Share
 
Comments
آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن بغیر روک ٹوک کے ایک ایسا پلیٹ فارم قائم کرے گا، جو ڈیجیٹل ہیلتھ ایکو سسٹم کے اندر انٹر آپریبلٹی کو قابل بنائے گا
وزیراعظم نے ،جے اے ایم ٹرینٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی اس طرح کا بڑا مربوط بنیادی ڈھانچہ نہیں ہے
’’ڈیجیٹل انفراسٹرکچر تیز رفتار اور شفاف طریقے سے ’راشن سے لے کر پرشاسن ‘تک ہر چیز کو بھارت کے عام لوگوں تک پہنچا رہا ہے‘‘
’’ٹیلی میڈیسن میں بھی غیر معمولی توسیع ہوئی ہے‘‘
آیوشمان بھارت - پی ایم جے اے وائی نے غریبوں کی زندگی میں ایک اہم پریشانی کو دور کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ابھی تک ملک کے دو کروڑ سے زیادہ لوگوں نے مفت علاج کی سہولت حاصل کی ہے، جس میں سے نصف خواتین ہیں
آیوشمان بھارت – ڈیجیٹل مشن اب ملک کے اسپتالوں کو ایک دوسرے کے ساتھ رابطے کا ڈیجیٹل ہیلتھ سولیوشن پیش کرے گا
حکومت کے ذریعے پیش کئے گئے حفظان صحت سے متعلق سولیوشن ملک کے حال اور مستقبل کے لئے ایک بڑی سرمایہ کاری ہے
’’جب ہمارا ہیلتھ انفرا سٹرکچر مربوط ، مضبوط ہو جائے گا، توہمارے سیاحتی شعبے میں بھی بہتری آئے گی

نمسکار!

پروگرام میں موجودکابینہ کے میرے ساتھی مرکزی وزیرصحت منسکھ مانڈویہ جی، کابینہ کے میرے دیگر تمام ساتھی،سینیئر افسران، ملک بھر سے جڑے سرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں کے ڈاکٹرس، ہیلتھ مینجمنٹ سے منسلک شخصیات،پروگرام میں موجود دیگر تمام معززین اور میرے پیارے بھائیوں اور بہنوں۔

21 ویں صدی میں ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھتے ہوئے بھارت کے لیے آج کا دن بہت اہم ہے۔ پچھلے سات برسوں میں، ملک کی صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانے کی جو مہم چل رہی ہے،وہ آج سے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور یہ کوئی عام مرحلہ نہیں ہے ، یہ ایک غیر معمولی مرحلہ ہے۔ آج ایک ایسے  مشن کی  شروعات ہو رہی ہے، جس میں بھارت کی صحت کی سہولیات میں انقلاب لانے کی بڑی طاقت  مضمرہے۔

ساتھیو،

تین سال پہلے پنڈت دین دیال اپادھیائے جی کی سالگرہ کے موقع پر پنڈت جی کووقف آیوشمان بھارت اسکیم، پورے ملک میں نافذ ہوئی تھی۔ مجھے خوشی ہے کہ آج سے آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن بھی پورے ملک میں شروع کیا جا رہا ہے۔ یہ مشن ، ملک کے غریب اور متوسط طبقے کے علاج میں آنے  والی جو بھی  پریشانیاں ہیں،ان کو دور کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کرے گا۔ ٹکنالوجی کے ذریعہ مریضوں کو پورے ملک کے ہزاروں اسپتالوں سے کنکٹ کرنے کا جو کام آیوشمان بھارت نے کیا ہے، آج اسے بھی توسیع مل رہی ہے، ایک مضبوط ٹکنالوجی پلیٹ فارم مل رہا ہے۔

ساتھیو،

آج بھارت میں جس طرح ٹکنالوجی کو گڈ گورننس(عمدہ طرز حکمرانی)کے لیے، حکمرانی میں اصلاحات کا ایک مضبوط وسیلہ بنایا جا رہا ہے، وہ اپنے آپ میں  عام لوگوں کو طاقت اور قوت فراہم کر رہا ہے۔ یہ غیر معمولی ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا کی مہم  نے بھارت کے ایک عام فرد کو ڈیجیٹل ٹکنالوجی سے مربوط کرکے، ملک کی طاقت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے اور ہم اس سے بخوبی واقف ہیں ، ہمارا ملک فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہے ،130 کروڑ آدھار نمبر،118 کروڑ موبائل سبسکرائبرس،تقریباً 80 کروڑ انٹرنیٹ یوزر، تقریباً 43 کروڑ جن دھن بینک کھاتے، اتنا بڑا مربوط انفراسٹرکچر دنیا میں کہیں نہیں ہے۔یہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر ، راشن سے لے کر انتظامیہ تک ہر ایک کو تیز اور شفاف طریقے سے عام بھارتی شہری تک پہنچا رہا ہے۔ یو پی آئی کے ذریعہ سے کبھی بھی، کہیں بھی، ڈیجیٹل لین دین میں آج بھارت ، دنیا میں اپنی ایک الگ شناخت بنا رہا ہے۔ ابھی ملک میں جو ای-روپی واؤچر شروع کیا گیا ہے، وہ بھی ایک شاندار پہل ہے۔

