‘‘ہندوستان اب ‘امکان اور صلاحیت’ کی حدوں سے پَرے جارہا ہے اور عالمی فلاح و بہبود کا ایک بڑا مقصد انجام دے رہا ہے’’
آج ملک ہنر مندی ، تجارت اور ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے
‘‘آتم نربھر بھارت ہمارا راستہ بھی ہے اور ہمارا عزم بھی ’’
‘‘زمین- ماحولیات۔ زراعت، ری سائیکل، ٹیکنالوجی اور صحت کی دیکھ بھال کے لیے کام کریں ’’

نمسکار!

جیتو کنیکٹ کا یہ سربراہی اجلاس آزادی کے 75 ویں سال کے امرت مہوتسو میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ یہاں سے ملک آزادی کے امرت دور میں داخل ہو رہا ہے۔ اب ملک کا عزم ہے کہ اگلے 25 سالوں میں سنہرے ہندوستان کی تعمیر کریں گے۔ اس لیے  اس بار جو موضوع آپ نے رکھا ہے، یہ  موضوع بھی اپنے آپ میں بہت موزوں ہے۔ ’’ایک ساتھ، کی جانب ، کل! ‘‘اور میں کہہ سکتا ہوں کہ یہی وہ چیز ہے جو ہر ایک کی کوشش کا جذبہ ہے، جو آزادی کے امرت دورمیں برق رفتار ترقی کا منتر ہے۔ آنے والے 3 دنوں میں آپ کی پوری کوشش ہونی چاہیے کہ اس احساس کو چہار جانب فروغ دیا جائے، ترقی ہمہ جہتی ہو، معاشرے کا آخری فرد کو بھی پیچھے نہ چھوڑا جائے، یہ سربراہی اجلاس  اسی احساس کو تقویت دینے کے لیے جاری رہنا چاہیے۔ آپ سب کے لیے میری نیک خواہشات اس سربراہی اجلاس میں ہم اپنی  موجودہ اور مستقبل کی ترجیحات، چیلنجوں، اوران سے نمٹنے کے لیے حل تلاش کرنے جا رہے ہیں۔ آپ سب کو بہت بہت مبارکباد، بہت بہت نیک خواہشات!

ساتھیو،

ویسے تو مجھے کئی بار آپ سب کے درمیان آنے کا موقع ملا ہے اور اس بار بھی اگر آپ سے ملاقات ہوتی تو اور زیادہ  اچھا لگتا  لیکن ورچوئل  طور پر ہی سہی، میں آپ سب کو دیکھ رہا ہوں۔

ساتھیو،

ابھی کل ہی میں یورپ کے کچھ ممالک کا دورہ کرنے اور آزادی کے امرت کے دوران ہندوستان کی طاقت، عزم اور ہندوستان میں موجود مواقع کے بارے میں بہت سے لوگوں سے تفصیلی بات چیت کرنے کے بعد واپس آیا ہوں۔ اور میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ جس طرح کی امید، جس طرح کا اعتماد آج کھل کر ہندوستان کے سامنے آرہا ہے۔ آپ بھی بیرون ملک جائیں اور آپ میں سے جو لوگ بیرون ملک مقیم ہیں، آپ سب اس کا تجربہ کریں۔ ہر ہندوستانی، چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو،یا ہندوستان کے کسی بھی کونے میں، ہر ہندوستانی آج فخر محسوس کر رہا ہے۔ ہمارے خود اعتمادی کو بھی اس سے ایک نئی توانائی ملتی ہے، اسے نئی طاقت ملتی ہے۔ آج دنیا، ہندوستان کی ترقیاتی  عہدبندی  کو اپنے مقاصد کے حصول کا ذریعہ سمجھ رہی ہے۔ عالمی امن ہو، عالمی خوشحالی ہو، عالمی چیلنجوں کا حل ہو، یا عالمی سپلائی چین کو بااختیار بنانا ہو، دنیا اب ہندوستان کی طرف دیکھ رہی ہے اور بڑے اعتماد کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔

