ہماری ثقافت میں خدمت خلق کو سب سے بڑا مذہب سمجھا گیا ہے، خدمت خلق کو عقیدت، ایمان اور عبادت سے بلند مقام دیا گیا ہے: وزیراعظم
ادارہ جاتی خدمت معاشرے اور ملک کے بڑے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے: وزیراعظم
مشن لائف کا جو نظریہ ہندوستان نے پوری دنیا کو دیا، اس کی صداقت، اس کے اثرات کو صرف ہمیں ثابت کرنا ہے، ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم کی بازگشت پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے: وزیراعظم
جنوری میں چند ہفتوں کے اندر 'وِکست بھارت نوجوان لیڈرس مذاکرات' کا انعقاد کیا جائے گا، اس میں ہمارے نوجوان وکِسِت بھارت کے عزم کو پورا کرنے کے لیے اپنے خیالات پیش کریں گے اور ان کے تعاون کا خاکہ پیش کریں گے: وزیر اعظم

جے سوامی نارائن!

تقدس مآب گرو ہری مہنت سوامی مہاراج، قابل احترام سنتوں، ست سنگی خاندان کے تمام افراد، دیگر معززین، اور بڑے اسٹیڈیم میں موجودخواتین و حضرات!

کاریہکر سوورنا مہوتسو کے اس موقع پر، میں بھگوان سوامی نارائن کے قدموں میں اپنا سلام پیش کرتا ہوں۔ آج پرمکھ سوامی مہاراج کی 103 ویں سالگرہ کا تہوار بھی ہے۔ میں گروہری پرگت برہما سوروپ پرمکھ سوامی مہاراج کیلئے تعظیم کا اظہار کرتا ہوں۔ بھگوان سوامی نارائن کی تعلیمات، پرمکھ سوامی مہاراج کا عز۔ آج انتہائی  قابل احترام گرو ہری مہنت سوامی مہاراج کی محنت اور لگن کی وجہ سے پھل دے رہے ہیں۔ یہ بہت بڑا پروگرام، ایک لاکھ کارکنوں، نوجوانوں اور بچوں کا ثقافتی پروگرام جس میں بیجوں، درختوں اور پھلوں کی قدروں کا اظہار کیا گیا، میں شاید آپ کے درمیان جسمانی طور پر موجود نہ ہو سکوں، لیکن میں اس تقریب کی توانائی کودل سے محسوس کر رہا ہوں۔ اس عظیم الشان روحانی  تقریب کے لیے، میںانتہائی قابل احترام گرو ہری مہنت سوامی مہاراج اور تمام سنتوں کو مبارکباد پیش کرتا اور ان انہیں نمن کرتا ہوں۔

دوستو!

کاریہکر سوورنا مہوتسو 50 سال کی خدمت کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ 50 سال قبل سیوم سیوکوں کی رجسٹریشن اور انہیں خدمتی سرگرمیوں سے جوڑنے کا عمل شروع ہوا۔ اس وقت کارکنوں کی رجسٹریشن کے بارے میں کسی نے سوچا تک نہیں۔ آج یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوتی ہے کہ BAPS کے لاکھوں کارکن پوری لگن اورعزم کے ساتھ خدمت کے کاموں میں مصروف ہیں۔ یہ کسی بھی ادارے کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس کے لیے میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں اور اپنی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

 

دوستو!

کاریہ کر سوورنا مہوتسو بھگوان سوامی نارائن کی انسان دوست تعلیمات کا جشن ہے۔ یہ ان دہائیوں کی خدمت کی کہانی ہے، جس نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بدل دیں۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں نے BAPS کیخدمات کی مہم کو اتنے قریب سے دیکھا ہے، مجھے ان سے وابستہ ہونے کا موقع ملا ہے۔ بھج میں زلزلے کی تباہی کے بعد کی صورتحال ہو، نر نارائن نگر گاؤں کی تعمیر نو ہو، کیرالہ میں سیلاب ہو، یا اتراکھنڈ میں لینڈ سلائیڈنگ کے مصائب ہوں، یا کورونا جیسی عالمی وبا ہو،ہمارے کاریہ کر خاندانی جذبے کے ساتھ ہر جگہ کھڑے ہوتے ہیں اور ہمدردی کے ساتھ سب کی خدمت کرتے ہیں۔ سب نے دیکھا ہے کہ کس طرح کووڈ کی مدت کے دوران BAPS مندروں کو سروس سینٹرز میں تبدیل کیا گیا تھا۔

