’’کرشنا گرو جی نے علم، خدمت اور انسانیت کی قدیم ہندوستانی روایات کا پرچار کیا‘‘
’ایکنام اکھنڈ کیرتن دنیا کو شمال مشرق کے ورثے اور روحانی شعور سے آشنا کر رہا ہے‘‘
’’12 سال کے عرصے میں اس طرح کی تقریبات منعقد کرنے کی ایک قدیم روایت رہی ہے‘‘
’’محروم افراد کو ترجیح دینا آج ہمارے لیے رہنما قوت ہے‘‘
خصوصی مہم کے ذریعے 50 سیاحتی مقامات کو فروغ دیا جائے گا
’’گزشتہ 8-9 سالوں میں ملک میں گاموسا کی کشش اور مانگ میں اضافہ ہوا ہے‘‘
خواتین کی آمدنی کو ان کے بااختیار بنانے کے مقصد سے ، ’مہیلا سمان سیونگ سرٹیفکیٹ‘ اسکیم بھی شروع کی گئی ہے
’’ملک کی فلاح و بہبود کی اسکیموں کی طاقت سماجی توانائی اور عوامی شراکت داری ہے‘‘
’’موٹے اناج کو اب ایک نئی شناخت - شری انیہ دی گئی ہے ‘‘

جے کرشن گرو!

جے کرشن گرو!

جے کرشن گرو!

جے جیتے پرم کرشن گرو ایشور!

کرشن گرو سیوا شرم میں مصروف عمل آپ سبھی  سادھو سنتوں اور عقیدت مندوں کو میرا پرنام۔ کرشن گرو ایکنام اکھنڈ کیرتن کا یہ پروگرام پچھلے ایک مہینہ سے چل رہا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ علم، خدمت اور انسانیت کی جس ہندوستانی روایت کو کرشن گرو جی نے آگے بڑھایا، وہ آج بھی لگاتار جاری ہے۔ گرو کرشن پریمانند پربھو جی اور ان کے تعاون کے آشیرواد سے اور کرشن گرو بھکتوں کی کوششوں سے اس پروگرام میں اس کی عظمت صاف دکھائی دے رہی ہے۔ میری خواہش تھی کہ میں اس موقع پر آسام آ کر آپ سب کے ساتھ اس پروگرام میں شامل ہوؤں! میں نے کرشن گرو جی کی مقدس  سرزمین پر آنے کی پہلے بھی کئی بار کوشش کی ہے۔ لیکن شاید میری کوششوں میں کوئی کمی رہ گئی کہ چاہ کر  کے بھی میں اب تک وہاں نہیں آ پایا۔ میری خواہش ہے کہ کرشن گرو کا آشیرواد مجھے یہ موقع دے کہ میں آنے والے وقت میں وہاں آ کر آپ سبھی کو نمن کروں، آپ کے دیدار کروں۔

ساتھیوں،

کرشن گرو نے عالمی امن کے لیے ہر 12 سال میں 1 مہینے کے اکھنڈ نام جپ اور کیرتن کی شروعات کی تھی۔ ہمارے ملک میں تو 12 سال کی مدت پر اس طرح کے پروگراموں کی قدیم روایت رہی ہے۔ اور ان پروگراموں  کا بنیادی مقصد رہا ہے  -فرائض۔ یہ تقریب، افراد میں، سماج میں،  فرائض کے احساس کو دوبارہ زندہ کرتی تھی۔ ان پروگراموں میں پورے ملک کے لوگ ایک ساتھ جمع ہوتے تھے۔ پچھلے 12 سالوں  میں جو کچھ بھی ماضی میں ہوا ہے، اس کا جائزہ لیا جاتا تھا، دور حاضر پر غور وفکر کیا جاتا تھا، اور مستقبل کا خاکہ تیار کیاجاتا تھا۔ ہر 12 سال پر کمبھ کی روایت بھی اس کی ایک مضبوط مثال رہی ہے۔ 2019 میں ہی آسام کے لوگوں نے برہم پتر ندی میں پشکرم تقریب  کامیابی کے ساتھ منعقد کی تھی۔ اب پھر سے برہم پتر ندی پر  یہ پروگرام 12ویں سال میں ہی ہوگا۔ تمل ناڈو کے کمبھ کونم میں مہاماہم تہوار بھی 12 سال میں منایا جاتا ہے۔ بھگوان باہوبلی کا مہا مستکا بھشیک یہ بھی 12 سال پر ہی ہوتا ہے۔ یہ بھی اتفاق ہے کہ نیلگیری کی پہاڑیوں پر کھلنے والا نیلا کرونجی پھول بھی ہر 12 سال میں ہی اگتا ہے۔ 12 سال پر ہو رہا کرشن گرو ایکنام اکھنڈ کیرتن بھی ایسی ہی ایک مضبوط روایت کی آبیاری کر رہا ہے۔ یہ کیرتن، شمال مشرق کی وراثت، یہاں کے روحانی شعور سے دنیا کو متعارف کرا رہا ہے۔ میں آپ سبھی کو اس پروگرام کے لیے  بہت ساری نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