ساتھیو،

دنیا میں سیاست سے وابستہ لوگ ہوں، پالیسی سازی سے وابستہ لوگ ہوں، یا آپ جیسے باشعور معاشرے کے لوگ ہوں یا کاروباری طبقے کے لوگ ہوں، مہارت کے شعبے یا تحفظات کے شعبے ہوں، نظریاتی اختلاف  جاہے جس طرح کا بھی ہو، لیکن نئے ہندوستان کا عروج سب کو متحد کرتا ہے۔ آج ہر کوئی یہ محسوس کر رہا ہے کہ ہندوستان اب امکانات اورممکنہ صلاحیتوں  سے آگے بڑھ رہا ہے اور عالمی فلاح و بہبود کے مقصد کے ساتھ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے  آگے بڑھ رہا ہے۔

ساتھیو،

آپ سے اسی طرح کی گفتگو میں ایک بار میں نے صاف نیت، پختہ ارادوں اور سازگار پالیسیوں کی بات کی تھی۔ آپ لوگوں سے بہت تبادلہ خیال کیا تھا ۔ پچھلے 8 سالوں میں، اس منتر پر عمل کرتے ہوئے، حالات میں جو تبدیلیاں آرہی ہیں، ان کا ہم روزمرہ کی زندگی میں سامنا کر رہے ہیں۔ آج ملک جتنا ہوسکتا ہے ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے ۔ آج ملک ہر دن پر فخر کر رہا ہے اور کوئی بھی ہندوستانی، خاص طور پر نوجوان کو خاص طور پر فخر ہے۔ آج ملک ہر روز درجنوں اسٹارٹ اپس رجسٹر کر رہا ہے، ہر ہفتے ایک یونیکون بنایا جا رہا ہے۔ آج، ملک میں ہزاروں تعمیلی ضابطوں کو ختم کرکے، زندگی کو آسان بنا کر، روزی روٹی کو آسان بنا کر، کاروبار کو آسان بنا کر، ایک کے بعد ایک یہ ہر قدم ،ہر ہندوستانی کے فخر میں اضافہ کر رہا ہے۔ آج ہندوستان میں ٹیکس کا نظام فیس لیس، شفاف، آن لائن، ایک ملک ایک ٹیکس نظام ہے۔ ہم اس خواب کو پورا کر رہے ہیں۔ آج، مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے ملک، لاکھوں کروڑوں روپے کی پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم چلا رہا ہے۔