ساتھیو،

بھارت کے ڈیجیٹل سولیوشن( حل )نے کورونا سے جنگ میں بھی ہر بھارتی کی بہت مدد کی ہے، ایک نئی طاقت دی ہے۔ اب جیسے آروگیہ سیتو ایپ سے کورونا کے انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے میں ایک بیداری لانی، آگہی پیدا کرنے، پورے حالات کی شناخت کرنے، اپنے اردگرد کی صورتحال سے باخبر رہنے، اس میں آروگیہ سیتو ایپ نے بہت بڑی مدد کی ہے۔ اسی طرح سے سب کو ویکسین، مفت ویکسین مہم کے تحت بھارت آج تقریباً90 کروڑ ویکسین کی خوراک لوگوں کو دے پایا ہے۔ اب اس کا ریکارڈ مل سکا ہے، سرٹیفیکیٹ حاصل ہوا ہے، تو اس میں کو-وِن کا بہت بڑا رول ہے۔ رجسٹریشن سے لے کر سرٹیفیکیشن تک کا اتنا بڑا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ، دنیا کے بڑے بڑے ملکوں کے پاس نہیں ہے۔

ساتھیو،کورونا کے دور میں ٹیلی میڈیسن کی بھی  غیر معمولی توسیع ہوئی ہے۔ ای- سنجیونی  کے ذریعے سے  اب تک تقریبا  سوا کروڑ  ریموٹ کنسلٹیشن پورے ہو چکے ہیں۔ یہ سہولت  ہر روز  دیش  کے دور دراز میں رہنے والے ہزاروں باشندگان ملک کو گھر بیٹھے ہی  شہروں کے بڑے اسپتالوں کے  بڑے بڑے ڈاکٹروں سے  کنکٹ کر رہی ہے۔ جانے مانے  ڈاکٹروں کی خدمات آسان ہوسکتی ہے۔ میں آج  اس موقع پر  ملک کے سبھی ڈاکٹروں، نرسز  اور  میڈیکل اسٹاف  کا  دل سے  شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، خواہ ٹیکہ کاری ہو، کورونا کے مریضوں کا علاج ہو، ان کی کوششوں، کورونا سے مقابلے میں ملک کو بڑی راحت  پہنچا ئی ہے اور بہت بڑی مدد  کی ہے۔

ساتھیو،

آیوشمان بھارت- پی ایم جے وائی نے  غریبوں کی زندگی کی بہت بڑی تشویش کو  دور کیا ہے۔ ابھی تک  دو کروڑ  سے زائد  اہل وطن نے  اسکیم کے تحت مفت علاج کی سہولت  سے فائدہ اٹھایا ہے اور اس میں بھی  آدھی فیض یافتگان جن میں،  ہماری مائیں ہیں، ہماری بہنیں ہیں، ہماری بیٹیاں ہیں۔ یہ اپنے آپ میں سکون دینے والی بات ہے، قلب کو راحت پہنچانے والی بات ہے۔ ہم سب جانتے ہیں ، ہمارے کنبے  کے  حالات سستے علاج کی کمی کی وجہ سے  سب سے زیادہ تکلیف میں ملک کی مائیں اور بہنیں ہی رہتی ہیں اور پریشانیاں اٹھاتی ہیں۔ گھری کی فکر ، گھر کے اخراجات کی فکر، گھرے کے دوسرے لوگوں کی فکر میں ہماری مائیں بہنیں اپنے اوپر ہونے والے علاج کے  اخراجات  کو ہمیشہ  ٹالتی رہتی ہیں،  لگا تار ٹالنے کی کوشش کرتی ہیں، وہ ایسے ہی کہتی ہیں کہ نہیں ابھی  ٹھیک   ہو جائے گا، نہیں یہ تو ایک دن کا معاملہ  ہے، نہیں ایسے ہی ایک پڑ  لے لوں گی تو ٹھیک ہو جائے گا، کیونکہ ماں کا دل ہے نا، وہ تکالیف  کو برداشت کرلیتی ہیں لیکن کنبے پر  کوئی معاشی  بوجھ نہیں آنے دیتی ہیں۔