 

آج ایک اور واقعہ بھی یاد کرنا چاہوں گا۔ لوگ اس کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ جب یوکرین میں جنگ بڑھنے لگی تو  حکومت ہند نے فوری طور پر وہاں پھنسے بھارتی  کو فوری طور پر نکالنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد بڑی تعداد میں بھارتیہ پولینڈ پہنچنے لگے۔ لیکن ایک چیلنج یہ تھا کہ جنگ کے اس ماحول میں پولینڈ پہنچنے والے بھارتیوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کیسے کی جائے۔ اس وقت میں نے BAPS کے ایک صاحب سے بات کی۔۔ اور یہ بات، مجھے لگتا ہے کہ شاید آدھی رات گزر چکی تھی، رات کے 12 یا 1 بج رہے تھے، پھر میں نے بات کی۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ پولینڈ پہنچنے والے بھارتیوں کی بڑی تعداد کی مدد کے لیے مجھے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔ اور میں نے دیکھا کہ کس طرح آپ کی تنظیم نے پورے یورپ سے BAPS کارکنوں کو راتوں رات متحد کیا۔ آپ لوگوں نے جنگ کے دوران پولینڈ آنے والے لوگوں کی بہت مدد کی۔ BAPS کی یہ طاقت، عالمی سطح پر انسانیت کے مفاد میں آپ کا یہ تعاون انتہائی قابل تحسین ہے۔ اور اس لیے آج کاریہ کارتا سوورنا مہوتسو میں، میں آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آج، بی اے پی ایس کے کارکن دنیا بھر میں خدمت کے ذریعے کروڑوں لوگوں کی زندگیاں بدل رہے ہیں۔ وہ اپنی خدمات سے کروڑوں دلوں کو چھو رہے ہیں، اور معاشرے کے آخری کونے پر کھڑے شخص کو بااختیار بنا رہے ہیں۔ اور اسی لیے آپ ایک ترغیب،قابل تعظیم اور قابل تعریف ہیں۔

 

دوستو!

بی اے پی ایس کا کام پوری دنیا میں بھارت کی صلاحیت اور اثر کو مضبوط کرتا ہے۔ دنیا کے 28 ممالک میں بھگوان سوامی نارائن کے 1800 مندر، دنیا بھر میں 21 ہزار سے زیادہ روحانی مراکز، مختلف خدمات منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔۔جب دنیا اسے دیکھتی ہے تو اس میںبھارت کی روحانی وراثت، روحانی شناخت نظر آتی ہے۔ یہ مندر بھارت کی ثقافتی عکاسی ہیں۔ وہ دنیا کی قدیم ترین زندہ ثقافت کے مراکز ہیں۔ جب کوئی بھی ان میں شامل ہوتا ہے تو وہ بھارت کی طرف راغب ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ابھی چند ماہ قبل ابوظہبی میں بھگوان سوامی نارائن مندر کی پرتشٹھا کی گئی تھی۔ خوش قسمتی سے میں نے بھی اس پروگرام میں شرکت کی۔ اس پروگرام اور اس مندر کے بارے میں پوری دنیا میں بہت چرچا ہے۔ دنیا نےبھارت کے روحانی ورثے کو دیکھا، دنیا نے بھارت کے ثقافتی تنوع کو دیکھا۔۔ اس طرح کی کوششوں سے دنیا کوبھارت کے ثقافتی فخر اور انسانی سخاوت کے بارے میں معلوم ہوتا ہے۔ اور اس کے لیے میں اپنے تمام کاریہ کرساتھیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

 

دوستو!