ساتھیوں،

کرشن گرو جی کی غیر معمولی صلاحیت، ان کا روحانی شعور، ان سے وابستہ حیران کر دینے والے واقعات، ہم سبھی کو مسلسل حوصلہ عطا کرتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں سکھایا ہے کہ کوئی بھی کام، کوئی بھی آدمی نہ چھوٹا ہوتا ہے اور نہ بڑا ہوتا ہے۔ گزشتہ 9-8 برسوں میں ملک نے اسی جذبے سے، سب کے ساتھ سے سب کے وکاس کے لیے  پوری ایمانداری سے کام کیا ہے۔ آج ترقی کی دوڑ میں جو جتنا پیچھے ہے، ملک کے لیے وہ اتنی ہی پہلی ترجیح ہے۔ یعنی جو محروم ہے، اسے ملک آج ترجیح دے رہا ہے، محروموں کو ترجیح۔ آسام ہو، ہمارا نارتھ ایسٹ ہو، وہ بھی دہائیوں تک ترقی  کی کنیکٹویٹی سے محروم رہا تھا۔ آج ملک آسام اور نارتھ ایسٹ کی ترقی کو ترجیح دے رہا ہے، اولیت دے رہا ہے۔

اس بار کے بجٹ میں بھی ملک کی ان کوششوں کی، اور ہمارے مستقبل کی مضبوط جھلک دکھائی دی ہے۔ شمال مشرق کی معیشت اور ترقی میں سیاحت کا ایک بڑا رول ہے۔ اس بار کے بجٹ میں سیاحت سے جڑے مواقع کو بڑھانے کے لیے خاص انتظامات کیے گئے ہیں۔ ملک میں 50 سیاحتی مقامات کو خصوصی مہم چلا کر تیار کیا جائے گا۔ ان کے لیے جدید انفراسٹرکچر بنایا جائے گا، ورچوئل کنیکٹویٹی کو بہتر کیا جائے گا، سیاحتی سہولیات کی بھی تعمیر کی جائے گی۔ شمال مشرق اور آسام کو ان ترقیاتی کاموں کا بڑا فائدہ ملے گا۔ ویسے آج اس پروگرام میں مصروف آپ سبھی سنتوں –دانشوروں کو میں ایک اور جانکاری دینا چاہتا ہوں۔ آپ سب نے بھی  گنگا ولاس کروز کے بارے میں سنا ہوگا۔ گنگا ولاس کروز دنیا کا سب سے لمبا ریور کروز ہے۔ اس پر بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح بھی سفر کر رہے ہیں۔ بنارس سے بہار میں پٹنہ، بکسر، مونگیر ہوتے ہوئے یہ کروز بنگال میں کولکاتا سے آگے تک کا سفر طے کرتے ہوئے بنگلہ دیش پہنچ چکا ہے۔ کچھ دنوں کے بعد یہ کروز آسام پہنچنے والا ہے۔ اس میں سوار سیاح ان جگہوں کو ندیوں کے ذریعے تفصیل سے جان رہے ہیں، وہاں کی ثقافت کو جی رہے ہیں۔ اور ہم تو جانتے ہیں ہندوستان کی ثقافتی وراثت کی سب سے بڑی اہمیت، سب سے قیمتی خزانہ ہمارے ندی کے کناروں پر ہی ہے کیوں کہ ہماری پوری ثقافت کا ارتقا ندی کے کناروں سے جڑا ہوا ہے۔ مجھے یقین ہے، آسامی ثقافت اور خوبصورتی بھی گنگا ولاس کے ذریعے دنیا تک ایک نئے طریقے سے پہنچے گی۔