ساتھیو،

جنہوں نے آیوشمان بھارت کے تحت ، ابھی تک علاج  کا فائدہ اٹھایا ہے، یا پھر  جو علاج کرا رہے ہیں، ان میں سے لاکھوں ایسے ساتھی ہیں، جو اس اسکیم سے پہلے  اسپتال جانے کی ہمت نہیں  کر پاتے تھے، ٹالتے رہتے تھے۔  وہ ڈر سہتے تھے، زندگی کی گاڑی کسی طرح کھینچتے رہتے تھے، لیکن پیسے کی کمی وجہ سے  اسپتال نہیں جا پاتے تھے۔ اس تکلیف  کا احساس  ہی ہمیں اندر تک جھنجھوڑ دیتا ہے۔ میں ایسے کنبے سے ملا ہوں، اس کورونا کے دور میں اور اس سے پہلے، یہ آیوشمان کی  جو وہ سہولت لیتے تھے،  کچھ بزرگ یہ کہتے تھے کہ میں اس لئے علاج نہیں کرا تا تھا کیونکہ میں اپنی  اولادوں پر کوئی قرض چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا تھا۔ خود برداشت کرلیں گے، ہو سکتا ہے کہ جلدی جانا پڑے،  ایشور بلالے تو چلے جائیں گے، لیکن بچوں پر  کوئی  مالی قرض  چھوڑ کر نہیں جانا ہے، اس لئے علاج  نہیں کراتے تھے اور یہاں اس پر وگرام میں موجود ہم سے زیادہ تر نے  اپنے کنبے میں، اپنے ارد گرد ایسے مختلف لوگوں کو دیکھا  ہوگا۔ ہم سے زیادہ تر لوگ اسی طرح کی فکر سے  خود بھی گزرے ہیں۔

ساتھیو،

ابھی تو کورونا کا دور چل رہا ہے، لیکن  اس سے پہلے، میں ملک میں جب بھی  کہیں دورے پر جا تا تھا الگ الگ  ریاستوں میں جا تا تھا، تو میری کوشش ہوتی تھی کہ آیوشمان بھارت کے  فیض یافتگان سے ضرور ملاقات کروں، میں ان سے ملتا تھا،  ان سے باتیں کرتا تھا، میں ان کے درد ، ان کے تجربات، ان کے مشورے، میں  راست طریقے سے لیتا تھا۔ یہ  بات ویسے میڈیا میں اور  عام پلیٹ فارم سے  زیادہ  موضوع بحث نہیں بنی  لیکن  میں نے اس کو اپنا ذاتی  کام بنالیا تھا۔ آیوشمان بھارت کے سینکڑوں مستفیدین سے  میں خود  روبرو مل چکا ہوں اور کیسے  بھول سکتا ہوں  اس بوڑھی ماں کو، جو برسوں تک  درد سہنے کے بعد پتھری کا آپریشن کر اپائی، وہ  نوجوان جو گردے  کی بیماری سے پریشان تھا، کسی کو پیر میں تکلیف، کسی کو ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف، ان کے چہرے  کبھی میں بھول نہیں پاتا ہوں۔ آج آیوشمان بھارت، ایسے سبھی لوگوں کے لئے بہت بڑی نشانی بنی ہے۔ تھوڑی دیر پہلے   جو فلم یہاں دکھائی گئی، جو کافی ٹیبل بک  لانچ کی گئی، اس میں خاص کر کے ان ماؤں اور بہنوں کا تفصیل سے تذکرہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ  تین برسوں میں جو ہزاروں کروڑ روپے  حکومت نے برداشت کئے ہیں،  اس میں لاکھوں کنبے  غریبی کے  دلدل میں دھنسنے سے  بچے ہیں، کوئی رہنا نہیں چاہتا ہے،  کڑی محنت کر کے  غربت  سے باہر نکلنے کے لئے  ہر کوئی کوشش کرتا ہے، مواقع  تلاشتا ہے۔ کبھی تو لگتا ہے کہ ہاں اب کچھ  ہی دنوں میں وہ غربت سے باہر آجائے گا، کہ اچانک کنبے میں  ایک بیماری آجاتی ہے، اور ساری محنت مٹی میں مل جاتی ہے۔ پھر  وہ پانچ  دس  سال پیچھے  اسی غربت کے دلدل میں پھنس جاتا ہے۔ بیماری  پورے کنبے کو  غربت کے دلدل سے  باہر نہیں آنے دیتی ہے اور اس لئے آیوشمان بھارت سمیت  ہیلتھ کیئر سے جڑی  جو بھی سہولت حکومت فراہم کر رہی ہے،  وہ ملک کے موجودہ  اور مستقبل میں  بہت بڑی سرمایہ کاری ہے۔