آپ کے تمام بڑے عزم  اتنی آسانی سے پورے ہو رہے ہیں یہ بھگوان سوامی نارائن اور سہجانند سوامی کی تپسیا کا نتیجہ ہے۔ اس نے ہر جاندار، ہرمتاثرہ شخص کا خیال رکھا۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ انسانی فلاح کے لیے وقف تھا۔ آج BAPS اپنی قائم کردہ اقدار کی بنیاد پر دنیا میں وہی روشنی پھیلا رہا ہے۔ BAPS کے ان کاموں کی وضاحت ایک گانے کی چند سطروں کے ذریعے کی جا سکتی ہے، آپ نے بھی اسے سنا ہو گا، یہ ہر گھر میں گایا جا سکتا ہے ’’ ندیاں نہ پیئے کبھی اپنا جل ورکش کبھی اپنا پھل نہ کھائے،ندیاں نہ پیئے کبھی اپنا جل ورکش کبھی اپنا پھل کبھی نہ کھائے،کبھی اپنا پھل کبھی اپنے تن من کا دھن دوجے کوجو دے دان،وہ ہے سچا انسان۔۔ وہ اس زمین کابھگوان ہے۔

دوستو!

یہ بھی میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے بچپن سے ہی بی اے پی ایس اوربھگوان  سوامی نارائن سے وابستہ ہونے کا موقع ملا، مجھے اس عظیم رجحان سے جڑنے کا موقع ملا۔ مجھے پرمکھ سوامی مہاراج سے جو پیار اورمحبت ملی

 وہ میری زندگی کا اثاثہ ہے۔ ان کے ساتھ بہت سے ذاتی واقعات ہیں جو میری زندگی کا اٹوٹ حصہ بن چکے ہیں۔ جب میں عوامی زندگی میں نہیں تھا، جب میں وزیر اعلیٰ نہیں تھا، جب میں وزیر اعلیٰ بنا، جب میں وزیر اعظم بنا۔۔ ہر لمحہ وہ میرے رہنما تھے۔ جب نرمدا کا پانی سابرمتی میں آیا۔۔انتہائی قابل احترام پرمکھ سوامی جی خود اس تاریخی موقع پر آشیرواد دینے آئے۔ برسوں پہلے، ایک بار سوامی جی کی رہنمائی میں، سوامی نارائن مہا منتر مہوتسو کا اہتمام کیا گیا تھا۔۔۔یا اس کے اگلے سال، سوامی نارائن منتر تحریر مہوتسو کا اہتمام کیا گیا تھا۔ میں وہ لمحہ کبھی نہیں بھولتا۔ منتر لکھنے کا یہ خیال اپنے آپ میں شاندار تھا۔ ان کے میرے لیے جو روحانی پیار اور محبت تھی اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ مجھے عوامی فلاح کے کاموں میں ہمیشہ پرمکھ سوامی مہاراج کا آشیرواد ملا۔ آج اس بڑی تقریب میں، میں پرمکھ سوامی مہاراج کی ان یادوں کو ایککاریہ کر کے طور پر ان کی روحانی موجودگی محسوس کررہاہوں۔

 

دوستو!

ہماری ثقافت میں خدمت کو سب سے بڑا مذہب سمجھا جاتا ہے۔ خدمت سب سے بڑا مذہب ہے۔ یہ صرف الفاظ نہیں ہیں، یہ ہماری زندگی کی قدریں ہیں۔ خدمت کو عقیدت، ایمان اور عبادت سے بلند مقام دیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ عوامی خدمت جناردن کی خدمت کے برابر ہے۔ خدمت وہ ہے جس میں خودی کا احساس نہ ہو۔ جب آپ میڈیکل کیمپ میں مریضوں کی خدمت کرتے ہیں، جب آپ کسی ضرورت مند کو کھانا کھلاتے ہیں، جب آپ کسی بچے کو پڑھاتے ہیں، آپ صرف دوسروں کی مدد نہیں کر رہے ہوتے۔۔اس دوران آپ کے اندر تبدیلی کا ایک شاندار عمل شروع ہوتا ہے۔ یہ آپ کے روحانی سفر کو سمت اور طاقت دیتا ہے۔ اور جب یہ خدمت ایک منظم شکل میں ہزاروں لاکھوں کارکنوں کے ساتھ، ایک تنظیم کی شکل میں، ایک تحریک کی صورت میں کی جاتی ہے۔۔۔تو حیرت انگیز نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اس قسم کی ادارہ جاتی خدمات معاشرے اور ملک کے بڑے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس سے بہت سی برائیاں ختم ہو سکتی ہیں۔ ایک مشترکہ مقصد سے وابستہ لاکھوں کارکنان ملک اور معاشرے کی بڑی طاقت بنتے ہیں۔