ساتھیو،

حکومتی نظاموں میں شفافیت کیسے آرہی ہے اس کی ایک اچھی مثال ہمارا سرکاری خریداری کا عمل ہے۔ جب سے گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس یعنی جی ای ایم پورٹل وجود میں آیا ہے، تمام خریداری، سب کے سامنے ایک پلیٹ فارم پر کی جاتی ہے۔ اب دور دراز کے دیہاتوں کے لوگ، چھوٹے دکاندار اور ذاتی مدد کے گروپس یعنی سیلف ہیلپ گروپس براہ راست حکومت کو اپنی مصنوعات بیچ سکتے ہیں۔ اور یہاں وہ لوگ ہیں جن کے ڈی این اے میں کاروبار ہے۔ کچھ نہ کچھ کاروبار کرتے رہنا آپ کی فطرت اور ثقافت میں ہے۔ میں جیتو کے تمام لوگوں سے گزارش کروں گا؛ میں دنیا بھر میں پھیلے آپ سب  لوگوں سے گزارش کروں گا کہ ایک بار حکومت ہند کے اس جی ای ایم پورٹل کا مطالعہ تو کیجئے۔ ذرا اس پر وزٹ کریں اور آپ کے علاقے میں کوئی ایسی چیز ہے جس کی حکومت کو ضرورت ہے اور حکومت ان تک پہنچ کر اسے آسانی سے خرید سکتی ہے۔ آپ بہت سے لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں۔ حکومت نے بہت اچھا پلیٹ فارم بنایا ہے۔ آج 40 لاکھ سے زیادہ فروخت کنندگان جی ای ایم پورٹل میں شامل ہو چکے ہیں۔ جو لوگ اپنا پراڈکٹ بیچنا چاہتے ہیں، ایسے 40 لاکھ لوگوں نے اس پر اپنا اندراج  کرایا ہے۔ اور مجھے خوشی ہے کہ ان میں سے زیادہ تر ایم ایس ایم ایز ہیں، چھوٹے تاجر اور کاروباری ہیں۔ ہماری خواتین  کے ذاتی مدد کے گروپ کی بہنیں ہیں۔ اور آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ اس میں بھی صرف پچھلے 5 مہینوں میں 10 لاکھ  فروخت کنندگان  شامل ہوئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نئے نظام پر لوگوں کا اعتماد کتنا بڑھ رہا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جب حکومت میں  کام کرنے کا عزم ہو اور عوام الناس  ساتھ ہو، سب کی کوشش کا جذبہ مضبوط ہو، تب تبدیلی کو کوئی نہیں روک سکتا، تبدیلی ممکن ہے۔ اور آج ہم ان تبدیلیوں کو بھی دیکھ اور محسوس کر رہے ہیں۔