بھائیوں اور بہنوں،

آیوشمان بھارت - ڈیجیٹل مشن، اسپتالوں میں سسٹم کو  آسان بنانے کے  ساتھ ہی زندگی گزارنے کو بھی آسان بنائے گا۔ موجودہ دور میں اسپتالوں میں ٹیکنالوجی کا جو استعمال ہوتا ہے، وہ فی الحال صرف ایک ہی اسپتال تک یا ایک ہی گروپ تک محدود رہتا ہے۔ نئے اسپتال یا نئے شہر میں جب  مریض جاتا ہے ، تو اس کو پھر سے  اسی مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔ ڈیجیٹل ہیلتھ ریکارڈ کی کمی کی وجہ سے اس کو  برسہا برس  سے چلی آرہی فائلوں کو لے  کر چلنا پڑتا ہے۔ ایمرجنسی کی حالت میں یہ ممکن نہیں ہو پاتا ہے۔ اس  سے مریض اور ڈاکٹر، دونوں کا  بہت وقت ضائع ہوتا ہے، پریشانی بھی  زیادہ ہوتی ہے اور علاج کا خرچ  بھی  بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں، بہت سے لوگوں کے پاس  اسپتال جاتے وقت  ان کا میڈیکل ریکارڈ ہی نہیں ہوتا۔ ایسے میں  جو ڈاکٹر تشخیص کرتا ہے، جانچ ہوتی ہے، وہ اس کو بالکل زیرو سے شروع کرنی پڑتی ہے، یعنی  نئے سرے سے شروع کرنی پڑتی ہے۔ میڈیکل  ہسٹری کا ریکارڈ نہ ہونے سے  وقت  بھی زیادہ لگتا ہے اور  خرچ  بھی بڑ ھ جاتا ہے۔ اور کبھی کبھی  علاج  تو  بالکل برعکس ہو جاتا ہے۔ اور ہمارے گاؤں دیہات میں رہنے والے بھائی بہن  تو  اس وجہ سے  بہت سے زیادہ پریشانی اٹھاتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، ڈاکٹروں  کے کبھی اخبار میں اشتہارات تو ہوتے  نہیں ہیں، کانوں کان بات پہنچتی ہے کہ  فلاں ڈاکٹر  اچھے ہیں، میں گیا تھا تو ان کے پاس  اچھا علاج ہوا۔  اب اس و جہ سے  ڈاکٹروں کی جانکاری  ہر کسی   کے پاس پہنچے گی کہ بھائی ہاں کون ایسے  بڑے بڑے ڈاکٹر ہیں، کون اس سبجیکٹ کے ماہر ہیں، اور آپ جانتے ہیں اور میں ایک بات اور کہنا چاہوں گا ، ان تمام لوگوں سے کہ اس طرح کی پریشانی سے نجات حاصل کرنے کے لئے آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن  ایک بہت بڑا کردار ادا کرے گا۔

ساتھیو،

آیوشمان بھارت - ڈیجیٹل مشن، اب پورے ملک کے اسپتالوں کے ڈیجیٹل ہیلتھ سالیوشن کو  ایک دوسرے سے  کنکٹ کرے گا۔ اس کے تحت  اہل وطن کو ایک ڈیجیٹل ہیلتھ آئی ڈی ملے گی۔ ہر شہری  کا ہیلتھ ریکارڈ  ڈیجیٹل طور پر محفوظ رہے گا۔ ڈیجیٹل ہیلتھ آئی ڈی کے ذریعے مریض خود بھی اور ڈاکٹر بھی پورانے ریکارڈ کو ضرورت پڑنے پر چیک کرسکتا ہے۔ یہی نہیں، اس میں ڈاکٹر، نرس، پیرامیڈکس جیسے ساتھیوں کا بھی  رجسٹریشن ہوگا۔ ملک کے جو  اسپتال ہیں، کلینکس ہیں، لیبس ہیں، دوا کی دکانیں ہیں، یہ سبھی بھی رجسٹرڈ ہوں گے۔ یعنی  یہ ڈیجیٹل مشن صحت سے جڑے  ہر اسٹیک ہولڈر  ایک ساتھ ، ایک ہی پلیٹ  فارپر  لے آئے گا۔

ساتھیو، اس مشن کا سب سے بڑا فائدہ  ملک کے غریبوں اور متوسط  طبقے کو ہوگا۔ ایک سہولت تو یہ ہوگی کہ مریض  کو  ملک میں کہیں پر بھی  ایسا ڈاکٹر تلاش کرنے میں آسانی ہوگی، جو  اس کی زبان  بھی جانتا اور سمجھتا ہے اور اس کی بیماری  کا بہتر سے بہتر  علاج کر سکے اور  وہ تجربہ کار بھی  ہوگا۔ اس  سے مریضوں کو ملک کے کسی  کونے میں بھی  موجود  ماہر ڈاکٹر سے رابطہ کرنے کی سہولت  حاصل ہوگی۔  صرف  ڈاکٹر  ہی نہیں،  بلکہ بہتر  ٹیسٹ کے لئے لیبس اور دوا کی  دکانوں کی بھی شناخت میں آسانی  ہو جائے گی۔