اور اس طرح، آج جب ملک ایک ترقی یافتہبھارت کے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے، تو قدرتی طور پر ہم لوگوں کو ایک ساتھ آتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور محسوس کر رہے ہیں کہ ہر میدان میں کچھ بڑا کر رہے ہیں۔ سوچھ بھارت مشن ہو، قدرتی زراعت ہو، ماحولیاتی بیداری ہو، بیٹیوں کی تعلیم ہو یا قبائلی بہبود، ملک کے لوگ آگے آ رہے ہیں اور قوم کی تعمیر کے اس سفر کی قیادت کر رہے ہیں۔ انہیں آپ سے بہت زیادہ ترغیب بھی ملتی ہے۔ اس لیے آج میری خواہش ہے کہ آپ سے کچھ مانگوں۔

میں چاہوں گا کہ آپ سب کچھ عزم کے ساتھ یہاں سے  جائیں۔ آپ ہر سال ایک نیا عزم  لیں اور اس سال کو خصوصی بنائیں اور اسے اسعزم کے لیے وقف کریں۔ جیسا کہ کچھ لوگ ایک سال کیمیکل سے پاک کھیتی کے لیے وقف کر سکتے ہیں، کچھ ایک سال ملک کے تنوع میں اتحاد کے تہواروں کے لیے وقف کر سکتے ہیں۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کے تحفظ کے لیے منشیات کے خلاف لڑنے کا عزم بھی کرنا ہو گا۔ آج کل لوگ بہت سی جگہوں پر ندیوں کو زندہ کر رہے ہیں، اس لیے آپ بھی اس قسم کے کام کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ ہمیں زمین کے مستقبل کو بچانے کے لیے پائیدار طرز زندگی کا عہد کرنا ہوگا۔ ہمیں مشن لائف کے وژن کی صداقت اور اثر کو ثابت کرنا ہے جوبھارت نے پوری دنیا کو دیا ہے۔

 

آج کل پوری دنیا میں ایک پیڑ ماں کے نام مہم کا چرچا ہو رہا ہے۔ اس سمت میں آپ کی کوششیں بھی بہت اہم ہیں۔ آپ بھارت کی ترقی کو تیز کرنے کے لیےمہم جیسے فٹ انڈیا، ووکل فار لوکل، جوار کو فروغ دینا وغیرہ جیسے بہت سے کام کر سکتے ہیں۔ نوجوان خیالات کو نئے مواقع فراہم کرنے کے لیے جنوری میں چند ہفتوں میں وکست بھارت ینگ لیڈرس ڈائیلاگ بھی منعقد کیا جائے گا۔ اس میں ہمارے نوجوان اپنے خیالات پیش کریں گے اور ترقی یافتہ بھارت کے عزم کو پورا کرنے کے لیے اپنے تعاون کا خاکہ تیار کریں گے۔ آپ تمام نوجوان کارکن بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔

 

دوستو!