ساتھیو،

مستقبل کے لیے ہمارا راستہ اور منزل دونوں واضح ہیں۔ خودکفیل  ہندوستان ہمارا راستہ ہے اور ہمارا عزم بھی اور اس کا تعلق کسی حکومت سے نہیں بلکہ 130 کروڑ ہم وطنوں سے ہے۔ پچھلے سالوں میں ہم نے اس کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا ہے، ماحول کو مثبت بنانے کے لیے لگاتار کام کیا ہے۔ ملک میں جو صحیح ماحول پیدا کیا جا رہا ہے اس کا صحیح استعمال کرتے ہوئے عزائم کی تکمیل کا انحصار اب آپ جیسے میرے ساتھیوں پر،اور جیتو کے ممبران پر ہے۔ آپ جہاں بھی جائیں، جس سے بھی ملیں، آپ کے دن کا آدھا وقت، آپ مستقبل کے بارے میں بات کرنے کی فطرت کے لوگ ہیں۔ آپ وہ لوگ نہیں ہیں جو ماضی کے حالات کو پس پشت ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں۔ آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں اور میں آپ لوگوں کے درمیان پلا بڑھا ہوں اس لیے میں جانتا ہوں کہ آپ کی فطرت کیا ہے اور اسی لیے میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ اور خاص طور پر میرے نوجوان، جین سماج جیسے کاروباری  ہیں ، اختراع کار ہیں، آپ کی ذمہ داری ذرا زیادہ ہے۔ آزادی کے اس امرت مہوتسو  میں، یہ بہت فطری ہے کہ جین بین الاقوامی تجارتی تنظیم کے ایک ادارے کی شکل میں  اور آپ سبھی ممبران سے ملک کے لیے توقعات وابستہ ہونا قدرتی ہے۔ تعلیم، صحت اور چھوٹے فلاحی ادارے ہوں، جین سماج نے ہمیشہ بہترین اداروں، بہترین طریقوں اور بہترین خدمات کی حوصلہ افزائی کی ہے اور آج بھی سماج کا آپ سے یہ توقع رکھنا بہت فطری ہے اور مجھے آپ سے خاص توقع ہے کہ آپ مقامی مصنوعات پر زور دیں۔ ووکل فار لوکل کے منتر کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے، آپ سب کوبرآمدات کے لیے نئی منزلیں بھی تلاش کرنی چاہئیں اور اپنے علاقے میں مقامی کاروباریوں کو ان کے بارے میں بھی آگاہ کرنا چاہیے۔ ہمیں مقامی مصنوعات کے معیار اور ماحولیات پر اس کے کم سے کم اثرات کے لیے صفر نقص، صفر اثرکی بنیاد پر کام کرنا ہوگا۔ اور اسی لیے آج جیتو کے یہ تمام ممبران موجود ہیں، میں آج آپ کو تھوڑا سا ہوم ورک دینا چاہتا ہوں۔ آپ  اسے کریں گے اتنا تو مجھے یقین ہے  لیکن شاید آپ نہ بتائیں لیکن کریں ضرور۔ آپ کریں گے نا! ذرا ہاتھ اٹھا کر مجھے بتائیں، کریں گے نا۔ اچھا ایک کام کیجیے ، گھر والے سب بیٹھ جائیں۔ بیٹھیں اور ایک فہرست بنائیں کہ صبح سے اگلی صبح تک کتنی غیر ملکی چیزیں آپ کی زندگی میں داخل ہوئی ہیں۔ کچن میں داخل ہوئیں، معمول کے رویے میں داخل ہوئیں ۔ دیکھیں کتنی چیزیں غیر ملکی ہیں، اور پھر سامنے صرف ٹک مارک کریں کہ وہ کون سی چیزیں ہیں جو ہندوستان کی ہوں گی،تو پتہ چل جائے گا اور گھر والے مل کر فیصلہ کریں گے، چلو بھائی یہ 1500 فہرست بن چکی ہے، اب ہم اس مہینے میں 500 غیر ملکی چیزیں بند کریں گے ۔ اگلے مہینے مزید 200 کریں گے، پھر 100 کریں گے۔ 20، 25، 50 ایسی چیزیں  ہوں گی، شاید لگتا ہے بھائی ابھی  بھی  ذرا باہر  سے لانا ہے، چلو اتنا  سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔ لیکن دوستو، کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہم ذہنی طور پر کیسے غلام ہیں، اسی طرح جب ہم آزادی کا امرت  مہوتسو منا رہے ہیں اور ہم غیر ملکی چیزوں کے غلام بن گئے ہیں، پتہ بھی نہیں چلتا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا داخلہ اسی  طرح کاتھا، یہ بھی معلوم نہیں ہے اور اسی لیے میں بار بار درخواست کرتا ہوں اور جیتو کے تمام ممبران سے گزارش کرتا ہوں، آپ کو کچھ بھی نہیں کرنا تو مت کیجیے، آپ کو میری بات ا چھی نہیں لگتی تو مت کیجیے، لیکن ایک بار کاغذ پر فہرست ضرور بنائیں۔ گھر والوں کو بھی اپنے اردگرد بٹھانا چاہیے، آپ کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ آپ کے گھر میں روزانہ کیا استعمال ہو رہا ہے، یہ ایسی چیز ہے جو بیرون ملک سے آئی ہے، آپ کو معلوم بھی نہیں ہوگا اور آپ کو بیرون ملک سے لینے سے خواہش بھی نہیں ہوگی ، لیکن آپ نے یہ کرلیا  ہوگا۔ اور اس لیے بار بار لوکل فار ووکل ، ہمارے ملک کے لوگوں کو روزگار ملے، ہمارے ملک کے لوگوں کو مواقع ملے۔ اگر ہم اپنی چیزوں پر فخر کریں گے تو دنیا ہماری چیزوں پر فخر کرے گی۔اس کی یہ ایک شرط ہے، دوستو۔