ساتھیو،

اس جدید ترین پلیٹ فارم سے  علاج  اور ہیلتھ کیئر سے متعلق پالیسی بنانے سے منسلک پورا ایکو سسٹم مزید   فعال ہونے والا ہے۔ ڈاکٹر اور اسپتال اس پلیٹ  فارم کا استعمال کرکے اپنی خدمات کو  ریموٹ ہیلتھ سروس پرووائڈ  کرانے میں معاون ہو پائیں گے۔ مؤثر  اور  تصدیق شدہ ڈیٹا کے ساتھ  علاج بھی بہتر ہوگا  اور مریض کو  بچت  بھی ہوگی۔

بھائیوں اور بہنوں،

 ملک میں صحت کی خدمات کو آسان اور ہر فرد  تک رسائی  بنانے کی جو مہم  آج پورے ملک میں شروع ہوئی ہے، یہ 6 -7  سال سے چل رہی مسلسل سرگرمی کا ایک حصہ ہے۔ گزشتہ برسوں میں بھارت نے  علاج  ومعالجہ سے جڑی  دہائیوں کی سوچ  اور  ایپروچ میں  بڑی  تبدیلی لائی ہے۔ بھارت میں ایک ایسے  ہیلتھ  ماڈل پر  کام جاری ہے، جو ہولسٹک ہو، ہر  فرد  کی رسائی اس تک ہو۔ ایک ایسا ماڈل ،  جس میں بیماریوں سے تحفظ  پر زور دیا جاتا ہو۔  یعنی  پریونٹیو ہیلتھ کیئر، بیماری کی حالت میں  علاج آسان ہو، سستا ہو، اور اس کی رسائی ہر فرد  تک ہو۔ یوگ اور  آیوروید جیسی  ہمارا روایتی  طریقہ علاج پر زور ہو، ایسے  سبھی پروگرام غریب اور متوسط  طبقے کو بیماری  کے دلدل سے بچانے کے لئے شروع کئے  گئے ہیں۔ ملک میں ہیلتھ انفرا کی ترقی  اور بہتر علاج کی سہولیات ، ملک کے کونے کونے تک پہنچانے کے لئے،  نئی صحت پالیسی بنائی گئی ہے۔ آج ملک میں ایمس جیسے بہت بڑے بڑے اور جدید  ترین  صحت کے اداروں کا  بھی نیٹ ورک تیار کیا جا رہا ہے۔ ہر تین لوک سبھا  حلقوں کے بیچ  ایک میڈیکل کالج کی تعمیر  بھی  کرائی جارہی ہے۔

ساتھیو،

بھارت میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لئے بہت ضروری ہے کہ گاؤوں میں جو صحت کی خدمات ملتی ہیں،  ان میں اصلاحت کی جائیں۔ آج ملک  میں  گاؤں اور گھر کے نزدیک  ہی، پرائمری ہیلتھ کیئر سے جڑے نیٹ ورک کو  ہیلتھ اینڈ ویلنس سینٹرس کے ذریعے مضبوط کیا جا رہا ہے۔ ابھی تک  ایسے تقریبا 80  ہزار  سینٹرس شروع بھی کئے جا چکے ہیں۔ یہ سینٹرس، روٹین چیک اپ اور ٹیکہ کاری  سے لے کر  سنگین بیماریوں کی شروعاتی جانچ  اور ان کے  اقسام کے ٹسٹ کی  سہولیات سے لیس  ہیں۔ کوشش  یہ ہے کہ ان سینٹرس  کے توسط سے  بیداری بڑھے اور وقت  رہتے سنگین بیماریوں کا پتہ لگا یا جاسکے۔

ساتھیو،

عالمی وبا کورونا کے اس دور میں، میڈیکل انفراسٹرکچر کی تعمیر کو  مسلسل   اہمیت دی جارہی ہے، ملک کے ضلع اسپتالوں میں کریٹیکل کیئر بلاکس کا انفراسٹرکچر  تیار کیا جا رہا ہے،  بچوں کے علاج کے لئے ضلع اور بلاک کے اسپتالوں میں خصوصی سہولیات  کی تیاریاں کی جار ہی ہیں۔ ضلع  سطح کے اسپتالوں میں اپنے آکسیجن  پلانٹ تعمیر کئے جارہے ہیں۔