ساتھیوں،

کرشن گرو سیواشرم، مختلف تنظیموں کے ذریعے روایتی دستکاری اور ہنر سے جڑے لوگوں کی فلاح کے لیے بھی کام کرتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں شمال مشرق کے روایتی ہنر کو نئی پہچان دے کر گلوبل مارکیٹ میں جوڑنے کی سمت میں ملک نے تاریخی کام کیے ہیں۔ آج آسام کا آرٹ، آسام کے لوگوں کے اسکل، یہاں کے بیمبو پروڈکٹس کے بارے میں پورے ملک اور دنیا میں لوگ جان رہے ہیں، انہیں پسند کر رہے ہیں۔ آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ پہلے بیمبو کو پیڑوں کی کیٹیگری میں رکھ کر اس کے کاٹنے پر قانونی روک لگ گئی تھی۔ ہم اس قانون کو بدلا، غلامی کے سیاہ دور کا قانون تھا۔ بیمبو کو گھاس کی کیٹیگری میں رکھ کر روایتی روزگار کے لیے سبھی راستے کھول دیے۔ اب اس طرح کے روایتی ہنر کے فروغ کے لیے، ان پروڈکٹس کی کوالٹی اور پہنچ بڑھانے کے لیے بجٹ میں مخصوص التزام کیا گیا ہے۔ اس قسم کی پیداوار کو پہچان دلوانے کے لیے بجٹ میں ہر ریاست میں یونٹی مال-ایکتا مال بنانے کا بھی اعلان اس بجٹ میں کیا گیا ہے۔ یعنی، آسام کے کسان، آسام کے کاریگر، آسام کے نوجوان جو پروڈکٹس بنائیں گے، یونٹی مال-ایکتا مال میں ان کا مخصوص ڈسپلے ہوگا تاکہ اس کی زیادہ فروخت ہو سکے۔ یہی نہیں، دوسری ریاستوں کی راجدھانی یا بڑے سیاحتی مقامات پر بھی جو یونٹی مال بنیں گے، اس میں بھی آسام کے پروڈکٹس رکھے جائیں گے۔ سیاح جب یونٹی مال جائیں گے، تو آسام کے پروڈکٹس کو بھی نیا بازار ملے گا۔

ساتھیوں،

جب آسام کی دستکاری کی بات ہوتی تو یہاں کے لوگ ’گوموشا‘ کا بھی یہ ’گوموشا‘ اس کا بھی ذکر اپنے آپ ہو جاتا ہے۔ مجھے خود ’گوموشا‘ پہننا بہت اچھا لگتا ہے۔ ہر خوبصورت گوموشا کے پیچھے آسام کی خواتین، ہماری ماؤں بہنوں کی محنت ہوتی ہے۔ گزشتہ 9-8 برسوں میں ملک میں گوموشا کو لے کر رغبت بڑھی ہے، تو اس کی مانگ بھی بڑھی ہے۔ اس مانگ کو پورا کرنے کے لیے بڑی تعداد میں خواتین کے سیلف ہیلپ گروپ سامنے آئے ہیں۔ ان گروپس میں ہزاروں لاکھوں خواتین کو روزگار مل رہا ہے۔ اب یہ گروپس مزید آگے بڑھ کر ملک کی معیشت کی طاقت بنیں گے۔ اس کے لیے اس سال کے بجٹ میں خاص انتظامات کیے گئے ہیں۔ خواتین کی آمدنی ان کو با اختیار بنانے کے ذریعے بنے، اس کے لیے ’مہیلا سمان سیونگ سرٹیفکیٹ‘ اسکیم بھی شروع کی گئی ہے۔ خواتین کو سیونگ پر خاص طور سے زیادہ سود کا فائدہ ملے گا۔ ساتھ ہی، پی ایم آواس یوجنا کا بجٹ بھی بڑھا کر 70 ہزار کروڑ روپے کر دیا گیا ہے، تاکہ ہر خاندان کو جو غریب ہے، جس کے پاس پکا گھر نہیں ہے، اس کا پکا گھر مل سکے۔ یہ گھر بھی زیادہ تر خواتین کے ہی نام پر بنائے جاتے ہیں۔ اس کا مالکانہ حق خواتین کا ہوتا ہے۔ اس بجٹ میں ایسے متعدد التزامات ہیں، جن سے آسام، ناگالینڈ، تریپورہ، میگھالیہ جیسی شمال مشرقی ریاستوں کی خواتین کو بڑے پیمانے پر فائدہ ہوگا، ان کے لیے نئے مواقع بنیں گے۔