ساتھیو،

میری آپ سے ایک اور گزارش ہے، زمین کے لیے بھی۔ جب ایک جین مت والا شخص زمین کو سنتا ہے، نہ تو اس کو نقد کا دھیان رہتا ہے ۔ لیکن میں ذرا دوسرے ارتھ کی بات کرتا ہوں۔ میں زمین کی بات کر رہا ہوں۔ اور جب میں اس زمین کے بارے میں بات کرتا ہوں، تب ای کا مطلب ہے ماحول کی خوشحالی جس میں ہو، آپ کو ایسی سرمایہ کاری، ایسی مشق کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ اگلے سال 15 اگست تک ہر ضلع میں کم سے 75 امرت سروور بنانے کی کوششوں کو آپ کیسے معاونت دے سکتے ہیں، اس پر بھی ضرور سوچئے۔ تو جیسا میں نے کہا ای یعنی  ماحولیات، اے یعنی زراعت کو زیادہ فائدہ بند بنانے کے لیے قدرتی کاشتکاری، فارمنگ، صفر لاگت بجٹ والی فارمنگ ، کاشتکاری کی ٹیکنالوجی اور ڈبہ بند خوراک کے سیکٹر میں میرے جیتو کے نوجوان آگے آئیں، اسٹارٹ اپ شروع کریں، سرمایہ کاری کریں۔آر یعنی ریسائکلنگ پر ، مرغولاتی معیشت پر زور دیں، دوبارہ استعمال ، تخفیف اور ریسائکل کے لیے کام کریں۔ ای یعنی ٹیکنالوجی کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔ آپ ڈرون ٹیکنالوجی جیسی دوسری کارآمد ٹیکنالوجی کو کامیاب کیسے بنا سکتے ہیں، اس پر ضرور غور کرسکتے ہیں۔ ایچ یعنی صحت دیکھ بھال، ملک کے ہر ضلع میں میڈیکل کالج جیسی سہولیات کے لیے بہت بڑا کام حکومت آج کر رہی ہے۔ ا ٓپ کی تنظیم اس کو کس طرح فروغ دے سکتی ہے، اس پر ضرور غور کیجیے۔ آیوش کے شعبے میں تحقیق وترقی کو فروغ کرنے کے لیے بھی  ا ٓپ کی زیادہ سے زیادہ معاونت کی امید ملک کو ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس سربراہی اجلاس سے آزادی کے امرت دور کے لیے بہت اچھی تجاویز آئیں گی، بہترین حل نکلیں گے۔ اور ا ٓپ ہمیشہ یاد رکھئے گا۔ آپ تو نام سے ہی ’’جیتو‘‘ ہیں۔ آپ اپنے عزائم میں کامیاب ہوں، اپنے اہداف کو حاصل کریں، کامیابی ہی کامیابی کی خواہش کے ساتھ  چل پڑیں۔ اسی خیال کے ساتھ ایک بار پھر آپ سبھی کو بہت بہت نیک خواہشات!

جے جنندر! شکریہ!

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Withdraw PF via UPI from July, 8.25% interest gets nod

Media Coverage

Withdraw PF via UPI from July, 8.25% interest gets nod
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit West Bengal on 20-21 June
June 19, 2026
PM to participate in Paschimbanga Divas celebrations in Hooghly on 20 June
PM to launch, dedicate and lay Foundation Stones of various Development Projects across Railways, Agriculture, Rural Development, Fisheries and Animal Husbandry Sectors
PM to kickstart rollout of several key Central Agricultural Schemes in West Bengal
These schemes include Pradhan Mantri Fasal Bima Yojana, Agri Stack, National Mission on Natural Farming and Pradhan Mantri Dhan-Dhaanya Krishi Yojana
PM to release 23rd PM-Kisan Instalment worth ₹18,880 Crore, benefiting over 9.44 Crore Farmers across the Country
PM to commission three indigenously designed and built naval ships – INS Dunagiri, INS Sanshodhak and INS Agray at Syama Prasad Mookerjee Port, Kolkata
Ships have been built with extensive participation by Indian industry, including more than 200 MSMEs
PM to lead 12th International Day of Yoga Celebrations in Kolkata on 21 June
Theme of IDY 2026: “Yoga for Healthy Ageing”

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit West Bengal on 20-21 June 2026. On 20 June, at around 3:45 PM, the Prime Minister will participate in Paschimbanga Divas (West Bengal Day) celebrations at Tarakeswar in Hooghly district. He will launch, dedicate to the nation and lay the foundation stone of multiple development projects in West Bengal. He will also address the gathering on the occasion.

