, Kashmir, Himachal Pradesh and the North-East shared a common outlook and that border residents, though geographically distant, remained emotionally deeply connected with the nation. “Those who were last in priority earlier are now the first,” remarked Shri Modi.

MYBharat Volunteer Ms Bhavya Shri from Chittoor district of Andhra Pradesh said her desire to learn beyond academics led her to MYBharat and to Harsil Valley in Uttarkashi district of Uttarakhand. Her initial concerns about the unfamiliar climate, food, culture and lifestyle were dispelled by the hospitality of local residents and officials, while interactions with Indo-Tibetan Border Police personnel deepened her appreciation of their discipline, humility, dedication and commitment to the nation. She said participants from different States, languages and cultures arrived as strangers but returned as one family, reflecting the spirit of Ek Bharat, Shreshtha Bharat. Photographs of the Nelang and Jadung Valleys and apple orchards generated considerable interest among her friends, many of whom subsequently registered on MYBharat. She also recalled the equipment provided to help participants adapt to the cold climate, the resilience of a resident who chose to remain in his landslide-affected native village despite hardship, and the peaceful, meditative character of the Garhwali dance in contrast with the energetic folk dances of her home State.

Recalling his visit to Mukhwa village in Uttarakhand, the Prime Minister said the interaction reaffirmed his belief that India’s youth place the nation first. “The manner in which all of you have lived the spirit of Ek Bharat, Shreshtha Bharat will inspire many more young people,” observed Shri Modi.

Twenty-one-year-old MYBharat Volunteer Ms Sayantika Mistry from the Andaman and Nicobar Islands thanked the Prime Minister for envisioning MYBharat as a platform enabling crores of young people to contribute to nation-building. Recounting her journey from sea level to Maan village in Ladakh at an altitude of nearly 17,000 feet, she described suffering from acute mountain sickness and the care extended by the MYBharat team and ITBP personnel, including doctors who prioritised treating her as their guest before attending to their own personnel. She said the experience showed that ITBP personnel not only protected the borders but also cared deeply for citizens and made her appreciate the resilience required to live in high-altitude conditions. Contrary to her family’s expectation of poor connectivity, she found reliable internet, QR-code and UPI payment facilities and Wi-Fi in the border region. She also interacted with local children, one of whom expressed a desire to visit the Andaman and Nicobar Islands, and highlighted the community spirit through which residents collectively organised weddings and monastery events, restored a damaged mobile tower and constructed a storage facility for its batteries.

Encouraging Ms Mistry to document her experience through articles or a book so that others could better understand the country’s vastness, people and shared sense of belonging, Shri Modi remarked, “When you share joy, it multiplies.”

MYBharat Volunteer Shri Ashish Soni from Jaunpur district of Uttar Pradesh, who is preparing for the Civil Services Examination, thanked the Prime Minister for enabling young people to contribute suggestions during the Budget-making process. Sharing his experience of Kaza Khas in Himachal Pradesh’s Spiti region, he said his parents, who remembered a time when mobile connectivity in remote areas was difficult, were astonished when he video-called them from nearly 14,000 feet. Describing MYBharat as a bridge between a generation that had witnessed struggle and another witnessing transformation, he recounted writing letters from the world’s highest post office at Hikkim to the Prime Minister, his family, the Ministry of Youth Affairs, the Defence Minister and his District Magistrate. He said India was connected not only through metros and airports but also through institutions serving its remotest regions and highlighted QR-code payments at around 14,500 feet as evidence that Digital India had become a source of trust across the country. His interactions with women’s self-help groups introduced him to entrepreneurship through homestays, digital platforms and sea buckthorn-based products, while discussions on the PM MUDRA Yojana and Deendayal Antyodaya Yojana focused on expanding livelihood opportunities. He also highlighted the role of the Border Roads Organisation-built Chicham Bridge in improving connectivity, tourism and economic activity, besides noting the region’s potential for night tourism.

Observing that technology had reached every corner of the country and that purchasing local products would generate employment, support livelihoods and carry regional identities across India, Shri Modi urged, “Wherever you travel, spend at least five per cent of your travel budget on buying products from local people.”

Concluding the interaction, the Prime Minister extended his best wishes to the young participants. The programme highlighted MYBharat’s role in enabling young people to experience first-hand the transformation of India’s border villages, dispel outdated perceptions and deepen their understanding of the country’s cultural diversity, developmental progress, community participation and the spirit of Ek Bharat, Shreshtha Bharat.