قابل احترام پرمکھ سوامی مہاراج کا خاص زور بھارت کی خاندانی ثقافت پر تھا۔ انہوں نےگھر سبھا کے ذریعے سماج میں مشترکہ خاندان کے تصور کو مضبوط کیا۔ ہمیں ان مہم کو آگے لے کر جانا ہے۔ آج بھارت 2047 تک ترقی کرنے کے ہدف پر کام کر رہا ہے۔ اگلے 25 سالوں میں ملک کا سفر بی اے پی ایس کے ہر کاریہ کر کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنابھارت کے لیے۔ مجھے یقین ہے کہ بھگوان سوامی نارائن کے آشیرواد سے، بی اے پی ایس کے کارکنوں کی یہ خدمت مہم اسی طرح بلاتعطل رفتار سے آگے بڑھے گی۔ ایک بار پھر، میں آپ سب کو کاریہ کر سوورنا مہوتسو کی مبارکباد دیتا ہوں۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s 5G traffic surges 70% Y-o-Y: Nokia report

Media Coverage

India’s 5G traffic surges 70% Y-o-Y: Nokia report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs CCS Meeting to review measures being taken in the context of ongoing West Asia Conflict
April 01, 2026
Interventions across agriculture, fertilizers, shipping, aviation, logistics and MSMEs to mitigate emerging challenges discussed
Supply diversification for LPG and LNG, fuel duty reduction and power sector measures reviewed to ensure stability of essential supplies
Steps being taken to ensure stable prices of essential commodities and strict action against hoarding and black-marketing
Control Rooms set up for constant monitoring and interaction with States/UTs on prices and enforcement of Essential Commodities Act
Various efforts being taken to ensure fertilizer supply such as maintaining Urea Production and coordination with overseas suppliers for DAP/NPKS supplies
PM assesses availability of critical needs for the common man
PM discusses availability of fertilisers in the country and steps being taken to ensure its availability in the Kharif and Rabi seasons
PM directs that all efforts must be made to safeguard the citizens from the impact of this conflict
PM underlines the need for timely & smooth flow of authentic information to the public to prevent misinformation and rumour mongering
Enough coal stock exists which shall serve power needs adequately in coming months

Prime Minister Shri Narendra Modi a special of the Cabinet Committee on Security (CCS) to review measures taken by various Ministries/Departments and also discussed further initiatives to be taken in the context of the ongoing West Asia conflict, at 7 Lok Kalyan Marg today. This was the second special CCS meeting on this issue.

Cabinet Secretary briefed about the action taken to ensure supply of petroleum products, particularly LNG/LPG, and sufficient power availability. Sources are being diversified for procurement of LPG with new inflows from different countries. Similarly, Liquefied Natural Gas (LNG) is being sourced from different countries. He further briefed that LPG prices for domestic consumers have remained the same and Anti-diversion enforcement to curb hoarding and black marketing of LPG is being conducted regularly.

Initiatives have also been taken to expand Piped Natural Gas connections. Measures like exempting the gas-based power plants with a capacity of 7-8 GW from gas pooling mechanism and increasing of rake for positioning more coal at thermal power stations etc. have also been taken to ensure availability of power during the peak summer months.

Further, interventions proposed to be taken for emerging challenges in various other sectors such as agriculture, civil aviation, shipping and logistics were also discussed.

Various efforts like maintaining urea production to meet requirements, coordinating with overseas supplies for DAP/NPKS suppliers are being taken to ensure fertilizer supply. State governments are being requested to curb black marketing, hoarding, and diversion of fertilizers through daily monitoring, raids, and strict action.

The retail prices of food commodities have been stable over the past one month. Control Rooms have been set up for constant monitoring and interaction with States/UTs on prices and enforcement of Essential Commodities Act. The prices of agricultural products , vegetables and fruits are also being monitored.

Efforts to globally diversify our sources for energy, fertilizers and other supply chains, and international initiatives for securing safe passage of vessels through the strait of Hormuz and ongoing diplomatic efforts are being taken.

Enhanced coordination, real-time communication, and proactive measures across central, state, and district levels to drive effective information dissemination and public awareness amid the evolving crisis is being undertaken.

Prime Minister assessed the availability of critical needs for the common man. He discussed availability of fertilisers in the country and steps being taken to ensure its availability in the Kharif and Rabi seasons. He said that all efforts must be made to safeguard the citizens from the impact of this conflict. Prime Minister also emphasised smooth flow of authentic information to the public to prevent misinformation and rumour mongering.

Prime Minister directed all concerned departments to take all possible measures to ameliorate the problems of citizens and sectors affected by the ongoing global situation.