On 21 June, at around 6:30 AM, the Prime Minister will participate in the 12th International Yoga Day celebration in Kolkata. He will also address the gathering on the occasion.

Later, at around 9:15 AM, Prime Minister will commission three indigenously designed and built naval ships - INS Dunagiri, INS Sanshodhak and INS Agray at Syama Prasad Mookerjee Port, Kolkata. He will also address the gathering on the occasion.

PM in Hooghly

Prime Minister will participate in Paschimbanga Divas (West Bengal Day) celebrations. The State-level celebrations are being held at Tarakeswar, Hooghly, a place of historic significance associated with Dr. Syama Prasad Mookerjee.

The theme for this year’s Paschimbanga Divas: “West Bengal: Heritage, Harmony and Development,” reflects the State’s cultural richness, social cohesion and developmental aspirations.

During the programme, Prime Minister will launch, dedicate to the nation and lay the foundation stone of multiple development projects. Spanning the sectors of railways, agriculture, rural development, fisheries and animal husbandry, these initiatives will strengthen infrastructure, improve livelihoods, enhance farmer welfare and accelerate socio-economic development across the State.

Prime Minister will release the 23rd instalment of the Pradhan Mantri Kisan Samman Nidhi (PM-KISAN). Under this instalment, more than ₹18,880 crore will be transferred directly into the bank accounts of over 9.44 crore farmers across the country.

In West Bengal alone, more than ₹900 crore will be credited to over 45 lakh beneficiaries, taking the cumulative disbursement under the scheme in the State to over ₹15,000 crore. The total disbursement nationwide to over ₹4.46 lakh crore since the launch of the scheme in 2019.

Prime Minister to kickstart rollout of several key Central Agricultural Schemes in West Bengal. These schemes include Pradhan Mantri Fasal Bima Yojana, Agri Stack as part of the Digital Agriculture Mission, National Mission on Natural Farming and Pradhan Mantri Dhan-Dhaanya Krishi Yojana

Prime Minister will launch the Pradhan Mantri Fasal Bima Yojana (PMFBY)in West Bengal, extending the benefits of the world’s largest crop insurance scheme to farmers in the State. During 2026–27, the initiative aims to provide insurance coverage to nearly 50 LAKH farmers across about 14 lakh hectares of agricultural land in the state of West Bengal, protecting crops with an estimated insured value of around ₹28,140 crore while supporting farmers through substantial premium subsidy.

As part of the Digital Agriculture Mission, Prime Minister will launch AgriStack in West Bengal, enabling a unified digital platform for verified agriculture-related services such as fertiliser distribution, Kisan Credit Cards, Direct Benefit Transfers and procurement under the Minimum Support Price system. The initiative will strengthen digital governance in agriculture and facilitate efficient delivery of farmer-centric services.

Prime Minister will further launch the National Mission on Natural Farming in West Bengal to promote sustainable, chemical-free agriculture rooted in traditional Indian practices. Under the approved Annual Action Plan for 2026–27, the State will establish 346 natural farming clusters covering 17,300 hectares, while also creating Bio-Input Resource Centres and mobilising Krishi Sakhis to strengthen adoption of eco-friendly farming practices.

In a major step towards integrated agricultural development, Prime Minister will also initiate the implementation of the Pradhan Mantri Dhan-Dhaanya Krishi Yojana (PMDDKY) in West Bengal. The scheme will cover the districts of Purulia, Darjeeling, Alipurduar and Jhargram with a focus on improving agricultural productivity, promoting crop diversification and sustainable farming, strengthening post-harvest infrastructure and irrigation facilities, enhancing access to institutional credit, and ensuring convergence of multiple Central and State schemes for holistic rural development.