ساتھیو،

بھارت کے ہیلتھ سیکٹر کو ٹرانسفارم کرنے کے لئے میڈیکل ایجوکیشن میں بھی  غیر معمولی اصلاحات کی جارہی ہیں۔ 7-8  سال میں پہلے کے موازنے میں آج  زیادہ  ڈاکٹرس اور پیرا میڈیکل مین پاور  ملک میں تیار ہو رہے ہیں۔  صرف مین پاور ہی نہیں بلکہ ہیلتھ سے جڑی  جدید ٹیکنالوجی، بائیو ٹیکنالوجی سے جڑی ریسرچ، دواؤں اور  آلات میں خود کفالت کے تئیں بھی ملک میں مشن موڈ پر کام چل رہا ہے۔ کورونا کی ویکسین کے ڈیولپمنٹ اور  مینو فیکچرنگ میں بھارت  نے جس طرح اپنی  طاقت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ ہمیں فخر سے لبریز کر دیتا ہے۔ صحت سے متعلق آلات  اور ادویات کے خام مال کے لئے پی ایل آئی اسکیم سے بھی  اس شعبے میں خود کفیل بھارت ابھیان  کو بہت طاقت مل رہی ہے۔

ساتھیو،

بہتر میڈیکل سسٹم کے ساتھ ہی ، یہ بھی ضرور ہے کہ، غریب اور متوسط طبقے کا دواؤں پر  کم سے کم  خرچ ہو۔ اس لئے مرکزی  حکومت نے ضروری ادویات ، سرجری کے آلات، ڈائلیسس جیسی مختلف خدمات  اور سازو سامان کی قیمتوں کو سستا رکھا ہے۔ بھارت میں  ہی بننے والی دنیا کی بہترین جینرک دواؤں کو علاج میں زیادہ سے زیادہ  استعمال میں لانے کے لئے حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔  8  ہزار سے زیادہ  جن اوشدھی کیندروں نے تو غریب اور متوسط  طبقے کو  بہت بڑی راحت دی  ہے۔ میں  جن اوشدھی کیندروں سے، جو دوائیاں لیتے ہیں، ایسے مریضوں سے بھی  پچھلے دنوں بات کرنے کا موقع ملا ہے، تو میں نے دیکھا ہے  کچھ کنبے میں ایسے لوگوں کو  روزانہ کی بنیاد پر کچھ ایسی دوائیاں لینی پڑتی ہیں، کچھ  تو عمر کی وجہ سے  اور کچھ  بیماریوں کی وجہ سے۔ ان جن اوشدھی کیندروں کی وجہ سے  ایسے  متوسط  طبقے کے خاندانوں کے ہزار ، 1500 ، دو –دو ہزار  روپے  ہر مہینے ہر بچ رہے ہیں۔

ساتھیو،

 ایک حسن اتفاق یہ بھی ہے کہ آج کا یہ پروگرام  عالمی یوم سیاحت پر  منعقد ہو رہا ہے۔ کچھ  لوگ سوچ سکتے ہیں کہ ہیلتھ کیئر کے پروگرام  سیاحت سے  کیا لینا دینا؟  لیکن  ہیلتھ کا  ٹورزم کے ساتھ  ایک بڑا مضبوط  رشتہ  ہے۔ کیونکہ جب ہمارا ہیلتھ انفراسٹرکچر  مربوط ہوتا ہے ، مضبوط ہوتا ہے، تو اس کا اثر سیاحت کے شعبے پر  بھی پڑتا ہے۔ کیا کوئی سیاح ایسی  جگہ آنا چاہئے گا جہاں کسی ایمرجنسی میں علاج کی بہتر سہولت ہی نہ ہو؟ اور کورونا کے بعد سے تو اب یہ  اور  بھی اہم ہو گیا ہے۔ یہاں ٹیکہ کاری ہوتی  ہے اور جتنی زیادہ ہوگی،  سیاح وہاں جانے میں اتنے ہی  محفوظ محسوس کریں گے اور  آپ نے دیکھا ہوگا کہ   ہماچل  ہو، اترا کھنڈ ہو، سکم ہو، گو ا ہو، یہ جو ہماری ٹورسٹ ڈسٹرینیشن والی ریاستیں ہیں، وہاں بہت تیزی سے  انڈمان ونکوبار ہو، بہت تیزی سے  ویکسی نیشن پر زور دیا گیا ہے، کیونکہ سیاحوں کے لئے ایک اعتماد کی فضا ہموار کیا جسکے۔ آئندہ برسوں میں یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ سارے فیکٹرس اور بھی مضبوط ہوں گے۔ جن جن مقامات پر  ہیلتھ انفرا بہتر ہوگا، وہاں سیاحت کے امکانات  اور  زیادہ بہتر ہوں گے۔  یعنی ، ہاسپٹل اور ہاسپٹلٹی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلیں گے۔