ساتھیوں،

کرشن گرو کہا کرتے تھے- نتیہ بھکتی کے کاموں میں یقین کے ساتھ اپنی آتما کی سیوا کریں۔ اپنی آتما کی سیوا میں، سماج کی خدمت میں، سماج کی ترقی کے اس منتر میں بڑی طاقت سمائی ہوئی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ کرشن گرو سیواشرم سماج سے جڑے تقریباً ہر گوشے میں اس منتر کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ آپ کے ذریعے چلائے جا رہے یہ سیوا یگیہ ملک کی بڑی طاقت بن رہے ہیں۔ ملک کی ترقی کے لیے سرکار متعدد اسکیمیں چلاتی ہے۔ لیکن ملک کی فلاحی اسکیموں کی جان، سماج کی طاقت اور عوامی حصہ داری ہی ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کیسے ملک نے سووچھ بھارت ابھیان شروع کیا اور پھر عوامی حصہ داری نے اسے کامیاب بنا دیا۔ ڈیجیٹل انڈیا مہم کی کامیابی کے پیچھے بھی سب سے بڑی وجہ عوامی حصہ داری ہی ہے۔ ملک کو بااختیار کرنے والی اس قسم کی بے شمالی اسکیموں کو آگے بڑھانے میں کرشن گرو سیواشرم کا رول بہت اہم ہے۔ جیسے کہ سیواشرم خواتین اور نوجوانوں کے لیے کئی سماجی کام کرتا ہے۔ آپ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ اور پوشن  جیسی مہم کو آگے بڑھانے کی بھی ذمہ داری لے سکتے ہیں۔ ’کھیلو انڈیا‘ اور ’فٹ انڈیا‘ جیسی مہم سے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو جوڑنے سے سیواشرم کی حوصلہ افزائی بہت اہم ہے۔ یوگا ہو، آیوروید ہو، ان کی تشہیر و تبلیغ میں آپ کی مزید شراکت داری، سماج کی طاقت کو مضبوط کرے گی۔

ساتھیوں،

آپ جانتے ہیں کہ ہمارے یہاں روایتی طور پر ہاتھ سے، کسی اوزار کی مدد سے کام کرنے والے کاریگروں کو، ہنرمندی کو وشوکرما کہا جاتا ہے۔ ملک نے اب پہلی بار ان روایتی کاریگروں کے ہنر کو بڑھانے کا عہد کیا ہے۔ ان کے لیے پی ایم-وشو کرما کوشل سمان یعنی پی ایم وکاس یوجنا شروع کی جا رہی ہے اور اس بجٹ میں اسے تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ کرشن گرو سیواشرم، وشوکرما ساتھیوں میں اس اسکیم کے تئیں بیداری بڑھا کر بھی ان کی بھلائی کر سکتا ہے۔

ساتھیوں،

سال 2023 میں ہندوستان کی پہل پر پوری دنیا ’ملیٹ ایئر‘ بھی منا رہی ہے۔ ملیٹ یعنی، موٹے اناجوں کو، جس کو ہم عام طور پر موٹا اناج کہتے ہیں، نام الگ الگ ہوتے ہیں لیکن موٹا اناج کہتے ہیں۔ موٹے اناجوں کو اب نئی پہچان دی گئی ہے۔ یہ پہچان ہے- شری انّ۔ یعنی اناج میں جو سب سے بہتر ہے، وہ ہوا شری اَنّ۔ آشرم میں جو پرساد بٹتا ہے، میری گزارش ہے کہ وہ پرساد بھی اناج سے بنایا جائے۔ ایسے ہی، آزادی کے امرت مہوتسو میں ہمارے مجاہدین آزادی کی تاریخ کو نوجوانوں تک پہنچانے کے لیے مہم چل رہی ہے۔ اس سمت میں سیواشرم پرکاشن کے ذریعے، آسام اور شمال مشرق کے انقلابیوں کے بارے میں بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔ مجھے یقین ہے، 12 سال بعد جب یہ اکھنڈ کیرتن ہوگا، تو آپ کی اور ملک کی ان مشترکہ کوششوں سے ہم مزید مضبوط ہندوستان کا مشاہدہ کر رہے ہوں گے۔ اور اسی امید کے ساتھ سبھی سنتوں کو پرنام کرتا ہوں، سبھی پونیہ آتماؤں کو پرنام کرتا ہوں اور آپ سبھی کو ایک بار پھر بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
How digital tech and AI are revolutionising primary health care in India

Media Coverage

How digital tech and AI are revolutionising primary health care in India
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Delegation from Catholic Bishops' Conference of India calls on PM
July 12, 2024

A delegation from the Catholic Bishops' Conference of India called on the Prime Minister, Shri Narendra Modi today.

The Prime Minister’s Office posted on X:

“A delegation from the Catholic Bishops' Conference of India called on PM Narendra Modi. The delegation included Most Rev. Andrews Thazhath, Rt. Rev. Joseph Mar Thomas, Most Rev. Dr. Anil Joseph Thomas Couto and Rev. Fr. Sajimon Joseph Koyickal.”