Prime Minister will inaugurate the Modernized and capacity expanded Fishing Harbour at Fraserganj in South 24 Parganas and the newly constructed Modern Fish Market at Sainthia, Birbhum. These projects will strengthen fisheries infrastructure, improve post-harvest management and provide better marketing facilities for fish producers and traders.

Prime Minister will also inaugurate the Regional Semen Production Laboratory and Semen Bank for Goats at Haringhata in Nadia district. Established under the National Livestock Mission of the Department of Animal Husbandry and Dairying, it is the first such facility in Eastern India and will contribute significantly to scientific livestock breeding, genetic improvement and enhanced productivity.

Prime Minister will dedicate to the nation and lay the foundation stone of important railway projects worth around ₹590 crore. Prime Minister will dedicate to the nation the Sankrail–Santragachi Link Line Project in Howrah district. The project will play an important role in decongesting one of the busiest rail corridors in Eastern India, improving operational efficiency and enabling smoother movement of both passenger and freight trains.

Prime Minister will lay the foundation stone of a 300-bed New Divisional Railway Hospital at Howrah. Equipped with modern healthcare infrastructure, advanced diagnostic facilities, specialist medical services and emergency care facilities, the hospital will significantly strengthen healthcare services for railway beneficiaries and the people of the region.

Prime Minister will also lay the foundation stone of a Road Over Bridge between Haur and Radhamohanpur in Purba Medinipur district. The project will enhance safety for both rail and road users and facilitate smooth and uninterrupted movement of traffic.

Prime Minister will inaugurate 49 road infrastructure projects developed under the Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana (PMGSY-III). Covering a total length of more than 315 kilometres across various districts of West Bengal, these projects will improve rural connectivity, facilitate access to markets, educational institutions and healthcare facilities, and contribute to balanced regional development.

These projects collectively represent a major step towards strengthening infrastructure, empowering farmers, enhancing livelihoods and creating new economic opportunities across West Bengal. The initiatives will contribute significantly to the vision of a Viksit West Bengal and Viksit Bharat by promoting inclusive growth, modern infrastructure and sustainable development.

PM in Kolkata

Prime Minister Shri Narendra Modi will lead the national observance of the 12th International Day of Yoga from Red Road in Kolkata. Prime Minister will address the gathering and participate in the Common Yoga Protocol session along with thousands of Yoga practitioners.

The theme of International Day of Yoga 2026, “Yoga for Healthy Ageing”, highlights the role of Yoga in promoting physical health, mental well-being, emotional resilience and active ageing, thereby contributing to an improved quality of life. The theme is particularly relevant in an era of increasing life expectancy and growing emphasis on healthy, active and dignified ageing. Since its inception in 2015, when the United Nations General Assembly (UNGA) adopted India’s proposal to observe 21st June as IDY, Prime Minister has led the celebrations from various locations including New Delhi, Chandigarh, Lucknow, Mysuru, New York (UN Headquarters), and Srinagar and Vishakhapatnam.

Yoga Day celebrations are being organised across nearly 2,500 locations worldwide, with participation from more than 210 Indian Missions and Posts, reaffirming Yoga’s status as a global movement for health, harmony and collective well-being.

Prime Minister will also commission three indigenously designed and built naval ships - INS Dunagiri, an advanced stealth frigate, INS Sanshodhak, a survey vessel (large) and INS Agray, an anti-submarine warfare shallow water craft.

These inductions will significantly bolster the nation’s operational capabilities, enhance maritime domain awareness, and strengthen the security of our coastal waters against geopolitical threats.

All three ships were designed by the Indian Navy’s Warship Design Bureau and constructed in Kolkata by Garden Reach Shipbuilders & Engineers (GRSE), with extensive participation by Indian industry, including more than 200 MSMEs. With an indigenous content of over 75 percent, these ships are also a testament to India’s commitment to Aatmanirbharta.