ساتھیو،

آج دنیا کا اعتماد، بھارت کے ڈاکٹرس اور ہیلتھ سسٹم پر مسلسل بڑ ھ رہا ہے۔ دنیا میں ہمارے ملک کے ڈاکٹروں نے  بہت عزت کمائی ہے، بھارت کا نام اونچا کیا ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے   لوگوں سے آپ پوچھیں گے  تو وہ کہیں گے ،  کہ ہاں میرا ایک ڈاکٹر بھارتی ہے۔ بھارت کے انفراسٹرکچر  اگر مل جائے تو دنیا سے ہیلتھ کے لئے بھارت آنے والوں کی تعداد  بڑھنی ہی ہے۔ انفراسٹرکچر کی  کئی طرح کی الجھنوں کے بیچ بھی لوگ ۔ بھارت میں علاج کرانے کے لئے آتے ہیں اور اس کی کبھی کبھی تو  بڑی ایموشنل کہانیاں بھی سننے کو ملتی ہیں۔ چھوٹے  چھوٹے  بچے ہمارے آس پڑوس کے ملکوں سے بھی جب یہاں آتے ہیں، صحت مند ہو کر جاتے ہیں، بڑا کنبہ خوش دیکھنے سے خوشیاں  پھیل جاتی ہیں۔

ساتھیو،

ہمارا ٹیکہ کاری کا پروگرام- کوون ٹیکنالوجی  پلیٹ فارم اور فارما سیکٹر  میں ،ہیلتھ سیکٹر میں بھارت کے وقار  میں مزید اضافہ کیا ہے۔ جب آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کے ذریعے  ٹیکنالوجی کی نئی سہولیات کو ترقی دی گئی ہے، تو دنیا کے کسی بھی ملک کے مریض کو بھارت کے ڈاکٹروں سے کنسلٹ کرنے، علاج کرانے ، اپنی رپورٹ  انہیں بھیج کر  مشورے لینے  میں بہت آسانی ہو جائے گی۔ یقینی طور پر  اس کا مثبت اثر  ہیلتھ سے متعلق سیاحت پر بھی  پڑے گا۔

ساتھیو،

صحت مند بھارت کا راستہ  آزادی کے اس سنہرے دور میں بھارت کے بڑے عزائم  کی تکمیل کرنے میں ، بڑے خوابوں کو  شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے بہت ضروری ہیں۔ اس کے لئے ہم مل کر  اپنی کوششوں کو جاری رکھیں گے۔ مجھے یقین ہے، علاج سے جڑے ہر فرد، ہمارے ڈاکٹرس، پیرا میڈیکس، علاج سے متعلق ادارے، اس نئی سہولت کو تیزی سے اختیار کریں گے۔ ایک بار پھر آیوشمان بھارت – ڈیجیٹل مشن کے لئے میں ملک کو بہت بہت  مبارک باد پیش کرتا ہوں اور نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں!!

 بہت بہت شکریہ!

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
Why Amit Shah believes this is Amrit Kaal for co-ops

Media Coverage

Why Amit Shah believes this is Amrit Kaal for co-ops
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit Karnataka on 6th February
February 04, 2023
Share
 
Comments
PM to inaugurate India Energy Week 2023 in Bengaluru
Moving ahead on the ethanol blending roadmap, PM to launch E20 fuel
PM to flag off Green Mobility Rally to create public awareness for green fuels
PM to launch the uniforms under ‘Unbottled’ initiative of Indian Oil - each uniform to support recycling of around 28 used PET bottles
PM to dedicate the twin-cooktop model of the IndianOil’s Indoor Solar Cooking System - a revolutionary indoor solar cooking solution that works on both solar and auxiliary energy sources simultaneously
In yet another step towards Aatmanirbharta in defence sector, PM to dedicate to the nation the HAL Helicopter Factory in Tumakuru
PM to lay foundation stones of Tumakuru Industrial Township and of two Jal Jeevan Mission projects in Tumakuru

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit Karnataka on 6th February, 2023. At around 11:30 AM, Prime Minister will inaugurate India Energy Week 2023 at Bengaluru. Thereafter, at around 3:30 PM, he will dedicate to the nation the HAL helicopter factory at Tumakuru and also lay the foundation stone of various development initiatives.

India Energy Week 2023

Prime Minister will inaugurate the India Energy Week (IEW) 2023 in Bengaluru. Being held from 6th to 8th February, IEW is aimed to showcase India's rising prowess as an energy transition powerhouse. The event will bring together leaders from the traditional and non-traditional energy industry, governments, and academia to discuss the challenges and opportunities that a responsible energy transition presents. It will see the presence of more than 30 Ministers from across the world. Over 30,000 delegates, 1,000 exhibitors and 500 speakers will gather to discuss the challenges and opportunities of India's energy future. During the programme, Prime Minister will participate in a roundtable interaction with global oil & gas CEOs. He will also launch multiple initiatives in the field of green energy.

The ethanol blending programme has been a key focus areas of the government to achieve Aatmanirbharta in the field of energy. Due to the sustained efforts of the government, ethanol production capacity has seen a six times increase since 2013-14. The achievements in the course of last eight years under under Ethanol Blending Programe & Biofuels Programe have not only augmented India’s energy security but have also resulted in a host of other benefits including reduction of 318 Lakh Metric Tonnes of CO2 emissions and foreign exchange savings of around Rs 54,000 crore. As a result, there has been payment of around Rs 81,800 crore towards ethanol supplies during 2014 to 2022 and transfer of more than Rs 49,000 crore to farmers.

In line with the ethanol blending roadmap, Prime Minister will launch E20 fuel at 84 retail outlets of Oil Marketing Companies in 11 States/UTs. E20 is a blend of 20% ethanol with petrol. The government aims to achieve a complete 20% blending of ethanol by 2025, and oil marketing companies are setting up 2G-3G ethanol plants that will facilitate the progress.

Prime Minister will also flag off the Green Mobility Rally. The rally will witness participation of vehicles running on green energy sources and will help create public awareness for the green fuels.

Prime Minister will launch the uniforms under ‘Unbottled’ initiative of Indian Oil. Guided by the vision of the Prime Minister to phase out single-use plastic, IndianOil has adopted uniforms for retail customer attendants and LPG delivery personnel made from recycled polyester (rPET) & cotton. Each set of uniform of IndianOil’s customer attendant shall support recycling of around 28 used PET bottles. IndianOil is taking this initiative further through ‘Unbottled’ - a brand for sustainable garments, launched for merchandise made from recycled polyester. Under this brand, IndianOil targets to meet the requirement of uniforms for the customer attendants of other Oil Marketing Companies, non-combat uniforms for Army, uniforms/ dresses for Institutions & sales to retail customers.

Prime Minister will also dedicate the twin-cooktop model of the IndianOil’s Indoor Solar Cooking System and flag-off its commercial roll-out. IndianOil had earlier developed an innovative and patented Indoor Solar Cooking System with single cooktop. On the basis of feedback received, twin-cooktop Indoor Solar Cooking system has been designed offering more flexibility and ease to the users. It is a revolutionary indoor solar cooking solution that works on both solar and auxiliary energy sources simultaneously, making it a reliable cooking solution for India.

PM in Tumakuru

In yet another step towards Aatmanirbharta in the defence sector, Prime Minister will dedicate to the nation the HAL Helicopter Factory in Tumakuru. Its foundation stone was also laid by the Prime Minister in 2016. It is a dedicated new greenfield helicopter factory which will enhance capacity and ecosystem to build helicopters.

This helicopter factory is Asia’s largest helicopter manufacturing facility and will initially produce the Light Utility Helicopters (LUH). LUH is an indigenously designed and developed 3-ton class, single engine multipurpose utility helicopter with unique feature of high manoeuvrability.

The factory will be expanded to manufacture other helicopters such as Light Combat Helicopter (LCH) and Indian Multirole Helicopter (IMRH) as well as for repair and overhaul of LCH, LUH, Civil ALH and IMRH in the future. The factory also has the potential for exporting the Civil LUHs in future.

This facility will enable India to meet its entire requirement of helicopters indigenously and will attain the distinction of enabling self-reliance in helicopter design, development and manufacture in India.

The factory will have a manufacturing set up of Industry 4.0 standards. Over the next 20 years, HAL is planning to produce more than 1000 helicopters in the class of 3-15 tonnes from Tumakuru. This will result in providing employment for around 6000 people in the region.

Prime Minister will lay the foundation stone of Tumakuru Industrial Township. Under the National Industrial Corridor Development Programme, development of the Industrial Township spread across 8484 acre in three phases in Tumakuru has been taken up as part of Chennai Bengaluru Industrial Corridor.

Prime Minister will lay the foundation stones of two Jal Jeevan Mission projects at Tiptur and Chikkanayakanahalli in Tumakuru. The Tiptur Multi-Village Drinking Water Supply Project will be built at a cost of over Rs 430 crores. The Multi-village water supply scheme to 147 habitations of Chikkanayakanahlli taluk will be built at a cost of around Rs 115 crores. The projects will facilitate provision of clean drinking water for the people of the region.